لندن کا پہلا مسلمان مئیر صادق خان کون ہے ؟

تقریباً دو ہزار سالہ قدیم شہر کے لئے آج کا دن تاریخ ساز ہے کہ پہلا مسلمان اور اقلیتی شخص اس کا میئر منتخب ہوا

سجاد اظہر


دریائے تھیمز کے کنارے پر  121ء میں رومیوں کی جانب سے بسایاجانے والا شہر لند ن ،جسے دنیا کےثقافتی مرکز کی حیثیت حاصل ہے ۔ لندن یورپ کا سب سے بڑا میٹرو پولیٹن سٹی ہے ،جہاں 74 کھرب پتی اور 40 ہزار ارب پتی افراد  رہائش پزیر ہیں ۔اسی لندن  میں آج کا دن بھی تاریخ ساز بن گیا ہے جب اس کی تقریباً دو ہزار سالہ تاریخ میں پہلا مسلمان اور پہلا اقلیتی شخص صادق خان  اس کا مئیر منتخب ہو گیا ہے ۔وہ شہر جس کا بجٹ پورے پاکستان کے سالانہ ترقیاتی بجٹ سے پندرہ گنا زیادہ ہے ۔

صادق خان کے مقابلے پر ٹوری پارٹی کے زیک گولڈسمتھ امیدوار تھے جو نسلاً یہودی اور عمران خان کے سالے ہیں ۔عمران خان نے بھی لندن جا کر اپنے سالے کی الیکشن مہم چلائی تھی ۔ 

پاکستان سے 1960 ء میں ہجرت کر کے جانے والے بس ڈرائیور کا بیٹا 45 سالہ صادق خان اپنے سات بھائیوں اور ایک بہن میں چھٹے نمبر پر ہے ۔گھر کے معاشی حالت ایسے تھے کہ صادق خان کی والدہ کو  لوگوں کے کپڑے سی کر گزارا کرنا پڑتا تھا۔ ان حالات میں صادق خان 1970 ء میں پیدا ہوئے ان  کی ابتدائی زندگی کونسل کی جانب سے اس گھر میں گزری جو انتہائی غریب افراد کو حکومت کی جانب سے رہنے کے لئے دیا جاتا ہے ۔ان حالات میں بھی اس کے والدین نےوہ ماحول فراہم کیا جس میں سات بچوں نے یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کی ۔صادق خان نے لندن یونیورسٹی سے لاء کی تعلیم حاصل  کرنے کے بعد اپنے ساتھی لوئس کرسٹین سے  مل کر کرسٹین اینڈ خان  لاء فرم کی بنیاد رکھی جہاں پر وہ انسانی حقوق کے مقدمے لڑا کرتے تھے ۔ 1994 میں صادق خان  نے ایک پاکستانی نژاد وکیل سعدیہ احمد سے شادی کر لی جس سے ان کی دو بیٹیاں 17 سالہ انیسہ اور 15 سالہ عمارہ ہیں ۔صادق خان کمیونٹی سروس کی وجہ سے علاقے میں مقبول ہو تے گئے  اور  لندن کے علاقے ونڈز ورتھ سے کونسلر منتخب ہو گ کر وہ سیاست کے میدان کے ہو کر رہ گئے ۔بارہ سال کونسلر رہنے کے بعد 6 مئی 2005ء میں لندن کے علاقے ٹوٹنگ سے لیبر پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہو ئے  ۔لندن کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ شہر سے کوئی مسلمان پارلیمنٹ کا رکن بنا تھا۔وہ دوبارہ 5 مئی 2010ء کو ایک بار پھر بھاری اکثریت سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہو گئے ۔ انھیں ان کی قابلیت کی بنا پر نہ صرف کابینہ میں وزیر کا عہدہ ملا بلکہ انھیں برطانیہ کی پرائوی کونسل کا ممبر بھی نامزد کر دیا گیا۔ اس کونسل میں صرف سینئر سیاستدان ہی نامزد کئے جاتے ہیں ۔جب انھیں یہ اعزاز ملا تووہ یہ اعزاز پانے والے نہ صرف پہلے مسلمان بلکہ پہلے ایشیائی بھی بن گئے۔ جب وہ بطور ممبر پہلی مرتبہ اجلاس میں شرکت کے لئے  بکنگھم پیلس  پہنچے  توملکہ برطانیہ کے روبرو  حاضری سے پہلے ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے ہاتھ میں بائیبل کا کون سا نسخہ لے کر جائیں گے جس پر انھوں نے جواب دیا کہ مسلمانوں والا، صادق خان کو قرآن ساتھ لے کر اجلاس میں جانے کی اجازت دی گئی ۔

