دودھ کا دودھ پانی کا پانی

گوالوں نے قانونی نہیں سیاسی موقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے خا لص کا ذکر پاکستان دشمنوں نے چھیڑا ہے۔ حقیقی دنیا میں خالص کا کوئی وجود نہیں یہ اشتہاروں اور خوابوں کی دنیا میں زیب داستان کے طور پرباقی رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں خالص کی بحث کا آغاز یہود و ہنود کی سازش ہے۔ مغربی ممالک ماحولیات کی آلودگی کا پراپاگنڈا کرکے اور خالص پانی اور خالص دودھ کے خواب دکھا کرہماری معیشت کو تب

ڈاکٹر خالد مسعود


آج کل تقریباً ہر دوسری خبر میں ذکرہوتا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے والا ہے۔ کوئی الیکشن جیت  جائے تو  دعوى کرتا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔ وہ خود دودھ  اور حریف کو پانی بتا تا ہے۔ کہیں کمیشن  بنے تو یہی اعلان ہوتا ہے کہ اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ اس تکرار اور اصرار سے شکوک ابھرنے لگے ہیں کہ اصل معاملہ کچھ اورہے ۔

ہمارے خیال میں تو یہ جملہ ہی نہایت مہمل ہے ۔  دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے  کا کیا مطلب ہے۔ اگر دودھ میں ملاوٹ کا مسئلہ ہے تو جس نے ملاوٹ کی ہے اسے سزا دیں یا مک مکا (پلی بار گین) کریں ۔ دودھ کے دودھ اور پانی کے پانی ہونے  کا انتظار کیوں  کیا جائے۔ اگر یہ  انتظارتفتیش کا طریقہ ہے تو انتہائی فضول ہے۔  ہر ذی شعور کو معلوم ہے کہ دودھ اور پانی مل جائیں تو ان کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ابالیں تو پانی غائب ہو جاتا ہے۔ جمائیں تو دونوں برف ہو جاتے ہیں۔ کوئی کیمیائی مواد ڈال کر دودھ پھاڑ بھی دیں تو دودھ قابل استعمال نہیں رہتا۔ تو پھر یہ سارا جھنجٹ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

 

وہ تو اللہ بھلا کرے جاوید چوہدری کا جنہوں نے ہماری الجھن کو دور کیا۔ جاوید چوہدری صاحب ہمیشہ تفصیلی تحقیق  کے بعد کالم لکھتے ہیں۔ ان کے کالم سے پتا چلا کہ پاکستان میں دودھ بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہےجس سےعوام کی صحت اور ملک کی معیشت بری طرح متاٴثر ہورہی ہے۔ اسی لئے ہر مشکل میں دودھ پانی کا ذکر ہونے لگا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں چار قسم کا دودھ ملتا ہے ان میں صرف ایک اصلی اور باقی تین قسم کا دودھ جعلی ہوتا ہے  ۔ جعلی دودھ  کا ذائقہ، رنگ اور تازگی بلیچنگ اورڈیٹرجنٹ پاؤڈر جیسےمضر صحت کیمیائی مواد کی مرہون منت  ہیں ۔  ان کی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ جعلی ہو یا اصلی دودھ سارے ملاوٹی ہوتے ہیں۔ ملاوٹ کے حساب سےجعلی دودھ میں ہر چیز حتی کہ یوریا کھاد بھی ملائی جاتی ہے دودھ کو تازہ رکھنے کے لئے اس میں وہی کیمیائی مواد ڈالنا پڑتا ہے جو کسی جانور یا انسان کی لاش کو سڑنے سے بچا نے کے لئے لگایا جاتا ہے۔ دودھ  جاندار چیز ہے اس کو پھلوں کے رس یا اچار  کو محفوظ رکھنے والےمصالحے سے تازہ نہیں رکھا جا سکتا۔

 

پتا چلا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی  والی بات کا جعلی دودھ سے کوئی تعلق نہیں۔ جاوید چوہدری صاحب کے بقول دودھ کی صرف ایک قسم ہے جس میں پانی کی ملاوٹ ہوتی ہے اور وہ ہے گوالوں سے خریدا دودھ ۔ یہ دودھ ملاوٹی تو ہوتا ہے لیکن جعلی نہیں ہوتا ۔ اس میں دودھ اور پانی دونوں اصلی ہوتے ہیں۔ تاہم  ہم اسے جعلی  نہیں سمجھتے تو خالص بھی نہیں کہتے۔  اس تحقیق سے یہ واضح ہو گیا کہ  دودھ اور پانی  کے ہنگامے میں جعلی دودھ  زیر بحث نہیں ہے۔ کیونکہ اس معاملے میں  نہ دودھ کا دودھ ہو سکتا ہے نہ پانی کا پانی۔ اس تفصیل سے جعلی دودھ بنانے والے تو صاف بچ گئے۔ پکڑے گئے گوالے۔

