پوسٹ ٹروتھ ، سچ مُچ؟

آکسفرڈ والے باہر سے آئے الفاظ کو آسانی سے شہریت نہیں دیتے۔ وہ پہلے اس لفظ کے حسب نسب کی پڑتال کرتے ہیں۔اور یہ یقین کر لینے کے بعد کہ مارکیٹ میں اس لفظ کا سکہ چلنے لگا ہے اسے رجسٹر کرتے ہیں۔ رجسٹری کا فائدہ یہ ہے کہ وہ اس لفظ کے چال چلن اور بے جا میل جول پر پابندیاں لگا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر خالد مسعود


نیا سال مبارک ہو۔ کہا جارہا ہے کہ ۲۰۱۷ دنیا بھر میں تبدیلی بلکہ پوسٹ ٹروتھ کی کایا پلٹ تبدیلی کا سال ہے۔ اس خوش خبری  کی بنیاد آکسفرڈ ڈکشنری کا انکشاف ہے  کہ ۲۰۱۶ میں انگریزی زبان میں ایک نئے لفظ پوسٹ ٹروتھ۔ نے جنم لیا ہے۔ پوسٹ ٹروتھ  کا سرکاری اردو ترجمہ ابھی دستیاب نہیں لیکن سیاق و سباق سے پتا چلتا ہے کہ انگریزی زبان میں لفظ نہ سہی خیال پاکستان سے گیا ہے۔  ماہرین پوسٹ ٹروتھ  کی شرح میں جو مثالیں پیش کر رہے ہیں ان سے بھی ا س  بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ مثلاً وہ ڈونالڈ ٹرمپ کی جمہوری فتح کو  پوسٹ ٹروتھ  کی مثال بتا رہے ہیں حالانکہ پاکستان میں بہت پہلے جمہوریت کو بہترین انتقام قرار دیا چکا ہے ہے۔ اسی طرح بل کلنٹن کے لیونسکی سے معاشقے اور ہیری کلنٹن کی شکست کے تانے بانے کو بھی پوسٹ ٹروتھ  کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔  اور تو اور بل کلنٹن کے  دفاعی بیان کو بھی کہ اس کے موصوفہ سے جنسی  تعلقات ہرگز نہیں تھے پوسٹ ٹروتھ  کہا جا رہا ہے، جب کہ پاکستان میں  سیاسی بیانات پر کبھی اعتبار نہیں کیا جاتا۔ سیاسی رہنماؤں کو  منشور اور وعدے کی بنیاد پر ووٹ پڑنے لگیں تو الیکشن جیتنا ہی ممکن نہ رہے۔ ہمارے ہاں سیاست  سچ ُمچ پوسٹ ٹروتھ ہوتی ہے۔ سیاسی بیان پر نہ کسی کو پکڑا جا تا ہے نہ سزا ہو تی ہے۔  اور تو اور برطانیہ کے تازہ ریفرینڈم کو بھی جس کے نتیجے میں یورپ اور برطانیہ میں جدائی ہوئی پوسٹ ٹروتھ کی مثال بتایا جا رہا ہے۔ البتہ یہاں پوسٹ ٹروتھ پچھتاوا بنی بیٹھی ہے۔ اس کے بر عکس پاکستان میں پوسٹ ٹروتھ  کامیاب اور دھرنے پچھتاوا سمجھے جاتے ہیں ۔ چڑیاں کھیت چگ جائیں تو پچھتانا اور سانپ نکل جائے تو لکیر پیٹنا ا ن کا کام  ہے جن کے پاس کرنے کو کچھ اور نہ ہو۔

 

بہی خواہوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو پوسٹ ٹروتھ  میں اپنی پیش روی ثابت کرنے کے لئے بہت جلد اس کو اپنے نام پیٹنٹ کرا لینا چاہئے ورنہ ہم اپنے اہم ثقافتی ورثے سے بھی محروم ہو جائیں گے اور آکسفرڈ  والے ہمیں  کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مجرم بھی ٹھہرائیں گے۔ اس مقدمے کی تیاری کے لئے چند تجاویز اور مجرب دلائل پیش خدمت ہیں۔

 

