انسداد شورش اور دہشت گردی کا ہمارا نظریہ

دیکھنا یہ ہے کہ فوج کی نئی قیادت اس چیلنج سے کیسے نبرد آزما ہوتی ہے لیکن ملک کی سیکورٹی ، سفارتی اور جغرافیائی چیلنج میں افغانستان کو ہی مرکزیت حاصل رہے گی

محمد عامر رانا


ملک میں امن و امان کی بحالی کے لئے جنرل (ر) راحیل شریف کا سب سے اہم کارنامہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ‘‘ضرب عضب ’’کے آغا زکوگرداناجائے گا۔اگرچہ یہ کافی عرصے سے زیر غور تھا مگر سابق فوجی اور سول قیادت یہ سمجھتی تھی کہ اگر ایسا کیاگیا تو اس کا خطرناک رد عمل آ سکتا ہے جس کے ملک کی داخلی اور خارجہ سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔مگر جنرل (ر) راحیل  نے ان تمام اندیشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فیصلہ کن اقدام لینے کا مصمم ارادہ کیا۔ اگرچہ اس آپریشن کی نتیجہ خیزی اور طوالت پر خدشات موجود ہیں مگر پھر بھی جنرل راحیل شریف نے جو کچھ کیا اس پر انہیں  اپنے کام کے دھنی کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔

قبایلی علاقوں میں انتہا پسندوں کی شورش کے خلاف جنگ میں ‘‘ضرب عضب’’ہی  واحد کامیابی نہیں بلکہ یہ آپریشن پاکستان کے انسداد شورش کے فریم ورک کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے ۔بلاشبہ سابق آرمی چیف اس کے منصوبہ سازوں میں سے تھے ۔اس آپریشن کو کسی منطقی انجام پر پہنچانا ہی نئے آرمی چیف کا سنگ میل سمجھا جائے گا۔

فاٹا میں طالبان کی سرکشی کی کئی جہتیں ہیں۔ کیسے ایک قبائلی معاشرہ مذہبی معاشرے میں بدل گیا  اور ا سکے اثرات  مقامی سطح سے  نکل کرعلاقائی اور عالمی سطح تک پھیل گئے  ۔پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی مہم کواس مقام تک پہنچنے میں 13سال کا عرصہ لگا ۔پاکستان کی سلامتی سے وابستہ افراد اپنی دانش اور جغرافیائی  قوت کا احاطہ کرتے ہوئے اس مقام تک آئے ہیں ۔سابق آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی  انسداد شورش پسندی کے پاکستانی تصورکےبانی ہیں ۔انہوں نے اپنی فراست اور  زمینی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے داخلی سلامتی کا ازسر نو جائزہ لیا اور دہشت گردی کو پاکستان کی بقا کے لئے خطرہ قرار دیا۔کیانی نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر آپریشن کی حکمت عملی مرتب کی جس کا تجربہ سوات، جنوبی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں کیا۔

تاہم کچھ عوامل کی وجہ سے وہ اس جنگ کو اگلے مرحلے،مثال کے طور پر شمالی وزیرستان  تک نہ لے جا سکے ۔جس کی سب سے اہم وجہ واشنگٹن ، کابل اور اسلام آباد کی کشمکش تھی جس میں وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے کہ شمالی وزیرستان  کے عسکریت پسندوں سے کیسے نمٹا جائے اور اس کے افغان طالبان کے ساتھ امن مزاکرات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ریمند ڈیوس کا معاملہ ، اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کا حملہ (جس میں 24 پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے )۔یہ صرف چند مثالیں ہیں جن کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی فضا بری طرح متاثر ہوئی ۔راحیل شریف نے داخلی سلامتی کواولیت دیتے ہوئے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک پر اپنی توجہ مرکوز کی ۔کراچی اور بلوچستان میں بھی ان کے آپریشنز اسی سلسلے کی کڑی تھے ،انہوں نے کامیابی کے ساتھ اس محاصرے کو توڑا جس نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی مہم کو گھیر ا ڈال رکھا تھا کہ کوئی اوراس منصوبے پر عمل در آمدکو تیار  ہی نہیں تھا ۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسئلے کی حساسیت اور گزشتہ کئی سالوں سے  اسے نظر انداز کئے جانے کی وجہ سےپاکستانی کی سلامتی سے وابستہ ادارے ابتدائی طور پر پس و پیش کا شکار تھے ۔2002سے2007 کے درمیانی عرصےمیں فاٹا کے اندر سرکشی پھیلی اور  2009تک اس نے ایک مکمل بغاوت کی شکل اختیار کر کے پورے فاٹا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔تحریک طالبان پاکستان جس میں پاکستان مخالف  تمام طالبان ا کھٹے ہو گئے تھے وہ بھی اسی دور میں بنی ۔تاہم سیکورٹی فورسز نے تحریک طالبان کے خلاف کارروائیوں  میں بہت کچھ سیکھا اور آہستہ آہستہ اپنے رد عمل کو بہتر بنایا ۔ جس میں سیاسی اور فوجی دونوں حکمتِ عملیاں  شامل تھیں ۔

