پاک ایران تعلقات کی باہمی تاریخ

سرد جنگ کے دوران بھی شاہ ایران ہی وہ شخص تھا جس کی وجہ سے پاکستان امریکی بلاک کا حصہ رہا ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی بھارت کے گرد گھومتی ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جو کہ پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات کا تعین کرتا ہے ۔شاہ ایران کو اس بات کا بخوبی ادراک تھا

محمد عامر رانا


1971ء کی جنگ کے پس منظر میں جب امریکہ کی جانب سےپاکستان کو  ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندیوں سامنا تھا  تو ذولفقار علی بھٹو امریکی لیڈروں تک رسائی کی کوشش میں تھے جس کے لئے انھوں  نے امریکہ کو پیشکش کی کہ وہ پاکستان میں اپنے ہوائی اور بحری اڈے بنا سکتا ہے  ۔یہ پیشکش اس وقت کی گئی جب شاہ ایران پہلے ہی چا ہ بہار کے نیلگوں سمندر  میں امریکی بحریہ  کے بڑے جہازوں کو لنگر انداز کرنے کے لئے  آٹھ ارب ڈالر کی لاگت سے ایک بندرگاہ بنانے کا منصوبے کا اعلان کر چکے تھے ۔لازمی بات ہے کہ بھٹو کی پیشکش سے شاہ ِ ایران کو غصہ آیا ۔امریکی بھٹو کی اس پیشکش کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے ۔نتیجتاً اسلام آباد کے ساتھ ہتھیاروں کی فراہمی کا معاہدہ ہو گیا تاکہ پاکستان علاقے میں اپنی فوجی حیثیت حاصل کر سکے ۔

یہ بات شاید علاقائی سیاست میں آج بھی صادق آتی ہو جہاں چاہ بہار اور گوادر بدلتے ہوئے تناظر میں  نئے سیاسی اور معاشی اتحادوں کے لئے مرکزی اہمیت اختیار کر چکے ہیں ۔لیکن واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ Alex Vatanka نے اپنی کتاب میں  ایک بالکل مختلف تناظر بیان کیا ہے۔ Iran and Pakistan: Security, Diplomacy and American Influence نامی کتاب میں  دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور پاکستان امریکی حمایت اور مدد کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے کوشش کرتے رہے ہیں ۔تاہم بندرگاہوں سے متعلق  حالیہ پیشرفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جغرافیائی و سیاسی حالات کیسے پلٹہ کھاتے ہیں اور بعض اوقات تو ایسے لگتا  ہے کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہو ۔

چاہ بہار کی بندرگاہ کا تصور آغاز میں امریکی بحری جہازوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے تھا تاکہ روس اور اس کے قریبی حلیف بھارت کے مقابلے پر جغرافیائی توازن قائم کرنے کیا جا سکے ۔آج بھارت خود اس بندرگاہ کا سب سے بڑا محرک بن کر سامنے آیا  ہے ۔اور دوسری جانب گوادر جس کی پیشکش ایک زمانے میں امریکہ کو  کی گئی تھی آج اس کی تعمیر کے پیچھے چین کھڑا ہے ۔پاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے اس سال  مئی میں ایک بیان دیا کہ چاہ بہار بندرگاہ کے لئے ایران ، بھارت اور افغانستان کا معاہدہ تین  ملکوں ایران ، بھارت اور افغانستان  تک ہی مخصوص یا حتمی نہیں ہے انھوں نے مزید وضاحت کی کہ چاہ بہار کو ترقی دینے کی سب سے پہلے پاکستان اورچین کو پیشکش کی گئی تھی مگر دونوں جانب سے دلچسپی نہیں دکھائی گئی ۔

Vatanka نے  پاک ایران تعلقات کی تاریخ پر بہت اہم کام کیا ہے اگرچہ اس موضوع پر مہارت رکھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ۔ایران اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی کئی جہتیں ہیں اور ان کو صرف عالمی یا پھر جغرافیائی  سیاست ،معاشی  اور سیاسی تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا۔بلکہ ان کا تعلق ان نظریات سے بھی ہے جنھوں نے دونوں ممالک کو مشرقِ وسطیٰ میں قیادت کی جنگ میں شریک کر رکھا ہے ۔یہ کتاب اسی طرح کے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے ۔اگرچہ اس کوامریکی نقطہ نظر سے  لکھا گیا ہے مگر اس کے باوجود پاکستانیوں اور امریکیوں کے لئے اس کی اہمیت مسلم ہے ۔