آکسفرڈ والے باہر سے آئے الفاظ کو آسانی سے شہریت نہیں دیتے۔ وہ پہلے اس لفظ کے حسب نسب کی پڑتال کرتے ہیں۔اور یہ یقین کر لینے کے بعد کہ مارکیٹ میں اس  لفظ کا سکہ چلنے لگا ہے اسے رجسٹر کرتے ہیں۔ رجسٹری کا فائدہ یہ ہے کہ وہ اس لفظ کے چال چلن اور بے جا میل جول پر پابندیاں لگا سکتے ہیں۔ آکسفرڈ ڈکشنری کے مطابق پوسٹ ٹروتھ ایسی رائے کا نام ہے جو ٹھوس حقائق کی بجائے جذباتی نعروں اور ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر قائم کی جاتی ہو۔ سادہ لفظوں میں وہ  بات جس کابقول فیض  سارے فسانے میں ذکر نہ ہو ناگوار گذرے اسے پوسٹ ٹروتھ کہتے ہیں۔

ہم نے اوپر جو مثالیں دی ہیں وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ پو سٹ ٹروتھ پر ہمارا حق فائق ہے۔ اگر ہم آکسفرڈ کو یقین دلا سکیں کہ پوسٹ ٹروتھ کا حسب نسب پاکستانی ہے اور اس کا سکہ اس ملک میں کامیابی سے چل رہا ہے  تو وہ بوجوہ فوراً اس دعوے سے دستبردار ہو جائیں گے بلکہ امید قوی ہے کہ وہ اسے جلد پاکستان ڈیپورٹ کردیں گے۔ مزید ثبوت کے لئے آپ درج ذیل دلائل بھی شامل کر سکتے ہیں۔

 

۱۔  پوسٹ ٹروتھ   دور میں  ٹھوس حقائق کی اہمیت نہیں رہتی۔ پچھلے کئی برسوں سے ہمارے ہاں صادق اور امین کے بارے میں جو بحث جاری ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ ہم اس سچائی  پربہت عرصے سےعمل پیرا ہیں۔

 

۲۔ حال ہی میں پانامہ کی بحث میں  ہم نے پانامہ ۔ پاجامہ کی ترکیب متعارف کرائی۔ اس کا فلسفہ بھی یہی تھا کہ پانامہ کا الزام سچ بھی ہو  اسے پاجامہ کے بغیر سامنے لانا سراسر بے شرمی ہے۔ ننگا سچ مالی و مِلؐی نقصان کا باعث بنتا ہے۔

 

۳۔ انگریزی کا لفظ پوسٹ اردو کے لفظ پوست کا قریبی رشتہ دار ہے۔ پوست چھلکے یا پرت اور تہ کے معنی میں بولا جاتا ہے ۔ جس طرح چھلکا  کھانے کے کام نہیں آتا لیکن اس کے بغیر مغز جلد بد ذائقہ ہو جاتا ہے اسی طرح ٹروتھ  پوسٹ  کے بغیر بے معنی ہے۔ بہت سے پھل  اور سبزیوں میں چھلکا بے کار سمجھا جاتا ہے۔ کیلے، سیب، اخروٹ اور کدو وغیرہ کا چھلکا پھینک دیا جاتا ہے۔ لیکن  پیاز نہ پھل ہے نہ سبزی اس لئے اس کے چھلکے کو ہی مغز کا درجہ حاصل ہے۔ پیاز کا چھلکا پردہ سمجھا جاتا ہے۔ پیاز کی طرح سچائی کا چھلکا اتارنا بے معنی عمل سمجھا  جاتا ہے ۔

 

۴۔ اردو میں سچ کا لفظ اکیلا نہیں بولا جاتا۔  اس کے ساتھ کوئی اسم صفت مثلاً پورا سچ   کہنا ضروری ہے۔ عدالتوں میں گواہ کو سچ بولنے کے لئے قسم کھانی پڑتی ہے کہ وہ  پورا  سچ بولے گا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہے گا۔  اسی لئے سچ بولنے سے زیادہ سچ کو ثابت کرنا اہم ہے۔ سچ بولنے کے لئے قسم کھا نا لازمی ہے۔ لیکن اگر گواہ جو کہے وہ سچ کے سوا سب کچھ ہو تب بھی جب تک اسے جھوٹ ثابت  نہ کیا جائے وہ سچ رہتا ہے۔ جھوٹ ثابت کرنے کے لئے  جرح ضروری ہے۔ اگر گواہ اپنے بیان پر ڈٹا رہے تو یہ پورا  سچ بن جاتا ہے۔ کھرا اور پورا سچ  مثالی ہے اس لئے آدھا یا ادھورا سچ  بھی کام آجاتا ہے۔  کوئی دشمن ہی اسے جھوٹ قرار دیتا ہے۔

 

