پاکستان کا یومِ آزادی 14 یا15 اگست

انڈین انڈیپینڈنس بل جو 4جولائی 1947 کو متعارف کرایا گیا تھا ،15 جولائی 1947کو قانون بن گیا، جس کے مطابق انڈیا اور پاکستان 14اور 15اگست کی درمیانی شب ایک آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آئے

اختر بلوچ


یہ غالباً 2002کی بات ہے جب ہم حیدرآباد میں تھے۔HRCP پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام لاہور میں ایک تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔حیدرآباد سے مجھ سمیت ہمارے دوست احمد رضا، امر گُرڑو ،حلیمہ سومرو،شبانہ چنا اور رﺅف چانڈیو نے شرکت کی۔جب کہ کوئٹہ سے معروف صحافی ایوب ترین ،پشاور سے جمشید باغوان ،کراچی سے ڈان کے رپورٹربھگوان داس بھی شامل تھے۔ غالباً ورکشاپ کے دوسرے یا تیسرے دن ، ورکشاپ کے دوران ممتاز سیاسی تجزیہ نگار اور صحافی امتیازعالم ہال میں داخل ہوئے اور نقی صاحب سے بولے،”مجھے ایک پروگرام میں مدعو کیا گیا تھا لیکن یہاں تو وہ لوگ ہی نظر نہیں آرہے“۔نقی صاحب اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور اپنے تمباکو والے پائپ کی راکھ ، راکھ دان میں جھاڑتے ہوئے بولے،” امتیاز صاحب ! آپ صرف چوبیس گھنٹے(24) لیٹ پہنچے ہیں اور ہاں اب ہماری سمجھ آئی کہ سُرخ انقلاب کیوں وقت پر نہیں آیا۔ان کے اس تبصرے پر امتیاز صاحب اور نقی صاحب کے درمیان خوش گوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں اس تمہید کی ضرورت کیوں پیش آئی۔مختصراً جواب یہ ہے کہ ایک تاریخی مغالطے کے حوالے سے کچھ حقائق آپ کی خدمت میں پیش کرنے ہیں۔یہ ایک پختہ اور عمومی تصور ہے کہ پاکستان 14اگست کو وجود میں آیا لیکن تاریخی حقائق اس کے بالکل بر عکس ہیں۔نامور مورخ کے-کے عزیز اپنی کتاب ”تاریخ کا قتل“(Murder Of History) کے صفحہ نمبر 179 پر ”قیامِ پاکستان کی تاریخ“ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ:

          ” یہ ایک عمومی اور مستحکم تاثر ہے کہ پاکستان کا یومِ آزادی 14اگست ہے جو درست نہیں ہے۔انڈین انڈیپینڈنس بل جو 4جولائی 1947 کو متعارف کرایا گیا تھا ،15 جولائی 1947کو قانون بن گیا، جس کے مطابق انڈیا اور پاکستان 14اور 15اگست کی درمیانی شب ایک آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آئے۔دونوں مملکتوں کو اقتدار شاہ برطانیہ کے انڈیا میں نمائندے وائسرائے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے منتقل کرنا تھا۔ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی اس موقعے پر بہ یک وقت انڈیا اور پاکستان میں موجودگی ممکن نہیں تھی۔یہ بھی ناممکن تھا کہ وہ 15اگست کی صبح اقتدار انڈیا کو منتقل کرتے اور فوراً ہی کراچی پہنچ جاتے۔کیوں کہ اس وقت وہ انڈین ڈومینین(Dominion) کے گورنر جنرل ہوتے۔عملی طور پر یہ ممکن تھا کہ وہ وائسرائے کی حیثیت سے پاکستان کو اقتدار کی منتقلی 14 اگست کو کرتے کیوں کہ اس وقت تک وہ انڈیا کے وائسرائے کے عہدے پر رہتے۔لیکن اس کا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ پاکستان 14اگست کو آزاد ہوا تھا ۔انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔“

          حکومتِ برطانیہ کی سرکاری ویب سائٹ”Legislation.co.uk“ پر موجود انڈین ایکٹ کی دفعہ نمبر 1 (I) سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ایکٹ کے مطابق” 15اگست 1947کو دو آزاد خود مختار ریاستیں انڈیا میں تشکیل پائی ہیں جو انڈیا اورپاکستان کہلائیں گی“۔

          بات صرف انڈیپینڈنس ایکٹ تک ہی محدود نہیں ۔سابق وزیرِ اعظم پاکستان چوہدری محمد علی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب جو پہلی بار 1967 میں ” Emergence Of Pakistan“ کے نام سے شائع ہوئی اور اس کا ترجمہ 1981میں بشیر احمد ارشد نے کیا اور یہ مکتبہ کارواں لاہور کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی تھی۔کتاب کے اردو ترجمے کے صفحہ نمبر 287 پر درج ہے کہ:

