img Read More

نیشنل ایکشن پلان پر نظر ثانی کی ضرورت

محمد یونس قاسمی

چند روز قبل ہونے والے بم دھماکوں اور ان کی وجہ سے پھیلنے والے خوف وہراس نے نیشنل ایکشن پلان سے متعلق کئی سوالات جنم دیے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر کس حد تک عملدرآمد ہوا، کیا کھویا، کیا پایا اور ابھی اس پر مزید کتنا کام باقی ہے؟ اس طرح کے بے شمار سوالات زبان زد عام ہیں، اس لیے کہ نیشنل ایکشن پلان لانچ کرتے ہی کچھ کامیابیوں کو دیکھ کر ہم نے فتح وکامرانی کے جھنڈے گاڑنا شروع کردیے تھے۔

img Read More

انسداد دہشت گردی .... چند گزارشات

محمدیونس

یہ درست ہے کہ ملک کے اندر دہشت گردی کی بنیاد پر کالعدم ہونے والی تنظیمیں کسی رعایت کی مستحق نہیں ہیں مگر فرقہ وارانہ بنیادوں پر کالعدم ہونے والی تنظیمیں اگر فرقہ واریت اور تکفیری نعروں کو چھوڑ کر آئین پاکستان کے تحت پر امن اور جمہوری انداز سیاست کو اپنا کر مرکزی دھارے میں شامل ہونا چاہتی ہوں تو انہیں یہ موقع دیاجانا چاہیے

img Read More

لاہور حملہ اور دہشت گردوں کے ممکنہ اہداف ؟

کاشف علی

جماعت الاحرار ماضی قریب میں واہگہ بارڈر حملہ ، لاہور چرچ حملہ ، چارسدہ کورٹ حملہ اور گزشتہ سال مارچ میں ایسٹر کے تہوار کے موقع پر لاہور پارک میں مسیحی برادری پر ہونے والے بھیانک حملوں میں ملوث رہی ہے . صرف ایسٹر کے موقع پر کیے جانے والے حملے میں 70سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے تھے.

img Read More

ریاست کیسے ماں کے جیسی

ڈاکٹر خالد مسعود

چنانچہ ’’ریاست ہوگی ماں کے جیسی‘‘ کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ ریاست ماں کی طرح باپ اور بچوں کی فرمانبردار رہے گی۔ سب کا کام کرے گی ایک پیسے کا مطالبہ نہیں کرے گی.

img Read More

روایتی عسکری گروہوں کا چیلنج

محمد عامر رانا

ریاست کا دوسرا بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ کیسے ان گروہوں کو بے اثر کرے جنہیں ایک دور میں اس نے اپنے جغرافیائی اور تزویراتی مقاصد کے لئے استعمال کیا ہو ۔

img Read More

دہشت گرد’’حشاشین ‘‘کے نقش قدم پر

عاطف محمود

لندن سے شائع ہونے والے سعودی روزنامے ’’الحیا‘‘ کے مطابق داعش کے سابق رکن احمد ثامر المطیری نے بتایا کہ وہ اس لیے تنظیم کو چھوڑ کر بھاگ آیا ہے کہ تنظیم کے سرکردہ افراد حشیش اور دیگر منشیات کے عادی تھے ، وہ روزانہ رات کورقص و سرود کی محفلیں منعقد کرتے اوردن کو بے گناہ مسلمانوں پر ظلم کر کے انہیں قتل کرتے تھے۔

img Read More

جماعت اہل سنت والجماعت کا فرقہ واریت کو الوداع

ضیاء الرحمٰن

قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے جاری کریک ڈاﺅن سے پریشان مگر جھنگ اورکراچی میں انتخابی معرکوں میں فتح کے بعد پرامید اہلسنت والجماعت کی قیادت نے سنجیدگی سے فرقہ وارانہ سیاست چھوڑ کرپارلیمانی سیاست میں قدم رکھنے کافیصلہ کیاہے اورانتخابی سیاست میں قدم رکھنے کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے اتحاد کی بات چیت بھی شروع ہوگئی ہے۔

img Read More

بشارالاسد کی بیماری کا معمہ

عاطف محمود

اس وقت شام کا مکمل کنٹرول روس کے ہاتھ میں ہے اور بشار کی حیثیت محض کٹھ پتلی کی ہے اور اب اس کے ہاتھ میں کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا،حتی کہ اس کی جان بھی،کیونکہ شام کے مستقبل میں بشارالاسد کی کوئی جگہ نہیں ہے، اب شام روس کے ہاتھ میں چلاگیاہے اور ایران روس سے اپنا حصہ مانگ رہا ہے۔

img Read More

اسلام آباد کے لئے مونو ٹرین منصوبہ کیوں ترک کیا گیا ؟

سجاد اظہر

پیپلز پارٹی دور میں صرف ملتان پر 70 ارب روپے صرف کئے گئے ۔شہباز شریف پنجاب کے ترقیاتی بجٹ کا 58 فیصد گزشتہ نو سالوں سے لاہور شہر پر صرف کر رہے ہیں ۔اگر شہریوں کے مسائل حل نہ ہوئے تو اگلے انتخابات میں چوہدری نثار کی سیٹ بھی خطرے میں پڑ جائے گی ۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ نواز شریف ،چوہدری نثار سے جان چھڑانے کے لئے اس حلقے کو جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں ۔

img Read More

علاقائی رابطوں کا پاکستانی ویژن

محمد عامر رانا

یہ پاکستان کے لئے نادر موقع ہے کہ وہ اپنے علاقائی تصور پر نظر ثانی کرے ۔کیونکہ پاکستان بھی دوسرے کئی ممالک کی طرح دو بڑے اتحادوں کا حصہ ہے جن میں سے ایک شنگھائی تنظیم اور دوسری سارک ہے

img Read More

کیا ٹرمپ کو نفاذ شریعت پر ثواب ملے گا؟

ڈاکٹر خالد مسعود

ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کے نفاذ شریعت کے اقدامات کے بارے میں مسلمان بہت ہی کڑے تذبذب کا شکار ہیں

img Read More

ٹرمپ مودی رومانس ؟پاکستان کے لئے کتنا نقصان دہ کتنا فائدہ مند ؟

سجاد اظہر

خطے کے حالات اور مسائل پہلے ہی گنجھلک ہیں ۔ٹرمپ کا رویہ ان مسائل کو اور زیادہ شدید بنا دے گا ۔ ٹرمپ چین کا مقابلہ بھارت کے ذریعے کرنا چاہتا ہے اور بھارت کا مسئلہ چین اور پاکستان دونوں ہی ہیں ۔ٹرمپ کے مقابلے پر چین کی پالیسی خطے میں استحکام اور خوشحالی کی آئینہ دار ہے

img Read More

ضرب ٹرمپ

ڈاکٹر خالد مسعود

امریکہ سے آج کل شاذ و نادر ہی اچھی خبر سننے کو ملتی ہے۔ کبھی امریکی خواتین کے ملین مارچ کی خبر آتی ہے۔ کبھی صحافیوں کی دھمکیاں سنائی دیتی ہیں۔ کہیں رنگ و نسل کی تفریق کے نام پر حکومتی ادراوں کی جگ ہنسائی کا تماشا برپا کیا جاتا ہے۔ کہیں ناعاقبت اندیش اسقاط حمل وغیرہ کی حمایت میں مظاہرے کررہے ہیں۔ ان لوگوں کو اندازہ نہیں کہ اس سے جمہوریت کتنی بدنام ہورہی ہے۔ لگتا ہے ان امریکی خواتین اور صحافیوں کو پاکستان کے حالیہ انقلاب سے سبق نہیں ملا۔ تبدیلی احتجاجی جلسوں اور دھرنوں سے نہیں آتی۔ کام کرنے سے آتی ہے۔

img Read More

سعودی عرب میں سینما کی واپسی

عاطف محمود

سعودی میڈیا نے عوام الناس کے لیے شرعی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جائز تفریح کے لیےسینما کے قیام کے لیے متعدد بار آواز اٹھائی جو کہ صدا بصحرا ثابت ہوتی رہی ۔تاہم چند دن قبل ایک خبر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سعودیہ میں سینما گھر کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے بعد سعودی شہریوں کو سالانہ اربوں ڈالر خرچ کر کے بحرین یادبئی میں نہیں جانا پڑے گا

img Read More

غائب شدوں‘‘ کی ’’ حاضری‘‘ کب تک؟

وقار گیلانی

اس تیزی سے بڑھتی ہوئی بحث اور تنقید جس میں مذہبی انتہا پسند کھلے دل، تیز زبان اور جوش و خروش سے حصہ ڈال رہے ہیں ایک پہلو بہت حیران کن ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ ابھی تک کسی بھی سرکاری ادارے ،ایجنسی یا تنظیم نے ان افراد کے غائب یا اغوا ہونے کے بارے میں کچھ بھی سرکاری سطح پر بیان نہیں کیا

img Read More

ایک خوفناک سوچ

محمد عامر رانا

کیا ہم اپنے دشمن کا تعین کرنے میں ابھی تک تذبذب کا شکار ہیں ؟ اگر ہمدماغ استمعال کریں اور اپنی آنکھیں کھلی رکھیں تویہ کام مشکل نہیں۔باہر کے دشمن کو پہچاننا مشکل نہیں اورریاست اسکے حربوں سے نمٹنا بھی جانتی ہے۔ لیکن اندر کا دشمن بہت خظرناک ہے، وہ علاقوں پر ہی قبضہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ ہمارے سماجی ڈھانچے کا تیہ پانچہ کرتے ہوئے ہمارے ذہنوں ، سماج ، ثقافت اور سیاست کو بھی متاثر کرنا چاہتا ہے ۔یہ دشمن اس لئے بھی بہت زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ ہمارے اندر موجود ہے۔یہ ہمارے ساتھ رہتا ہے اور ہمارے اندر آکر ہمیں نقصان پہنچانے پر قدرت رکھتا ہے ۔ یہ خبردار کئے بغیرآہستہ آہستہ ہمارے خیالات کو زہر آلود بنا دیتا ہے ۔