۵۔ ہمارے ہاں خالی سچ کو خطرناک سمجھا جاتا ہے۔   بزرگوں کا کہنا ہے کہ سچ سے آگ کا بھانبڑمَچتا ہے جو ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ سچ کو  مرتے دم تک دل میں رکھا جاتا ہے۔ موت کے ڈر سے بھی زبان پر نہیں لایا جاتا۔ ہمارے ہاں کہیں احتیاط  کے بغیرسچ بولنے کی ممانعت ہے، کہیں اس کو محرم کے بغیر پبلک میں آنا منع ہے۔ ضرورت سیاسی بھی ہو تو  سچ کو برقع پہنانا لازم ہے۔  بے پردہ سچ  اکثر کڑوا ہوتا ہے اسی لئے لوگ میڈیا پر آکر تھو تھو کرتے ہیں۔

 

۶۔ اردو واحد زبان ہے جو پوسٹ ٹروتھ سے صحیح مناسبت رکھتی ہے۔ اردو میں سچ  کے لفظ سے مفہوم پورا نہیں ہوتا ۔ پورا مفہوم سمجھانے کے لئےسابقے اور لاحقے لازمی ہیں۔ اردو زبان بے معنی لاحقے سے بھی مفہوم پیدا کر سکتی ہے۔ مثلاً سچ مُچ ۔ آپ خوش خبری دیں کہ  ۲۰۱۷ میں  پاکستان بہت ترقی کرے گا۔ سوال پوچھا جاتا ہے۔ سچ ُمچ ؟  یہ سوال شک کا اظہار نہیں بلکہ اس قاعدے کی پابندی ہے کہ سچ کے آگے پیچھے کوئی اور لفظ لگانا ضروری ہے۔ چاہے وہ بے معنی ہی ہو۔  جو لوگ اردو سے واقف نہیں انہیں تعجب ہوتا ہے کہ یہ سچ میں ُمچ کہاں سے  آگیا۔ سچ کے سابقے تو بہت سے ہیں، مثلاً  پورا ، خالص اور ُسچّا سچ۔  لیکن سچ کا لاحقہ ایک ہی ہے اور وہ ہے ُمچ۔  ُمچ کے بغیر سچ مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ ہم صدیوں سے سچ میں ُمچ ملاتے آئے ہیں ۔ وفادار بیوی اپنے چاند سے سر والے میاں  کو یقین دلاتی ہے کہ اسے چاند سے سچی مُچّی پیار ہے۔ آپ کسی دوست کو اپنی شادی کی خبر دیں یا امتحان میں پاس ہونے کی خوش خبری سنائیں تو وہ فوراً پوچھتا ہے سچ ُمچ؟ ۔

اردو قواعد کی رو سے بے معنی لاحقے تابع مُہمل کہلاتے ہیں۔ تابع پیچھے آنے والے کو اور مہمل بے معنی لفظ کو کہتے ہیں۔ مہمل کے اپنےکوئی معنی نہیں ہوتے لیکن اس کے ساتھ اصل مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔  مثلاً  مہمان  کافی دیر بیٹھا رہے تو اگر پوچھا جائے : چائے وائے ؟ تو سمجھدار مہمان شکریہ ادا کرکے اجازت چاہتا ہے۔

تابع مہمل اردو زبان کی بہت ہی پردہ پوش ایجاد ہے۔ تابع سے تو  آپ واقف ہوں گے ۔ تابع سے پتا لگتا ہے کون کس کے ماتحت ہے۔ لیکن غیرت مند پاکستانی اپنے کو تابع کی جگہ تابع دار لکھتے  ہیں۔ انگریز یہ سمجھ کر خوش رہتا تھا کہ ہم  اس کے تابع ہیں۔ ہم  تابع دارسے مراد تابع رکھنے والا لیتے تھے۔ جیسے سرمایہ دار۔ اس لئے بڑے فخر سے کود کو فتوی تابع دار لکھتے۔ آج کل ہم اردو کے الفاظ کے ساتھ انگریزی الفاظ بلکہ پورے پیرے  تابع مہمل بنا کر بولتے ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں آئی مین ٹو سے۔ ہمیں نہ تکرار بری لگتی ہے نہ بے معنی اضافہ۔  خوشی اس بات کی ہے کہ ہم انگریزی کو تابع مہمل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بالکل پوسٹ ٹروتھ کے مفہوم میں۔ انگریزی لفظ اردو کی شان  بڑھانےکے لئے اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔ آزادی کے بعد تابع اور مہمل  دونوں کے معنی بدل گئے ہیں۔  بلکہ پورا سچ یہ ہے کہ لفظ  اپنی ذات میں ہی تابع مہمل ہو گئے۔ چائے وائے ہوگئی ہے، سچ ُمچ بن گیا ہے اور جھوٹ ُموٹ میں بدل گیا ہے۔ پوسٹ ٹروتھ  پر اس سے زیادہ کسی کا حق ہو تو سامنے آئے۔