کبھی القاعدہ کے لیے بھرتیاں کرنے والاآج عسکریت کے خلاف آواز بن گیا

"ہم شیروں کوتلاشکررہے تھے" اس نے یہ وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہعموماکیسے مسجد کے باہرسے لوگوں کو بھرتی کرتے تھے "اورمیمنوں کو چھوڑ دیتےتھے "۔

رک مینی کالیماچی


شدت پسندوں کی واپسی کے پروگرام دنیا کے کئی ممالک میں چل رہے ہیں تاہم یہ ایک مشکل کام ہے ۔نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اس مضمون میں امریکہ کے ایک ایسے شدت پسند کو اجاگر کیا گیا ہے جس نے اپنے آن لائن پراپیگنڈے سے کئی لوگوں کو بہلا پھسلا کر شدت پسندی کی طرف راغب کیا مگر اب وہ نہ صرف تائب ہو چکا ہے بلکہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے اداروں کی مدد کر رہا ہے کہ وہ کسیے شدت پسندانہ رجحانات کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ اس مضمون کو اردو قلب میں ڈھالنے کے لیے ہم عاطف ہاشمی کے ممنون ہیں ۔( مدیر ) 
جیسی مورٹننے کئی سال تک اسلام کی ایک متشدد سوچکی وکالت اوردہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کرنے والے رنگروٹوں کی حوصلہ افزائی کی،وہ بتاتے ہیںکہوہ کیوں واپس پلٹےاور انہوں نے کیوں ایکایسےتھنک ٹینک میں شمولیت اختیار کی جو کہ بنیاد پرستی پر ریسرچ کرتا ہے۔
واشنگٹن: چار سالوںمیں جبکہ وہ فلیٹ بش بروکلین میں اپنے واک اپ اپارٹمنٹ کے باہر ایک اسلامی انقلاب ویب ساٹ چلاتا رہاجیسی مارٹنکا شمار القاعدہکے لیے کثیر پیمانے پر بھرتیاں کرنےوالوں میں ہوتا تھا جو کہ متعدد امریکیوں کو بہلا پھسلا کر اپنے گروپ کے متشددنظریاتپر لے آیا۔ 
جن مردوں اور عورتوںکو اس نے اپنی آنلائن پوسٹوں اور تعلیم کے ذریعہ متاثر کیاان پر جوالزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں پینٹاگون میںدھماکہ خیز مواد کے حامل ریموٹ کنٹرول جہاز کولے جانا اور سویڈش کارٹونسٹ کو قتل کرناشامل ہے جس نے شان رسالت ﷺ میں گستاخی کی تھی۔ اس کا ایک ساتھی یمن میں ڈرون حملے میں مارا گیا تھا جہاں اس نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ میں شمولیت اخیتا ر کر لی۔ اب ان میں سے متعدد دولتِ اسلامیہ کے لیے لڑ رہے ہیں ۔
"ہم شیروں کوتلاشکررہے تھے" اس نے یہ وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہعموماکیسے مسجد کے باہرسے لوگوں کو بھرتی کرتے تھے "اورمیمنوں کو چھوڑ دیتےتھے "۔
37 سالہ مسٹر مارٹن اس وقتداعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کی کشش کے خاتمے کے لیےکیے جانے والے تجربےمیں پیش پیش ہیں،ایف بی آئی کے مخبر اور گذشتہ برس اس کی جیل سے رہائیکےکچھ عرصہ بعدجارج واشنگٹن یونیورسٹیکی طرف سے مسٹر مارٹن کیانتہا پسندی پر پروجیکٹمیں بطور فیلو خدمات حاصلکی گئیں جہاں وہ اسی آئیڈیالوجی پر ریسرچ کریں گےجو کبھی وہ پھیلاتے رہے ہیں۔ 