 غیر مسلم لوگ صادق خان کا تعلق شدت پسندوں کے ساتھ جوڑتے رہے اور دوسری طرف صادق خان کو  ہم جنس پرستی کی حمایت میں ووٹ دینے پربریڈ فورڈ کے ایک مسجد امام نے  مرتد قرار دیا تھا۔  

صادق خان دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں ان کی ایک کتاب کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔ بی بی سی نے انھیں لندن کے 70 اراکین ِ پارلیمنٹ میں سے چار متحرک ترین ممبران پارلیمنٹ میں شمار کیا تھا۔

صادق خان ایک با عمل مسلمان ہیں جو پانچ وقت کے نمازی اور روزہ دار ہیں ۔ انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مغربی ملک کے پہلے وزیر تھے جنھوں نے بطور وزیر حج  ادا کیا ۔ شاید بہت  سے لوگ نہیں جانتے کہ کوئی بھی شخص جو مسلمان نہ ہو وہ مکہ اور مدینہ داخل نہیں ہو سکتا ۔

جب وہ بطور ممبر پہلی مرتبہ اجلاس میں شرکت کے لئے  بکنگھم پیلس  پہنچے  توملکہ برطانیہ کے روبرو  حاضری سے پہلے ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے ہاتھ میں بائیبل کا کون سا نسخہ لے کر جائیں گے جس پر انھوں نے جواب دیا کہ مسلمانوں والا، صادق خان کو قرآن ساتھ لے کر اجلاس میں جانے کی اجازت دی گئی ۔ 

لندن کی آبادی میں پاکستانیوں کی تعداد صرف 2.7فیصد ہے ۔تاہم مسلمانوں کی تعداد لندن کی آبادی کا 12.4 فیصد ہے ۔صادق خان کے مقابلے پر ٹوری پارٹی کے زیک گولڈسمتھ امیدوار تھے جو نسلاً یہودی اور عمران خان کے سالے ہیں ۔عمران خان نے بھی لندن جا کر اپنے سالے کی الیکشن مہم چلائی تھی ۔ زیک گولڈ سمتھ کو اپنے باپ کی جانب سے 300ملین پاؤنڈ  کے اثاثے وراثت میں ملے تھے اس کے مقابلے پر صادق خان  خط ِ غربت سے  بھی نیچے زندگی گزارنے والے خاندان سےاٹھا اور اس نے اپنی قابلیت اور محنت سے ایک تاریخ رقم کر دی ۔ صادق خان کو ناکام بنانے کے لئے ان کی مخالف ٹوری پارٹی نے بھر پور مہم چلائی اور کہا کہ لندن پر دولت اسلامیہ کے حملوں کا خطرہ ہے ایسے میں ایک مسلمان  شخص کیسے شہر کا مئیر ہو سکتا ہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ صادق خان کے سابق بہنوئی مقبول  جاوید لندن کے ایک شدت پسند گروپ "المہاجرون" کے ساتھ منسلک رہے ۔ 1998ء میں وہ فتویٰ جس میں امریکہ اور برطانیہ کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کیا گیا تھا اس پر بھی مقبول جاوید کے دستخط موجود تھے ۔ غیر مسلم لوگ صادق خان کا تعلق شدت پسندوں کے ساتھ جوڑتے رہے اور دوسری طرف صادق خان کو  ہم جنس پرستی کی حمایت میں ووٹ دینے پربریڈ فورڈ کے ایک مسجد امام نے  مرتد قرار دیا تھا۔  مگر صادق خان نے اپنی انتخابہ مہم مسجدوں ، چرچوں ، سینیگاگ اور مندروں میں بھی چلائی ۔لندن کے افراد نے انھیں ملا لحاظ ِ مذہب صرف اس لئے ووٹ دیا کہ ان کے خیال میں یہ سب سے موزوں امیدوار تھے ۔