قومی بیانئے کی تشکیل نو کا مجوزہ خاکہ

قومی بیانئے کی تشکیل نو کے مجوزہ خاکے کو جامع مگر لچکدار رکھا گیا ہے تاکہ اس میں بدلتے تقاضوں کے مطا بق تبدیلی کی گنجائش رہے۔ اس کو جوابی بیانئے کا رہنما اصول بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹ


پاکستان میں انتہا پسندی،دہشت گردی،سیاسی و سماجی ابتری عدم برداشت اور رویوں میں عمومی بگاڑ کا ایک بڑا سبب ان بیانیوں کو قرار دیا جاتا ہے،جس کی نشونما ریاست نے تعلیمی نظام، سیاسی و سماجی اصطلاحات،اندرونی اور خارجہ پالیسیوں کے بنیادی ہدف کے طور پر کی۔ سیکورٹی، سماجی اور مذہبی اشرافیہ نے ان بیانیوں کو مزید تقویت پہنچائی جن کی بنیاد تفریق پر تھی۔ریاست کے تناظر، ویڑن ضروریات، اہداف پر بحث سے قطع نظر گذشتہ 69 سالوں میں ایک ایسا قومی مزاج اور بیانیہ تشکیل پایا ہے،جس سے اب نہ تو ریاست مطمئن ہے اور نہ ہی سماج۔

جہاں کئی انتہاء پسند اور عسکریت پسند گروہ ان بیانیوں سے قوت حاصل کرکے ریاست کو چیلنج کرتے ہیں وہاں ایسے اجتماعی رویے بھی فروغ پاتے ہیں جن کا وقتاًفوقتاًپر تشدد اظہار بڑے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔متعدد تحقیقی مطالعہ جات نشاندہی کرتے ہیں کہ انفرادی اور عوامی رویوں میں نفرت اور تقسیم کا اظہار تیزی سے منفی رجحان میں بدل رہا ہے۔

اس چیلنج کے رد کے طور پر جوابی بیانئے کی اہمیت پرزور دیا جاتا ہے۔یہ جوابی بیانیہ کیا ہے؟ اس سے بھی پہلے کہ بیانیہ کی اپنی ساخت کیا ہوتی ہے؟ اس سے جڑے بہت سے سوالات علمی اور پالیسی سازاداروں میں کچھ عرصہ سے زیر بحث ہیں۔مقبول عام بیانئے اجتماعی شعور اور فکر کی عکاسی کرتے ہیں لیکن ریاست اور پالیسی سازادارے ایک فوری حل چاہتے ہیں اور ان کے پیش نظر اندرونی اور بیرونی سلامتی کے قلیل المدتی اہداف رہتے ہیں جبکہ علمی حلقے اسے ایک طویل المدتی فکری چیلنج سمجھتے ہیں۔ کیا قلیل اور طویل المدتی اہداف کا امتزاج اور حصول ممکن ہے؟اسی سے جڑا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ قومی بیانئے کی بحث پیچیدہ اور پھیلی ہوئی ہے۔فکری میدان سے سیاست،معیشت، مذہب اور سماج تک اس کی عمومی دسترس میں آتے ہیں۔ اس پر تقاضایہ بھی ہے کہ جوابی یا متبادل بیانیہ سادہ اور گہرا بھی ہونا چاہئے جو فوری طور پر قبول عام حاصل کرلے۔

اس تناظر میں پاک انسٹی ٹیوٹ فا ر پیس سٹڈیز 2007 سے اس بحث کا حصہ ہے جو تحقیق کے ساتھ ساتھ ماہرین،پالیسی سازوں، علماءکرام،سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت میں شریک ہے۔اس حوالے سے ادارہ کئی تحقیقی مقالے اور تجاویز شائع کرچکاہے۔

جس کی تفصیلات اس کی ویب سائٹ (www.pakpips.com) سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔قومی بیانئے کی تشکیل نو کیسے ہو ؟ اور اس کا مجوزہ خاکہ کیسا ہونا چاہئے جس سے ریاست اور دیگر سماجی طبقات کا کردار واضح ہو اسی عمل کا حصہ ہے۔