img Read More

روبوٹ سے شادی

ڈاکٹر خالد مسعود

روبوٹ سے شادی کے کیا قوانین ہوں گے۔ یا یہ شادیاں کسی قانون کی تابع نہیں ہوں گی۔ طلاق کی کیا صورت ہوگی۔ شوہروں کی تعداد پر تو بات کی اجتہاد بھی اجازت نہیں دے گا البتہ یہ سوال بار بار اٹھتا رہے گا کہ کتنی روبوٹ بیویوں کی اجازت ہوگی۔

img Read More

انقلاب بہار کے صوفی ازم پر اثرات

عاطف محمود

سلفی جہادی تنظیمیں زوروں پر ہیں ایسے میں صوفی سلسلوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا مشرق وسطی کے مستقبل سے بڑا گہرا تعلق ہے،اس وقت پورا خطہ مسلکی اعتبار سے دو حصوں میں منقسم ہے اور دونوں طرف خوفناک انتقام کی آگ بھڑک رہی ہے

img Read More

مردم شماری میں ’’زبان‘‘ کا مسئلہ

زبیر توروالی

دنیا میں زبانوں کی تحقیق اور اعداد و شماریات کے معلوماتی ادارے ایتھنولاگ (Ethnologue) کی رو سے پاکستان میں لگ بھگ 73 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں 67 زبانیں پاکستانی سر زمین کی آبائی زبانیں ہیں جبکہ باقی آٹھ زبانیں غیر آبائی ہیں

img Read More

دودھ کا دودھ پانی کا پانی

ڈاکٹر خالد مسعود

آج کل تقریباً ہر دوسری خبر میں ذکرہوتا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے والا ہے۔ کوئی الیکشن جیت جائے تو دعوى کرتا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔ وہ خود دودھ اور حریف کو پانی بتا تا ہے۔ کہیں کمیشن بنے تو یہی اعلان ہوتا ہے کہ اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ اس تکرار اور اصرار سے شکوک ابھرنے لگے ہیں کہ اصل معاملہ کچھ اورہے ۔ ہمارے خیال میں تو یہ جملہ ہی نہایت مہمل ہے ۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے کا کیا مطلب ہے۔ اگر دودھ میں ملاوٹ کا مسئلہ ہے تو جس نے ملاوٹ کی ہے اسے سزا دیں یا مک مکا (پلی بار گین) کریں ۔ دودھ کے دودھ اور پانی کے پانی ہونے کا انتظار کیوں کیا جائے۔ اگر یہ انتظارتفتیش کا طریقہ ہے تو انتہائی فضول ہے۔ ہر ذی شعور کو معلوم ہے کہ دودھ اور پانی مل جائیں تو ان کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ابالیں تو پانی غائب ہو جاتا ہے۔ جمائیں تو دونوں برف ہو جاتے ہیں۔ کوئی کیمیائی مواد ڈال کر دودھ پھاڑ بھی دیں تو دودھ قابل استعمال نہیں رہتا۔ تو پھر یہ سارا جھنجٹ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

img Read More

مدرسہ چیلنج ہے کیا؟

محمد عامر رانا

ریاست مدرسہ چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے تیار نظر نہیں آتی ہے ۔شاید وہ اس چیلنج کہ ہمہ گیری سے آگاہ نہیں یا وہ یہ نہیں جانتی کہ مذہبی تعلیم سے وابستہ ا داروں کے مسائل کی ہیئت کیا ہے ۔وہ مدرسوں کو صرف سیکورٹی چیلنج سمجھتی ہے اور سمجتھی ہے کہ اس کا حل نصاب میں اصلاحات سےہے ۔جب ریاستی ادارے مسئلے کی اصلیت کا ادراک کرنے میں ناکا م ہو جائیں تو وہ بوسیدہ اور روایتی حل کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں ۔یہی کچھ مدراس کے معاملے میں ہوا ہے ۔یہ خیال کیا گیا کہ انگریزی ، ریاضی اور کمپیوٹر پڑھانے سے مدارس میں تبدیلی آ جائے گی ۔ داخلہ اور مذہبی امور کی وزارتوں نے حال ہی میں یہی حل نکالا ہے ۔

img Read More

پوسٹ ٹروتھ ، سچ مُچ؟

ڈاکٹر خالد مسعود

نیا سال مبارک ہو۔ کہا جارہا ہے کہ ۲۰۱۷ دنیا بھر میں تبدیلی بلکہ پوسٹ ٹروتھ کی کایا پلٹ تبدیلی کا سال ہے۔ اس خوش خبری کی بنیاد آکسفرڈ ڈکشنری کا انکشاف ہے کہ ۲۰۱۶ میں انگریزی زبان میں ایک نئے لفظ پوسٹ ٹروتھ۔ نے جنم لیا ہے۔ پوسٹ ٹروتھ کا سرکاری اردو ترجمہ ابھی دستیاب نہیں لیکن سیاق و سباق سے پتا چلتا ہے کہ انگریزی زبان میں لفظ نہ سہی خیال پاکستان سے گیا ہے۔ ماہرین پوسٹ ٹروتھ کی شرح میں جو مثالیں پیش کر رہے ہیں ان سے بھی ا س بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ مثلاً وہ ڈونالڈ ٹرمپ کی جمہوری فتح کو پوسٹ ٹروتھ کی مثال بتا رہے ہیں حالانکہ پاکستان میں بہت پہلے جمہوریت کو بہترین انتقام قرار دیا چکا ہے ہے۔ اسی طرح بل کلنٹن کے لیونسکی سے معاشقے اور ہیری کلنٹن کی شکست کے تانے بانے کو بھی پوسٹ ٹروتھ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ اور تو اور بل کلنٹن کے دفاعی بیان کو بھی کہ اس کے موصوفہ سے جنسی تعلقات ہرگز نہیں تھے پوسٹ ٹروتھ کہا جا رہا ہے، جب کہ پاکستان میں سیاسی بیانات پر کبھی اعتبار نہیں کیا جاتا۔

img Read More

نیا سال پرانے چیلنجز

عاطف محمود

2016 کا سال بھی غموں خوشیوں کے انگنت احداث و واقعات کوسموئے تاریخ کا حصہ بن گیا،رخصت ہوتا یہ سال اگر اپنےساتھ ہمارے آلام و مصائب بھی لے جاتا تو نئے سال کے آمد کی خوشیاں صرف ایک دن تک محدود نہ ہوتیں لیکن جاتے جاتے یہ سال کچھ ایسے احداث کو نامکمل چھوڑ کر جا رہا ہے کہ جس انداز اور جس رفتار سے یہ نامکمل تصویر بنی ہے اگر اس نے مکمل بھی اسی طرح ہونا ہے تو پھر ہم نئے سال سے کوئی نئی توقعات نہیں وابستہ کر سکتے،لیکن ہمارا ایمان ہے کہ اسباب کے پیچھے بھی ایک طاقت ہے جسے مسبب الاسباب کہا جاتا ہے، وہ چاہے تو اپنے خصوصی فضل و کرم سے شر سے خیر کو وجود بخش سکتا ہے جس کے مظاہر بھی ہمیں تاریخ اور مشاہدےمیں ملتے ہیں.

img Read More

کبھی القاعدہ کے لیے بھرتیاں کرنے والاآج عسکریت کے خلاف آواز بن گیا

رک مینی کالیماچی

شدت پسندوں کی واپسی کے پروگرام دنیا کے کئی ممالک میں چل رہے ہیں تاہم یہ ایک مشکل کام ہے ۔نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اس مضمون میں امریکہ کے ایک ایسے شدت پسند کو اجاگر کیا گیا ہے جس نے اپنے آن لائن پراپیگنڈے سے کئی لوگوں کو بہلا پھسلا کر شدت پسندی کی طرف راغب کیا مگر اب وہ نہ صرف تائب ہو چکا ہے بلکہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے اداروں کی مدد کر رہا ہے کہ وہ کسیے شدت پسندانہ رجحانات کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ اس مضمون کو اردو قلب میں ڈھالنے کے لیے ہم عاطف ہاشمی کے ممنون ہیں ۔( مدیر )

img Read More

دینی مدارس... اور ان کے مسائل

قاری یٰسین ظفر

دینی مدارس کی اہمیت ضرورت اور افادیت پر بہت کچھ لکھا جا چکا۔لاتعداد مضامین،مقالے اور کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔یونیورسٹیاں دینی مدارس پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کروا رہی ہے۔یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔آئے روز ایک نئے زاویے سے مدارس کی خدمات کو اجاگر کیا جارہا ہے۔ بلا شبہ دینی مدارس معاشرے میں نہایت مثبت کردار ادا کررہے ہیں۔تعلیم کے فروغ کے ساتھ طلبہ کی فکری اور عملی تربیت کا موثر نظام موجود ہے۔اپنی اعلیٰ تعلیم و تربیت کے ساتھ یہ فضلاءمعاشرے میں دینی اقدار تہذیب و ثقافت کی پہچان ہیں۔سماج میں دعوت اور عملی زندگی کی وجہ سے تبدیلی کا باعث بھی ہیں۔ان کا وجود اسلام کی ترجمانی کا خوبصورت مظہر ہے۔یہ لوگ ہمیں اپنے اسلاف اور ماضی سے جوڑنے کا حسین ذریعہ ہیں اور سب سے بڑھ کر اسلام کے مکمل ورثے کے محافظ ہیں اور اس ورثے کو آنے والی نسلوں کو منتقل کرنے کےلیے دن رات کوشاں ہیں۔سرکاری مراعات اور سرپرستی کے بغیر انتہائی کسمپرسی میں یہ فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔لوگوں کے طعن و تشنیع اور ملامت کو خاطر میں لائے بغیر یہ مشن جاری ہے۔