 

گوالوں نے قانونی  نہیں سیاسی موقف اختیار کیا ہے۔  ان کا کہنا ہے خا لص کا ذکر  پاکستان دشمنوں نے چھیڑا ہے۔  حقیقی دنیا میں خالص کا کوئی وجود نہیں یہ اشتہاروں اور خوابوں کی دنیا  میں  زیب داستان کے طور پرباقی رہ گیا ہے۔   ان کے مطابق پاکستان میں خالص کی بحث کا آغاز یہود و ہنود کی سازش ہے۔ مغربی ممالک ماحولیات کی آلودگی کا پراپاگنڈا کرکے اور خالص پانی اور خالص دودھ  کے خواب دکھا کرہماری معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔  یہود تو پہلے سے ہی پاکستان کو لینڈ ٓف دی پیور کہ کر مذاق اڑاتے ہیں اب  خالص کی بحث اٹھا کرہنود نے بھی اسے خالصتان  سے جوڑنا شروع کر دیا ہے تاکہ پاکستان کو بھارت کی خانہ جنگی میں ملوث کیا جا سکے۔ مسلمانوں کو خالصہ کی  پیروی اور مشابہت سے مذہبی حوالے سے منع کیا گیا ہے۔ گوالوں کا مطالبہ ہے کہ پاکستان فوری طورپر لفظ خالص کو اردو لغات سے خارج کرے۔

 

ہمارا المیہ ہے کہ پاکستان میں ہر مسئلہ سیاسی بن جاتا ہے۔ اب دودھ اور پانی بھی سیاسی ہوگئے۔ سیاست دین سے علیحدہ نہیں رہ سکتی اس لئے ہم سیاسی بحث میں الجھنے سے گریز کرتے ہوے اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ یاد آیا کہ ۱۹۹۶ میں بھی ایسی ہی صورت حال تھی۔ الزام اور نعرے  بھی یہی تھے۔ کمیشن کا ذکر بھی تھا۔ اور دودھ پانی کا حوالہ بھی۔ فرق یہ ہے  کہ جو آج بر سر اقتدار ہیں ان دنوں حزب اختلاف بلکہ حزب مخالف تھے۔ ۱۹۹۶ میں حزب مخالف  دودھ دودھ اور حکومت پانی پانی ہوگئی تھی۔آج  کی حزب  اختلاف جو ۱۹۹۶ میں بر سر اقتدار ہوتے ہوے  بھی پانی پانی ہو گئی تھی  دودھ پانی کی بات سے گریز کر رہی ہے۔ حزب اختلاف کو خاموش دیکھ کر حزب مخالف میدان میں  اتری  ہے۔ وہ دودھ پانی تو کر رہی ہے لیکن پانی  اس کے قابو میں نہیں۔ یہ پاناما کی خلیج بن گیا ہےجو لیک تو ہو رہا ہے لیکن پیچھے ٹریل نہیں چھوڑ رہا۔  نتیجہ یہ کہ دودھ پانی کی پہیلی  لفظی بحثوں میں الجھی نظر آتی ہے۔

 

پہیلی سے خیال آیا کہ  دودھ  کا دودھ اور پانی کا پانی کوئی پہیلی نہ ہو۔ معلوم ہوا کہ یہ سچ مُچ ایک  اردو کہاوت ہے۔ ہر کہاوت کے پیچھے  بہت سی کہانیاں ہوتی ہیں۔ اس کہاوت کی بھی کئی کہانیاں ہیں۔ ان میں ایک کہانی گوالے کی بھی ہے ۔ گوالے کے نام سے پہیلی کا اتا پتا ملنے لگا ۔ دودھ ، پانی  اور ملاوٹ کی نشانیوں سے ہم  بالآخرپہیلی بوجھنے میں کامیاب ہو گئے۔

