img Read More

‘‘مہاجر‘‘سیاست ایک نئے موڑ پر

ضیاء الرحمٰن

پچھلے کافی دنوں سے ایم کیوایم کے دھڑوں میں اتحاد اورانضمام کی خبریں ذرائع وابلاغ میں آرہی ہے کیونکہ ایم کیو ایم کی ابتدائی قیادت اس وقت تین جماعتوں میں موجود ہے۔البتہ تینوں مہاجر جماعتوں کے رہنما اتحاد اورانضمام کی خبروں کو رد کررہے ہیں

img Read More

کراچی میں کالعدم تنظیموں سے وابستہ انتہا پسند خواتین کا گروہ سرگرم

سید عارفین

شدت پسند خواتین کا نیٹ ورک پاکستان کے بڑے شہروں میں کام کررہا ہے۔ یہ خواتین درس کے نام پران شہروں کے پوش علاقوں میں مختلف نشستوں کا اہتمام کرتی ہیں جہاں تعلیم یافتہ لڑکیوں اورخواتین کے ذہنوں میں شدت پسند اور انتہا پسند جذبات ابھارے جاتے ہیں

img Read More

غیر افسانوی : گمراہ تشریحات

محمد عامر رانا

سلفیت کی بنیاد کیسے پڑی؟ اس کی کھوج لگانا اور سمجھنا کوئی آسان کام نہیں تھا،اس مقصد کے لیے لاؤزیئر نے خاص طور پر مراکشی سلفی اور جہاں گرد محمد تقی الدین الہلالی جو کہ تیجانی سلسلہ کے ایک قدیم صوفی تھے کے فکری سفر کی پیروی کی

img Read More

ڈیرہ اسماعیل خان ،جہاں سے پیپلز پارٹی کا ڈیرہ اُکھڑ رہا ہے

اسلم اعوان

1970ءکے عام انتخابات میں ذولفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی کے جن پانچ حلقوں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ان میں ڈی آئی خان کا اکلوتا حلقہ بھی شامل تھا

img Read More

لاہور حملہ ، جماعت الاحرار کہاں کھڑی ہے ؟

سرتاج خان

عمرخالدخراسانی کااصل نام عبدالولی ہے اورمہمند قبیلے کی زیلی شاخ صافی سے تعلق رکھتاہے۔ کسی زمانے میں یہ شاعری سے وابستہ تھااورمہمندادبی ٹولنہ نامی ادبی تنظیم کارکن تھا

img Read More

دو نومبر کو کیا ہو گا؟

سجاد اظہر

عدالت عالیہ کی جانب سے عمران خان کو پریڈ گراونڈ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔لیکن دوسری جانب انتظامیہ کو اسلام آباد بند کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی کا یہ فیصلہ کس کے حق میں ہے اور کس کے مخالف ہے ۔ ا س کا اندازہ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ دو نومبر کے احتجاج کی کال ان کا آئینی حق ہے جس سے انھیں کوئی نہیں روک سکتا۔ عدالت عالیہ نے عمران خان کو ۳۱ اکتوبر کو طلب بھی کر لیا ہے ۔جہاں ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا وہ شہر کو بند کرنا چاہتے ہیں ؟ اگر عمران نے اس موقع پر کہا کہ وہ احتجاج کرنا چاہتے ہیں اور یہ ان کا جمہوری حق ہے ۔اور عدالت ان کے اس حق کو چھین نہیں سکتی تو عدالت اس موع پر چند زبانی کلامی یقین دہانیوں کے عوض نہ صرف انہیں احتجاج کی اجازت دے گی بلکہ اگر انتظامیہ نے اس موقع پر کنٹینر لگا کر اسلام آباد کو بند کر دیا تو عدالت جو پہلے ہی اسلام آباد میں کنٹینر نہ لگانے کا حکم دے چکی ہے وہ تمام رستے کھولنے کا حکم صادر کر دے گی ۔

img Read More

جناح کی جائے پیدائش وزیر مینشن یا جھرک، اوریجنل یا چائنا؟

رواں تبصرے

قائد اعظم محمد علی جناح کی تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش کے حوالے سے مختلف تضادات پائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ اس حوالے سے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں۔ تاریخِ پیدائش کے بارے میں دو مختلف تاریخوں کے حوالے سے قائد اعظم کی سوانح حیات لکھنے والے جی الانا اِس کا ذکریوں کیا ہے، کتاب کے صفحہ نمبر 19پر جناح صاحب کے حوالے سے رقم ہے کہ: سندھ مدرستہُ الاسلام کے انگریزی شعبے میں داخل ہونے والے طالب علموں کے جنرل رجسٹر سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد علی جناح کو اس اسکول میں 4جولائی1887کو داخل کیا گیا تھا اور وہ ایک سو چودھویں طالب علم تھے۔ دوسرے اندراجات کے مطابق اُن کا نام محمد علی جناح اور جائے پیدائش کراچی تھی۔ یومِ پیدائش درج نہ تھا۔ عمر 14سال،فرقہ خوجہ۔ سابقہ تعلیم اسٹینڈر چہارم گجراتی، فیس معاف ہے یا ادا کی جائے گی، ادا کی جائے گی۔ دوسرا اندراج جس کا نمبر شمار 178 ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ 23، ستمبر1887 کو محمد علی جناح کو سندھ مدرسہ میں دوبارہ داخل کیاگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بمبئی جانے کے تقریباًساڑھے پانچ مہینے بعد وہ سندھ مدرسہ میں دوبارہ داخل کیے گئے۔ ان کی تاریخ پیدائش20 اکتوبر1875 اور سابقہ تعلیم کے خانے میں انجمن اسلام بمبئی اسٹینڈرڈ اوّل درج ہے۔

img Read More

ڈیرہ کے آبی وسائل کی زبوں حالی

اسلم اعوان

جب ہم دور افتادہ علاقوں کے عوام کے مسائل پر غور کرتے ہیں جن کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تو مشکلات کی فصیل مزید بلند ہوتی نظر آتی ہے کیونکہ یہ عوامل قومی وسائل کی ناقدری کی واضح مثال ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ این اے 24 سے منتخب رکن اسمبلی مولانا فضل الرحمٰن ملکی و بین الاقوامی سیاست کے جھمیلوں سے کچھ وقت نکال کے ایک عرصہ بعد اپنے حلقہ نیابت کو لوٹے تو ڈپٹی کمشنر مصملا باللہ کی وساطت سے محکمہ ایریگیشن کے افسران نے انہیں وسائلِ آبپاشی کی زبوں حالی اور زیرتعمیر منصوبوں کی راہ میں حائل مشکلات سے آگاہی دینے کی خاطر بریفنگ کا اہتمام کیا۔