Vatankaنے پاک ایران تعلقات کو دو ادوار میں تقسیم کیا ہے ۔شاہ کا دور اور شاہ کے بعد کا دور ،شاہ کا دور اس حوالے سے اہم ہے کہ اس میں اگرچہ کئی نشیب و فراز آئے مگر اس کے باوجود عالمی اور علاقائی سیاست میں  دونوں ممالک اہم اتحادی رہے۔امریکہ کا بھی اس میں اہم کردار رہا جس نے دونوں ممالک کو Seatoاور Centoمیں اکٹھا کیا ۔ مصنف اس بات کا بھی جائزہ لیتا ہے کہ کیسے جغرافیائی اور سیاسی طور پر امریکی دباؤ کی وجہ سے  اسلام آباد اور تہران اکٹھے رہے ۔سرد جنگ کے دوران بھی شاہ ایران ہی وہ شخص تھا جس کی وجہ سے پاکستان امریکی بلاک کا حصہ رہا ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی بھارت کے گرد گھومتی ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جو کہ پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات کا تعین کرتا ہے ۔شاہ ایران کو اس بات کا بخوبی ادراک تھا۔

یہ وہ دور تھا جب باہر کی دنیا کے لئےتہران ہی پاکستان کا اہم ذریعہ تھا ۔شاہ کمیونزم سے بہت خائف تھا جس کی وضاحت کرتے ہوئے Vatanka لکھتا ہے کہ "شاہ کے خیال میں پاکستان نے کئی سال تک نہ صرف روس کے خلاف بلکہ روسی چھتری کے نیچے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف   بھی بفر زون کا کردار ادا کیا۔پاک ایران تعلقات کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس کا سہرا شاہ ِ ایران کے سر جاتا ہے ۔

ایران میں 1979ء کے انقلاب نے حالات کو بدل دیا اور اس کے بعد سے دونوں ممالک ابھی تک اس کو شش میں ہیں کہ وہ کون سے مشترکات ہوں جن پر عمومی باہمی تعلقات کو استوار کیا جائے ۔

Vatanka’s  جب دونوں ممالک کے تعلقات کو زیر بحث لاتا ہے تو  وہ ہر چیز کو مرحلہ وار  دیکھتا ہے ۔وہ مختلف واقعات کا جائزہ تاریخ وار لیتا ہے تاکہ تجزیہ کرنے لئے کوئی ٹھوس بنیاد  مل سکے ۔یہ کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے جس میں پاکستان کے مختلف حکمرانوں کے ایران کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔

شاہ ایران کو یہ خصوصیت بھی حاصل رہی کہ وہ 1950ء میں پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی سربراہ تھے ۔دونوں ممالک کے گرم جوش تعلقات کا آغاز اس وقت ہوا جب شاہ ایران کے دورے کے دو ماہ بعد دونوں ممالک نے تہران میں دوستی کے معاہدے پر دستخط کئے ۔یہ اس تاریخ کا آغاز تھا جس نے بعد ازاں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے بہت نزدیک کر دیا ۔حتی ٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستانی پارلیمنٹ نے تہران کو ایک درخواست بھیجی کہ وہ ایران کے آئین کی کتاب بھیجے جس کی روشنی میں پاکستانی آئین ترتیب دیا جا سکے ۔

تاہم ان تمام تر حقائق اور دوستانہ تعلقات  کے باوجود دونوں ممالک کو سرحدی تعین کے معاہدے تک پہنچنے میں آٹھ سال کا طویل عرصہ لگا ۔یہ معاہدہ   دونوں ممالک کے درمیان 6 فروری 1958ء کو ہوا۔ دو سال کے مزاکرات کے بعد تہران اور اسلام آباد مشترکہ سرحد پر متفق ہو گئے ۔ Vatanka کے بقول یہ اتنی بڑی پیش رفت تھی کہ آج تک دونوں جانب سے اس پر کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا ۔