اگرچہبرطانیہ جیسے ممالککئی سالوں سےسابقہ انتہاپسندوں کو تھنک ٹینک میں شامل کرتے رہےہیں تاکہ انتہاپسند نظریات کے خلاف مستند آوازسامنے لائی جا سکے، لیکن مسٹر مارٹن پہلےسابقہ جہادیہیںجو امریکہ میں عوامی سطح پر یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔ 
لرنزوودینو جوکہجارج واشنگٹن یونیورسٹی کے سینٹر فار سائبر کرائم اینڈ ہوم لینڈ سیکیورٹیکے انتہاپسندی پر پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت مارٹن کے باس کے لیے تشویش سے بہرحال خالی نہیں ۔ڈاکٹر ودینونے مسٹر مارٹن سے فروری 2015 میں رہائی کے بعدان سے ملاقات کیجو بعد میں ایک سال پر محیطناقدانہ عمل کی بنیاد بنا جس میں سات قانون نافذ کرنے والے اُن اہلکاروں کے انٹرویو شامل تھے جو براہ راست اس کے کیس میں ملوث تھے ۔
            "کوئی ایک آواز بھی ان کی مخالفت میں نہیں اٹھی""ڈاکٹر ودینو نے کہا 
رواں ماہنیویارک ٹائمز کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کوئی کیسے یقین کر سکتا ہے کہ وہسچ میں تبدیل ہوگئے ہیں؟مسٹر مارٹن نے اصرار کیا کہ وہ تلافی کے لیے کوشش کر رہے ہیں ۔ 
"جتنے بھی لوگوں نے میری بات سن کر سفر کیا یا جرائم کا ارتکاب کیا مجھے امید ہے کہ میں اتنے ہی لوگوں کو روک بھی سکتا ہوں،انہوں نے کہا "ممکن ہے کہ میں اس نقصان کی تلافی نہ کر پاؤں جو میں کر چکا ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ میں کم از کم کوشش تو کر سکتا ہوں"۔ 
سبب کی تلاش 
جب اس سے پوچھا گیا کہ پہلی دفعہ وہ کب انتہاپسندی کی طرف مائل ہوا؟ تو مسٹر مارٹن نے اپنا ہاتھ نکالا اور زمین سے ایک فٹ اونچا رکھ کر بتایا" جب میں اتنا تھا تب"
مسٹر مارٹن جو کہ پنسلوانیہ میں پیدا ہوئےانھوں نے کہا کہ ان کی پرانی یادوں میں ماں کی گالیاں سننا،اس کا مارنا،نوچنا اور کئی سالوں تک اپنے بچوں کا "کاٹنا" شامل ہے۔
            جب وہ اسے زیادہ برداشت نہ کر سکاتو اس نے اپنے سکول کے مربی کو شکایت کی،سکول نے اس کی ماں کو بلوایا جس نے گالیوں کی تردید کی اور اسے گھر لے گئی اور خوب مارا،یہ صرف میرے خاندان والوں کی خرابی نہیں تھیجس پر میں اعتماد نہ کر سکا’’ معاشرے کا مسئلہ تھا،اس نے کہایہاں سے شخصیت کا تصادم شروع ہوتاہے جو کہ ’ہمبمقابلہ اُن‘ کا شاخسانہ ہے۔ اس تصور کے ساتھ امریکیمعاشرہ مجھےتحفظ نہیں فراہم کر رہا۔‘‘ 
16 سال کی عمر میں وہ کہیں بھاگ گیااور اس کے بعد ادھر ادھر گھومتا رہااور محافل موسیقی کے باہر منشیات فروخت کر کے گزراوقات کرتا رہا،