img Read More

فرقہ وارانہ نصاب تعلیم

مولانا محمد اسرار ابن مدنی

نصاب تعلیم کے حوالے سے مختلف زاویوں سے بحث و تحقیق جار ی ہے ۔ کوئی اس کے معاشرے پر پڑنے والے مثبت و منفی اثرات کا جائزہ لے رہا ہے تو کوئی اس میں نفرت پر مبنی بیانیوں کا تجزیہ کرتا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے ۔ ایک کو عصری نظام تعلیم اور دوسری کو دینی نظام تعلیم کا نام دیا گیا ہے۔عصری نظام تعلیم کا بیڑہ سکول اور کالجز نے اٹھایا ہے جبکہ دینی نظام تعلیم کی ذمہ داری روایتی دینی مدارس کے سپرد ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں ابتدا سے جائزہ لیا جائے تو کل چار نصاب اور نظام تعلیم معرض وجود میں آئے ہیں جن میں دو نظام مسلسل اب تک قائم ہیں ۔ ایک عصری نظام تعلیم ، جس کو روایتی مذہبی طبقہ دنیاوی نظام تعلیم سے تعبیر کرتا ہے اور دوسرا مذہبی نظام ِتعلیم ۔ان دو نظاموں کی تاریخی پس منظر واضح کرنے کے بعد اصل مسئلہ کی طرف آئیں گے۔

img Read More

پانی کا تنازعہ پاکستان اور بھارت کے لئے کس قدر خطرناک ہے ؟

مائیکل کغلمان

اگر بھارت کوئی بھی اقدام کرتا ہے تو اس کے تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ علاقہ پہلےہی پانی کی انتہائی کمی کا شکار ہے۔اور اس صورت میں ا سکے اثرات مزید تباہ کن ہو جائیں گے جب دونوں ممالک کے درمیان ایک محدود جنگ چھڑ جائے گی ۔کیونکہ دہشت گردوں کے خلاف سرجیکل سٹرائکس کی بہ نسبت پانی کی بندش کا شکار ایک عام پاکستانی ہو گا ۔ سندھ طاس معاہدے سے پاکستان کو فائدہ ہے ۔اگرچہ ا سمعاہدے سے تین دریاوں پر بھارت کا اور تین پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا ہے ۔پاکستان کو تین مغربی دریاوں کا پانی دیا گیا ہے جن میں سندھ ،جہلم اور چناب شامل ہیں جو کہ سندھ طاس کے پانی کا ۸۰ فیصد بنتا ہے ۔مگر اب بھارت اس پر ڈیم بنا رہا ہے تاکہ وہ ا سکا پانی استعمال کر سکے ۔لیکن بھارت کو یہ ڈیم بنانے میں ابھی کئی سال مزید لگیں گے تب ہی کہیں جا کر وہ ا س قابل ہو سکے گا کہ پاکستان کی سمت آنے والے پانی کو روک سکے ۔مگر بھارت پاکستان پر دباو ڈال کر متقبل میں یہی کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔

img Read More

اٹھتا روسی بلاک ،نئی سرد جنگ پاکستان کے لیے مواقع اور چیلنجز

ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پچھلے تین ماہ سے بہت خراب ہے۔ پوری وادی میں کرفیو نافذ ہے اور ایک انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔چھرے والی بندوقوں نے انڈین جمہوریت کے چہرے کو بری طرح گھائل کر دیا ہے اتنی سفاک جمہوریت کہ ہزاروں لوگوں کے چہروں بگاڑنے اور سینکڑوں کے نابینا ہونے کے باجود ٹس سے مس نہیں ہوئیبلکہ یہ کہا جائے کہ ہندوستانی جمہوریت نے اپنے نابینا ہونے کا ثبوت دیا ہے جسے علاقہ چاہیے لوگ نہیں۔

img Read More

وہ چھ وجوہات جو جنگ میں رکاوٹ ہیں

شیوام وجے

ایڈیٹر نوٹ :اڑی حملے کے بعد دونوں ممالک میں درجہ حرارت بڑھ چکا ہے ، کہا جا رہا ہے کہ انڈیا حملے کی تیاریوں میں ہے ، پاکستان نے بھی دفاعی اقدامات اٹھانے شروع کر دیئے ہیں ، درحقیقت ا س جنگ کے امکانات کتنے ہیں ؟ ا س سوال کا جواب ممتاز بھارتی صحافی شیوام وجے نے دیا ہے جو کہ ایک آن لائن اخبار ہفنگٹن پوسٹ کے انڈین ایڈیشن کے شریک مدیر ہیں ۔ ہم ان کی رائے کو لفظ بہ لفظ قارئین ِ تجزیات کی نذر کر رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ کیا جائے کہ دوسری جانب کا مؤقف کیا ہے )

img Read More

مدارس کے اساتذہ کی قلیل اجرتیں!

ظفر سلطان

مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کے کام کی نوعیت کا اندازہ لگایا جائے تو سکول و کالج کے اساتذہ سے زیادہ وقت دیتے ہیںکیونکہ مدارس کے اساتذہ کی اکثریت مدارس میں ہی قیام پذیر ہوتی ہے جو 24گھنٹے کے ملازم سمجھے جاتے ہیں۔چند ایک مدارس کے علاوہ اکثر مدارس کے اساتذہ کو بہت کم تنخواہ دی جاتی ہے ، بلکہ مدارس میں تنخواہ کی بجائے وظیفہ کی اصطلاح رائج ہے جس کا مطلب اکثر یہ لیا جاتا ہے کہ اصل اجر تو تمہیں اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے البتہ نظام زندگی چلانے کے لیے کچھ اعزازیہ مقرر کردیا جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ مدارس کے اساتذہ کرام کو مہتمم حضرات کی طرف سے اس قدر کم وظیفہ دیا جاتا ہے کہ جس سے وہ زندہ رہ سکیں۔

img Read More

عالمگیریت ،انگریزی کا نیا عالمی کرداراور اردو(آخری حصہ)

ناصر عباس نیر

گلوبلائزیشن اپنے جواز، استحکام ،تشہیر اور کرہ ارض کے کونے کونے تک رسائی کے لیے ایک عالمی زبان کو ناگزیر سمجھتی ہے۔اس مقصد کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دنیا کی کوئی سات ہزار کے قریب زبانیں ہیں۔گلوبلائزیشن ان سب زبانوں میں خود کو منتقل کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا چاہتی۔چناں چہ وہ ایک عالمی زبان کو ایک آئیڈیالوجی کے طور پر پیش کرتی ہے،جس کا نتیجہ لسانی یکسانیت(Linguistic Homogenization) ہے۔ یہ حقیقت میں ایک زبان کی حاکمیت نہیں، آمریت ہے۔عالمی زبان کی وجہ سے لسانی تنوع ختم ہوتا جارہا ہے ،یعنی زبانیں مرنے لگی ہیں۔

img Read More

عالمگیریت ،انگریزی کا نیا عالمی کرداراور اردو

ناصر عباس نیر

عہد وسطیٰ کے جاگیر دارانہ عہد میں علم وادب کی سرگرمی ،تفریح طبع کی خاطر ہوا کرتی تھی ،اور تفریح طبع کا مفہوم بھی تفریح نہیں حقیقی ذہنی انبساط کا تھا،مگرصنعتی عہد کے ساتھ ہی Commodificationکا عمل شروع ہوا،اور آج اپنی غیر معمولی حدوں کو چھو رہا ہے۔ان حدوں کا دوسرا نام گلوبلائزیشن ہے ۔کیا ہم آج کسی ایسی شے کی نشان دہی کر سکتے ہیں،جسے کموڈیٹی یعنی جنس ِ بازار نہ بنایا گیا ہو؟آج کیا کچھ نہیں بِکتا!آپ ذرا اس کی نشان دہی کیجیے اور چاردنوں بعد اس کی مارکیٹنگ کا تماشا دیکھیے