پاک انسٹی ٹیوٹ فا ر پیس سٹڈیز نے قومی بیانئے کی تشکیل نو کے لیے نہ صرف اپنے گذشتہ تحقیقی مطالعہ جات اور مشاورتوں سے استفادہ کیا بلکہ اسے مزید جامع بنانے کے لیے ماہرین سے ایک مرتبہ پھر مشاورت کی۔یہ مشاورت دو مرحلوں پر مشتمل تھی۔ پہلے مرحلے میں کور گروپ سے تجاویز طلب کی گئیں اور ا ن تجاویز کو ایک بڑے مشارتی گروپ کے سامنے پیش کیا گیا جس میں ہونے والی بحث میں ذیل امور پر اتفاق رائے پایا گیا۔23 جون 2016 کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ اس مشاورتی گروپ میں جن شخصیات نے شرکت کی ان میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر ظفراللہ خان،سابق وزیر خارجہ انعام الحق، اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود،سابق وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی ڈاکٹر قبلہ ایاز،ممتاز کالم نگارخورشید ندیم،پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ظفراللہ خان،لوک ورثہ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر فوزیہ سعید،سماجی کارکن رومانہ بشیر،سکول آف پالیٹکس اینڈ انٹر نیشنل افیئرز قائد اعظم یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اشتیاق احمد،سیکورٹی امور کے ماہر ڈاکٹر فرحان زاہد،پولیس کالج سہالہ کے کمانڈنٹ ڈاکٹر سہیل تاجک،پاک چین امور کے ماہر ڈاکٹر فضل الرحمٰن، نیشنل کالج آف آرٹس کے ڈائریکٹر ندیم عمر تارڑ،ممتاز دانشور ڈاکٹر حسن الامین،رشاد بخاری اور پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا شامل تھے۔

قومی بیانئے کی تشکیل نو کے مجوزہ خاکے کو جامع مگر لچکدار رکھا گیا ہے تاکہ اس میں بدلتے تقاضوں کے مطا بق تبدیلی کی گنجائش رہے۔ مسئلے کی پیچیدگی بھی ایک لچکدار خاکے کی طلب گار ہے اس مجوزہ خاکے کو جوابی بیانئے کے رہنما اصول بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

فکری چیلنج

 مذہب کی سیاسی تعبیر اور امت، ریاست اور معاشرت کے مذہبی تصورات پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 عسکریت پسندوں کے بیانیے کی قوت ان کی مذہبی دلیل میں پوشیدہ ہے اور اس کے لئے عسکریت پسندوں کے فکری تناظر کو سمجھ کر اس کا رد اہم ترین ضرورت ہے۔

 دنیا میں اسلام اور مسلم سماج سے متعلق پروان چڑھنے والے منفی تاثرات جیسے اسلامو فوبیا کا جواب ایک فکری تقاضا ہے جو فکری قوت سے حاصل ہو سکتا ہے۔

مذہبی تناظر

 علماء اور ماہرین کے درمیان مسلسل مکالمہ تاکہ دور حاضر کے تقاضوں کو سمجھا جا سکے اور منفی بیانیوں کا رد کیا جا سکے۔

 علماءبین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے لئے مشترکات اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ جدید شہریت کے تقاضوں کی تفہیم پیدا کریں جو برداشت رواداری اور ہم آہنگی کے تصورات سے ہم آہنگ ہوں۔

 مذہبی فکر کی غیر متعصب تشکیل نو کے لیے کاوشوں کی ضرورت ہے۔حساس مذہبی موضوعات پر درست رہنمائی ضروری ہے تاکہ دہشت گرد غلط تشریح کو اپنی کارروائیوں کا جواز نہ بنائیں۔

سماجی،ثقافتی اور معاشی تناظر

 ثقافت کے نام پر جاری منفی رسم و رواج کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے اور اس پر قانون سازی کرنی چاہئے۔

 ثقافتی اور تہذیبی تنوع کو روایتی اور غیر روایتی تعلیم کی اساس بنایا جائے مقامی ثقافتوں کو قومی ورثے کی اکائی تسلیم کیا جائے۔

 طبقاتی تقسیم کا خاتمہ،نظام انصاف کی بہتری،بہترین طرز حکمرانی،قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم،نئے وسائل کی پیداوار اور آبادی کے دباو


¿ کی منصوبہ بندی جیسے امور پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی خصوصی توجہ ضروری ہے۔ان امور پر تمام سیاسی جماعتوں کے منشور واضح ہیں اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پا رٹی کے منشور کی روشنی میں ان امور پر خصوصی توجہ دیں اور ایسے اقدامات کریں جن کے فوری اثرات عوام تک منتقل ہو ں۔

 

 سماجی رویوں کی تہذیب ضروری ہے، جس میں تبدیلی ایک مثبت قدر کی حامل ہو۔کہنہ سماجی رویے کسی بھی نوع کی سماجی، ثقافتی اور سیاسی تبدیلی کو قبول نہیں کرتے۔جو سماجی نشونما کے لیے نقصان دہ ہے۔

 پر امن اظہار (Peaceful expression) کو بطور کلیدی سماجی قدر کے طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

 عمومی رویوں میں فرقہ وارانہ تقسیم کا بڑھتا ہوا رجحان سماجی ابتلا کی جانب پیش قدمی کا اظہار ہے، جسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔

 مسجد،خانقاہ اور مزار کو ثقافتی تشکیل نو میں اہم حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔

نظامِ تعلیم

 وفاق اور صوبوں کو نصاب سازی کے رہنماءاصولوں پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے اور نصابی کتب سازی کے لیے الگ سے مستقل تحقیقی اور تعلیمی مراکز کے قیام کی ضرورت ہے۔

 تنقیدی شعور کی بیداری نظام تعلیم کا بنیادی وصف ہونا چاہئے۔

 ابتدائی سطح کی تعلیم کے ادارے بشمول سرکاری پرائیویٹ ادارے اور مدارس میں شہریت کا مضمون لازمی شامل کیا جائے اور طالب علم کی آئین اور قانون کی روشنی میں اچھے شہری کے طور پر تربیت کو کلیدی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔

 اعلٰی تعلیمی ادارے (کالجز،جامعات اور اعلٰی تعلیمی مدارس)تحقیق اور تنقید کے جدید تقاضوں کو ملحوظ رکھیں اور اسے تعلیمی نظام میں کلیدی حیثیت حاصل ہو۔

 آئین کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

ریاست آئین اور سیاست

 آئین پاکستان ایک متفقہ جامع عمرانی معاہدہ ہے۔پارلیمنٹ چند امور پر نظر ثانی کا اختیا ر رکھتی ہے۔ ریاست اور سماج دونوں کو صرف آئین سے راہنمائی لینا ضروری ہے۔ترمیم کا فورم پارلیمان ہے۔آئین سے مثبت بیانئے جنم لیں گے اور یہ عمل مثبت طرز فکر کی بنیاد ڈالنے میں معاون ہوگا۔

 پارلیمانی طرز جمہوریت پاکستان جیسے نسلی،لسانی،ثقافتی اور مذہبی طور پر متنوع ملک کے لیے بہترین نظام ہے جسے مزید تقویت پہنچانے کی ضرورت ہے۔

 آئین پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والی سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر مکمل پابندی کی ضرورت ہے۔

 پاکستانی سماج کی روزمرہ بول چال اور محاورہ،آئین اور سماجی تنوع سے پھوٹنا ضروری ہے۔اور یہ اس وقت تک ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں بنیادی جمہوری قدروں کی پاسداری کریں اور اسے آگے بڑھانے میں کردار ادا کریں۔

 انصاف کی فراہمی ریاست کا بنیادی فریضہ ہے۔آئین کی حرمت اورعمل داری تمام ریاستی داروں کے اہم فرائض منصبی میں شامل ہے۔

 زیریں عدالتوں اور نظام انصاف کے طریقہ کار میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں قانون سازی کرتے ہوئے آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری لازمی ہے۔

 آئین کی روشنی میں سماجی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

 آئین اور قانون کے متصادم عدالتی نظام کو ختم کیا جائے۔

قومی سلامتی اور مشکلات

 قومی سلامتی کے امور پر پارلیمنٹ کو بالا دستی حاصل ہو۔

 کالعد م تنظیموں کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا سکتے ہیں،بشرطیکہ :

 یہ تنظیمیں تشدد اور نفرت سے برات کا اعلان کریں اور آئین پاکستان کو مانتے ہوئے قانون کے دائرے میں کام کریں۔

 ریاست ان تنظیموں کے بارے میں ابہام مکمل طور پر ختم کرے اور ان تنظیموں کے تزویراتی استعمال پر پالیسی و اضح کرے۔اس ابہام سے یہ تنظیمیں تقویت حاصل کرتی ہیں اور ٹی ٹی پی،القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کو نظریاتی اور افرادی قوت فراہم کرتی ہیں۔

 ریاست اپنی عمومی تزویراتی ترجیحات کا حقیقت پسندانہ تعین کرے اور اندرونی سلامتی فریم ورک کو اس سے مکمل طور پر ہم آہنگ کرے۔

 خارجہ پالیسی خصوصاً ہمسایا ممالک سے تعلقات پر نظر ثانی بدلتے عالمی حالات کا اہم تقاضاہے۔

ذرائع ابلاغ

 ذرائع ابلاغ کو جمہوریت، انسانی حقوق اور اظہار آزادی کے بنیادی فریم ورک میں رہتے ہوئے انتہا پسند رویوں اور بیانیوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔

 سائبر اسپیسز انتہا پسندوں اور دہشت گردو ں کے لیے ایسی ڈومین ثابت ہوئی ہیں کہ جہاں انہیں زیادہ چیلنج درپیش نہیں۔ سائبر اسپیسز میں ان کامقابلہ متبادل بیانیوں کے فروغ سے کیاجا سکتا ہے۔