اسلام کے ساتھ اس کا پہلا تعارف 1999 میں ہوا جب وہ اور ایک اور محرک پولیس سے بچنے کے لیے ایک متروک عمارت میں چھپ  گئے،اس نے کہا 
جس وقت آفیسرز قریب آ رہے تھے اس کے ساتھی نے اسے ہدایت دی کہ وہ عربی کے کچھ پے در پے الفاظ اس کے ساتھ دہرائے،جس کا اسےبعد میں جا کر پتا چلا کہوہ اس نے مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق دعا پڑھی تھی،جب پولیس واپس چلی گئی تو مسٹر مارٹن جو کہ اس وقت 21 سال کا تھانے اسے سچائی کی علامت کے طور پر لیا اور اسلام قبول کر لیا

               اس کے بعد تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ اسے گرفتار کر لیا گیا اورمنشیات فروخت کرنے کے الزام میں رچمنڈورجینا کی ایک جیل میں بند کر دیا گیا
               ایک پرانے مراکشی مسلمان جس نے 40 رکنی سیلمسٹر مارٹن کے ساتھ شیئر کیا،اسے دوست بنایا اور اس کا پہلا امام بن گیا۔

اس نے مسٹر مارٹن کا اسلامی نام"یونس" رکھا،ایک نبی کے نام پر جنہیں وہیل نے نگل لیا تھا اور اس کے پیٹ کے اندر سے دوسروں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے،"تم اس وقت حیوان کے پیٹ میں ہو" اس آدمی نے سے بتایا۔ 
یہ ہمارا اور ان کا مقابلہ تھا،اور اس بات نے مسٹر مارٹن کو متاثر بھی کیا خصوصاً جب اس کے استاد نے اس کے سامنے تباہی کی پیش گوئی کی کہ امریکہ زوال کی طرف جا رہا ہے۔
اس نے کتاب مقدس کی پیش گوئی کا حوالہ دیاکہ جب افغانستان میں کالے جھنڈے بلند ہوں گے تو اسلامی حکومت قائم ہو گی۔
"یہ میرے لیے بہت اچھا ہے کیونکہاس وقت دنیا سیاہ و سفید ہے"مسٹر مارٹن نے کہا " اور میں فوری طور پر تیار ہوں کہ اس(عظیم) مقصد میں حصہ ڈالوں،میں باہر نکلا اور اپنی زندگی کو مکمل طور پر بدل دیا"
2006 میں اس نے میٹروپولیٹن کالج نیویارک سے نمایاں نمبروں سے گریجویشن مکمل کی اور اگلے سال کولمبیا یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا جہاں سے اس نے انٹرنیشنل سٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ 
کیمپس سے باہر وہ ان گروپوں سے منسلک ہو گیا جو کالے جھنڈے کو سپورٹ کرتے تھے،پہلے اسلامی مفکرین سوسائیٹی جو کہ انجم چودھری کی طرف سے چلائے جانے والے برٹش گروپ کی شاخ ہے جنہیں اس ماہ داعش کی حمایت میںآنلائن لیکچرز دے کر مشتعل کرنے کی وجہ سے سزا سنائی گئی ہے۔
جلد ہی مسٹر مارٹن کا تعارف جیل میں قید جمیکا کے انتہاپسند عبد اللہ الفیصل سے ہوا جو کہ 2005 میں لندن دھماکوں کا منصوبہ کار تھا اور اس سے مراسلت شروع کر دی۔ 
ان دونوں نے نیویارک میں مقیم ایک نو مسلم کے ساتھ مل کر اسلامی انقلاب کا فیصلہ کیا یہ ویب سائٹ جو 2007 میں مسٹر مارٹنکی کرسمس بریک کے دوران براہ راست چلائی گئی۔
