مدرسہ چیلنج ہے کیا؟

ریاست کو مدارس کے معاملے پرمکمل آگاہی کی ضرورت ہے تاکہ وہ جامع حکمت عملی مرتب کر سکے ۔اس کاآغاز رجسٹریشن کی پالیسی سے کیا جائے جو مدارس کو پابند کرے کہ وہ روزانہ کچھ گھنٹے عمومی تعلیم کے لئے وقف کریں۔رجسٹرڈمدارس کو نئی رجسٹریشن کے بغیر نیا مدرسہ کھولنے کی اجازت نہ دی جائے ۔

محمد عامر رانا


ریاست مدرسہ چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے تیار نظر نہیں آتی ہے ۔شاید وہ اس چیلنج کہ ہمہ گیری سے آگاہ نہیں یا وہ  یہ نہیں جانتی کہ مذہبی تعلیم سے وابستہ ا داروں کے مسائل کی ہیئت کیا ہے ۔وہ مدرسوں کو صرف سیکورٹی چیلنج سمجھتی ہے اور سمجتھی ہے کہ اس کا حل نصاب میں اصلاحات سےہے ۔

جب ریاستی ادارے مسئلے کی اصلیت کا ادراک کرنے میں ناکا م ہو جائیں تو وہ بوسیدہ اور روایتی  حل کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں ۔یہی کچھ مدراس کے معاملے میں ہوا ہے ۔یہ خیال کیا گیا کہ انگریزی ، ریاضی اور کمپیوٹر پڑھانے سے مدارس میں تبدیلی آ جائے گی ۔ داخلہ اور مذہبی  امور کی وزارتوں نے حال ہی میں یہی حل نکالا ہے ۔

جب ہم نیشنل ایکشن پلان کے تحت مدرسہ اصلاحات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ریاست اس مسئلے سے کیسے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔جب نیشنل ایکشن پلان کے تحت مدارس کو ضابطوں میں لانے کا کام، وزارت ِ داخلہ کے سپرد کیا گیا تواصلاحات کے لئے وزیر داخلہ نے اپنی سربراہی میں دو کمیٹیاں قائم کیں ۔انہوں نے مدراس کی رہنماؤں سے کہا کہ وہ عسکریت پسندوں کےخلاف ایک بیانیہ بھی تشکیل دیں ۔

مدارس کے راہنماوں کے ساتھ چند ملاقاتوں کے بعد انہوں نے یہ ‘‘کار خیر’’نیکٹا کے سپرد کر دیا اوراس کے بعد انہوں نے اس بات کی خبربھی نہیں لی کہ مدارس کی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پرجوجوابی بیانیہ  تیار کیا تھا اس کا کیا بنا ۔تاہم مختلف مکاتبِ فکر کے مدارس کے بورڈوں کی تنظیم ‘‘اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان ’’اور نیکٹا نے مل کر مدارس کی رجسٹریشن کا ایک نیا فارم ترتیب دیا ۔جس کی کاپیاں صوبائی حکومتوں اور وفاقی سیکورٹی اداروں کو بھجوائی گئیں تاکہ ان کا رد عمل معلوم کیا جاسکے ۔نیکٹا کے دائرہ اختیار میں یہی کچھ آتا تھا کیونکہ اس پرعمل درآمد اس کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حکومت نے ملک میں 254 غیر رجسٹر اور مشتبہ مدارس کوبند کرتے وقت ‘‘اتحادِ تنظیمات ِمدراس پاکستان ’’کے ساتھ  مشاورت کی یا نہیں ۔سندھ نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے سندھ مدرسہ رجسٹریشن بل2016 روشناس کرایا ۔بل میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت مدارس سے متعلقہ تمام معاملات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اس دوران خیبر پختونخواہ حکومت نے دارالعلوم حکانیہ اکوڑہ خٹک جو طالبان اور دوسرے شدت پسند گروپوں کی جانب جھکاؤ کے لئے مشہور ہے ،کے لئے تیس کروڑ روپے کے فنڈز مختص کر دیئے ۔صوبائی حکومت نے دعویٰ کیا کہ مدرسہ انتظامیہ نے اصلاحات لانے کا وعدہ کیا ہے۔تاہم ماہرین نے محض اصلاحات کی امید پر فنڈز کے اجرا کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔وفاقی حکومت نے 2002  سے کسی مدرسے کو کوئی گرانٹ نہیں دی ۔تاہم پنجاب حکومت مدارس کے معاملے پر کوئی بھی قدم اٹھانے پر آمادہ نظر نہیں آئی ۔

صفِ اوّل کے مدارس کو ظابطوں میں لانے کے لئے یہ اقدامات ناکافی ہیں بلکہ انہوں نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔یہ تمام اقدامات سیکورٹی سے  متعلقہ معاملات کے پس منظر میں اٹھائے گئے ہیں ۔مدرسہ ایجوکیشن بورڈز بھی حکومت کی پالیسیوں اوراصلاحات کی سست روی پر خوش نہیں ہیں۔