img Read More

میرٹ کا قتل

اسلم اعوان

خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت نے میونسپل سروسز کو بہتر بنانے کی خاطر کمپنی آرڈیننس 1984ء کے تحت پشاور میں قاضی محمد نسیم کی سربراہی میں واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی کے قیام کے کامیاب تجربہ کے بعد مارچ 2016 ء سے صوبہ بھر کے سات ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں بھی واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنیوں کے قیام کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے حصول کی خاطر مردان ،سوات،ایبٹ آباد،کوہاٹ ،بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے کمشنرز آفس کی وساطت سے ڈبلیو ایس ایس سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل کو یقینی بنایا گیا۔

img Read More

ایم کیوایم 38 سال میں پہلی بار قربانی کی کھالیں جمع کیوں نہیں کرے گی؟

ضیاء الرحمٰن

دوکروڑبیس لاکھ سے زائدآبادی کے شہرکراچی میں ہرسال لاکھوں افراد عیدالاضحی کے موقع پرجانوروں کی قربانی کرتے ہیں اورعیدالاضحی نزدیک ہوتے ہی کراچی شہرمیں مختلف سیاسی ومذہبی تنظیمیں ، فلاحی ادارے اورکالعدم جہادی گروپس قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لئے فعال ہوجاتی ہے اورشہرکی شاہرایں ان تنظیموں کے بینروں سے سج جاتی ہے جس میں عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ قربانی کی کھالیں انہیں دی جائے۔ ماضی میں قربانی کی کھالوں پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں تصادم ہوتے رہے ہیں۔ ماضی میں قربانی کی کھالوں پرخونریزی کے واقعات پر حکومت کافی محتاط نظر آتی ہے۔

img Read More

پاکستانی تجارتی گاڑیوں کی افغانستان سے گذرنے پر پابندی کیوں؟

طاہریسٰین طاہر

افغان یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بربادی کا ذمہ دار پاکستان ہے۔اگرچہ یہ بحث طلب بات ہے کہ ان کا یہ سمجھنا تاریخی طور پردرست بھی ہے یا نہیں؟وہ جو چند ڈالروں کی خاطر مجاہد بنے اور پھر روس کے جانے کے بعد ڈالروں کے لیے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ان سے اچھائی کی امید کیوں؟ لڑنا،مرنا،قتل کرنا اور دوسروں کو دبا کے رکھنے کی ان کی نفسیات نے نہ صرف ان کے لیے، بلکہ خطے اور دنیا بھر کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔

img Read More

کیا شوہر کوبیوی پر حاکمانہ اختیارات حاصل ہیں؟

ظفر سلطان

مسلم معاشرے کے نظامِ خاندان پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان میں یہ اعتراض بہت نمایاں ہے کہ اس میں مرد کا غلبہ پایا جاتا ہے اور عورت کو کم تر حیثیت دی گئی ہے۔ عورت رشتہ نکاح میں بندھنے کے بعد ہر طرح سے اپنے شوہر پر منحصر اور اس کی دست نگر بن جاتی ہے۔ شوہر کو اس پر حاکمانہ اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے اس پر حکومت کرتا، اسے مشقت کی چکی میں پیستا اور اس پر ہر طرح کے ظلم و ستم کو روا رکھتا ہے، مگر وہ کسی صورت میں اس پر صدائے احتجاج بلند کرسکتی ہے، نہ اس سے گلو خلاصی حاصل کرسکتی ہے۔

img Read More

ہمارے ہاں تعلیمی قابلیت کا معیار

ناصر محمود اعوان

ہمارا نظام تعلیم صرف دو انسانی ذہانتوں کو مخاطب کرتا ہے :ریاضیاتی ذہانت(Mathematical Intelligence) اور زبان دانی کی ذہانت (Linguistic Intelligence)۔ باقی انسانی ذہانتیں اس کے دائرہ کارسے خارج ہیں ۔ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ نظام دراصل دور حاضر کی صنعتی ضروریات کے پیش نظر تشکیل دیا گیا تھا جس کا مقصد صنعتی ضروریات کے مطابق ایک خاص نوعیت کی ورک فورس (Work Force) تیار کرنا تھا۔ اس ورک فورس کے لیے جس ذہانت کی ضرورت تھی اسی کو اہمیت دی گئی اور اسی کے مطابق مضامین کی حرارکی بنائی گئی۔

img Read More

مختلف الخیال عناصر پر مشتمل مثالی معاشرہ

ظفر سلطان

مثالی معاشرے کی تشکیل کے لئے یہ ضروری نہیں کہ سماج میں بسنے والے لوگ ایک ہی مزاج ایک ہی مسلک کے پیرو کار اور ایک ہی ذہنیت کے مالک ہوںبلکہ مختلف مسالک کے پیروکار مختلف اذہان کے مالک افراد اور مختلف مزاج کے حامل افراد بھی باہمی تعاون سے پر امن اور مثالی زندگی گزار سکتے ہیں ۔اس کی ایک مثال ہمیں آج سے چودہ سو سال پہلے رسول کریم ۖ کے زمانے میںنظر آتی ہے ،اگر آج سے چودہ سو سال پہلے مختلف الخیال لوگ باہمی تعاون سے مثالی معاشرے کی تشکیل میں کردار اداکر سکتے ہیں تو پھر آج یہ بات شد و مد کے ساتھ کیوں کہی جاتی ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کا مل کر رہنا اور پر امن زندگی گزارنا بہت مشکل ہے ۔

img Read More

کیا افغان مہاجرین کو واپس بھیج دینا چاہیے؟

طاہر ملک

لا منوجر کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ہمارے ہاں یہ بحث شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہی ہے کہ افغان مہاجرین پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ ہیں ۔اُن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے ،لہذا انہیں واپس افغانستان روانہ کر دینا چاہیے۔بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے دو قدم آگے بڑھ کر یہ بیان دیا کہ مہاجرین عزت سے واپس چلے جائیں ورنہ دھکے دے کر نکال دیں گے اور بعد ازاں انہوں نے یہ بیان واپس بھی لے لیا۔

img Read More

پنجاب میں بچوں کا اغوا حقیقت یا افسانہ؟

طاہریسٰین طاہر

شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ریاست کی ہوا کرتی ہے اور ریاست اپنی یہ ذمہ داری اپنے اہم ترین ادارے حکومت کے ذریعے ادا کرتی ہے۔پاکستان کے شہری مگر اس حوالے سے کم نصیب واقع ہوئے ہیں ۔ریاست اپنی بیشتر بنیادی ذمہ داریاں بھی ادا کرتی نظر نہیں آ رہی۔اس امر میں کلام نہیں کہ شہری خوف میں مبتلا ہیں۔ لوگوں ک اپنی آبرو اور جان و مال کا تحفظ حاصل نہیں۔پولیس کا رویہ ایک جابرانہ آمر سے کسی طور کم نہیں۔

