نیا سال پرانے چیلنجز

2016 میں موصل اور حلب میں خونریز معرکے ہوئے اور ظلم و ستم کی وہ داستاں رقم ہوئی جس نے ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے،حلب میں سرکاری افواج کے ہاتھوں متعدد خواتین جنسی درندگی کا شکار ہوئیں اور بہت سی پاکدامن دوشیزاؤں نے آبرو کی حفاظت کرتے ہوئے خود ہی زہر کا پیالہ پی لیا.

عاطف محمود


2016 کا سال بھی غموں خوشیوں کےانگنت احداث وواقعات کوسموئے تاریخ کا حصہ بن گیا،رخصت ہوتا یہ سال اگر اپنےساتھ ہمارےآلام و مصائب   بھی  لے جاتا تو  نئے سال  کے آمد کی خوشیاں   صرف ایک دن تک محدود نہ ہوتیں  لیکن    جاتے جاتے یہ سال کچھ ایسے احداث کو نامکمل چھوڑ کر جا رہا ہے کہ جس  انداز اور جس رفتار سے یہ نامکمل تصویر بنی ہے اگر  اس نے مکمل بھی اسی طرح ہونا ہے  تو پھر  ہم نئے سال سے کوئی نئی توقعات نہیں وابستہ کر سکتے،لیکن ہمارا ایمان  ہے  کہ اسباب کے پیچھے  بھی ایک طاقت ہے جسے مسبب الاسباب  کہا جاتا ہے، وہ چاہے تو  اپنے خصوصی فضل و کرم سے شر سے  خیر کو وجود بخش سکتا ہے جس کے مظاہر بھی ہمیں تاریخ  اور مشاہدےمیں ملتے ہیں۔

مشرق وسطی  میں سعودیہ ایران تنازعہ اپنے زوروں پر ہے،داعش جیسی دہشتگرد تنظیموں کا ابھی خاتمہ  ہونا باقی ہے،روسی افواج تاحال شام میں موجود ہیں اور تباہی پھیلا رہی ہیں،یمن قحط  و افلاس  سے  گھرا ہوا ہے،لیبیا اور عراق  ابتری کا شکار ہیں،ایسے میں اگر خطے کے مستقبل  کی صورت گری کی جائے تو اس میں  امید کے عنصر کو  کہاں سے شامل کیا جائے سوائے  لاتقنطوا من رحمۃ اللہ کے؟

2016 میں موصل اور حلب میں خونریز معرکے ہوئے اورظلم و ستم کی وہ داستاں رقم  ہوئی جس نے ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، عورتوں  اور بچوں سمیت ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے،حلب میں  سرکاری افواج  کے ہاتھوں متعدد خواتین جنسی درندگی کا  شکار ہوئیں اور بہت سی پاکدامن دوشیزاؤں نے آبرو کی حفاظت کرتے ہوئے خود ہی زہر کا پیالہ پی لیا، شام  میں اگرچہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے لیکن پہلے کی طرح یہ بھی وقتی ہی ثابت ہو گی  اور بشار الاسد کی موجودگی تک امن کی بحالی ناممکن دکھائی دیتی ہے،فتح الشام  اور اس کی حلیف  جہادی تنظیمیں حلب کے جنوب  میں اپنی کاروائیاں جاری رکھیں  گی  جبکہ دوسری طرف روس   بھی مشرق وسطی میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لیے فضائی حملوں  کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

یمن میں جنگ بندی کے لیےایک مرتبہ پھر کویت میں مذاکرات ہوں گے،اگر یہ مذاکرات خارجی مداخلت سے محفوظ  رہے (جس کا امکان  کم  ہی ہے) تو   اتحادی افواج  جزوی واپسی کریں گی لیکن القاعدہ کے نیٹ ورک کی موجودگی  کا چیلنج بہرحال  قائم رہے گا۔