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے شاہ نے تجویز دی کہ پاکستان اور ایران کی کنفیڈریشن بنائی جائے جس کی ایک ہی فوج ہو اور اس کے مشترکہ سربراہ ِ ریاست بھی وہ خود ہوں ۔ Vatanka کے بقول یہ تصور بالکل بھونڈا اور ناقابل ِعمل تھا ۔اس وقت د ووجوہات کہ بنا پر اس منصوبے کا تصور ہی عجیب و غریب تھا ایک تو یہ کہ پاکستان اور ایران پہلے ہی ایک نئی تنظیم Centoکے رکن تھے وہ پہلے ہی سیاسی ،اقتصادی اور فوجی میدانوں میں ادغام کے لئے سرگرداں تھے ۔دوسرا یہ کہ شاہ کو یہ خیال یونہی اچانک نہیں آیا تھا اس کے بالکل ہمسائے میں عربوں میں چار ممالک سیاسی کنفیڈریشن کے تجربے سے گزر رہے تھے ۔1958ء میں مصر اور شام ایک یونین بنانے پر متفق ہو گئے تھے جسے یونائیٹڈ عرب ریپبلک کہا جاتا تھا ۔

1965ء کی پاک بھارت جنگ سے شاہ کا پاکستان پر اعتماد متزلزل ہو گیا اس کے بعد سے اس نے پاکستان کو بالکل مختلف طریقے سے دیکھا ۔Vatankaکے بقول 1965ء کی جنگ کا پاکستان کے  بطورجغرافیائی اتحادی کی حیثیت سے ایران پر نفسیاتی اثر  ہوا ۔اس کے بعد سے بھارت کے مسئلہ پر تہران کا رویہ بالکل مختلف ہو گیا اور شاہ بھی آہستہ آہستہ پاکستان پر احسان جتانے والا رویہ رکھنے لگا ۔

شاہ کے دور میں کئی بار ایسا ہوا کہ شاہ نے پاکستان کو مشکل سے نکالا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بارے میں اس کے شکوک و شبہات اور زیادہ بڑھ گئے ۔1971ء کے جنگ میں بھارت سے شکست اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے شاہ کے کان کھڑے کر دیئے اور وہ پاکستان کے بارے میں بہت زیادہ متفکر ہو گیا کیونکہ روسی سرپرستی میں بھارت کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان بہت زیادہ خطرات سے دوچار تھا ۔ Vatankaنے اس سلسلے میں سفارتکاروں کے سرکاری خط و کتابت سے بھی استفادہ کیا ہے جو اس دوران تحریر ہوئے تھے جن میں یہ کہا گیا تھاکہ شاہ نے کئی بار کہا کہ پاکستان کا مستقبل اس کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نقطہ ہے ۔اس نے شاہ کی امریکی وزیر خارجہ ہینری کسنجر کے ساتھ  جولائی 1973 میں واشنگٹن میں ہونے والی  ایک میٹنگ کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں  شاہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ اس نے روسی قیادت کو پاکستان کی سالمیت کے حوالے سے ایرانی عزم سے واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے ۔کسنجر کو بتایا گیا کہ شاہ نے بھارتیوں کو بتا دیا ہے کہ اگر پاکستان پر حملہ کیا گیا تو ایران اس سے لاتعلق نہیں رہ سکے گا اور ایران پاکستان کے مزید ٹکڑے نہیں ہونے دے گا ۔

اس کتاب میں شاہ کی مرنے سے قبل اس کی آخری یاداشتوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔جس میں اس نے لکھا  کہ میں ایران کی شہنشاہیت کے اڑھائی ہزار سالہ جشن کے موقع پر تختِ جمشید میں  پاکستانی صدر یحیٰ خان  کی آمد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی روسی صدر [Nikolai] Podgornyسے ملاقات کرانا چاہتا تھا تاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنگلہ دیش کے مسئلے پر جو تنازعہ پیدا ہو رہا تھا اسے روکا جا سکے ۔تاہم شاہ کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی ۔