متنازعہ قرار دی جانے والی ویب سائٹ ان افراد کو قابو میں کرتی تھی جن کے انتہاپسندانہ عزائم تھے،جمعہ کے دن مسٹر مارٹن نیویاررک کی مساجد کے باہر کھڑے ہو کر تقریریں کرتا اور مسجد کے اندر جس سافٹ اسلام کی دعوت دی جاتی اس پر تنقید کرتا ،
تصادم کی ویڈیوزاسامہ بن لادن کی آڈیوز کے ساتھ نمایاں کر کے لگا دی جاتیں ،ویب سائٹ کے ساتھ یوٹیوب چینل کی برانچ بھی رکھی گئی۔ 
اسلامی انقلاب" ایک مدہم سی روشنی تھی جس نے عسکریت  کے متوالوں کو ان کے پیغام کے ساتھاپنی طرف کھینچا، نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے انٹیلی جنس تجزیہ کے سابق ڈائریکٹر مچ سلبر کے کہنے پر ان کی ٹیم نے مسٹر مارٹن کی آن لائن سرگرمیوں کا تعاقب اور تفتشیش کی۔
بھرتیوں کی طرف
ویب سائٹ بھرتیوں کے لیے ایک تیار جگہ بن گئی،’’جب ایک مرتبہ آپ دیکھ لیں کہ وہ مسلسل لاگ ان ہو رہے ہیں تو آپ کو کوئی ضرورت نہیں رہتی کہ ہر وقت ان کو ساتھ چلائیں،مسٹر مارٹن نے کہا۔
آپ کے کرنے کا کام یہ ہے کہ ان کی شکایتوں کو نوٹ کریں،اس نے مزید کہا 'انہیں یہ باور کرواتے ہوئےکہ وہ ایک واضح مقصد کے لیے حصہ ڈال سکتے ہیں،اور آپ یہ ایک نظریہ کے تحت کریں،اس لیے کہ آپ یقین کریں یا نہیں کہ اسلام کو ناقابل یقین حد تک انقلابی تناظر میں فریم کیا جا سکتا ہے .
مسٹر مارٹن نے کہا کہ اسلام کا ایک غیر لچکدارانہ لفظی تصور ذہن نشین کرنا اہم تھا۔ ،پہلا تصور یہ ہے کہ خداواحد شارع ہے" پھر آپ یہ اصول استعمال کرتے ہوئے کہیں کہ تمام مسلم حکمران چونکہ کہ وہ شریعت کے قانون پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں کرتے اس لیے وہ قطعا مسلمان نہیں اس لیے ہم ان کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں 
اس کے بعد اس نے رنگروٹوں کویہ تعلیم دی کہ ان کی بیعت صرف مسلمان ساتھیوں سے ہونی چاہیے،کوشش ہو کہان کے خاندان اور دوستوں سے الگ تھلگ کردیا جائے،ایک دفعہ یہ اصول طے کر لیے جائیں،مسٹر مارٹن نے کہا ،تو لازمی طور پر تم ان کے ساتھ وہ سب کچھ کر سکتے ہو جو تم چاہو۔ 
’’مسلم انقلاب‘‘ القاعدہ کے پیغام کی وسیع تر اشاعت کے لیےایک مقامِ اجتماع ثابت ہوا ہے۔،اسیضمن میں آپ کو بہت سے ایسے امریکی شہری مل جائیں گے جنہوں نے یا تو اس گروپ میں شامل ہونے کی کوشش کی یا اسی کے نام پر مارنےکی منصوبہ بندی کی۔
گروپ کے یوٹیوب چینل کی ایک پنسلوانیہ کی نومسلم فالوور کولین لاروز جس کا آن لائن نام "جہاد جان" تھا 2010 میں ایک سویڈش کارٹونسٹ کے قتل کی منصوبہ بندیکی سزا دی گئی تھیجس پر القاعدہ کے سرکردہ داعی، انور العولقی نے اعلان کیا کہ"جہاد امریکہکے لیے سیبکی قاش کی طرح بنتا جا رہا ہے ۔ 