 یمن اور شام میں  جاری جنگ  کے اصل فریق سعودیہ اور ایران ہیں،ایران  کے توسیع پسندانہ عزائم  کے پیش نظر یہ توقع کرنا مشکل ہے کہ وہ سرنڈر کر دے گابلکہ  ایران کی کوشش ہو گی کہ اتنی بھاری قیمت  چکانے کے بعد ان دونوں ملک میں اس کا  نفوذ گہرا ہوجائے جبکہ دوسری طرف سعودیہ  بھی کبھی  نہیں چاہے  گا کہ ایران اس کے دروازے پر آکر بیٹھ جائے،اگر اسی سمت حالات آگے بڑھے تو  نہ صرف  مشرق وسطی کی دونوں بڑی طاقتوں میں ٹکراؤ  پیدا ہو نے کے امکانات بڑھ جائیں گے بلکہ  پورا عالم اسلام آپس میں دست گریباں ہو جائے گا اور  خاکم بدہن ایک ایسی عالمی جنگ چھڑ جائے گی  جس کا علم  اٹھانے والے دونوں جانب اسلامی ممالک ہوں گے۔ایسے میں ٹرمپ    کی ایران کو ایٹمی ڈیل فسخ کرنے کی دھمکی ہی کارآمد  ثابت ہو سکتی ہے۔سعودیہ  کی سربراہی  میں اسلامی افواج کا اتحاد   بھی اسی  خطرے کے پیش نظر  قائم کیا گیا ہے جسے  نئے سال کے شروع سے ہی فعال کر دیا جائے گا۔

ترکی کے لیے  ایک طرف کردوں نے مسئلہ  کھڑا کیا ہوا ہے تو دوسری طرف داعش  بھی اپنے پر پھیلا رہی ہے،2016 میں  ترکی میں ہونے والے متعدد حملوں میں کہیں داعش ملوث تھی تو کہیں اکراد،دو دن قبل  بھی ترک فورسز نے 30 داعشی جنگجوؤں کو گرفتار کیا ہے جس سے  پتا چلتا ہے کہ  داعش  کے اگلے اہداف میں ترکی کو کمزور کرنا بھی شامل ہے،اس طرح کی کارروائیوں  سے خؤف و ہراس کی فضا بن رہی  ہے  جس کا سرمایہ کاری، سیاحتی عمل  اور پھر ترکی لیرہ پر  منفی اثر پڑے گا۔

مصر کی مشکلات میں کوئی کمی نظر آتی نہیں دکھائی دیتی،اگر عبدالفتاح السیسی اقتدار چھوڑ بھی دیں تب بھی اگلے دو سال تک مصر کا اپنے معاشی مسائل پر  قابو پانا ناممکن ہے۔

کھنڈرات کا نمونہ پیش کرتا عراق  اس سال بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہے گا اور خانہ جنگی   کے خاتمے کے لیے نہ کوئی کوششیں نظر آرہی ہیں نہ ہی امکانات،بلکہ داعش کے خاتمے کے عنوان سے جاری جنگ مزید شدت اختیار کرے گی اور حلب کی طرح  دہشتگردوں کے ساتھ ساتھ یہاں پر بھی بے گناہوں اور معصوموں کا خون بہتا رہے گا۔

جہاں  2017میں عرب دنیا  اپنے پرانے چیلنجز سے ہی نبردآزما  ہوتی نظر آرہی ہے  وہاں یہ توقع بھی کی جارہی ہے کہ نیا سال فلسطین کے حق میں  خوشیوں کا پیغام لائے گا ، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان مسئلہ فلسطین پر حالیہ  کھچاؤ اورجان کیری کی طرف  سے  دیے  گئے دوریاستی فارمولے  کو دیکھتے ہوئے امید  ہے کہ فلسطینیوں کی قربانیاں  رنگ لائیں گی اورعالم اسلام کا یہ دیرینہ مسئلہ  اپنے حل کی طرف بڑھے گا۔

دعا ہے کہ  نئے سال کا سورج ہمارے لیے امن و آتشی،پیار و محبت اور خوشیوں وکامرانیوں  کی نوید لے کر طلوع ہو،

آپ سب کو سال نو مبارک۔