img Read More

انسداد شورش اور دہشت گردی کا ہمارا نظریہ

محمد عامر رانا

جو کامیابیاں ابھی تک حاصل کی جا چکی ہیں ان کے باوجود بغاوت کو کچلنا ایک مسلسل عمل ہے اور اس کے اثرات کو ظاہر ہونے میں خاصا وقت درکار ہوتا ہے تب کہیں جا کر استحکام آتا ہے ۔لیکن وہ خدشات جن کی وجہ سے کیانی شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے میں تساہل سے کام لے رہے تھے وہ ابھی تک موجود ہیں ۔اس آپریشن نے داخلی سلامتی کو درپیش خطرات کا مکمل قلع قمع نہیں کیا ۔ واشنگٹن اور کابل بھی پاکستان کی فوجی کامیابیوں کو خاطر میں نہیں لا رہے کیونکہ ان کی وجہ سے افغانستان میں جاری بغاوت میں کوئی کمی نہیں آئی

img Read More

عربی کاعالمی دن اور پاکستان میں فروغ عربی کے لیے کوششیں

عاطف محمود

عربی صرف مشرق وسطی میں ہی بولی یاسمجھی جانے والی زبان نہیں ہے بلکہ اسلام جیسے آفاقی مذہب اور اللہ کی آخری الہامی کتاب کی زبان ہونے کی وجہ سے عالمی زبان کی حیثیت رکھتی ہے،یہی وجہ ہے کہ 18 دسمبر 1973 کو اقوام متحدہ نے بھی عربی زبان کو اپنی رسمی زبانوں میں شامل کیا۔اس سے پہلے انگریزی ،ہسپانوی،روسی،چینی ،فرانسیسی اور جرمن زبانوں کو عالمی زبان کی حیثیت دے دی گئی تھی، اکتوبرء2012 میں یونیسکو نے 18 دسمبر کو عربی کا عالمی دن قرار دیا اور گذشتہ چارسال سے اس دن کو اہتمام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

img Read More

نیشنل پارٹی بلوچ علیحدگی پسندتنظیموں کے نشانے پر

ضیاء الرحمٰن

بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ اورکمانڈر ڈاکٹراللہ نذربلوچ بھی بلوچستان نیشنل موومنٹ نامی بلوچ قوم پرست سیاسی جماعت میں عبدالمالک بلوچ کے ساتھ سیاسی جدوجہد میں شریک تھے۔ بعد میں 2003 میں عبدالحئی بلوچ اورعبدالمالک بلوچ کی بلوچستان نیشنل موومنٹ اورسردارثناء اللہ زہری (جواب مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے صدر اوروزیراعلیٰ بلوچستان ہے) اورمیرحاصل بزنجو کی بلوچستان نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے انضمام کے بعد نیشنل پارٹی وجود میں آئی

img Read More

مسلمانوں کے خلاف جنگ میں غیر مسلموں کا ساتھ دینے پر تکفیر

عمار خان ناصر

عمار خان ناصر کا شمار دور جدید کیتوانا آوازوں میں ہوتا ہے جو اسلام اور شریعت سے جڑے وہ مسائل جنہوں نے جدیدیت کی کوکھ سے جنم لیا ہے انہیں نہ صرف جرات سے مخاطب کرتے ہیں بلکہ کوئی حیل و حجت رکھے بغیر موقف بھی پیش کرتے ہیں ۔تکفیر کا مسئلہ بھی انہی مسئلوں میں سے ایک ہے ۔زیر نظر مضمون میں اس کا مفصل جائزہ لیا گیا ہے ۔ عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں وہ الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ کے وائس پرنسپل اور ماہنامہ الشریعہ کے مدیربھی ہیں ۔(مدیر) موجودہ مسلم حکمرانوں کی تکفیر کرنے والے گروہوں کی طرف سے ایک اہم دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ ان حکمرانوں نے بہت سی ایسی لڑائیوں میں کفار کے حلیف کا کردار ادا کیا ہے جو انھوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف شروع کی ہیں اور اسلامی شریعت کی رو سے یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا مرتکب کافر اور مرتد قرار پاتا ہے۔

img Read More

پاکستان کا پہلا جلاوطن ہندو

اختر بلوچ

میں نے جیب سے 10کا نوٹ نکال کر چپ چاپ حشو کی ہتھیلی پر رکھ کر ان کی مٹھی بند کردی۔ پیسے ملتے ہی حشو فوراً دروازہ کھول کر باہر نکل گئے۔ میں دروازے کی اوٹ سے سندھ کے اِس عظیم دانشور، اعلیٰ مفکر، انگریزی صحافت کی دنیا میں آبرودار، رتبہ رکھنے والے حشو کیول رامانی کو آخری بار بڑے بڑے قدم اٹھاتے ہوئے اندھیرے میں گم ہوتے دیکھتا رہا۔ واپس اندر آکر میں نے کیرتھ سے کہا کہ کھانا مت منگوانا آج میں ایک لقمہ بھی نہیں نگل پاوں گا۔“

img Read More

مدرسہ اصلاحات :ایک متبادل تجویز

ڈاکٹر رشید احمد

اسلام میں مدرسہ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود اسلام کی تاریخ ہے۔ کیونکہ مدرسہ کا تعلق پڑھنے پڑھانے سے ہے اور سب سے پہلی وحی ہی پڑھنے کے بارے میں ہے۔ اس حوالے سےمتعدد آیات اور احادیث موجود ہیں جو اہل علم سے مخفی نہیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمایا تو آپ ﷺ نے مسجد نبوی میں"صفہ" کے نام سے ایک اقامتی مدرسہ قائم فرمایا جن میں متعدد صحابہ کرام صرف حصول علم کی خاطر ٹھہرتے تھے۔ اس مدرسہ میں پڑھنے والوں کی تعداد گھٹتی بڑھتی تھیتاہم یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر قائم رہا۔ان میںعبد اللہ بن مسعودؓ اور ابو ہریرۃ ؓجیسے جلیل القدر صحابہ کرام بھی شامل تھے۔ خلفائے راشدین کے دور میں بعض اکابر صحابہ نے اپنے مدرسے قائم کیے ان میں عبداللہ بن عباسؓ، ابی ابن کعبؓ، اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے مدارس نے بہت شہرت پائی اور ہزاروں تشنگان علم نے یہاںعلم کی پیاس بجھائی۔ اسی طرحدور تابعین میں فقہائے سبعہ نے نہایت شہرت حاصل کی اور ہزاروں تلامذہ نے آپ سے استفادہ کیا۔

img Read More

سیاسی عمل اور جمہوری تسلسل کا دفاع کیوں ضروری ہے؟

ڈاکٹر سید جعفر احمد

ڈاکٹر سید جعفر احمد پاکستان سٹڈی سینٹر کراچی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ہیں آپ ایک کتاب Federalism in Pakistan: A Constitutional Study کے مصنف ہیں علاقائی اور عالمی تنازعات پر گہری نظر رکھتے ہیں سیاسیات کے استاد ہونے کے ناطے ان کا پاکستانی معاشرے اور سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے اثرات کا عمیق مطالعہ ہے ان کی اس علمی اور فکری کاوش میں پاکستانی سیاسی تاریخ کا طائرانہ نظر میں جائزہ لے کر یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ جمہوریت پاکستان کے لیے ناگزیر تو ہے مگر اس کیلیے سیاسی جماعتوں کو بھرپور جمہوری کلچر کو پروان چڑھانا ہو گا(مدیر)

img Read More

ہمارے بچوں کو پری سکولوں کی نہیں لینگویج نرسریوں کی ضرورت ہے

عاطف محمود

جب چھ سال کی عمر میں بچہ کلاس ون سے سکول شروع کرے تو اسے مادری تعلیم میں ہی تعلیم دی جائے اور دیگر زبانیں بطور سبجیکٹ کے پڑھائی جائیں لیکن پری سکولنگ کی عمر تو زبانیں سیکھنے کی ہے،اس میں کم از کم ایک اجنبی زبان لازمی سکھا دینی چاہیے،اس سے بچے کی تخلیقی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہو گا

img Read More

مطالعے سے زیادہ تجربے اور مشاہدے کا قائل ہوں

محمد عاصم بٹ

مصنف نے کوئی پچیس ایک برس کی عمر میں خود کو یہ ناول لکھنے کے لیے کمرے میں محبوس کرلیا تھا۔ چھ ایک ماہ کی تنہائی میں انھوں نے یہ ناول لکھا۔ جس وارفتگی اور سرمستی کی کیفیت میں یہ تخلیق ہوئی، اس کا اندازہ ناول کا متن پڑھ کر ہوتا ہے۔

img Read More

متنازعہ خوبصورت تاریخی جزیرہ قبرص مسئلہ کا حل :مذاکرات یا استصواب رائے؟

عاطف محمود

مسئلہ قبرص کے تصفیے کے لیےگذشتہ برس سے جاری مذاکرات آئندہ بھی نتیجہ خیز ثابت ہوتے نظر نہیں آتے،جزیرے پر دعویدار دونوں پڑوسی ممالک کی نظر جمہوریہ قبرص کے عوام سے زیادہ ذاتی مفادات پر ہے، پرامن قبرص کے لیے خودمختار قبرص کا ہونا ناگزیر ہے،جوکہ مذاکرات سے نہیں بلکہ استصواب رائے سے ممکن ہے