2002سے2009 کے درمیان ا س مسئلے سے نمٹنے کے لئے  ریاست نے  سیاسی طریقوں کے ساتھ ترغیبات اور دھمکیوں کو بھی آزمایا ۔لیکن جیسے جیسے عسکریت پسندوں نے بغاوت کو بڑے پیمانے پر پھیلا یا توریاست کے پاس اس کے سواکوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ بھر پور قوت سے اس کا جواب دے ۔کیانی کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج تھا کہ وہ ا س مسئلے پر یکجہتی کیسے پید اکریں ۔

2009 میں سوات میں آپریشن ‘‘راہ ِراست ’’اس سلسلے کا نقطہ آغاز تھا ۔بعد میں  خیبر ایجنسی میں آپریشن  ‘‘بیائے درگلام ’’اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن ‘‘راہ ِ نجات ’’(جو 2010میں بھی جاری رہا )سے سیکورٹی فورسز کے اعتماد میں اضافہ ہوا ۔ان آپریشنز سے پاکستان کا سیکورٹی منظر نامہ بدل کر رہ گیا ۔

بغاوت کی سرکشی کے لئے ، عوامی  حمایت کا حصول کیانی کیعسکری مہم کااہم حصہ تھا جو اس قسم کے آپریشنز کے لئے ناگزیر ہوتی ہے ۔جب تک انہیں یہ یقین نہیں ہو گیا کہ سوات کے آپریشن کا کوئی سیاسی حل ممکن  نہیں اس وقت تک انہوں نے سوات آپریشن  شروع نہیں کیا اور اس کے بعد بھی انہوں  نے  ا س آپریشن پر پارلیمنٹ کی مہر بھی ثبت کروائی ۔کیانی کے دور میں  بھی  یہ تاثر کچھ سیکورٹی  حلقوں میں عام ہو گیا تھا کہ ملٹری آپریشنز کے لیے عوامی حمایت کے لئے وقت برباد نہیں کرنا چاہیے اور یہ کہ آپریشن اپنے لیے حمایت خود پیدا کرتا ہے۔ اور یہ تاثر راحیل شریف کے دور میں مزید پروان چڑھا ۔راحیل شریف نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لئے دہشت گردوں کے ساتھ جاری مزاکرات کے نتائج کا انتظار بھی نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے ‘‘اچھے طالبان ’’ کو خاطر میں لایا جو آپریشن کی مخالفت کر رہے تھے ۔

جو کامیابیاں ابھی تک حاصل کی جا چکی ہیں ان کے باوجود بغاوت کو کچلنا ایک مسلسل عمل ہے اور اس کے اثرات کو ظاہر ہونے میں خاصا وقت درکار ہوتا ہے تب کہیں جا کر استحکام آتا ہے ۔لیکن وہ خدشات جن کی وجہ سے کیانی شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے میں تساہل سے کام لے رہے تھے وہ ابھی تک موجود ہیں ۔اس آپریشن نے داخلی سلامتی کو درپیش خطرات کا مکمل قلع قمع نہیں کیا ۔ واشنگٹن اور کابل بھی پاکستان کی فوجی کامیابیوں کو خاطر میں نہیں لا رہے کیونکہ ان کی وجہ سے افغانستان میں جاری بغاوت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔

اس بات کا امکان ظاہر کیاجا رہا تھا کہ ‘‘ضرب عضب ’’ سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہونے میں مدد ملے گی لیکن ا سکا نتیجہ مختلف نکلا۔ واشنگٹن نے فوجی امداد کے لئے مزید شرائط عائد کر دیں اور کو لیشن سپورٹ فنڈ میں بھی  کمی  کر دی  ۔وہ لوگ جو ا ستنازعے کی وجہ سے در بدر ہوگئے تھے  ان کی بحالی ہنوز ایک بڑا چیلنج ہے ۔بہت سے عسکریت پسند جوکہ شمالی وزیرستان سے فرار ہوئے وہ ملک کے دوسرے علاقوں بالخصوص بلوچستان اور سندھ  میں جا کر  پھیل گئے اور وہاں خطرے میں اضافے کاموجب بن گئے ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ فوج کی نئی قیادت اس چیلنج سے کیسے نبرد آزما ہوتی ہے لیکن ملک کی سیکورٹی ، سفارتی اور جغرافیائی چیلنج میں افغانستان کو ہی مرکزیت حاصل رہے گی ۔آپریشن ضرب عضب کئی ماہ پہلے مکمل کر لیا جاتا اگر پاکستان ا ور افغانستان کے تعلقات سیکورٹی اور انسداد دہشت گردی جیسے امور پر معمول کے مطابق ہوتے ۔افغانستان کے ساتھ تعمیری رخ پر متعین ہونے والے تعلقات سے نہ صرف بھارت کو اپنی حد میں رکھا جا سکتا ہے بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے لئے بھی اچھا ماحول بنایا جا سکتا ہے ۔پاکستان کے  دنیا  بالخصوص مغرب کے ساتھ اس کے تعمیراتی روابط کا انحصار بھی پاکستان کے اپنے مغربی ہمسائے کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر ہے ۔افغانستان کے ساتھ معاملات پر پیش رفت کوئی آسان کام ہر گز نہیں ہے لیکن  اگر پاکستان اور مجموعی طور پر پورے علاقے  میں استحکام مقصود ہے  تو اس کا راستہ افغانستان سے گزرتا ہے اس لئے ایسے اقدامات جن سے دو طرفہ اعتماد سازی میں اضافہ ہو سکتا ہے ان پر عمل در آمد کیا جائے ۔

(بشکریہ ڈان ، ترجمہ :سجاداظہر )