img Read More

لارڈ میکاﺅلی اور ہمارے لیڈر

اسرار ایوب

ہمارے حکمرانوں کا تعلق آمریت سے ہو یا جمہوریت سے،ان کے حکمرانہ تدبر کو دیکھ کرسولہویں صدی کا مشہور مغربی مفکرنکولومیکاﺅلی (1469-1527)یاد آ جاتا ہے۔”سیاسیات“(Political Science) میںمیکاﺅلی کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور اس کی شہرت کا مرکز و محور اس کی مشہور کتاب”دی پرنس“(The Prince)ہے جس میں اس کی زیادہ ترتوجہ حکمرانی کے ”کامیاب“ اصولوں پر مذکورہے،اسی کتاب کے آٹھویں باب سے دو اقتباسات کا ترجمہ نقل کر دیتا ہوں جنہیں پڑھنے کے بعدآپ کو یہ اندازہ کرنے میں دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے کون کونسے حکمران میکاﺅلی کے عقیدت مندوں اور نیازمندوں میں شامل ہیں۔

img Read More

مدارس کی رجسٹریشن پر سخت ردعمل کیوں؟

ظفر سلطان

مجوزہ ”دینی مدارس ایکٹ 2016ئ“ کے تحت سندھ کی صوبائی حکومت اگر یہ محسوس کرے گی کہ کسی دینی مدرسے کی وجہ سے امن وامان یا سماج کو خطرہ ہے تو وہ اس دینی مدرسے کو بند کر سکے گی۔ سندھ حکومت کا یہ اختیار ڈویژنل کمشنر بروئے کار لائے گا‘ جو مدارس کی رجسٹریشن کے لیے ڈویژنل رجسٹرار بھی ہوگا۔ حکومت اس ایکٹ کے نفاذ کے ایک سال کے اندر ایک فنڈ قائم کرے گی جو ”دینی مدارس ایجوکیشن فنڈ“ کہلائے گا۔ جب تک کوئی مدرسہ اس ایکٹ کے تحت رجسٹر نہیں ہوگا تب تک وہ وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت سے زکوٰة یا کوئی مالی معاونت ‘ گرانٹ ‘ عطیات ‘ امداد اور دیگر مراعات حاصل نہیں کر سکے گا۔

img Read More

دینی مدارس کے طلباء کامستقبل: چند چبھتے سوالات

عمر فاروق

وطن عزیز پاکستان میں جہاں بہت سے تعلیمی ادارے اپنا وجود رکھتے ہیںوہیں ان میں بہت بڑی تعداد دینی مدارس کی بھی ہے۔اس بات سے قطع نظر کہ وہ دینی مدارس اپنی اپنی جگہوں پر رہتے ہوئے دینی کے ساتھ ساتھ دنیاوی اور معاشرتی طور پر کس حد تک اپنا فعال کردار ادا سکے یا ناکام رہے ہیں۔بہر کیف !اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔

img Read More

خوف کی لپیٹ میں آیا ہوا ترک معاشرہ

طاہریسٰین طاہر

افراد کی طرح معاشرہ بھی خوف کے عالم میں اپنی اجتماعی مثبت صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں کامران نہیں ہوتا۔خوف ایک مستقل مصیبت ہے،اس سے چھٹکارے کے لیے اگر مستقل مزاجی اور مثبت رویہ اختیار نہ کیا جائے تو یہ خوف نئی نئی مصیبتوں کو جنم دیتا ہے۔فرد ہو یا معاشرہ،جب تک مثبت اور تعمیری سوچ کے تحت آگے نہیںبڑھتے خوف ان کا شکار کرتا رہے گا ۔ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔حکومت،اپوزیشن،فوج،غرض سارا معاشرہ خوف کا شکار ہے۔

img Read More

ائمہ و خطباءکی تربیت کا فقدان

ظفر سلطان

منبر و محراب سے قوم کی توقعات“ کے عنوان سے گزشتہ کالم میں چند گزارشات پیش کی گئیں جسے تیز و تند تنقید کے باوجود احباب نے بے حد سراہا ‘ سو اسی جذبے کے پیشِ نظر چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔ چند ایک خطباءکو چھوڑ کر اکثر خطباءکی حالت یہ ہے کہ وہ جمعة المبارک کے خطبہ کیلئے کوئی خاص تیاری نہیں کرتے ۔ جب منبر پر تشریف فرما ہوتے ہیں اور خطبہ شروع کرتے ہیں تو وہ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ سامنے سننے والے چونکہ قرآن و حدیث کے علم سے واقفیت نہیں رکھتے ‘ اس لیے جو جی میں آئے کہو۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ وہ لوگ جو کالج‘ یونیورسٹیز اور بیرون ممالک کے تعلیمی اداروں میں پڑھے ہوتے ہیں گو وہ قرآن و حدیث کا علم نہیں رکھتے لیکن عقل و دانش تو رکھتے ہیں اور شاید ہمارے مذہبی احباب سے زیادہ رکھتے ہوں۔ ایسے پڑھے لکھے، سمجھدار لوگ جب مولوی صاحب کو منبر پر بیٹھ کر کمزور باتیں کرتے سنتے ہیں تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ یہ اسلام کی تعلیمات نہیں ہو سکتیں۔

img Read More

سکول جانے سے پہلے بچے کے سیکھنے کا پیٹرن

ناصر محمود اعوان

اگر ہم (رسمی و غیر رسمی ) تعلیم کا وسیع تر مفہوم لیں توبچوں کی ان سرگرمیوں کا سادہ سا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہوتا ہے اور4 سال تک یعنی سکول جانے سے پہلے وہ اچھا خاصا تعلیم یافتہ ہوچکا ہوتا ہے۔تعلیم کا یہ عمل یقینا منفرد نوعیت کا حامل ہوتا ہے جس کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں ۔ان خصوصیات کا مطالعہ بچے کے سیکھنے کے منفرد پیٹرن کو سمجھنے میں مدد دے گا

img Read More

مادرِ ملّت کو دیکھا بھی اور سُنا بھی

پروفیسرفتح محمد ملک

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب فیلڈ مارشل ایوب خان کے مسلط کردہ بنیادی جمہوریت کے غیر جمہوری نظام کے تحت صدارتی انتخابات کی مہم زوروں پر تھی- اِس الیکشن مہم کے دوران جب میانوالی میں جلسہءعام سے خطاب کرنے کی خاطر مادرِ ملت کے تلہ گنگ سے گزرنے کی خبر عام ہوئی تو لوگوں میں جوش و خروش لہر در لہر اُمنڈنے لگا-بار بار کے اس اعلان کے باوجود کہ مادرِ ملت میانوالی جاتے ہوئے تلہ گنگ سے گزریں گی مگر یہاں نہ تو وہ رکیں گی اور نہ کوئی خطاب فرمائیں گی- اس کے باوجود عوام کا ایک جمِ غفیر مادرِ ملت کی ایک جھلک دیکھنے کی خاطر جمع ہو گیا-مادرِ ملّت نے عوام کے اتنے بڑے ہجوم کو دیکھ کر اپنی گاڑی رُکوائی اور بے دھڑک کار سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے ہجوم سے خطاب کرنا شروع کر دیا

img Read More

سوچنا چھوڑ دوں کیسے میں بھلا جیتے جی

اسرار ایوب

یہ بات کون نہیں جانتا کہ آج کا مسلمان طرح طرح کے مسائل میںالجھ کر اپنی تاریخ کے بدترین دور میں سے گزر رہا ہے لیکن کیا کسی کو ان مسائل کی وجہ اورحل کے بارے میںبھی کچھ معلوم ہے؟ یہ تو سبھی بتاتے ہیں کہ ہمارے زوال کی وجہ یہ ہے کہ ہم اچھے مسلمان نہیں رہے لیکن کوئی یہ بھی بتا سکتا ہے کہ اچھا مسلمان کہتے کسے ہیں؟