img Read More

فرقہ واریت کو دوام کیوں ہے ؟

محمد عامر رانا

یہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ریاست اپنے کھوئے ہوئے بیانئے کو پانے کے لئے لاچار ہے اور نہ ہی وہ یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ کسی متبادل قومی شناخت کو رواج دے سکے ۔ریاست تشدد پر قابو پانا چاہتی ہے مگر وہ اس تشدد کو ابھارنے والوں کے خلاف کچھ نہیں کرنا چاہتی

img Read More

جنرل ضیاءاور جبڑا چوک

اختر بلوچ

جنرل ضیاءاسلامائیزیشن کے ایجنڈے کے حق میں اور پارلیمانی جمہوریت کے خلاف قائد اعظم کی تقریروں اور تحریروں میں من مانی ترمیم و تحریف کرنے سے بھی نہیں چوکے۔ اپنی بنائی ہوئی مجلس شوریٰ کے ساتویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے12ا گست 1983ءکو انھوں نے ایک عجیب و غریب سراسر جھوٹا دعویٰ کیا کہ نیشنل آرکائیوز (National Archives) میں محفوظ قائد اعظم کی ایک ذاتی ڈائری ملی ہے جو اب تک شائع نہیں ہوئی

img Read More

سائنس آخری سانسیں لے رہی ہے

ڈاکٹر خالد مسعود

ھود بھائی کو شاید خبر نہیں کہ پاکستان ہی نہیں ساری دنیا میں سائنس مسٹ فال کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ مغربی تہذیب خود کشی کے لئے تیار ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب دنیا بھر میں ھیری پاٹر یونیورسٹیاں جادو کا گہوارہ بنیں گی۔ اس بار ہم مغرب کو یہ موقع نہیں دینا چاہتے کہ ان یونیورسٹیوں کے ذریعے دوبارہ اپنی بالا دستی قائم کرے اور پاکستان میں ان یونیورسٹیوں کی شاخیں قائم ہونے سے پہلے ہم خود کیوں نہ جادو کی تعلیم عام کریں۔ ہم تو ان علوم کے اساتذہ میں پہلے ہی خود کفیل بھی ہیں۔

img Read More

خونی چوک

زبیر توروالی

پاکستان سفارتی محاذ پر تنہا ہوتا جارہا ہے اور ملک کے اندر عوام میں ابہام اور شکوک بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں خونی چوک کے اس کھیل کو بند کیا جانا چاہئے کہ ہم اس خون ریزی کے مزید متحمل نہیں ہوسکتے۔

img Read More

ہیلری کے ہارنے کی تین بڑی وجوہات

سجاد اظہر

امریکہ میں تحقیقی ادارے پیو کا کہنا ہے کہ جس تناسب سے امریکہ میں غیر سفید فام آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس کو دیکھا جائے تو 2050میں سفید فام اقلیت بن جائیں گے۔ جس کی وجہ سے وائٹ ہاؤس سمیت ہر جگہ غیر سفید فاموں کی اجارہ داری ہو گی ۔چنانچہ تعصب میں اضافے کا جو پرچار امریکہ کے بارے میں عام ہو گیا ہے اس کا عملی اظہار ان انتخابات میں ہوا جب سفید فام آبادی کی اکثریت نے ڈونلڈ ٹرمپ کو چن لیا

img Read More

فاٹا میں تعلیمی حالت زار،اندازوں سے بھی بدتر

سجاد علی

فاٹا سیکرٹریٹ کی حالیہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق فا ٹا کے سات ایجنسیوں اور چھ نیم قبائلی علاقوں میں مجموعی طور پر پانچ ہزار994 سرکاری تعلیمی ادارے ریکارڈ میں درج ہیں جن میں اٹھارہ فی صد تعلیمی ادارے غیر فعال ہیں .

img Read More

اقبال کا ‘‘سلطانی جمہور’’ کا دور کب آئے گا ؟

پروفیسرفتح محمد ملک

جن نقوشِ کہن کو مٹا ڈالنے کی تلقین کی تھی وہ معاشی ظلم اور سیاسی غلامی کے ادارے ہیں- یہی وہ نقشِ کہن........ پرانی نشانیاں ہیں جنہیں مٹا ڈالنے کا سبق اقبال نے پڑھایا تھا۔ جب تک ہم اقبال کے ان نظریات پر عمل کا آغاز نہیں کرتے تب تک پاکستان میں سچی جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر ہی رہے گا۔

img Read More

امریکہ میں آج نئی تاریخ رقم ہو نے جا رہی ہے

سجاد اظہر

امریکہ کی پچاس ریاستوں میں اراکین کانگریس کی تعداد 538ہے اور یہی امریکہ کا الیکٹرول کالج کہلاتی ہے ۔ کامیاب ہونے والے کے لئے ضرور ی ہے کہ وہ 270ووٹ حاصل کرے ۔ رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے 164کے مقابلے پر ہیلری کلنٹن کو 219کی برتری حاصل ہے

img Read More

پانامہ ، عدلیہ کا امتحان

وقار گیلانی

گزشتہ تقریباً35سال سے پاکستانی سیاست کے افق پر چمکتا اور دن رات کا روبار ی ترقی کرتا یہ شریف خاندان اپنے اس ملک کی سرکاری لوہے کی مل ( پاکستان سٹیل مل ) کو خسارے سے باہر نہیں نکال سکا۔ لیکن چھوڑیں اس وقت ملک نازک موڑ پر ہے جمہوریت خطرے میں ہے ۔

img Read More

غنوشی ماڈل، غامدی بیانیہ ، سیاسی اسلام اور تبلیغی جماعت

عاطف محمود

راشد الغنوشی تیونس کی اسلامی سیاسی جماعت النہضہ کے سربراہ ہیں، ۱۹۷۰ء کی دہائی کے اواخر میں ایک اسلام پسند قومی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی النہضہ کی تحریک اب دعوت اور سیاست کو علیحدہ کرنے پر گامزن ہے۔ یہ جماعت تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایک نظریے کی پیروی کرنے کے بعد اب اسے چھوڑ کرسیاسی اسلام کی بجائے مسلم جمہوریت کا نظریہ پیش کر چکی ہےجس کی مکمل روداد فارن افیئرز کے حالیہ شمارے نے شائع کی ہے۔

img Read More

پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ میں حکومت : وعدے ، دعوے اور حقیقت

سجاد علی

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف چار محکموں میں اصلاحات کرنے سے صوبہ ایک ماڈل صوبہ بن سکتا ہیں اور وہ سارے میگا پروجیکٹس جس سے تعلیم، صحت کے میدان میں انقلاب لایا جاسکتا تھا اور صنعت ، ٹرانسپورٹ میں ان منصوبوں سے ہزاروں کی تعداد میں نوکریاں پیدا کرناتھیں مکمل نہ کرنے سے کیا وہ کے پی میں اپنی ووٹ بینک برقرار رکھ پائیں گے ؟ کیا وہ 2018 کے الیکشن میں کے پی میں بھی اپنی حکومت بنا سکیں گے ؟

img Read More

ہما عابدین، ہیلری کے لئے بار بار بد شگونی کی علامت کیوں بن جاتی ہیں ؟

سجاد اظہر

ہما عابدین کے والدین پاکستان سے تعلق رکھتے تھے ۔ہما کا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہے ہیلری کلنٹن ان پر حد درجہ اعتماد کرتی ہیں ۔امریکہ میں وہ قوتیں جو ہیلری کو صدر دیکھنا چاہتی ہیں نہ ہی ممکنہ صدر کے قریبی رفقا میں ایک مسلمان کو ، وہ سب مل کر ہما عابدین کے پیچھے پڑ گئی ہیں ۔ مگر اس بار بات صرف ہما عابدین کی نہیں بلکہ ہیلری کلنٹن کی بھی ہے جو کہ امریکہ کی پہلی خاتون صدر بننے کے قریب ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ہما عابدین ، ہیلری کے لئے اچھا شگون ثابت ہوتی ہیں یا برا ؟

img Read More

دودھ فروش کا بیٹا لبنان کے قصر صدارت میں

عاطف محمود

آخر کار اڑھائی سال صدارت کی کرسی خالی رہنے کے بعد لبنانی پارلیمنٹ نے اپنا صدر منتخب کر ہی لیا، اور میشال عون قومی اسمبلی کی 46 ویں نشست کے دوسرے مرحلے میں 128 میں سے 83 ووٹ لے کر ملک کے 13 ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ لبنان میں مئی 2014ء سے صدر کا عہدہ خالی تھا اور پارلیمنٹ متعدد اجلاسوں کے باوجود نئے صدر کے انتخاب میں ناکام رہی تھی۔ مذہبی بنیادوں پر کئی ٹکڑوں پر مشتمل سیاسی نظام پر مبنی اس ملک میں میشال عون مختلف گروہوں کی حمایت حاصل کرنے کے بعد ہی منتخب ہو سکے ہیں۔ نومنتخب صدر میشال عون لبنان میں مسیحیوں کی سب سے بڑی جماعت آزاد محب الوطن تحریک ( فری پیٹریاٹک موومنٹ) کے بانی ہیں، ملکی آئین میں تصریح ہے کہ لبنان کاصدر مارونی عیسائی، اسپیکر اسمبلی شیعہ اور وزیر اعظم سنی ہو گا.