          ”15اگست 1947 ، رمضان المبارک کے آخری جمعہ کا بابرکت اور مقدس دن تھا اس مبارک دن قائد اعظم نے پاکستان کے گورنر جنرل کا منصب سنبھالااور کابینہ نے حلف اٹھایا۔ستارہ و ہلال والا قومی پرچم لہرایا گیا۔پاکستان منصہ شہود پر آگیا۔“

وہ مزید لکھتے ہیں:

          ”15 اگست کو قائد اعظم نے اہلِ پاکستان کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ:” اس عظیم موقعے پر مجھے سب سے زیادہ وہ بہادر مجاہد یاد آرہے ہیں ، جنھوں نے ہمارے نصب العین کی خاطر سب کچھ حتیٰ کہ اپنی جانیں بھی خوشی سے قربان کر دیں تاکہ پاکستان کا قیام عمل میں آجا ئے “۔

          ہندوستان میں رہنے والے چار کروڑ مسلمانوں کے لئے خیر خواہی تھی اور مسلسل تشویش بھی۔جیسا کہ قائداعظم نے کہا:” ہمارے ان بھائیوں کو جو اب ہندوستان میں اقلیت میں ہیں،پورا یقین ہونا چاہیے کہ ہم کبھی نہ انھیں نظر انداز کریں گے اور نہ فراموش۔مجھے تسلیم ہے کہ یہ اس برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبے ہی ہیں،جنھوں نے سبقت کی اور ہمارے دل و جان سے عزیز نصب العین پاکستان کے حصول کا پرچم سر بلند رکھا“۔اب انھیں نئے اور مشکل حالات سے مطابقت کرنی پڑے گی،کیوں کہ پاکستان کی حمایت کرنے کے باعث وہ ہندوﺅں کی نگاہ میں مبغوض تھے۔قائد اعظم نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ جس مملکت میں ہیں، اس کے غیر متزلزل طور پر وفادار رہیں۔

          چوہدری محمد علی نے یہ کتاب قیامِ پاکستان کے تقریباً 22 سال بعد لکھی 1980تک وہ بقید حیات بھی رہے۔لیکن انھوں نے کبھی بھی اپنے اس بیان کی تردید نہیں کی، گو کہ ان کی زندگی میں ہی پاکستان کا یومِ آزادی 15سے 14 اگست کو ہوگیا۔ان کے اس بیان کی تصدیق ایک اور ذریعے سے بھی ہوتی ہے ۔1989کو پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے شعبے فلم اور مطبوعات کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی کتاب ”قائدِ اعظم محمد علی جناح تقاریر و بیانات بہ حیثیت گورنر جنرل پاکستان 1947-1948“کے صفحہ نمبر 55پر ”پُر امن بقائے باہمی“(Peace Within, and Peace Without) کے عنوان سے لکھا ہے:”15اگست 1947کو پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کے افتتاح کے موقع پر قوم کے نام نشری پیغام۔

          ”میں انتہائی مسرت و شادمانی کے ساتھ یہ تہنیت آپ کی نذر کرتا ہوں۔15اگست آزاد اور خود مختار پاکستان کا یومِ آزادی ہے۔“

          ”قائدِ اعظم رحمتہ اللہ علیہ: آخری دو سال“ نامی کتاب کے مصنف منصور احمد بٹ جنھیں ان کی کتاب کے صفحہ اوّل پر لکھی تحریر کے مطابق وزارتِ تعلیم حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی بھی عطا ہوا ہے ، قائدِ اعظم کی 15 اگست کی تقریر کے حوالے سے انکشاف کرتے ہیں کہ:

          ” 14اگست 1947 کو پاکستان کے قیام اور ایک آزادو خود مختار مسلم مملکت کے معرضِ وجود میں آجانے کے اعلانات رات بارہ بجے کے بعد لاہور، کراچی اور پشاور کے ریڈیو اسٹیشنوں سے ہوئے۔ان تاریخ ساز اور بے حد متبرک لمحات میں تلاوت ِ قران کریم اور ملی ترانوں کے بعد قائد اعظم کی ایک تہنیتی تقریر نشر کی گئی۔یہ تقریر قیامِ پاکستان کا فیصلہ ہوجانے کے بعد اور آخر جولائی میں دہلی میں ہی رکارڈ کرلی گئی تھی۔اس اہم ترین تقریر کے تین ر کارڈ لاہور، کراچی اور پشاور کے ریڈیو اسٹیشنوں کے معتمد افراد کے ذریعے پہلے ہی متعلقہ جگہوں پر پہنچا دیے گئے تھے۔یہ تقریر جو قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظم کی اولین ریڈیائی تقریر ہے۔جناب انصار ناصری (ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان) نے اردو میں ترجمہ کر کے ریڈیو پاکستان پشاور سے سامعین تک پہنچائی۔اور وہی اس اہم تقریر کو تحریری شکل میں اپنے ایک طویل مضمون کے ساتھ پہلی بار منظرِ عام پر لائے۔قائدِ اعظم نے 14اگست 1947 کو قیامِ پاکستان کے فوراً بعد اپنی ملت کے نام اس نشرےے میں کہا“۔