img Read More

اسلامی نظریاتی کونسل کا واویلا

ظفر سلطان

اسلامی نظریاتی کونسل نے گزشتہ ماہ سفارش کی تھی کہ پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک کے سرکاری سکولوں میں طالبعلموں کو قرآن مجید کی تعلیم لازمی قرار دی جائے ، سو وزارت تعلیم نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش پر سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے سلیبس تیار کیا اس سلیبس پر اعتراض کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ قرآن مجید میں قریباً چار سو چوراسی آیات جہاد ہیں تاہم سلیبس میں ایک بھی ایسی آیت شامل نہیں کی گئی۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے سلیبس سے آیات جہاد کو خارج کیے جانے پر شدید برہمی کااظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ جہاد کی آیات نصاب میں شامل کی جائیں۔

img Read More

سکول بچے کو کیسے سکھاتا ہے ؟

ناصر محمود اعوان

بچہ 4 سال کے بعد جب سکول میں داخل ہوتا ہے تو سیکھنے کا ایک نیا پیٹرن اس کا منتظر ہوتا ہے ۔ بالکل نیا اور الگ۔ بچہ اس کو جانتا ہے اور نہ ہی وہ اس کی شخصیت سے تال میل کھاتا ہے ۔ سکول کے پیٹرن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سکول بچے کی سیکھنے کی فطرت سے واقف ہی نہیں ۔ اسے کچھ بھی پتا نہیں کہ بچے کا ذہن کس طرح کام کرتا ہے ۔ اس کے سیکھنے کا اسلوب کیا ہے۔ وہ سیکھنے کا عمل کس طرح شروع کرتا ہے اور کیسے اسے کمال تک پہنچاتا ہے ۔

img Read More

ہم کب تک لاشیں اُٹھاتے رہیں گے ؟

حسن سردار زیدی

جہاں کوئٹہ کے سانحہ نے ایک بارپھر پوری قوم کو رنج و غم کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ، ایک بار پھر ہمیں مجبور کردیا کہ اپنے پیاروں کی لاشیں اُٹھاتے رہیں اور اُن کو گنتے رہیں کہ تعداد کہاں تک پہنچ گئی ہے۔وہاں ہر شہری کو یہ احساس بھی دلایا کہ وہ کتنا غیر محفوظ ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان بھی اٹھایا۔اس سانحہ کی تمام ذمہ داری اُن تمام سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر عائدہوتی ہے جو ملک میں امن وامان قائم رکھنے کے ذمہ دار ہیں ۔جن کا یہ فرض ہے دُشمن کی ایسی بزدلانہ کارروائیوں کو روکیں اور قوم کو تحفظ فراہم کریں اور دُشمن کے ایسے حملوں کو قبل از وقت روک کرناکام بنائیں، نہ کہ لاشیں گرنے کے بعد حرکت میں آئیں

img Read More

داعش میں شمولیت سے روکنے پر جڑواں بھائیوں نے ماں کو قتل کردیا

میڈیا رپورٹ

داعش تکفیری تصورات کو قبول کرتی ہے،وہ اکثر ابن تیمیہ کے حوالے دے کر اپنے پیروکاروں کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کو بشمول اپنے رشتہ داروں کے جو مرتدین دکھائی دیتے ہیں ،قتل کریں سعودی عرب میں انتہا پسند عقائد کے زیرِ اثرجڑواں بھائیوں نے مبینہ طور پر اپنی ماں کو قتل کردیا،وہ شام میں اُنہیں داعش میں شمولیت سے روک رہی تھی،اس معاملے میں غم و غصے سے بھراہوا سعودی عرب بڑھتی ہوئی اسلامی شدت پسندی کے متعلق پریشان ہے۔24جون کو اُس ملک میں ہلاکتیں ہوئیں جہاں بڑوں کی عزت کو معاشرے کی بنیاد کے طو رپر دیکھا جاتا ہے۔ سعودی وزراتِ داخلہ کے ترجمان جنرل منصور الترکی نے کہا دونوں پر قتل کا شبہ تھا۔منصور الترکی کے مطابق ’’صرف ایک ہی چیز ہے کہ وہ تکفیری نظریے پر عمل پیرا ہوں‘‘ایک جملے کا استعمال کرتے ہوئے جس میں سعودی حکام اسلامی دہشت گردی کا حوالہ دیتے ہیں ۔وزارتِ داخلہ کے ترجمان ،جس نے مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا ، کے مطابق ’’معاملے کی تحقیقات ابھی ہو رہی ہیں ‘‘ رائیٹرز ،بیس سالہ جڑواں بھائیوںیااُن کے وکلاء یا خاندان کے افراد سے رابطہ کرنے میں قاصر تھااور آزادانہ طور پر یہ تصدیق نہیں کرسکا تھا کہ مبینہ قتل داعش یا مذہبی نظریات سے متاثر ہو کر کیا گیا ۔۔۔ یا ماں نے حقیقت میں کیا کہا۔

img Read More

امریکہ فاشزم کے بھوت تلے

راحت ملک

2016 کاسال دور رس تبدیلیوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے کہ نومبر کے مہینے میں متحدہ امریکہ میں صدارتی انتخاب ہوگا۔دونوں بڑی امریکی سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزدگی حاصل کرنے کے لئے جاری انتخابی دوڑ میں جون کے پہلے ہفتے میں واضح ہوگیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن کے جبکہ ہیلری کلنٹن ڈیموکریٹ کی امیدوار ہوں گی ۔امریکہ کے صدارتی انتخاب کا طریقہ انتہائی پیچیدہ پہلودار اور منفرد ہے دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اسے قابل تقلید نہیں بنایا گیا شائد بلکہ اسکی وجہ امریکہ کی کثیر، متنوع، سماجی ثقافتی اور لسانی ساخت ہے جس سے امریکی مدبرین نے اپنے مخصوص معاشرتی ماحول اور سیاسی تناظر میں اپنے لئے منفرد جمہوری نظام ترتیب دینے کی ترغیب لی۔چنانچہ امریکہ کے سیاسی نظام نے باوجود تضادات اور اختلافات کے اب تک وفاق نما کنفیڈریسی کو قائم رکھا ہے۔ وفاق کی ریاستوں کو اپنے معاملات چلانے کی آزادی کی آخری منزل یہ ہے کہ کئی ریاستیں اپنے اپنے علیحدہ آئین رکھتی ہیں جو بہر حال مرکزی دستور کے منافی و متصادم دفعات سے مبرا ہیں۔

