داعش کی اصل قوت

اس کی دوسری قوت مذہبی طبقے کی طرف سے جواب نہ آنا ہے اس کی وجہ دہشت گرد قوتوں کا خوف ہو سکتا ہے یا پھر یہ طبقے عملی فکری انحطاط کی اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ ان سے دہشت گرد نظریات کے فکری تریاق کی توقع رکھنا بھی غلط ہے

محمد عامر رانا


 داعش کی اصل طاقت کیا ہے؟ اس پر ایک سے زائد آرا پائی جاتی ہیں۔ کوئی اس کے نظریے کو اس کی اصل جان قرار دیتا ہیں۔کسی کی نظر میں اس کی دہشت گردی کی حکمت عملی اہم ہے جو بہت خوفناک ہے۔کچھ ماہرین اس کی سیاسی حکمت عملی کو اہم سمجھتے ہیں کہ کس طرح اس نے مسلمان متوسط طبقے میں اپنے لیے سیاسی گنجائش پیدا کی ہے۔متوسط طبقے کے نوجوان جو اس تنظیم کی جانب راغب ہیں وہ بھی اس کا اثاثہ ہیں اور سائبر دنیا میں اس نے جو ایک طوفان برپا کیا ہے وہ کئی ماہرین کی نظر میں اس کی اصل قوت ہے۔

 یہ تمام عوامل کسی نہ کسی سطح پر اہم ہیں،لیکن اس کی طاقت مسلم ریاست کی کمزوری میں پوشیدہ ہے مسلم اشرفیہ ابھی تک یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ داعش ہو یا القاعدہ ان کی جڑیں سماج میں اتنی گہری جاچکی ہیں کہ بد معاش،ڈاکو دہشت گرد گمرا جیسی طعنہ زنی سے یہ خطرہ ٹلنے والا نہیں ہے۔اس کی دوسری قوت مذہبی طبقے کی طرف سے جواب نہ آنا ہے اس کی وجہ دہشت گرد قوتوں کا خوف ہو سکتا ہے یا پھر یہ طبقے عملی فکری انحطاط کی اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ ان سے دہشت گرد نظریات کے فکری تریاق کی توقع رکھنا بھی غلط ہے

۔ جس وقت داعش کی کشش مسلمان نوجوانوں کے ذہنوں کو آلودہ کررہی تھی۔مسلم ریاستوں اور ان کی طاقتور اشرفیہ نے انکھیں بند کر رکھیں تھیں۔یہ سارہ عمل دن کی روشنی میں کمپیوٹر سکرینوں ،موبائل فون اور برقی سلیٹوں پر ہورہا تھا۔لیکن کبوتر کی انکھیں بند تھیں مسلمان ممالک کے اہل اقتدار مذہبی نظریاتی معاملات پر اس وقت تک انکھیں نہیں کھولتے ،جب تک بلی حملہ نہ کردے۔داعش یورپ کے دل سے مشرقی وسطی سے وسط ایشیاء افریقہ کے صحراؤں سے اس کے ساحلوں تک اپنے پنجے پھیلا رہی تھی لیکن اشرفیہ اپنے خول سے نکلنے کے لیے تیار نہیں تھی ۔ حالیہ دہشت گردی کی لہر جو استنبول سے چلی بغداد تک پہنچی ہے غالب امکان یہی ہے کہ یہ بھی حکمرانوں اور اشرفیہ کواپنی روش بدلنے پر مجبور نہیں کر سکے گی۔

 یہ پہلا رمضان المبارک نہیں تھا جس کا تقدس داعش نے لہو بہا کر پا مال کیا ۔گذشتہ رمضان کی کہانی بھی یہی ہے جب یہ لہر فرانس سے چلی کویت صومالیہ اور تیونس تک گئی تھی۔عراق شام میں تباہی اس کےعلاوہ تھی۔