ملک میں مدرسہ چیلنج  کی تین جہتیں ہیں ۔جیسا کہ پہلے ذکرآ چکا ہے کہ پہلا سیکورٹی کا معاملہ ہے جس پر ریاست کی توجہ ہے ۔اور اس کے لئے وہ مدارس کی رجسٹریشن کو ہی حل سمجھتی ہے ۔حالانکہ اس سے ان کے حدود اربعہ وغیرہ کا ہی معلوم ہوسکتا ہے اور اس سے مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔

کچھ مدارس عسکری گروپوں کو نظریاتی اور آمد و رفت سے متعلق مدد فراہم کر رہے ہیں اور یہ سیکورٹی اداروں کا کام ہے کہ وہ  مذہبی تناظر سے ہٹ کر ان علاقوں پر نظر رکھیں جہاں سے خطرہ ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ ایسے مدارس بھی ہیں جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے ۔حکومت  ان کو الگ زمرے میں رکھے اور جن کا تعلق ثابت ہو ان کے خلاف الگ حکمت ِعملی مرتب کرنی چاہئے ۔

مدرسہ چیلنج کا دوسرا رخ مدارس کی اصلاحات سے ہے ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے انہیں انتظامی کنٹرول میں رکھنا ہو گا ۔یہ بھی خاصا مشکل کام ہے کیونکہ مدرسہ انتظامیہ ابھی تک یہ سمجھتی ہے کہ ریاست بیرونی دباؤ کی وجہ سے مدارس کو اپنے ماتحت کرنا چاہتی ہے ۔مذہبی سیاسی اور مدارس رہنماؤں کے سیاسی اور مذہبی مفادات  بھی اصلاحات میں روکاوٹ ہیں ۔

مدارس ،فرقہ وارانہ اورمذہبی سیاسی جماعتوں کےمددگارہیں اس لئے وہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔وہ اس کے جواب میں عمومی تعلیمی اداروں کی خراب کارکردگی کو جواز بنا کر حکومت پر تنقید کرتے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مدارس کا معیار خستہ حالی کا شکار ہے اور وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ عمومی تعلیمی ادارے انتظامی کنٹرول میں ہیں اور وہ اپنے طلبا میں کسی مخصوص فرقہ وارانہ یا سیاسی میلانات کو فروغ بھی نہیں دے رہے۔

تیسرا اور سب سے اہم چیلنج کا تعلق تعلیم سے ہے جس پر بہت کم توجہ دی گئی ہے ۔ریاست سمجھتی ہے کہ اصلاحات کا مطلب مدارس میں چند مضامین کا اضافہ کرناہے ۔مدارس کی تعلیم کا اہم مقصد مساجد کے امام اور مدارس کے اساتذہ پیدا کرنا ہے اور اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ ایسے مفکر پیدا کرے جو دور جدید کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کی سکت رکھتے ہوں ۔

یہ تقسیم دیو بند اور علی گڑھ روایات میں بھی نظر آتی ہے ۔جہاں سرسیداحمد خان کی توجہ ا س بات پر تھی کہ ایک ایسا تعلیمی نظام وضع کیا جائے جو وقت کی ضروریات سےہم آہنگ ہو جبکہ دیوبندکا مقصد برِ صغیر میں اپنی مذہبی اقدار و روایات کا تحفظ تھا ۔ان دونوں روایات کے ادغام کی کچھ کوششیں بھی ہوئیں مگر یہ مسلمانوں میں مقبول نہیں ہو سکیں ۔تاہم اس روایت کی ایک جھلک ان جدیدمذہبی اداروں میں دیکھی جا سکتی ہے جو پاکستان میں جماعت ِ اسلامی ، منہاج القرآن اور دوسری مذہبی تنظیموں نے قائم کئے ہیں ۔

آہستہ آہستہ مذہبی تعلیمی اداروں میں مثبت تبدیلی آرہی ہے اور وہ عمومی تعلیم کو بھی اپنے نظام میں جگہ دے رہے ہیں ۔ شہروں میں قائم کئی مدارس عمومی تعلیم بھی دے رہے ہیں اور یونیورسٹی کی سطح کے کئی مدارس میں داخلے کے لئے عمومی تعلیم کی شرط بھی رکھی گئی ہے ۔

ریاست کو مدارس کے معاملے پرمکمل آگاہی کی ضرورت ہے تاکہ وہ جامع حکمت عملی مرتب کر سکے ۔اس کاآغاز رجسٹریشن کی پالیسی سے کیا جائے جو مدارس کو پابند کرے کہ وہ روزانہ کچھ گھنٹے عمومی تعلیم کے لئے وقف کریں۔رجسٹرڈمدارس کو نئی رجسٹریشن کے بغیر نیا مدرسہ کھولنے کی اجازت نہ دی جائے ۔صوبائی حکومتوں کوایسا طریقہ کار روشناس کرانا چاہئے جس میں وہ نظر رکھ سکیں کہ مدارس اپنے نصاب سے ہٹ کر کسی مخصوص مذہب، فرقے یا کمیونٹی  کے خلاف کوئی الگ  کورس تو نہیں پڑھا رہے ۔اس کے جواب میں حکومت انہیں معاشی اور انتظامی آزادی دے ۔

(بشکریہ ڈان ، ترجمہ : سجاد اظہر )