شاہ ایران یحیٰ خان کی مشرقی پاکستان سے متعلق پالیسیوں سے خوش نہیں تھا  اور اسے اپنے خدشات سے آگاہ کر  دیا تھا۔اس کے بعد جب پاکستان دو لخت ہو گیا تو شاہ بہت مایوس ہوا مگر اس نے پاکستان کو سنبھالا دینے کی بھر پور کوشش کی ۔پاکستان کے ٹکڑے ہونا اس کے لئے کسی المیے سے کم نہیں تھا اور وہ بلوچستان میں باغیوں کی سرگرمیوں میں اضافے سے بھی پریشان تھا ۔ Vatankaنے لکھا کہ 1971ء کے سانحہ کے بعد شاہ اس حد تک پریشان تھا کہ اس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اگر پاکستان اپنے اندرونی نسلی تنازعہ کی وجہ سے  مزید ٹکڑے ہوا تو ایران ممکنہ طور پر بلوچستان پر قبضہ بھی کر سکتا ہے ۔

افغانستان دونوں ممالک کے لئے تشویش کا باعث تھا ۔بالخصوص افغان وزیر اعظم داؤد خان 1973ء کی بغاوت کے بعد  پاکستان کے بارے میں بہت سخت مؤقف رکھتا تھا ۔ Vatanka کے بقول پاکستان وہ واحد ملک تھا جس کو داؤد نے بغاوت کچلنے کے بعد سخت الفاظ میں نشانہ بنایا تھا ۔اس نے کہا تھا کہ ہم دوستی چاہتے ہیں مگر پشتونستان کا مسئلہ حل طلب ہے اس نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ افغانستان بلوچوں کی حالت زار پر بھی آنکھیں بند نہیں کر سکتا ۔

شاہ سمجھتا تھا کہ روسی کابل کے ذریعے عظیم تر بلوچستان کے قیام  کی راہیں ہموار کر رہے ہیں اور اس سے پاکستان اور ایران دونوں عدم استحکام کاشکار ہوں گے ۔شاہ نے پاکستان کو کہا کہ وہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے خلاف فوجی آپریشن کرے جو  ممکنہ طور پر عراقی مدد سے ایران میں بغاوت کے لئے سرگرم تھا ۔لیکن شاہ بلوچستان میں بھٹو کی جانب سے  قوم پرست جماعتوں کے ساتھ سیاسی داؤ پیچ سے خوش نہیں تھا ۔اسے یقین تھا کہ یہ بلوچ رہنما عراق سے ہتھیار لے رہے ہیں ۔

بھٹو کا عربوں کی جانب جھکاؤ بھی شاہ کو نہیں بھاتا تھا ۔اس کے بعد ضیاء الحق نے بھی یہی راستہ چنا جس کی وجہ سے تہران کا اعتماد مجروح ہو گیا ۔بھٹو نے عرب کارڈ کو بہت اچھے طریقے سے استعمال کیا ۔1974ء کی لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس سے قبل پاکستان نے کسی بھی عرب ملک سے براہ راست معاشی مدد کبھی نہیں لی ۔لیکن بھٹو کے ایک ہی چھکے سے صورتحال یکسر بدل گئی اور پاکستان پر تیل کی دولت کی بارش ہونے لگی ۔یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور ایران کے درمیان محبت کا رشتہ زوال پزیر ہو نا شروع ہو گیا ۔

شاہ ِیران  ضیاء کے سیاسی عزائم کے بارے میں بھی با خبر نہیں تھا اور نہ اس کے ایجنڈے کے بارے میں جانتا تھا مگر شاہ نے اسے تاکید کی کہ وہ Centoکا حصہ رہے ۔اپریل 1978ء میں کابل میں ہونے والی بغاوت نےعلاقائی سیاسی تناظر بالکل یکسر ہی بدل ڈالا ۔اور ضیاء نے اعلان کر دیا کہ افغانستان پاکستان اور روس کے درمیان حد فاصل نہیں رہا اور اب وہ ایک دوسرے کی سرحدوں پر موجود ہیں ۔اگرچہ ابھی تک شاہ  کے کمیونزم کے خلاف  جذبات سرد نہیں ہوئے تھے لیکن اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ پاکستان اور ایران نے افغانستان کے کیمونسٹ حکمران نور محمد ترکئی کے خلاف کوئی مشترکہ حکمت عملی اپنائی ہو ۔

ضیاء نےایران کے اسلامی انقلاب کے بعد دو طرفہ تعلقات بڑھانے کے لئے موقع کو غنیمت جانا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ خمینی اور اس کے لوگوں کو اپنے مذہبی خیالات کی وجہ سے بھا جائے گا مگر وہ اسے مذہبی نہیں بلکہ امریکیوں کا بندہ سمجھتے تھے ۔اس سلسلے میں ضیاء نے پاکستان میں شیعہ رہنماؤں سے بھی مدد چاہی جو ہمیشہ اپنی رہنمائی کے لئے تہران کی طرف دیکھتے ہیں ۔