img Read More

ایک ماں سے تعزیت

وقار گیلانی

25اکتوبر کی رات کو ابھی تک نامعلوم تین دہشت گردوں نے کوئٹہ سریاب روڈ پر پولیس ٹریننگ کالج میں رات گئے درجنوں تازہ تازہ تربیت یافتہ سپاہیوں کو ابدی نیند سلا دیا ۔60سے زیادہ جوان اور پاکستان جیسے ملک میں باروزگار جوانوں کی اموات نے ان کے گھروں میں کیا قیامت برپا کی ہو گی اس بات کا اندازہ ہر صاحب دل بڑی آسانی سے لگا سکتا ہے ۔ احساس محرومی ،بے حقوقی اور بے توقیری کے شکار اس صوبہ بلوچستا ن کے دور دور کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہیدنوجوان نہ جانے کتنی آنکھوں کا ارمان ، کتنے دلوں کی دھڑکن اور کتنے گھروں کا چراغ ہوں گے جو ایک آن میں بجھ گئے

img Read More

پاکستان کی تعلیمی پالیسیاں اور زبان کا مسئلہ

زبیر توروالی

پاکستان کی تخلیق دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ دو قومی نظریہ مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد ہر ایک الگ قوم مانتا ہے۔ مگر جس وقت مسلمانوں کے لئے ایک الگ مملکت کا مطالبہ کیا جاتا تھا اس وقت دنیا میں قومیت کا تصور وطن، زبان اور ثقافت کی بنیاد پر پل رہا تھا۔ اس لئے ضروری تھا کہ اس الگ قوم کے لئے ایک زبان اور ثقافت کا ہونا بھی ضروری تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیم ہند سے پہلے اردو زبان کو صرف مسلمانوں سے جوڑنے کی کوشش جاری تھی۔قومیت کے لئے مذہب، زبان اور ثقافت کا یہ ابہام پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رہا۔ یہی وجہ ہے زبان کے مسئلے کو پاکستان کی کسی تعلیمی پالیسی میں حل نہیں کیا گیا۔

img Read More

شمالی سندھ : شدت پسندی کا نیا مرکز

ضیاء الرحمٰن

جمہوری جدوجہد، لبرل سیاست اورصوفی روایات کے حوالے سے مشہورصوبہ سندھ کا شمالی علاقہ آج کل مذہبی انتہاپسندی اورفرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے جبکہ حالیہ سالوں میں خودکش حملوں اوردہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد قانون نافذکرنے والے اداروں نے اس خطے کو ’نیا وزیرستان‘ قراردیناشروع کردیاہے جہاں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب اورکراچی میں کاروائیوں کے سبب شدت پسندوں نے اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں

img Read More

مغربی میڈیا کا شامی عوام سے اظہار یکجہتی کا انوکھا انداز

عاطف محمود

شامی عوام پر اسدی حکومت کے بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف اور روسی مداخلت کے ایک سال مکمل ہونے پر مغربی میڈیا نے بڑے واضح انداز سے شامی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے اور اخبارات و رسائل نے شام کی موجودہ صورتحال کی کوریج کے لیےمتعدد صفحات پر مشتمل خصوصی ایڈیشن شائع کیے اور ماضی کے برعکس بغیر کسی لگی لپٹی کے کھل کر شامی عوام کی تائید کرتے ہوئے اظہار یکجہتی کی مثال قائم کر دی ہے۔

img Read More

داعش کی واپسی

محمد عامر رانا

کئی تخمینوں کی مطابق ۲۰۱۲ سے لے کر اب تک سو سے زائد ممالک جن میں پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک بھی شامل ہیں ، کے ۳۰ ہزار سے زائد مرد اور خواتین نے عراق اور شام جا کر وہاں کے عسکری گروپوں بالخصوص دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی ۔ا س میں صرف عسکریت پسند نہیں بلکہ ان کے خاندان بھی شامل ہیں جو کہ ابو بکر البغدادی کی اپیل پر نو تشکیل شدہ اسلامی خلافت کی حمایت میں ہجرت کر کے شام پہنچے ۔اب بہت سارے خاندان وہاں پر جاری تنازعہ کی شدت کی وجہ سے اپنے اپنے ملکوں میں واپس جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔

img Read More

پاکستان کو آگے جانے سے کون روک سکتا ہے ؟

سجاد اظہر

برطانیہ کے مئوقر روزنامہ ڈیلی میل نے آئی ایم ایف کے حوالے سے لکھا ہے کہ چین نے امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا درجہ حاصل کر لیا ہے ۔امریکہ نے یہ درجہ 1872 میں برطانیہ سے حاصل کیا تھا یوں تقریباً144سال دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا درجہ پانے والا امریکہ بالآخر اس اعزاز سے محروم ہو گیا ۔

img Read More

کیا سیرل المیڈا کی خبر نواز حکومت کا میمو گیٹ ہے ؟

سجاد اظہر

خبر اپنا اثر دکھا چکی ہے ۔سرحدوں سے باہراس اثر کو زائل نہیں کیا جا سکتا ۔اس لئے بہتری اسی میں ہے کہ فریقین اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو زائل کرنے میں نہیں بلکہ قائل کرنے میں لگائیں

img Read More

سیرل کو خبر بنانے سے مسئلہ ختم نہیں ہو گا

محمد عامر رانا

جب صحافی خود خبر بن جائے تو ا س کا مطلب ہے کہ اس خبر کے پیچھے کئی بڑی خبریں ہیں ،جن کو اس خبر کے ذریعے روکا گیا ہے ۔سیرل المیڈا کی خبر نے جو بھی بھونچال برپا کیا تھا اب اس بھونچال کو سیرل المیڈا کی خبر سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔اس ساری صورتحال میں اصل موضوع پس منظر میں چلا گیا ہے اور وہ یہ کہ کیا ریاست غیر ریاستی عناصر سے متعلق حتمی فیصلہ کر سکتی ہے ؟

img Read More

مغربی فکر وتہذیب اور حمایت دین کے امکانات

عمار خان ناصر

امت مسلمہ میں مغرب کے سیاسی ومعاشی غلبے کا جو رد عمل پیدا ہوا، بڑی حد تک قابل فہم ہونے کے ساتھ ساتھ، اس لحاظ سے غیر متوازن ہے کہ اس ساری صورت حال میں امت مسلمہ کا داعیانہ کردار اور اس کے تقاضے ہماری نظروں سے بالکل اوجھل ہو گئے ہیں۔ ہمارے پاس خدا کی دی ہوئی ایک ہدایت ہے جو ساری انسانیت کے لیے ہے اور امت مسلمہ اس ہدایت کی امین ہونے کے ناتے سے اس بات کے لیے مسؤل ہے کہ وہ خود حاکمیت کی حالت میں ہو یا محکومیت کی، اس ہدایت کو کسی تعصب کے بغیر دنیا کے ہر اس گروہ تک پہنچائے جس تک دعوت حق کے پہنچائے جانے کا کسی بھی درجے میں کوئی امکان ہو۔ کسی قوم کے ساتھ سیاسی واقتصادی مفادات حتیٰ کہ مذہبی تصورات کا ٹکراؤ بھی اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ امت مسلمہ اس قوم تک دعوت حق پہنچانے کی ذمہ داری سے غافل ہو جائے۔

img Read More

بم دھماکہ

محمد عاصم بٹ

پچیس پچیس تیس تیس سال کے دو نوجوان تھے، چہروں پر سبز چوکور خانوں والے سفید رومال ڈھاٹوں کی صور ت میں باندھے ہوئے کہ ان کی صورتیں پہچانی نہیں جاتی تھیں، موٹر سائیکل پر سوار وہاں آئے، چوکیدار کے پاس۔یکدم پوری قوت سے بریکیں لگا کر انھوں نے گھبرائے ہوئے انداز میں تیز تیز لہجے اور باہم الجھتے ہوئے الفاظ میں اسے بتایا کہ کالج میں ایک بم رکھا گیا ہے، جو بس کچھ ہی دیر میں چل جائے گا، اور یہ کہ یہ بہت پکی خبر ہے، وغیرہ وغیرہ۔ پھرتیزی سے بم بم کی گردان کرتے ہوئے وہ جیسی برق رفتاری سے وارد ہوئے تھے، ویسی ہی عجلت میں آس پاس مشکوک نظریںڈالتے ہوئے منظر سے باہر نکل گئے، ان کی موٹر سائیکل کے شور مچاتے سائلنسر کی آواز البتہ دیر تک سنائی دیتی رہی۔

img Read More

سرجیکل سٹرائیک یا بھارتی بوکھلاہٹ؟

طاہریسٰین طاہر

پروپیگنڈا جدید عہد کا خطرناک ہتھیار ہے۔جھوٹ کبھی سچ کا بدل نہیں ہو سکتا۔پروپیگنڈا کرنے والے البتہ اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔یہ ایک آرٹ ہے۔ اسے ہنر سے استعمال کیا جاتا ہے۔بے ہنر آدمی کے ہاتھوں کیا گیا کام اپنے تخلیق کار کی فنی کمزوری کی چغلی کھا رہا ہوتا ہے۔ایسے ہی جیسے بھارت کا پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کا پروپیگنڈا ۔اس سے پہلے بھی وہ نامراد ہوا تھا اور اب بھی اسے دنیا بھر کے دفاعی ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔انڈیا نے لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحد پار فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیکس کا رنگ دینا حقیقت کو مسخ کرنے کے برابر ہے۔

img Read More

پاکستانی ڈرامے عرب دنیا میںاور ترجمہ کا عالمی دن

عاطف محمود

پرانے وقتوں میں عوام کی انٹرٹینمٹ کا واحد ذریعہ وہ قصہ گو تھے جو شام کے وقت لوگوں کو جمع کر کےقصے کہانیاں سنا یا کرتے تھے،مشہور زمانہ کتاب "الف لیلہ" اور" ہزار داستان " اسی قبیل کے قصہ گوؤں کی کہانیوں کا نتیجہ ہے۔آج کے دور میں قصہ گو کی جگہ ٹیلی ویژن نے لے لی ہے اورعوام کی انٹرٹینمنٹ کا سب سے بڑا ذریعہ ٹی وی بن گیا ہے،اس شعبے میں سب سے زیادہ اہمیت ڈراموں کی ہے جن میں معاشرے کے مختلف رنگ کہانیوں کی شکل میں پیش کیے جاتے ہیں،گویا وہی کہانیاں جو پہلے قصہ گو کی زبانی سنی جاتی تھیں اب ڈرامے کی شکل میں سکرین پر گھر گھر میں دیکھی اور سنی جا سکتی ہیں۔