میسا چوسٹس کے ایک رنگروٹ پرایک شاپنگ مال کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کا الزام تھا،ایک بڑے جزیرے کے نومسلم بریانٹ ویناسجس کامسٹر مارٹن کے ساتھتعامل رہتا تھاگرفتار ہونے سے پہلےوہ پاکستان کے دور درازعلاقہ وزیرستان تک کاسفر کر گیا، جہاں اس نے لانگ آئس لینڈ کے ریل روڈ پر حملے کی تیاریشروع کی۔ 
اس دوران،مسٹر مارٹن اس بات کا تعین کر رہے ہیںکہ وہ کس حد تک جا سکتے ہیں،اور ان کے معاونساتھی نےایک وکیل سےآزادی اظہار کی خارجی حدودکے بارے میں مشاورت کی ۔
"اور ہمیںسیدھی لائن پر چلنا ہو گا" اس نے کہا۔ 
آخر کار 15 اپریل 2010 کو ا س وقت وہ لائن عبورہو گئیجبمسٹر مارٹن کے ایک 20 سالہ ناپختہکارساتھی زچاری ایڈم چسرنے ساوتھ پارک کارٹون  شوتیار کرنے والوں کے گھروں کے پتے اس قسط کے بعد اپلوڈ کر دیے تھے جس میں حضرت محمدﷺ کیشان میں گستاخی کی گئی تھی۔
جب مسٹر چسرصومالیہ میں شباب عسکری گروپ میں شمولیت کی غرض سےایک بین الاقوامیپرواز میں سوار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتا ر ہو گیاتو مسٹر مارٹن فرار ہو کر مراکش چلا گیا،ایک سال بعد وہ بھی گرفتا ر ہو گیااور ابتدائی طور پر اسے مراکش کی جیل میں ہی رکھا گیا۔ 
اس کے لیے امریکی 27اکتوبر 2011کو آۓ۔ اس نے یاد کیا کہ وہ کس طرح ایک غیر آباد ائیرپورٹ پر لے جایا گیا جہاں اس نے قرآن کو ہاتھ کی گرفت میں لیا ہوا تھا جبکہ امریکی اہلکار اس کو ہتھکڑی لگا رہے تھے، اپنی تحویل میں لے رہے تھے اور آنکھوں پر پٹی باندھ رہے تھے۔ اس کے کانوں میں ائیر فون لگانے سے پہلے انھوں نے اس سے قرآن کا نسخہ لے لیا۔ 
وہ اس وقت حیران رہ گیا جب ایک ایجینٹ نےپرواز کے دورانہی اس کی آنکھوںسے پٹی اتاردی اوراسے مقدس کتاب واپس کر دی،یہان متعدد حرکات میں سے پہلی تھی جس نے اسے متاثر کیا،اس کے بیان کے مطابق انتہا پسندی سے واپسیکےطویل اورتدریجی راستے کا یہ پہلا قدم تھا۔
واپسامریکہ میںاسے قید تنہائیکی سزا کا انتظار کرنا پڑا،جہاں ایک گارڈ نےقوانین کو توڑتے ہوئے اپنی شفٹکادورانیہ اسے اپنی کوٹھڑیچھوڑ کر لائبریری میںمیں گزارنے کی اجازت دے دی۔ 
وہ کہتا ہے کہ پہلی کتاب جو اس نے اٹھائی وہمغربی دنیا کی عظیم کتاب دائرۃالمعارف برٹانیکاکی پینتیسویں جلد تھی،اگلے ہفتوں کے دورانوہ روشن خیالیپر مبنی تحریروں میں کھو گیا،اورجان لوکی (1689) کی"رواداری سے متعلق خط سے ابتدا کی،جس میں فلسفینے یہ بحث کی کہتشدد کے ذریعہ ایمان نہیں خریدا جا سکتا،جومسٹر مارٹن پر اثر انداز ہوئیاور اس نے غور کیاکہکس طرح اس کے اغواکاروں نےاسے قرآن واپس کر دیا تھا۔ 
اس نے کہا کہ رات کو اس نے خواب دیکھا کہ وہبن لادن کے سامنے بیٹھا ہے۔"میںاس سے سوالات پوچھتاہوں کہ :کیا میںکافر ہو رہا ہوں؟ کیا میں جہنم کی طرف جا رہا ہوں؟" مسٹر مارٹن کہتے ہیں :"وہ بولتا نہیں،اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ تھا بھی نہیں"

