دشمن کی شنا خت

ہمارا دشمن کو ن ہے؟ یہ کیا کر تا ہے اور کہا ں چھپا ہے ؟ کیا جو دشمن نہیں وہ محبت وطن ہیں؟

محمد عامر رانا


’’ وہ ہم میں سے نہیں ، وہ ان کے سا تھ ہیں ‘‘ ۔ شد ت پسند ی کے تنا ظر میں آجکل اس قسم کے بیا نیے خا صے مقبول ہیں ۔ اس قسم کے بیا نیو ں کا ما ٓخذ وہی رویہ ہے کہ کوئی مسلما ن اور پاکستانی دہشت گر د یا شد ت پسند نہیں ہو سکتا ۔ لیکن وفا قی وزیر دا خلہ نے اچا نک ایک قدرے پرا نے بیا نیے کو دُہرا یا تو احسا س ہو ا کہ مختصر مد ت کے لئے ہم اس بیا نیے کو ’’ کہ دشمن ہماری ہی طر ح دیکھتا ہے ‘‘ کے بھی قائل رہے ہیں ۔ 

سینٹ میں اس بیا نیے کی گو نج اُس وقت سنائی دی جب وفا قی وزیر دا خلہ سا نحہ کو ئٹہ کی بے حا صل اور سست رفتا ر تفتیش کی وجو ہا ت پر بحث سمیٹ رہے تھے ۔ چو نکہ دشمن ہماری طر ح کا ہی جیتا جا گتا وجود ہے اور وہ ہماری طر ح ہی کھا تا اور سو تا ہے ۔ اس لئے سیکور ٹی ادارو ں کو اُسے پہچا ننے میں دقت ہو رہی ہے ۔ وزیر دا خلہ کی یہ دلیل حز ب مخا لف کو مطمئن نہیں کرسکی جو ’’ دشمن ‘‘ اور ’’ ہم ‘‘ کو بالکل مختلف تنا ظر میں دیکھتی ہے ۔ پا کستان میں دشمن کی پہچا ن ایک حسا س معاملہ رہا ہے ۔ دشمن کو ن ہے اور اس کی کیا خصو صیا ت ہیں ۔ اس پر ایک سے زیا دہ رائے موجود ہیں اور ان آرا ء کو اگر غور سے دیکھا اور پر کھا جا ئے تو معلو م ہو گا کہ ہم دشمن کو چار قسمو ں میں تقسیم کر تے ہیں ۔ یہ دشمن خار جی بھی ہیں ، دا خلی بھی ، اسٹریٹجک بھی ہیں اور سیا سی بھی ، یہ سما ج میں بھی گھسے ہو ئے ہیں اور ہمارے نظریے بھی اس کی زد پر ہیں ۔ دشمن کی چار وں قسمیں اپنی تعر یف اور جہت میں وسیع اور سیا ل ہیں ۔ انہیں ضرو ر ت کے مطا بق کھینچا اور پھیلا یا جا سکتا ہے ۔ ظا ہر ہے کہ کھینچنے اور پھیلا نے کا اختیار اسٹیبلشمنٹ کے سوا کس کے پا س ہو سکتا ہے ۔ ممکن ہے آپ کو پتہ بھی نہ چلے اور آپ خو د بخو د دشمن کے کسی در جے میں جا پڑیں ۔ اس لئے احتیا ط لا زم ہے ۔ اگر چہ بہت محتاط لوگ بھی دشمن کی سکڑ تی اور پھیلتی حدو د میں آتے رہتے ہیں ۔ 
دشمن کی پہلی قسم تو سپر دشمن ہے ۔ اُسے پہنچا ننے میں کوئی دقت نہیں ہو نی چاہئے کہ وہ ایسا ہمسا ئیہ ہے جو ہر وقت ہمارے خلا ف سا زشو ں میں مصرو ف رہتا اور ہمارے دو ہمسا ئیوں کو بھی ور غلا کر ہمارے خلا ف کر رہا ہے۔ اس کے ایجنٹ ہمارے در میان بھی پھیلے ہو ئے ہیں ۔ دو سرا دشمن ایک ’’ اجنبی دشمن ‘‘ ہے ۔ اس در جے کو قا نو نی اور آئینی تحفظ بھی حا صل ہے اور اس کی تعر یف اور وضا حت پا کستان پرو ٹیکشن آر ڈیننس میں کی گئی ہے ۔ اس تعریف کے مطا بق ’’ عسکر یت پسندجس کی پا کستانی شنا خت وا ضح نہیں ‘‘ یہ دلچسپ اور عجیب بات ہے کہ گز شتہ دو سا لو ں میں صو بہ پنجاب میں اب تک اس آر ڈ یننس کے تحت 67 کیسز در ج کئے گئے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی اجنبی اور بے شنا خت نہیں ہے ۔ سب کے سب پا کستا نی ہو نے کا دعویٰ کر تے ہیں ۔ 