img Read More

عرب ایران تنازع : تاریخی وتہذیبی تناظر اور ہوش مندی کی راہ

عمار خان ناصر

شرق اوسط میں عرب ایران تنازع کے جہاں سیاسی اور جغرافیائی پہلو اہم ہیں، وہاں اس کی حقیقی ماہیت کو سمجھنے کے لیے اس کا تاریخی وتہذیبی تناظر بھی پیش نظر رہنا بہت ضروری ہے۔ بطور ایک مشخص مذہبی روایت کے، اسلام کی ابتدا ساتویں صدی عیسوی میں جزیرہ عرب میں ہوئی اور بہت جلد مسلمانوں کے سیاسی ومذہبی اقتدار نے ہمسایہ تہذیبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس توسیع سے سب سے زیادہ ایرانی تہذیب متاثر ہوئی، یہاں تک کہ ایک مستقل اور جداگانہ تشخص رکھنے والی تہذیب کے طور پر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ اس صورت حال میں ایرانی قوم نے بحیثیت مجموعی اسلام تو قبول کر لیا، لیکن عربوں کی مذہبی یا سیاسی سیادت کے حوالے سے دو تین مختلف رویے اختیار کیے:

img Read More

”رشتہ لینے تو نہیں جا رہا“

آصف محمود

پڑھیے اور سر پیٹ لیجیے۔ نرگسیت کے گھونسلے سے سر نکال کرصاحب نے فرمایا:” ناراضی کس بات کی، مارچ کی دعوت دینے جا رہا ہوں رشتہ لینے تو نہیں جا رہا“۔گویااخلاقیات کے علمبرداروں نے اپنے کزن طاہر القادری کو بھی نہیں بخشا، حالانکہ کزنز کا ’دادا‘ ایک ہوتا ہے۔ اختلاف ایک چیز ہے ،جسے گوارا کیا جانا چاہیے کہ یہ زندگی کا حسن ہے اور سماج میں شعوری بیداری کی علامت۔لیکن اخلاقیات سے گری ہوئی گفتگو پست ذہنیت کی علامت ہے۔شیخ رشید جیسوں کی صحبت صالح نے اب معلوم نہیں عمران خان کو بدل دیا ہے یا صرف بے نقاب کیا ہے۔تاہم وہ جو زبان استعمال کر ہے ہیں وہ ان کے فکری افلاس اور اخلاقی بحران کا اعلان عام کر رہی ہے۔

img Read More

اقتصادی راہداری اور افغانستان و ایران

محمد عامر رانا

پاکستان کو مسلسل سفارتی دباؤ کا سامنا ہے اسے بھارت کے سفارتی جبر سے نکلنے کے لئے کچھ مؤثر قدم اٹھانا ہوں گے ۔یہ نہیں کہ پاکستان کی پالیسی یا پھر اس کی فراست میں کچھ کمی ہے بلکہ پاکستان کی جانب سے دفاعی سفارت کاری کی وجہ اس کی سرزمین پر غیر ریاستی عناصر کی موجودگی ہے ۔جو نہ صرف پاکستان کے لئے تزویراتی بوجھ بن چکے ہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کی وہ کاوشیں جو سیاسی اور سفارتی میدان میں کی جا رہی ہیں ان کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا ۔اگر اڑی حملہ نہ ہوتا تو اقوام ِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نواز شریف کا خطاب زیادہ قوی اور مؤثر ہو سکتا تھا ۔اگرچہ ابھی تک یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ کون اس کا ذمہ دار ہے مگر انڈیا نے ہمیشہ کی طرح اس کا الزام پاکستان پر لگا دیا ۔

img Read More

پیر الطاف حسین

سید انور محمود

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے لیے 12 مئی اور 22 اگست وہ بھیانک تاریخیں ہیں جس سے اگلے دس بیس سال تو ایم کیو ایم کی جان چھوٹتی نظر نہیں آتی۔ بارہ مئی 2007 کراچی میں ہنگامے، 50 افراد ہلاک ۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں عوامی طاقت کے مظاہرے کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی، جس میں جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے ایم کیو ایم پر فسادات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا لیکن ایم کیو ایم نے الزامات کو مسترد کیا، مگر اس وقت سے 12 مئی ایم کیو ایم کےلیے ایک برا دن کہا جاتا ہے۔ الطاف حسین نےپیر 22 اگست 2016 کو اپنی تقریر میں پہلے تو پاکستان اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے ساتھ ساتھ ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال کے خلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کی اور اس کے بعد پاکستان مخالف نعرئےنہ صرف خود لگائے بلکہ پنڈال سے بھی پاکستان مخالف نعرئے لگوائے۔

img Read More

منتخب وزیر اعظم غدار نہیں ہوتا

آصف محمود

وزیر اعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ میں کیے گئے خطاب کی، پاکستان میں ،سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تحسین کی گئی ہے جو اس بات کا اعلان بھی ہے کہ سماج بتدریج فکری پختگی کی طرف گامزن ہے اور وہ وقت زیادہ دورنہیں جب معاملات میں حتمی حیثیت ہیجان ،نفرت اور تعصب کی بجائے دلیل ،اعتدال اور انصاف کو حاصل ہو گی۔سماج کسی انقلاب سے نہیں ارتقاء سے بدلتا ہے اور آثار بتا رہے ہیں ہمارا سماج ارتقاء کی اولین دستکوں سے گونج رہا ہے۔

img Read More

شارٹ کٹ بمقابلہ شارٹ سرکٹ اسلام

ڈاکٹر خالد مسعود

ہم روزانہ دعا تو سیدھی راہ یا صراط مستقیم پر چلنے کی مانگتے ہیں لیکن تلاش شارٹ کٹ کی رہتی ہے۔ فارسی میں کہتے ہیں کہ راہ راست برو گرچہ دور است ۔ سیدھے رستے پر چلتے رہو چاہے وہ دور ہی ہو۔ اس کشمکش کی وجہ سے ایک بے اطمینانی سی رہتی ہے کہ شارٹ کٹ صراط مستقیم کی مخالف سمت کا نام تو نہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ خط مستقیم سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اور باقی خط ٹیڑھے اور راستے لمبے ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے شارٹ کٹ ہی صراط مستقیم بنتا ہے۔ عربی زبان میں جو خط مستقیم نہ ہو منحنی کہلاتا ہے۔ منحنی ٹیڑھے پن اور گم راہی کی علامت ہے۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ شارٹ کٹ اور صراط مستقیم مترادف ہیں۔ ویسے بھی عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب کا معاملہ ہے۔ ہم جلد از جلد اسلام کی گاڑی پکڑنا چاہتے ہیں۔ مگر پریشانی یہ ہے کہ اس بھاگ دوڑ میں کبھی گاڑی چھوٹ جاتی ہے کبھی اسلام۔ اس کی وضاحت کے لئے ہم ایک حکایت بیان کرتے ہیں۔

img Read More

شدت پسندی اور ذکر تین ناولوں کا

عاطف محمود

دہشت گردی کیسے جنم لیتی ہے؟کون سے عوامل ہیں جو انسان کو پرامن زندگی کے راستے سے ہٹا کر خطرے سے دوچار انتہاپسندانہ راہ چلنے پرمجبور کرتے ہیں؟آئندہ ایسے کون سے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں جن کی بدولت نئے لوگوں کو یہ پرخطر راستہ اختیار کرنے سے روکا جاسکتا ہے تاکہ وہ خود بھی پرامن زندگی گزاریں اور سماج اور ملک بھی بدامنی کے عفریت سے نجات حاصل کر سکے؟ یہ وہ اہم سوالات ہیں جو دانشور وں اور مفکر ین سے بڑھ کر اب عام آدمی کی بھی سوچ کا محور بن چکے ہیں ۔

img Read More

اور اب سیف اللہ نیازی!!!

آصف محمود

برادر مکرم سیف اللہ نیازی نے تحریک انصاف کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل کے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے۔راہ و رسم میں پرانی وارفتگیاں ہوتیں تو عمران خان کو روک کر کہتا : مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا۔ کیسے کیسے لوگ تھے جو کبھی اس شخص کے رفیق تھے ۔نوید خان ، اکبر ایس بابر، ایڈمرل جاوید اقبال،حفیظ اللہ خان نیازی…ٹوٹے دل کے ساتھ ایک ایک الگ ہو لیا۔کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے۔

img Read More

پنجاب میں رینجرز کو کتنے اختیارات ملیں گے؟

طاہریسٰین طاہر

اختیارات کا حصول حکومتوں کا اولین مقصد ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں مگر سیاسی و فوجی حکومتوں کا مقصد ان اختیارات کو عوامی مقاصد و مفادات کے لیے استعمال کم اور ذاتی و گروہی مقاصد کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ہماری ملکی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے۔یہ بھی درست ہے کہ اختیارات کے حصول اور پھر ان کی تقسیم پر فوج،سول حکومت اور عدلیہ کے درمیان کشمکش بھی رہی۔ یہ کشمکش آج تک جاری ہے۔سادہ بات یہی ہے کہ ہمارے ہاں سول حکومتیں کمزور اور اپنی بقا کے لیے جی ایچ کیو کی طرف دیکھ رہی ہوتی ہیں تو ان حکومتوں کے خاتمے کے لیے' تحریکیں' چلانے والے بھی اپنی باری کے لیے جی ایچ کیو کی طرف ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