img Read More

پانامہ لیکس سے چاہ بہار تک

راحت ملک

پانامہ کے عنوان سے دنیا بھر میں سیاسی ارتعاش پیدا ہوا تھا مگر کسی بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا نہیں ہوا بیرونی دنیا کے چند برسراقتدار افراد نے اقتدار سے دست کش ہو کر مسئلہ کو بحران میں بدلنے سے روک لیا البتہ پاکستان کی مثال انتہائی استثنائی ہے یہاں وزیراعظم سے مستعفی ہونے یا احتساب کیلئے پیش کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ وزیراعظم میاں نواز شریف کا ذاتی طور پر پانامہ پیپرز میں نام موجود نہیں ان کے اہل و عیال کا نام ہے جو ملک سے باہر قیام گزین اور خود مختار تجارتی سرگرمی کے مالک ہیں نواز شریف پر اس پس منظر میں اخلاقی دباؤ موجود ہے جبکہ استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے بیشتر افراد و جماعتیں وہ ہیں جن کا براہ راست نام پانامہ میں موجود ہے اور وہ اپنے عمل کا اقرار و جواز بھی تسلیم کرتے ہیں یا پھر ان کے رفقاء کے نام آف شور کمپنیوں کے حوالے سے موجود ہیں اس بحران کی گہرائی صرف آف شور کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ پس پردہ مقاصد و عوامل کی گہرائی و موجودگی کے مسئلہ کو بحران میں بدلنے کا سبب بن رہی ہے تکرار کی معذرت کے ساتھ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے کس قانون کے تحت ملکی شہری پر پابندی عائد ہوتی ہے کہ وہ بے نامی سرمایہ کاری نہیں کر سکتا ؟ اس کا جواب ماہرین قانون نفی میں دیتے ہیں (اخلاقی تقاضے ایک سوال ہیں ) چنانچہ اب پیدا شدہ صورتحال پر اصل قابل غور نکتہ آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے پر قانونی قدغن عائد کرنے کا ہے جسے ٹی او آرز کمیٹی پہلے تیرا پھر میرا کی معقول بحث میں التوائے عمل میں ڈال رہی ہے

img Read More

کراچی کس کا؟
تحریک انصاف کی ترجیح نہیں۔ مصطفی کمال کے پاس قوت نہیں

سید عارفین

کراچی میں 2 جون کو سندھ اسمبلی کی 2 نشستوں پی ایس 106 اورپی ایس 117 جمعرات کو ضمنی انتخابات ہوئے۔ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔دونوں حلقوں کو حساس قرار دیا گیا تھااور اسی وجہ سے پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر رینجرز اہلکار بھی تعینات تھے۔ رینجرز اورپریزائیڈنگ افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات تھے۔ ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم کے امیدوار محفوظ یار خان اور میجر ریٹائرڈ قمر عباس تھے جبکہ ان حلقوں میں پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی امیدوار کھڑے کئے تھے۔توقع کے مطابق ٹرن آوٹ نہایت کم رہا۔خواتین کے بعض پولنگ اسٹیشن ایسے بھی تھے جہاں ایک ووٹ بھی نہیں پڑامگر اس تمام صورتحال کے باجود عتاب کا شکار متحدہ قومی موومنٹ کے لئے یہ ضمنی انتخاب کسی تازہ ہوا کے جھوکے سے کم نہیں کیونکہ دونوں نشستوں پر ایم کیو ایم کے نامزد امیدوار ہی کامیاب ٹہرے مگر پاکستان تحریک انصاف ان انتخابات مین بری طر ح ناکام رہی ۔ غیر حتمی غیرسرکاری نتیجہ کے مطابق پی ایس117سے ایم کیوایم کے قمرعباس10738ووٹ لے کرکامیاب ہوئے ،اسلامی تحریک پاکستان کے علی رضا1018ووٹ لے کر دوسرے نمبر رہے جبکہ تحریک انصاف رفاقت عمر 950 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔

img Read More

کیا عمران خان اپنے وزیر اعلی کے ہاتھوں یرغمال بن چکے؟

اسلم اعوان

ہماری اقتدار کی سیاست میں ابھرتی ہوئی جماعت،تحریک انصاف کی قیادت،اِن دنوں ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے تنظیمی ڈھانچہ میں پنپنے والے تنازعات کو سلجھانے میں سرگرداں تھی کہ خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے پانچ ایم این ایز پہ مشتعمل گروپ،جنہیں حکومتی ڈھانچہ میں بیٹھی کئی طاقتور شخصیات کی حمایت حاصل ہے،نے وزیراعلی پرویز خٹک کی مبینہ کرپشن اور پارٹی کے اساسی نظریات سے انحراف کی پالیسی کے خلاف مزاحمتی تحریک برپا کر دی،اس سے پہلے بلدیاتی اداروں کے وہ نو منتخب ناظمین اور کونسلرز بھی سراپا احتجاج تھے جنہیں ایک سال گزر جانے کے باوجود اختیارات ملے نہ ترقیاتی فنڈ،مقامی ہوٹل میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران داور کنڈی،امیر اللہ مروت،جنید اکبر خان،ساجد نواز خان اور خیال زمان آفریدی نے کہا کہ وزیراعلی خود روایتی سیاست کے شناور اور بدعنوانوں کے دیوتا واقع ہوئے ہیں،انہوں نے کرپشن کے خاتمہ کی کوشش کے برعکس ایم پی ایز کو ترقیاتی فنڈ جاری کر کے اس ابھرتی ہوئی سیاسی قوت کو بھی بدعنوانی کے اس روایتی دھارے کا جز بنا دیا،جسے روکنے کی خاطر اس پارٹی کو منظم کیا گیا تھا،صوبائی حکومت نے پارٹی منشور کے تحت 90 دنوں کے اندر بلدیاتی الیکشن کروانے کا وعدہ پورا کرنے کی بجائے پہلے تو دو سال کی پس پش کے بعد انتخابات کرائے اور اب کامل ایک سال گزر جانے کے باوجود بلدیاتی اداروں کو فنڈ ریلیز کرنے اور اختیارت کی منتقلی میں لعت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے،

img Read More

ملا ہیبت اللہ علامتی امیر ہونگے ؟

محمد عامر رانا

تحریک طالبان افغانستان کی رہبر شوری نے ملا ہیبت اللہ کو نیا امیر مقرر کردیا ہے۔ امارت کے دو مظبوط ترین امیدوار ملا محمد یعقوب اور سراج الدین حقانی تھے۔ لیکن قرعہ فال ان کے نام نہیں نکلا اور دونوں ملا ہیبت اللہ کے نائبین کی حیثیت سے کام کریں گے۔ حالات و واقعات اشارہ کرتے ہیں کہ تحریک کے عسکری اور سیاسی معاملات نائبین ہی چلائیں گے اور مُلا ہیبت اللہ کی حیثیت ایک علامتی سربراہ کی ہوگی۔

img Read More

چاہ بہار اور گوادر ،تنازعات کی سیاست کا نیا رخ

سجاد اظہر

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ ایران کے موقع پر ایرانی بندر گاہ چاہ بہار کو ترقی دینے کے منصوبے پرگزشتہ روزتہران میں دستخط کر دیئے ہیں ۔جبکہ ایران ، افغانستان اور تاجکستان کو سڑکوں کے ذریعے منسلک کرنے کے ایک معاہدے پر بھی دستخط ہوئے جس میں افغان صدر اشرف غنی بھی موجود تھے ۔