دشمن کا سب سے خطر ناک در جہ ’’ گھٹیا دشمن ‘‘ ہے ۔ اس دشمن کو سو شل اور سیکور ٹی اسٹیڈ یز میں مستعمل اصطلا ح سے’’ آہنگ ‘‘نا قابلِ مصا لحت (Agymmetric) کے تنا ظر میں سمجھا جاسکتا ہے ۔ جب معا شرے کے کچھ افرا د یا گرو ہو ں کی سو چ کا رخ مرو جہ سو چ کے پیما نوں سے پھر جاتا ہے نتیجتاً وہ لا یعنیت اور خا لی خو لی ’’ آئیڈ یلزم ‘‘ کا شکا ر ہو جا تے ہیں ۔ یہ گھٹیا دشمن سید ھا سما ج اور سیا ست کے بند ھن پر حملہ آور ہو تا ہے اور اسے پہچا ننااس لئے بھی مشکل ہے کہ مخصو ص فکری حوا لو ں میں پنا ہ لئے ہو ئے ہو تا ہے ۔ انہیں پہچا ننے کا طر یقہ یہ ہے کہ یہ ہر با ت میں سے کیڑے نکالتے ہیں ، اخلا قی دیوالیہ اور نظر یا تی اور معا شی بد عنوا نیوں کا شکار ہو تے ہیں ۔ 
دشمن کا آخری در جہ بھی کم خطر نا ک نہیں کہ انہیں ’’ ممکنہ دشمن ‘‘ کے کھا تے میں شمار کیا جا تا ہے اور یہ دشمن کے پہلے تینوں در جوں کے حا می ہو تے ہیں ۔ کبھی کبھی کھل کر ان کے مؤقف کی حما یت کر تے ہیں ور نہ دل میں تو انہیں اچھا سمجھتے ہی ہیں ۔ 
چو نکہ یہ چارو ں دشمن ہیں اور دشمنوں کا تو آپس میں گہرا تعلق ہو تا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے سپر دشمن ہی سب کا سر غنہ نہ ہو ۔ 
سید ھی سی با ت ہے جو دشمن نہیں ہے وہ محب وطن ہے ۔ ایک محب وطن بد عنوان ہو ہی نہیں سکتا ۔ وہ سیا سی ہو تے ہو ئے غیر سیا سی ہو تا ہے ۔ وہ سپر دشمن سے انتہا در جے کی نفر ت کر تا ہے اور اس کے تما م ممکنہ حما یتو ں کے خلاف جہا د کر تا ہے ، خواہ وہ پا ر لیمنٹ ہو ، ٹیلی ویژن کی سکر ین یا جہا ں بھی مو قع ملے ۔ اس کی قو ت مدا فعیت اس قدر زیا دہ ہے کہ دشمن اور اس کی فکر اس کا کچھ نہیں بگا ڑ سکتی ۔ 
تمام محب وطن تنقید سے ما ورا ہیں اور جو ان پر آئین ، شفا فیت ، قا نو ن کی با لا دستی ، اظہارِ آزا دی ، یا جمہور یت کی آڑ میں نکتہ چینی کر تے ہیں وہ غدار کے علا وہ کون ہو سکتے ہیں ؟ یہ محب وطن اعلیٰ ہیں ، سب سے اعلیٰ اور ان کی قو ت اخلاق سے اخذ ہو تی ہے ، آئین اخلا قی قوت کے سا منے کب ٹھہر سکتا ہے؟ ہاں مذہب اخلاقی حیثیت کو چیلنج کر سکتا ہے اور اس لئے تو متعد د مذہبی گرو پ نہ صر ف انہیں اخلاقی جوا ز فراہم کر نے کے لئے تیار رہتے ہیں بلکہ وہ ان کے شانہ بشانہ دشمن سے لڑ تے بھی ہیں۔ 
یہ منظر نا مہ خو ش کن نہیں ہے اور واضح طور پر اسٹبلشمنٹ اور سما ج کے کئی طبقا ت کے درمیان وسیع ہوتے تفا و ت کو ظاہر کرتاہے۔یہ بھی ظا ہر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ قو می بیا نیو ں پر اپنا کنٹرو ل رکھنا چاہتی ہے اور اگر کوئی جسارت کر بھی لے تو نا ر ا ضی کا اظہار کر تی ہے خواہ یہ پار لیمنٹ ہی کیو ں نہ ہو ۔ 
ایسے وقت میں جب ریاست دہشت گر دی کیخلا ف ایک پیچیدہ جنگ لڑ رہی ہے وہاں ہو نا تو یہ چاہئے تھا کہ اس جنگ کی مختلف عسکری ، فکری اور سیا سی جہتو ں پر غور کا عمل جا ری رہتا اور جہاں کمزوری ہے اُسے دور کیا جاتا تا کہ یہ جنگ جیتی جا سکتی ۔ یہ پا رلیمنٹ کا کا م ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ راست با زی کے مخمصے کا شکارہے ۔ 
بشکریہ ڈا ن ۔