img Read More

آج کیا پکائیں؟

ڈاکٹر خالد مسعود

آج کیا پکائیں ہر گھر میں روز مرہ کا سوال ہے لیکن پاکستان کی روز افزوں معاشی اور سیاسی ترقی کی وجہ سے اسے ایسا مسئلہ سمجھا جانے لگا ہے جو دن بدن پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ آج کیا پکائیں کی بجائے آپ کیا کھائیں پر زیادہ بحث ہونے لگی ہے۔ ٹیلی ویڑن پر ماہرین نے کیا کھائیں، کب کھائیں، کیسے کھائیں اور کیوں کھائیں کے سوال اٹھا کر ’’آج کیا پکائیں‘‘ کو نظریہ ضرورت کا مسئلہ بنا ڈالا ہے۔ ماہرین کے تن و توش سے جہاں ان کی خوش خوراکی کا پتا چلتا ہے وہاں یہ یقین بھی پختہ ہوتا ہے کہ کیوں اور کیسے ان کا ذاتی مسئلہ ہے۔ان کی ذات سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ ہمیں اعتراض ہے تو صرف اس بات پر کہ انہوں نے اسے عالمگیر ضرورت بتا کر سیدھی سادی دعوتوں کو عداوتوں میں بدل دیا ہے۔

img Read More

دشمن کی شنا خت

محمد عامر رانا

” وہ ہم میں سے نہیں ، وہ ان کے سا تھ ہیں “ ۔ شد ت پسند ی کے تنا ظر میں آجکل اس قسم کے بیا نےے خا صے مقبول ہیں ۔ اس قسم کے بیا نیو ں کا ما ٓخذ وہی رویہ ہے کہ کوئی مسلما ن اور پا کستانی دہشت گر د یا شد ت پسند نہیں ہو سکتا ۔ لیکن وفا قی وزیر دا خلہ نے اچا نک ایک قد رے پرا نے بیا نےے کو دُہرا یا تو احسا س ہو ا کہ مختصر مد ت کے لئے ہم اس بیا نےے کو ” کہ دشمن ہماری ہی طر ح دیکھتا ہے “ کے بھی قائل رہے ہیں ۔

img Read More

کیا قائد اعظم سیکولر تھے؟

اختر بلوچ

30اکتوبر1947ء کو یونی ورسٹی اسٹیڈیم لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئیقائد اعظم نے کہا کہ: اب میں آپ سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ہر شخص تک میرا یہ پیغام پہنچا دیں کہ وہ یہ عہد کرے کہ وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے اور اسے دنیا کی ان عظیم ترین قوموں کی صف میں شامل کرنے کے لیے بوقتِ ضرورت اپنا سب کچھ قربان کردینے پر آمادہ ہوگا۔ اپنا حوصلہ بلند رکھیئے۔ موت سے نہ ڈرئیے۔ ہمارا مذہب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ موت کا استقبال کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔ ہمیں پاکستان اور اسلام کا وقار بچانے کے لیے اس کا مردانہ وارسامناکرنا چاہیئے۔ صحیح مقصد کے حصول کی خاطر ایک مسلمان کے لیے جامِ شہادت نوش کرنے سے بہتر اور کوئی راہِ نجات نہیں۔

img Read More

کیا یہی ہمارا مقدر ہے؟

سلیم گورمانی

گذشتہ روزکے ایک اخبارکے صفحہ نمبرآٹھ کے نچلے نصف میں درج ایک دو کالمی خبر پڑھ رہا تھا۔ جس میں لاہور ہائی کورٹ میں چلنے والے ایک کیس اور سپریم کورٹ کی طرف سے لیے جانے والے از خود نوٹس کی روداد شامل تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے دو معروف کمپنیوں کے ڈبہ پیک دودھ اور جوسز کی فروخت پر پابندی لگا دی تھی کیوں کہ خبر کے مطابق جان لیوا کیمیکلز کے ذریعے دودھ بنایا جا رہا تھا۔ جبکہ سپریم کورٹ نے ناقص خوراک سے متعلق از خود نوٹس لیتے ہوئے قراردیا کہ ڈبہ پیک دود ھ اور مضر صحت منرل واٹر( ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں) " عوام" میں ہیپا ٹائٹس اور کینسر کا باعث بن رہے ہیں۔ جبکہ ناقص پولٹری فیڈ سے تیار کیے گئے برائلرکے ذریعے موت بانٹی جا رہی ہے۔ میں سوچنے لگاکہ کیا یہ زہر خورانی دہشت گردی کی بھیانک ترین شکل نہیں ہے؟

img Read More

احمد ندیم قاسمی سے پہلی ملاقات

پروفیسرفتح محمد ملک

احمد ندیم قاسمی سے پہلی ملاقات میری زندگی کی خوشگوار ترین حیرت کا سبب بنی۔ یہ آج سے لگ بھگ پچاس برس پیشتر کی بات ہے جب راولپنڈی کے ایک مزدور لیڈر بشیر جاوید صاحب میرے ہاں اپنی شادی کی مختلف تقریبات میں شمولیت کے دعوت ناموں کے ساتھ تشریف لائے۔ انہوں نے اپنے تعارف میں احمد ندیم قاسمی کے ساتھ راولپنڈی جیل میں اپنی رفاقت کا حوالہ دیا اور بتایا کہ ندیم صاحب نے فرمائش کی ہے کہ اُن کی شادی سے متعلق تمام تقریبات میں میَں بھی ندیم صاحب کی خدمت میں حاضر رہا کروں۔ یہ جان کرمیری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی کہ میں اپنے دِل میں جس شخصیت سے ملاقات کی تمنّارکھتا ہوں وہ فقط چند روز بعد اپنے ایک سابق ہم قفس کی دعوت پر بس راولپنڈی آیا ہی چاہتی ہے اور یوں میری ان سے ملاقات کی دیرینہ تمنّا پوری ہونے کو ہے۔

img Read More

عالمگیرمالی بدعنوانی اصلاح طلب …بین الاقوامی اقتصادی قانونی مسئلہ

ڈاکٹر خالد مسعود

اپریل 2016میں پاناما دستاویزات کی اشاعت سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ مالی بد عنوانی ایک عالمگیر مسئلہ ہے جس میں ترقی پذیر ہی نہیں ترقی یافتہ ممالک بھی ملوث ہیں۔پوری دنیا ہو شربا مہنگائی اور مالی بدعنوانیوں کا شکار ہے اور غربت میں ناگفتہ بہ اضافے کی وجہ سے ہر ملک کے عوام چیخ اٹھے ہیں۔غربت میں اضافہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی شدید مسائل پیدا کر رہا ہے۔پانامادستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ حالیہ معاشی اور معاشرتی تباہی کی اصل ذمہ دار عالمگیر اقتصادی پالیسیاں ہیں جن کو قانونی پشت پناہی حاصل ہے۔ آج ہر طرف یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ان استحصال پرور بین الاقوامی قوانین میں فوری اصلاحات کی جائیں،جن ملکوں سے یہ دولت لوٹی گئی ہے ان کو واپس کی جائے اور بدعنوانی کے مرتکب افراد کا فوری احتساب کیا جائے۔

img Read More

پاکستان پر چین کے ابھرتے نقوش

افشاں صبوحی

کارکردگی خود کو منواتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شامل توانائی، انفراسٹرکچر اور گوادر سمیت دیگر صنعتی منصوبوں پر کام کے آغاز نے ناقدین کی بازگشت کو دبا دیا ہے اور معاشرے پر اپنی افادیت ظاہر کرنا شروع کردی ہے۔جیسا کہ پاکستان میں افرادی قوت کو درپیش مانع زبان مسائل اور مہارت سازی میں فرق جیسی مشکلات کا سدباب کرنے کے لیے منظم میگا سماجی اقتصادی منصوبے کا فقدان چلا آرہا ہے۔

img Read More

" جنتی صوبہ"

وقار گیلانی

حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں سوات ایکسپریس وے کا افتتاح کیا جس پر مخالف سیاسی جماعتوں نے تنقید کی کہ موٹروے کی مخالفت کرنے والے اب خود موٹروے بنا رہے ہیں ۔ کچھ اس طرح کی تابر توڑ تنقید عمران خان کی منظوری سے شروع کئے جانے والے ایک ارب درخت لگانے کے منصوبہ(بلین ٹری پراجیکٹ ) پر کی جاتی ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے "سیاسی حملہ آور" بار بار پی ٹی آئی کے "بلین ٹری پراجیکٹ " یعنی کہ ایک ارب درخت لگانے کے منصوبہ پر تنقید کرتے کہتے نظر آتے ہیں کہ پی ٹی آئی ذرا صوبہ میں لگائے گئے درخت گن کر دکھائے ۔

img Read More

مسئلہ فلسطین کا تاریخی پس منظر اور غامدی صاحب (آخری حصہ)