img Read More

منصوبوں کے اعلانات کی سیاست اور ڈی آئی خان کی پسماندگی

اسلم اعوان

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن بلآخر وفاقی حکومت سے ڈیرہ اسماعیل خان جیسے نظرانداز کردہ خطہ کے لئے ایسا ترقیاتی پیکج حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کا فائدہ مقامی آبادی کو ملے نہ ملے مولانا بردران اس” پیکج “ سے بھرپور استفادہ کربں گے،منگل کے صبح رتہ کلاچی اسٹیڈیم میں اپنے بھائیوں کے ہمراہ مولانا فضل الرحمن جب میاں نوازشریف کو خوش آمدید کہہ رہے تھے تو ان کے چہرہ پہ خوشی و تشکر کے احساسات نمایاں تھے،اس دن اگرچہ شہر کا درجہ حرارت 46 سنٹی گریڈ تھا لیکن شدیدترین گرمی کے باوجود ہزاروں لوگ جلسہ گاہ اس لئے پہنچے کہ انہیں توقع تھی کہ میاں نوازشریف ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں مگر افسوس،ایسا نہ ہو سکا۔بہرحال! ناقص انتظامات کے باوجود یہ پرشکوہ اجتماع وزیراعظم کے شایان شان تھا اور جس وقت وزیراعظم سامعین سے مخاطب ہوئے انہیں پرجوش ریسپانس ملا۔

img Read More

کراچی کی سیاست ،نظروں کا محور ایک بار پھر لندن

سید عارفین

3 مئی کومتحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کے کوارڈنیٹر آفتاب احمد رینجرز کی حراست کے دوران جاں بحق ہوگئے۔ آفتاب احمد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم کے 35 سے 40 فیصد حصے پر نیل کے چھوٹے بڑے نشانات تھے۔گردن پر کوئی زخم نہیں تھا تاہم بازووں، ٹانگوں، اور سینے پر نہ صرف خراشیں پائی گئیں بلکہ تشدد کے نشانات بھی تھے۔کئی مقامات پر سوجن پائی گئی جبکہ جسم کے بعض حصوں پر کھرنڈ بھی جما ہوا تھا ۔ سر پر 2 سینٹی میٹر کے زخم کے نشانات بھی موجود تھے۔ڈان نیوز ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی سندھ رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے آفتاب احمد پر دوران حراست تشدد کی تصدیق کی ۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایم کیو ایم کے کارکن آفتاب احمد کی رینجرز میں حراست کے دوران تشدد سے موت کی آذادانہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ ڈائریکٹر ایشیا ہیومن رائٹس واچ بریڈ ایڈمز کا کہنا تھا کہ حکومت آفتاب احمد کی موت کی آزادانہ تحقیقات کرائے جس میں پاکستان رینجرز کو بھی شامل کیا جانا چاہیے اورآفتاب احمد کے کیس میں فوج بھی آذادانہ تحقیقات کی توثیق کر ے۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا جس کے بعد رینجرز کے 5 اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے تاہم اس سلسلے میں رینجرز کی جانب سے ابھی تک پولیس سےکوئی رابطہ نہیں کیا گیا ۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق آفتاب احمد کو سندھ رینجرز کے عبداللہ شاہ غازی ونگ نے گرفتار کیا تھا اور ان سے ڈاکٹر فاروق ستار سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی تھیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے آفتاب احمد ، ڈاکٹر فاروق ستار کے اہم رازوں سے واقف تھے اور ان کے بارے میں جتنی معلومات آفتاب احمد کے پاس تھیں وہ شاید ان کے گھر والے اور ان کی جماعت کے پاس بھی موجود نہیں تھیں۔

img Read More

خیبر پختون خوا میں زبانوں کے فروغ کا ادارہ

زبیر توروالی

قومی وحدت کے خبط میں مبتلا ملکوں میں ثقافتی، مذہبی، لسانی اور نسلی تنوع کو اکثر ایک مسئلہ سجمھا جاتا ہے۔ ایک قومی ریاست اور ’شناخت ‘ کی تشکیل میں اس تنوع کو مختلف لسانی، مذہبی، نسلی اور ثقافتی گروہوں کی قیمت پر فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسی وحدت کو فروغ دینے میں مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ایک طاقتور لسانی یا مذہبی گروہ معتبر سجمھا جاتا ہے اور دیگر کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کو کوشش کی جاتی ہے۔ اس طریقے سے ایک طرف اگر یہ دنیا اس متّنوع خوبصورتی سے محروم ہوجاتی ہے تو دوسری طرف تشدّد، استعماریت اور استحصال ’سماجی و سیاسی اقدار ‘ بن جاتے ہیں۔

img Read More

پاک امریکہ تعلقات کی نزاکتیں

سجاد اظہر

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ تین ماہ سے تناؤ کا شکار ہیں ۔یہ بات مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے سینیٹ کو بتائی ہے ۔ 11ستمبر کی ستم گریوں کے بعد جب پاکستان نے اپنا وزن غیر مشروط طور پر امریکی پلڑے میں ڈالا تھا اس کے بعد دس سال تک دونوں ممالک کے مابین خاصی گرم جوشی رہی ۔ مشرف کو کیمپ ڈیوڈ تک لے جایا گیا جہاں امریکہ کے صرف قریبی اور باعتماد اتحادیوں کو مدعو کیا جاتا ہے ۔امریکہ نے پاکستان کو نان نیٹو اتحادی کا درجہ بھی دیا ۔ لیکن جب 2 مئی 2011ء کو ایبٹ آباد آپریشن ہوا تو دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑ آ گئی ۔

img Read More

کوہِ نور ہیرا ،پانچ ملک، ملکیت کے دعوے دار

رافیہ ذکریہ

گذشتہ سال نومبر میں ایک بھارتی گروپ نے برطانوی عدالت میں درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ مشہورِزمانہ کوہِ نور ہیرا واپس کیا جائے جوٹاور آف لندن میں تاج میں جڑا ہوا ہے۔یہ ہیرا برطانیہ نے برصغیر میں جو لوٹ کھسوٹ کی تھی ،اُس کا حصہ تھا،اب انصاف کا تقاضا ہے کہ اُسے واپس کیا جائے۔

img Read More

پاک سر زمین پارٹی کی قیادت عشرت العباد کریں گے

سید عارفین

19 اپریل کوڈیفنس کراچی کے خیا بان سحر میں ایک اور پریس کانفرنس کی گئی جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما افتخار رندھاوا ، مصطفی کمال اور ان کے رفقاءکی کشتی میں سوار ہوگئے۔ایک روز قبل 18 اپریل کو بھی پریس کانفرنس بلائی گئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی اشفاق منگی نے پاک سر زمین پارٹی(پی ایس پی) میں شمولیت کا اعلان کیا تھا ۔اشفاق منگی مصطفی کمال کی نو مولود سیاسی جماعت پاک سر زمین میں شامل ہونے والے ایم کیو ایم کے چوتھے رکن اسمبلی ہیں ۔کراچی میں ہونے والی سیاسی تبدیلی کے بارے میں ملک بھر میں چہ میگوئیاں شروع ہوچکی ہیں۔ کچھ لوگوں کا مؤقف ہے کہ مصطفی کمال کی پارٹی میں شامل ہونے والوں کو متحدہ قومی موومنٹ نے پہلے ہی سائڈ لائن کردیا تھا تو دوسری جانب یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ کیا سندھ کی دوسری اور ملک کی چوتھی بڑی جماعت اب اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے؟7 اپریل کو کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 245 اور صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 115 میں ضمنی انتخابات منعقد ہوئے۔ یہ دونوں نشستیں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما وسیم اختر اور ریحان ہاشمی کی جانب سے لوکل باڈیز الیکشن لڑنے کی وجہ سے خالی کی گئیں تھیں۔

