اسلام آباد بند ہونے کا فائدہ کسے ہوگا ؟

احتجاج کی اپنی نفسیات ہے یہ کارکنوں کو متحرک رکھتا ہے ایسا تاثر اور ماحول پیدا ہوتا ہے کہ حرکت تیز تر ہے اور اس کے نتیجے میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہو جائے گی ۔

رواں تبصرے


کیا احتجاجی سیاست کا کوئی خاص ہوسم ہوتا ہے ؟کیا احتجاجی تحریک چلانے کے لئے کسی بڑے مسئلے کی ضرورت ہوتی ہے ؟احتجاجی سیاست کا نقصان کسے ہوتا ہے اور فائدہ کون اٹھا لے جاتا ہے ؟ جب سرحدوں پر کشیدگی ہو تو احتجاج کرنا چاہئے ؟جب پارلیمنٹ موجود ہے تو سڑکوں پر آنے کی ضرورت کیا ہے ؟اگر سڑکوں پر آنے پر اصرارہے تو اس فیصلے کے پیچھے کون ہے ؟
یہ اور اس سے ملتے جلتے سوال پاکستان تحریک انصاف کے ۰۳ اکتوبر کے وفاقی دارالحکومت کے ممکنہ گھراؤکے تناظر میں پوچھے جا رہے ہیں ۔احتجاج کے حق کو سب تسلیم کرتے ہیں لیکن احتجاج کے وقت، مقام اور مقصد کے حوالے سے یہ سب سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ایسے سوالات پہلے دھرنے سے متعلق بھی اٹھائے گئے تھے جب تحریک انصاف کے سربراہ نے دو بڑے اتجاجی اقدامات اٹھائے ،ایک اپنی ہی ریاست کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان ، جس پر ان کی اپنی تحریک کے قائدین نے بھی عمل نہیں کیا اور دوسرا ریڈ زون اور پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر چڑھائی ۔وفاقی دارلحکومت ایک میدان حرب کاک منظر پیش کر رہا تھا ۔
احتجاج کی اپنی نفسیات ہے یہ کارکنوں کو متحرک رکھتا ہے ایسا تاثر اور ماحول پیدا ہوتا ہے کہ حرکت تیز تر ہے اور اس کے نتیجے میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہو جائے گی ۔
احتجای سیاسی تحریک کو یہ ماحول مسلسل برقرار رکھنا پڑتا ہے تاوقتیکہ وہ کامیاب ہو جائے ۔کیا ایسی کامیابی ممکن ہے ؟ اور اگر ناکامی ہو تو وہ کتنی بڑی ہو گی ؟احتجاج کی سیاست میں نتائج کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی ۔جب نتائج کی پرواہ نہیں تو وقت ،مقام اور مقصد پر بحث کیسی ؟