جہت میں تبدیلی
جیل کی لائبریری میں ایک گارڈ نے مسٹر مارٹن کو کھینچ کر ایک طرف کیا اور اسے ایک کمرے میں لے گیا جہاں ایف بی آئی کے اہلکار اس کا انتظار کر رہے تھے 
انہوں نے اس کا پرانا ای میل اکاؤنٹ کھولا اور اس کی طرف سے کی جانے والی سابقہ بھرتیوں کا سراغ لگایا،ان میں سے کئی داعش میں شمولیت اختیار کر چکے تھے،اب وہ اس سے یہچاہتے تھے کہ وہ مخبر بن جائے، اس سوچ کے ساتھ کشمکش،اور بنیاد پرستی کے بارے میں بڑھتی ہوئی مایوسی کی وجہ سے آخرکار وہ راضی ہو گیا۔ 
دو سال قبل ایک سخت گرم دن میں جبکہ داعش نے اپنے خلیفہ کا اعلان کیا مسٹر مارٹن کو شام سے ایک خط موصول ہوا جو کہ اس کے ایک پرانے شاگرد کی طرف سے تھاجس نے پرجوش انداز میں بتایا کہ اس نے داعش کی عراقی فوج سے موصل میں لڑائی اور دشمن کے کٹے ہوئے سروں کو ایک باڑ میں لٹکانے کے بعد دریائے دجلہ میں کیسے تیراکی کر کے گزارا ، 
اپنے بھرتی کردہ شخص کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے مسٹر مارٹن نے جیل کے کمرےمیں جا پہنچے۔ 
یہ وہ آدمی ہے جو کہ میرا شاگرد تھا اور اسے کوئی بھی سوال درپیش ہوتا تو مجھ سے پوچھتا تھا،اور میں نے کہا تھا کہ"تم شام چالے جاؤ"تو اس نے کہا" یہ فرینک آئن سٹائن کی طرح ہے،میں نے اسے تخلیق تو نہیں کیا لیکن میرا اس میں حصہ ضرور ہے۔ 
مسٹرمارٹن نے خفیہ طور پر کام جاری رکھا یہاں تک کہ واشنگٹن پوسٹ نے اسے مخبر کے طور پر ظاہر کر دیا،اس وقت سے جج نےاس کی گیارہ سال کی سزاکم کر کے تین سال اور نو ماہ کر دی تھی،اور 27 فروری 2015 کو وہ رہا ہو گیا۔
اب وہ ورجینیا میں رہتا ہے ،اس کی رہائی کی شرائط اسے کلمبیا کے بڑے ضلع سے باہر نکلنے سے روکتی ہیں،سوموار کو جب جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں کلاسیں دوبارہ شروع ہوں گی تو مسٹر مارٹن بھی بطور محقق اپنی خدمات سرانجام دینے کے لیے ادھر ہی ہو گا 
اس کا کہنا ہے کہ ابھی تک وہ خوف کی گرفت میں مبتلا ہے
جن انتہا پسندوں کو اس نے اپنے پیچھے لگا لیا تھا وہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔داعش جاسوسی کو ارتداد شمار کرتی ہے جس کی سزا موت ہے،اگرچہ زیادہ تر اس کو پریشانی ان نظریات کی ہوتی ہے جو اس نے دنیا کو دیے۔ 
میں ڈرا ہوا ہوں،اس لیے نہیں کہ میں واپس جانے کے بارے میں سوچتا ہوں بلکہ اس لیے جو میرے ساتھ ہونے والا ہے،اس نے کہا،
میں اس پر بالکل تیار تھا کہ جس دنیا میں میں رہتا ہوں اسے تباہ کر دوں،لیکن اب عقلی وجوہات کی بنا پر میں یہ جان چکا ہوں کہ دنیا کے نظام کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