 داعش نے با قاعدہ اعلان جنگ کیا ہے یہ اپنے پیش رو گروپ القاعدہ کی طرح کچھ بھی اندھیرے میں نہیں کررہی ۔داعش کی مطبوعات اور پیغامات جو آسانی سے دستیاب ہیں وہ چند ماہ سے اشارہ کررہے تھے کہ ان کا اگلا ہدف سعودی عرب،ایران ترکی اور مصر ہونگے تاکہ علاقائی قوتوں کے مراکز کو کمزور کیا جا سکے جس کے بعد انارکی ہوگی اور انارکی کے نتیجے میں داعش کو یہاں قدم جمانے میں مدد ملے گی ۔ داعش کی مطبوعات یہ بھی اعلان کررہی تھیں کہ 2016 کے رمضان میں بنگلہ دیش اور مشرقی ایشیاء میں اس کے حلیف اپنی موجودگی کا اعلان کرینگے اور انہوں نے بنگلہ دیش ملائشیا اور انڈونشیاء میں یہ کر بھی دیا۔

 مسلمان ریاستیں اور ان کے مذہبی طبقات بجائے اس کے اصل خطرے کا ادراک کرتے اور اس کی جامع پیش بندی کرتے ان کے درمیان یہ بحث چل رہی ہے کہ رمضان المبارک میں دہشت گردی کرنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے اور مسجد نبوی پر حملہ کا سوچنے والے قطعی ایمان کی دولت سےتہی دامن ہیں ۔کیا ان مبا حث سےسقوطِ بغداد اور تاتاریوں کی حملے کی یاد تازہ نہیں ہوتی؟

داعش اور اس جیسے دہشت گرد گروپ اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی مطبوعات واضح ہیں کہ رمضان میں نہ صرف ان کا اجر بڑھ جائے گا بلکہ ان کی دہشت اور دبدبہ بھی زیادہ پھیلے گا ۔

دوسری طرف دیکھیے بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت ابھی تک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ کوئی عالمی دہشت گرد گروپ بنگلہ دیش سماج میں جڑیں گہری کر رہا ہے ۔وہ انہیں گمراہ ،مقامی افراد اور گروہ سمجھتی ہیں جنہیں اپوزیشن جماعتوں کی ہمدردی حاصل ہے۔کیا یہ حسینہ واجد کے بیانات میں پاکستان کے سرکاری موقف کی گونج محسوس نہیں ہوتی جب حکومتی ادارے داعش کی پاکستان موجودگی سے ایسے ہی انکار کرتے ہیں ؟ ڈھاکہ کے حملے کےدہشت گردں کے پیروں کے نشانات اشرفیہ کے اپنے گھروں کی طرف گئے ہیں اور ایسا ہی پاکستان میں ہوتا ہے

، ترکی تزویراتی ابہام (strategic ambiguity) کا نیا شکار ہے اور داعش اس کا بھر پور فائدہ اٹھا رہی ہے۔اردگان حکومت کے لیے کُرد بڑا مسئلہ ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ داعش کمزور ہو نے سے کُرد مضبوط ہو جایئں گے۔سعودی عرب کی اپنی تزویراتی ترجیحات ہیں اور اس کے لیے ایران بڑا مسئلہ ہے تمام مسلم ریاستیوں کے پاس ایسے بہانے اور جواز ہیں جو داعش کی اصل قوت ہیں ۔

حاصل بحث یہ ہے کہ مسلم ریاستیں بڑھتے ہوئے بین الا سرحدی خطرات کو اپنے مقامی اور سیاسی تناظر میں دیکھنے کی عادی ہیں ۔جبکہ داعش عالمی ایکٹر ہے جو سرحدوں اور بندشوں میں یقین نہیں رکھتا اور اپنے وسائل کو بہت موثر طریقے سےاستعمال کرتا ہے کوئی ازبک کرغیز استنبول میں کام آسکتا ہے تو کوئی پاکستانی جدہ میں ۔

 بظاہر مسلم اشرفیہ جمہوریت اور جمہوری احباب کے نظام کو اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتی ہے داعش کے لیے حکمران ایک دلیل ہے جسے وہ الٹ پلٹ کر کئی طریقوں سے انہی ریاستوں کے خلاف استعمال کر تی ہے۔سکیورٹی ادارے سمجھتے ہیں کہ داعش کی افرادی قوت ختم کردینے سے داعش ختم ہو جائے گی ۔جب تک اسباب ہیں داعش تو رہے گی خواہ کسی بھی نام سے۔