          بٹ صاحب اپنی تحریر میں فرماتے ہیں کہ یہ تقریر رات بارہ بجے کے بعد نشر کی گئی تھی ۔وہ شاید اس بات سے لاعلم ہیں کہ بارہ بجے کے بعد نیا دن شروع ہوجاتا ہے۔بٹ صاحب کی تحریر میں اس پوری کہانی کا کوئی حوالہ نہیں، البتہ انھوں نے کتاب کے آخر میں 45 ایسی کتابوں کی فہرست دی ہے جن کی مدد سے انھوں نے کتاب تحریر کی ہے۔”اب ڈھونڈانھیں چراغ ِرُخِ زیبا لے کر“۔مجھے گمان ہے کہ شاید وہ ہمارا یہ بلاگ پڑھ کر ہماری رہ نمائی کریں، نہ صرف وہ بلکہ کوئی بھی ہماری رہ نمائی کر سکتا ہے۔پاکستان کا یومِ آزادی 14اگست 1947 ہے یا 15اگست ، تاریخی دستاویزات ، تقاریر اور کتابوں سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کا یومِ آزادی 15اگست ہے۔انڈیا کے آخری وائسرائے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے سوانح نگار فلپ زگلر اپنی کتاب ”Mountbatten: The Official Biography“ میں بھی پاکستان کی آزادی کے حوالے سے یہی لکھتے ہیں کہ پاکستان کی آزادی کا دن 14اگست نہیں بلکہ 15اگست ہے۔

          پاکستان کا یومِ آزادی 15سے14اگست قائدِ اعظم کی وفات کے بعد ہوا۔پاکستان کے ایک سابق وزیرِ اعظم چوہدری محمد علی اپنی یادداشتوں میں یومِ آزادی 15اگست کو قرار دیتے ہیں۔1989 میں وزارت ِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے قائداعظم کی تقریر اور بیانات پر مشتمل کتاب میں بھی یومِ آزادی 15 اگست ہے۔لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی سوانح عمری میں بھی آزادی کی تاریخ 15اگست ہے۔انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ 1947 میں بھی آزادی کی تاریخ 15اگست ہے۔لیاقت علی خان جو پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے ان کی تقاریر اور بیانات جو 1941سے لے کر1951تک موجود ہیں وہ کتابی صور ت میں شایع ہو چکےہیں۔ یہ کتاب جناب رفیق افضل نے مرتب کی تھی اور ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان یونیورسٹی آف پنجاب لاہور کے زیر اہتمام شایع کی گئی تھی۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1967میں شایع ہوا تھا اور دوسرا ایڈیشن 1975میں ۔کتاب کے صفحہ نمبر117پر تحریر ہے کہ لیاقت علی خان نے کہا کہ ”میں نے کل بھی اس معاملے کی نشاندہی کی تھی۔

          میں سوچتا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے جو15اگست 14اگست ہوگئی اور آہستہ آہستہ ہم پاکستانیوں نے اسے قبول بھی کر لیا۔میں تاریخ کا ایک معمولی سا طالبِ علم ہوں۔ اکثر سوچتا ہوں کسی مورخ سے یہ معلوم کروں کیا دنیا میں کوئی ”ایسے دو ممالک ہیں جو انڈیا اور پاکستان کی طرز پر کسی ایک سامراجی طاقت کے تسلط سے مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں آزاد ہوئے ہوں۔اگر ایسا ہے تو میں آپ کی رہ نمائی کا طالب ہوں۔وگر نہ یہ اعزاز صرف انڈیا اور پاکستان کے حصے میں ہی آیا ہے۔

(اختر بلوچ سینئر صحافی ہیں ۔ان کے بلاگ کئی اخبارات و جرائد اور ویب سائٹس پر شائع ہوتے ہیں اب وہ باقاعدگی سے تجزیات کے لئے لکھا کریں گے )