img Read More

لاہور دھماکہ،سول وعسکری قیادت کے تعلقات پر گہرے اثرات

احمد رشید

لاہور میں اتوار کو ایسٹر کے روز ایک پارک میں خود کش حملہ آورنے 72افراد کو ہلاک کردیا ۔دنیا بھر نے اس واقعہ کی مذمت کی ۔جاں بحق ہونے والوں میں29 بچے بھی شامل تھے جبکہ 370افراد زخمی ہوئے جن میں سے اکثریت کا تعلق ملک کی اقلیتی عیسائی برادری سے تھا۔ تاہم یہ بات کم محسوس کی گئی کہ اس سانحہ کے پاک فوج اور سول حکومت کے تعلقات پر بھی برابر کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے جو ملک کے دل پنجاب کے مزید عدم استحکام کا بھی سبب بن رہا ہے۔ اس بحران کی بنیاد(At the heart of the crisis) دو شخصیات جنرل راحیل شریف، سربراہ پاک فوج اور سول حکومت کے وزیر اعظم نواز شریف ہیں۔جنرل راحیل اور نواز شریف کے درمیان گزشتہ 18ماہ کے دوران کمزور سیاسی روابط رہے ہیں۔

img Read More

پاک افغان تعلقات:خطے کے بدلتے سیاسی و تذویراتی تناظر میں

صفدر سیال

مئی2013 کے انتخابات کے بعد منتخب پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے متعدد بار ہمسایہ ممالک،بالخصوص افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے عزم کا اظہار کیا۔نومبر2013ء میں اپنے افغانستان کے دورے کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے افغان حکومت کو وہاں امن کے قیام کیلئے پاکستان کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اسی طرح دسمبر2013 میں وزیراعظم کی سربراہی میں منعقد ہونے والے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان کے ساتھ تعلقات کا معاملہ بحث کے چند اہم امور میں شامل تھا۔

img Read More

قومی ریاست، عالمگیریت اور پاکستان

خورشید ندیم

برسوں پہلے جب ’’گلوبلائزیشن ‘‘ کی اصطلاح آئی تو ہمارے ارباب فکر بھی اس سے نا آشنا تھے مگر جب اس نے دنیا میں پھیلے ممالک اور اقوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو کسی نیاسے بخوشی قبول کر لیا اور کوئی بضد رہا۔جن ترقی پزیر ریاستوں کا مسئلہ آئیڈیالوجی نہیں تھا انھیں تو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا مگر جو ریاستیں اپنی الگ شناخت اور حیثیت رکھتی تھیں ان کے لئے مسئلہ کھڑا ہو گیا ۔جس کا بظاہر کوئی حل نہیں تھا ۔کیونکہ متبادل نظام کے لئے پہلے متبادل بیانیہ درکار ہوتا ہے ۔اسلامی دنیا عالمگیریت کے اس نئے آشوب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی اور ظاہر ہے کہ پاکستان بھی ان میں سے ایک ہے ۔زیر نظر مضمون میں نامور کالم نگار خورشید ندیم نے پاکستان کو درپیش ان چیلنجز کا احاطہ کیا ہے جو اس نئے نظام نے اس کے لئے پیدا کر دیئے ہیں ۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان چیلنجز سے نمٹتے ہوئے پاکستان مزید مسائل میں گھرتا جا رہا ہے جن سے نکلنے کا حل بھی فاضل کالم نگار نے یہاں دیا ہے ۔(مدیر)

img Read More

شناخت اور فقہ اسلامی

ڈاکٹر خالد مسعود

مسلمانوں کوتشبہ کا مسئلہ دور اوّل سے ہی درپیش رہا ہے ،یعنی کن امور میں وہ غیر مسلموں کی تقلید کر سکتے ہیں اور کن میں نہیں،غیر مسلموں کے ساتھ روابط کی نوعیت کیا ہونی چاہئے ۔ ویسے تو ہر دور میں علماء اور فقہا نے اس کی اپنی توجیح پیش کی ہے تاہم موجودہ دور میں ایک بار پھر یہ موضوع اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔اس موضوع کے تمام حوالوں کا جائزہ ڈاکٹر خالد مسعود نے زیر نظر مضمون میں لیا ہے ۔ڈاکٹر خالد مسعودکا شمار دنیائے اسلام کے صفِ اوّل کے دانشوروں میں ہوتا ہے ۔کئی کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چئرمین بھی رہے ۔ادارہ تجزیات کے لئے یہ امر باعثِ فخر و مباہات ہے کہ اسے ڈاکٹر صاحب کی مشاورت اور قلمی تعاون حاصل ہے ۔جس کے ذریعے ہم اہلِ علم و فکر کی آبیاری میں مصروف ہیں ۔(مدیر)

img Read More

نیشنل ایکشن پلان اور دینی مدارس کا قضیّہ: خدشات، امکانات اور عملی تجاویز

پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز

دینی مدارس اور دہشت گردی ، یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے ،نیشنل ایکشن پلان کے لئے بھی یہ بڑے چیلنج کے طور پر موجود ہے ۔مسئلہ سادہ بھی ہے اور گھنجلک بھی ،تاہم ڈاکٹر قبلہ ایاز کے نزدیک اب مدارس کو مسئلے کو طور پر نہیں بلکہ مسئلے کے حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔زیر نظر مضمون میں بڑی تفصیل کے ساتھ انھوں نے اس پر روشنی ڈالی ہے کہ مدارس میں کیسے اصلاحات ہو سکتی ہیں بلکہ انھوں نے اصلاحات کا ایک مجوزہ خاکہ بھی دے دیا ہے جس سے اس مضمون کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔(مدیر)

img Read More

پیرس کے واقعات اور اہل اسلام

خورشید ندیم

گیارہ ستمبر کے واقعات کے نتیجے میں مغرب میں رہائش پزیر مسلمانوں کے مسائل میں کئی گنا اضافہ ہوا اس کے اثرات ہنوز جاری ہیں اور یہ اس وقت مزید ہو جاتے ہیں جب اسی نوع کا کوئی اور واقعہ رونما ہو جاتا ہے ۔پیرس کے حالیہ واقعات کوبھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور بالخصوص اس حوالے سے بھی کہ یورپ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد فرانس میں ہی رہائش پزیر ہے ۔خورشید احمد ندیم نے ’’تجزیات ‘‘کے لئے لکھے گئے کالم میں اسی مسئلے کا جائزہ لیا ہے اورمغرب میں رہائش پزیر مسلمانوں کو رہنما اصول دیئے ہیں کہ کس طرح وہ وہاں کی معاشرتی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔(مدیر)

img Read More

بلوچستان رپورٹ کارڈ

شہزادہ ذولفقار

بلوچستان نصف پاکستان ہے اور پاکستان کے مستقبل کا انحصار بھی اسی خطے پر ہے مگر گزشتہ ایک دہائی سے جاری یورشوں نے اس صوبے کے حالات کو بری طرح متاثر کیا ہے،نیشنل ایکشن پلان کے تحت بلوچستان میں آپریشن اور مفاہمتی عمل ساتھ ساتھ چل رہا ہے ۔بلوچستان کا اصل مسئلہ کیا ہے اور وہاں جاری آپریشنز اور مفامتی عمل کا مسقبل کیا ہے ۔ان سارے سوالات کا جواب آپ کو شہزادہ ذوالفقار کے اس مضمون میں ملے گا ۔شہزادہ ذوالفقار کوئٹہ کے معروف صحافی ہیں (مدیر)