یہی وہ وقت تھا جب فرقہ واریت کا آغاز ہوا اور یہ بڑھتے بڑھتے دونوں ممالک کے تعلقات میں مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ۔Vatanka کے بقول شاہ نے کبھی فرقہ وارانہ کارڈ کو ریاستوں کے مابین تعلقات میں استعمال نہیں کیا ۔مرزا کے قریبی دوست اور ایران کے دو بار وزیر خارجہ رہنے والے ارد شیر زیدی نے بھی ایسی باتوں کو یکسر رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اس دور میں شیعہ سنی تفریق اتنی اہم نہیں تھی"۔

ایک اور دلچسپ بات جسےکتاب میں موضوع بحث بنایا گیا ہے وہ باہمی رابطے ہیں ۔اگرچہ Vatankaنے چین کے One Belt, One Road  منصوبے کا ذکر نہیں کیا مگر اس نے ملکوں کے باہمی طور پر سڑکوں کے ذریعے منسلک کرنے کے منصوبے کا تذکرہ ضرور کیا ہے اس نے لکھا ہے کہ علاقے کو ایک معاشی کنفیڈریشن بنانے کے منصوبے سے کیسے  پاکستان اور افغانستان کے تنازعات ابھر کر سامنے آگئے ۔ایران اور امریکہ چاہتے تھے کہ ایران ،پاکستان اور افغانستان مل کر ایک ڈھیلی ڈھالی کنفیڈریشن بنانے پر متفق ہو جائیں اور صدر ایوب نے پہلی بار عوامی سطح پر اگست 1962ء میں اس منصوبے کا ذکر بھی کیا تھا ۔تاہم کچھابتدائی غورو فکر کے  بعد امریکہ کا جنوب مغربی ایشیاء میں کنفیڈریشن بنانے کا خیال بدل گیا اور افغانستان کو نکال کر اس میں ترکی کو شامل کر دیا گیا ۔جس کے نتیجے میں Centoکے تحت جولائی1964ء میں Regional Cooperation for Development (RCD)کی بنیاد رکھی گئی ۔

علاقائی اتحادوں  کا خیال  اگرچہ جغرافیائی طور پر بھی اہم تھا تاکہ معاشی رابطوں کے ذریعے معاملات کو معمول پر لایا جا سکے۔تاہم 1966ء میں پاک بھارت جنگ اور افغانستان اور پاکستان کے درمیان کھچاؤ کے تناظر میں روسی وزیر اعظم Alexei Kosyginنے روس ، افغانستان ،پاکستان اور انڈیا کو زمینی راستوں سے منسلک کرنے کے لئے معاشی تعاون کا ایک منصوبہ پیش کیا ۔مگر ایوب خان نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سرد مہری دکھائی کیونکہ ان کے خیال میں یہ قابل عمل نہیں تھا ۔1974ء میں شاہ نے تجویز پیش کی کہ  RCD میں بھارت اور افغانستان کو بھی شامل کر لیا جائے مگر اسلام آباد کو یہ تجویز پسند نہیں آئی ۔

اس دور میں کیا معاملات ہوتے رہے اس کا پردہ Iran and Pakistan: Security, Diplomacy and American Influenceاس کتاب میں چاک کیا گیا ہے اور اس سے اس کتاب کی اہمیت بھی دو چند ہو جاتی ہے ۔Vatankaکی یہ کاوش لائق تحسین ہے کہ اس نے شاہ کے بعد کے دور میں بھی دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ "کاغذوں کی حد تک تو ایران پاکستان نے سیاسی اور معاشی  تعاون بڑھانے کے لئے کئی کوششیں کی ہیں  جن میں Economic Cooperation Organisation کی ممبر شپ سے لے کر تجارت اورسیکورٹی تعاون  تک کئی معاہدے شامل ہیں ۔تاہم ان میں سے بہت ہی کم کو عملی جامہ پہنایا جا سکا ۔باہمی تعلقات کو وسعت ابھی تک نہیں مل سکی "۔

(بشکریہ ڈان :ترجمہ :سجاد اظہر )