ایک  دفعہ کا ذکر ہے کہ  ایک گوالا تھا بہت ہی محنتی اور ایماندار۔ دودھ میں پانی  بالکل نہیں ملاتا تھا۔ اس کی ایمانداری کی شہرت پھیلی تو گوالوں کا کاروبار مندا پڑ گیا۔ انہوں نے ایک سیانے گوالے کو گفت و شنید کے لئے بھیجا۔ سیانے نے گوالے کو برادری کے مفادات کا واسطہ دیا۔ گوالا نہ مانا تو اس نے سمجھایا کہ ہم تمہیں پانی میں دودھ ملانے کے لئے مجبور نہیں کرتے۔ یہ کام تم ہم پر چھوڑ دو ۔  تم دودھ میں پانی ملاؤ تو اتنی بری بات  نہیں ۔ لوگ  تمہارا اعتبار کرتے ہیں کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔ اگر کسی نے ایسا ویسا کہا تو ہمارے پاس فنکاروں کا ٹولہ ہے جو تمہاری حمایت میں دن رات شور مچائیں گے، سب کو لاجواب کردیں گے۔ جب تک دنیا کو پتا چلے تمہارے پاس اتنی دولت ہوگی کہ دنیا بھر میں تمہارے محل ہوں گے۔ جب چاہے یہ کاروبار چھوڑ کر عیش کی زندگی گذارنے کا فیصلہ کر لینا۔

گوالا تیار ہو گیا۔ تھوڑے ہی دنوں میں اس کی قسمت بدل گئی۔ پہلے پہل تو وہ شکایتوں کا جواب دینے کے لئے گوالوں سے مدد کے لئے کہتا لیکن بعد میں اسے شکایتوں کی بھی پروا نہیں رہی۔ گاؤں سے شہر اور شہرسے دوسرے ملکوں میں کاروبار پھیلتا گیا۔ ایک مرتبہ وہ کشتی میں سفر کر رہا تھا۔ لوگوں کو دکھانے کے لئے اشرفیوں کی تھیلیاں  اچھال رہا تھا کہ اپنا وزن قائم نہ رکھ سکا اور تھیلیوں سمیت پانی میں جاگرا۔ لوگوں نے باہر نکالا۔ تو اس نے لوگوں سے کہا میری تھیلیاں بھی نکال کر لاؤ۔ لوگ ہنسنے لگے۔ اس نے پاس بیٹھے بزرگ سے پوچھا کہ یہ لوگ میری مدد کرنے کی بجائے ہنس کیوں رہے ہیں۔ بزرگ نے کہا تم نے نہیں دیکھا دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا۔ یہ جتنی تھیلیاں پانی میں گئیں یہ اس پانی کا حساب ہے جو تم دودھ میں ملاتے رہے۔ اللہ کا شکر کرو حساب اسی دنیا میں برابر ہوگیا۔ ورنہ قیامت میں حساب دینا پڑتا تو تمہارے پاس کچھ بھی نہ بچتا۔ بزرگ نے نصیحت کی کہ دنیا میں حساب ہو جائے تو بندہ سستا چھوٹتا ہے۔ گوالے نے توبہ کی کہ آئندہ میں کبھی دودھ میں پانی نہیں ملاؤں گا۔

کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کا مطلب کڑا حساب ہے۔دودھ کا حق  دودھ کو اور پانی کا پانی کو ملتا ہے۔ حق حقدار کو ملتا ہےتو عدل انصاف قائم ہوتا ہے۔ جس کی حق تلفی کی ہے اس کی تلافی کرے جس سے زیادتی کی ہے اس سے معافی مانگے۔ گناہوں سے توبہ کرے تو قیامت کا حساب آسان ہو جاتا ہے۔ اس دن بندہ اپنے رب اور نبی کے سامنے شرمساری سے بچ جاتا ہے۔

یہ کہانی پڑھی تو بہت سی دعائیں کانوں میں گونجنے لگیں ۔ اقبال یاد آئے۔ اے اللہ!  سرکار کے سامنے رسوا نہ کرنا۔ میرا حساب ان سے چھپا کر رکھنا۔

مکن رسوا حضور خواجہ مارا       حساب من ز چشم او نہاں گیر

اور آج کی ہر دل عزیز مناجات بھی یاد آئی کہ دنیا میں حساب دے کر جائے تو اللہ سے معافی ملنے کی امید ہے۔ انسان کی عظمت توبہ سے عبارت ہے۔ توبہ  پچھتاوے کے اس احساس کا نام ہے جو انسان کو غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دیتا ہے اور انہیں دہرانے  سے بچاتا ہے۔ بندہ  اس قابل ہوتا ہے کہ روز حساب اللہ سے ایک ہی التجا کرسکے

مولا معاف کریں او مولا معاف کریں

عدل کریں نہ انصاف کریں

بس معاف کریں توں مولا معاف کریں