عاطف محمود

جنگ عظیم دوم کے دوران برطانیہ کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے یہودیوں نے اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کر لیا اور ان کی نگاہیں امریکہ کی طرف لگ گئیں،انہوں نے امریکہ سے مراسم بڑھانا شروع کر دیے جس کا اثر جلد ہی سامنے آیا اور 1944 میں پہلی مرتبہ امریکی صیہونیوں کی طرف سے کھلے بندوں یہودی مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ 1946 کے موسم خزاں میں برطانوی حکومت نے لندن میں مسئلہ فلسطین کے تصفیہ کے لیے ایک کانفرنس منعقد کی جس میں عرب حکمرانوں کو مدعو کیا تاہم اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا ،اس کے بعد برطانیہ نے فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں لے جانے کا فیصلہ کر لیا۔

img Read More

تنازعات سے پاک دُنیا کے دس ممالک

میڈیا رپورٹ

دسویں سالانہ گلوبل پیس انڈیکس کے مصنفین کے مطابق ''دُنیا ایک خطر ناک جگہ بنتی جارہی ہے مگر یہاں دس ممالک ایسے بھی ہیں جنہیں مکمل طو رپر تنازعات سے پاک سمجھا جاسکتا ہے'' مشرقِ وسطیٰ میں بگڑتے تنازعات،پناہ گزینوں کے بحران پر قابو نہ پایا جانااور دہشت گردی کے بڑے واقعات میںزیادہ اموات ،ان سب نے دُنیا کو دوہزار پندرہ کی نسبت دوہزار سولہ میں کم امن بنادیا۔دُنیا میں بہت ہی کم ممالک ایسے ہیں جنہیں سچ مچ پُراَمن متصور کیا جاسکتا ہے…دوسرے لفظوں میں وہ اندرونی یا بیرونی کسی طرح کے تنازعات کا شکار نہیں ہیں ۔

img Read More

تصورِ پاکستان کا نِت نیا بیانیہ:خلیفہ عبدالحکیم یادگاری خطبہ(آخری حصہ)

پروفیسرفتح محمد ملک

اِس نئے سیاسی بیانیہ کی رُو سے اس طرح کا سوال اُٹھانا سرے سے ممکن ہی نہ رہا- اِس کے برعکس دُنیا میں سرمایہ پرستی کے سفینے کی حفاظت ہماری منزلِ مقصود قرار پائی- ایوانِ اقتدار کے اندر اور باہر بیٹھے ہوئے سرمایہ پرستوں نے اِس نئی آئیڈیالوجی کو اِس ذوق و شوق کے ساتھ اپنایا کہ منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کو یہ صدائے احتجاج بلند کرنا پڑی کہ پاکستان کی دولت فقط چند ہاتھوں میں مرتکز ہو کر رہ گئی ہے- چنانچہ ایوب خان نے تیسرے پنج سالہ منصوبے کے دیباچہ میں یہ عہد کیا کہ وہ پاکستان کے اقتصادی نظام کو اسلامی سوشلزم کے اصولوں کے مطابق تشکیل دیں گے-اس پر ایوب حکومت کے کارپردازان میں سے چند سرمایہ پرست اشتعال میں آگئے -

img Read More

باراک اوباما کو انڈونیشیا کے عوام کیوں پسند کرتے ہیں؟

نوشین جاوید

باراک اوباما بحیثیت صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ ایشیا کے آخری دورے پر ہیں۔اپنے اس دورے کے دوران وہ چین اور لاؤس جائیں گے لیکن انڈونیشیا نہیں، جہاں ابھی تک امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر کے لیے ایک خاص الفت پائی جاتی ہے۔اوباما نے پہلی مرتبہ بطور صدر 2010ء میں انڈونیشیا کا دورہ کیا تھا تب ان کا انتہائی شاندار استقبال کیا گیا۔ 2008 ء میں صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد بہت سے لوگوں کو امید ہو چلی تھی کہ وہ نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت تبدیلیاں لائیں گے تاہم آٹھ برس گزر جانے کے بعد یہ امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں لیکن دنیا کے دیگر ملکوں کے برعکس انڈونیشیا میں صورتحال کچھ مختلف ہے جہاں لوگ ’’بیری‘‘ سے اب بھی محبت کرتے ہیں۔

img Read More

تقسیم ہند کے فسادات اور بھیشم ساہنی کا ناول تمس

محمد عاصم بٹ

تقسیم اور اس سے جڑے ہوئے ہجرت اور فسادات کے واقعات کی ہولناکی نے سرحد کے دونوں طرف لکھنے والوں کی ایک سے زائد نسلوں کو متاثر کیا اور اردو ہی میں نہیں بلکہ ہندی اور برصغیر کی دیگر زبانوں میں بھی اس موضوع پر شعر و نثر میں بہت لکھا گیا۔ منٹو کے گنجے فرشتے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ فوراً ہی اس موقع پر ذہن میں آتے ہیں۔ قرة العین حیدر ، انتظار حسین اور عبداللہ حسین، بالکل سامنے کے نام ہیں۔شاعری میں امرتا پریتم کی 'اج آکھاں وارث شاہ نوں'کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے۔استاد دامن، ساحر، فیض،احمد ندیم قاسمی اور ناصر کاظمی، یہ چند نام ہیں جن کی شاعری میں ہجرت اور فسادات کے دکھ کا رنگ گہرا ہے۔

img Read More

دہلی کے 324 سالہ قدیم سکول کی حالت زار

میڈیا رپورٹ

نئی دہلی کا 324 سالہ قدیم اینگلو عریبک سکول جہاں کئی نابغہ روزگار شخصیات نے تعلیم حاصل کی وہ آج کل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ۔کئی اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں ،نہ کوئی لیب اسسٹنٹ ہے نہ لائبریرین ،تاہم اس کے باوجود سرکاری فنڈز سے چلنے والا یہ سکول اس جستجو میں ہے کہ وہ ان 1800ضرورت مند طلباء کو تعلیم فراہم کرے جو یہاں معمولی فیسیں دے کر حصول علم جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔

img Read More

مسئلہ فلسطین کا تاریخی پس منظر اور غامدی صاحب (حصہ دوم)

عاطف محمود

سایکس پیکو معاہدے میں فلسطین کو انٹرنیشنل ایریا قرار دینے کے فیصلے پر برطانیہ کو پہلے ہی افسوس تھا،بعد میں جب اٹلی کے شہر سان ریمو میں جنگ عظیم اول کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ سے کٹ جانے والے علاقوں کے مستقبل کے بارے میں کانفرنس ہوئی تو برطانیہ نے سان ریمو معاہدے کی بنا پر فلسطین کو اپنے کنٹرول میں لے لیا جسے انتداب فلسطین بھی کہا جاتا ہے جس کا اطلاق برطانوی انتظامیہ کے تحت اردن و فلسطین کے جغرافیائی و سیاسی وجود پر ہوتاتھا جو کہ جنگ عظیم اول کے بعد سلطنت عثمانیہ سے جنوبی شام کو الگ کر کے بنایا گیا تھا۔ فلسطین میں برطانوی شہری انتظامیہ 1920 سے 1948ء تک موجود رہی۔

img Read More

تصورِ پاکستان کا نِت نیا بیانیہ:خلیفہ عبدالحکیم، یادگاری خطبہ

پروفیسرفتح محمد ملک

حیدر آباد دکن میں جب عثمانیہ یونیورسٹی قائم ہوئی تو علامہ اقبال نے اپنی بجائے خلیفہ عبدالحکیم کو شعبہءفلسفہ کا صدر بنانے کی تجویز پیش کرتے وقت لکھا تھا کہ :”خلیفہ عبدالحکیم بھی اقبال ہی ہیں “ خلیفہ عبدالحکیم سے اقبال کی یہ توقعات بیش از بیش پوری ہوئیں- انھوں نے نئے حالات میں فکرِ اقبال کی تشریح و توضیح کا فریضہ جس شان کے ساتھ ادا کیا اورہماری قومی زندگی کو درپیش مشکلات سے پنجہ آزمائی میں فکرِ اقبال ہی کے تسلسل میں جس جر Éتِ فکر و اظہار کا ثبوت دیا وہ بے مثال ہے- اقبال کے مرشدِ روشن ضمیر مولانا رومی کے فکری اور روحانی کمالات پر اُن کی نصف درجن تصنیفات اقبال اور رومی سے اُن کی گہری محبت کا بیّن ثبوت ہیں- اُن کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان The Metaphysics of Rumi صرف مولانا رومی ہی نہیں ، مسلمانوں کے فلسفہءتصوف پر اپنی نوعیت کی واحد تصنیف ہے- غالب اور اقبال کی شاعری کی تحسین اُن کی تخلیقی تنقید کا ایک جداگانہ رنگ ہے لیکن مجھے آج ، اس نشست میں ، سیاسی نظریہ و عمل کی دُنیا میں اُن کی یادگار خدمات کی جانب اشارہ کرنا ہے۔

img Read More

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف آئین کا مطالعہ تو کر لے

آصف محمود

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے سفارش کی ہے کہ الطاف حسین کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔یہ خبر پڑھ کر میں سوچ رہا ہوں کہ دستور پاکستان کی کچھ کاپیاں ان معزز اراکین پارلیمنٹ کو بھجوا دوں تاکہ انہیں یہ تو معلوم ہو کہ آرٹیکل 6 ہے کیا اور اس کا اطلاق کس قسم کی صورت حال پر ہوتا ہے۔

img Read More

رُل جانے کی چَس

ڈاکٹر خالد مسعود

اناطول لیوین کی کتاب ’’پاکستان سخت جان ملک‘‘ تو 2011 میں شائع ہوئی لیکن پاکستانیوں کو اپنی سخت جانی کا پہلے سے پتا ہے۔ البتہ لیوین کوبھی یہ معلوم نہیں کہ اس سخت جانی کا اصل راز ہماری ُرل جانے کی چَسْ ہے۔ یہ راز ہمیں ایک مسافر ویگن سے معلوم ہوا جس کے پیچھے یہ قول زریں لکھا تھا۔ " رُل تے گئے آں پر َچسْ بڑی آئی اے"۔ بظاہر یہ کوئی سیاسی بیان نہیں صرف بربادی کی شکایت ہے ۔لیکن یہ اعتراف کہ بربادی میں مزا بہت آیا پاکستانی سخت جانی کا سر نہاں ہے۔ لٹ جانے والےکو لٹنے کا چسکہ لگا دینا اصل سیاست ہے۔ یہ چَسّ انسان کو اتنا سخت جان بنا دیتی ہے کہ بڑے سے بڑا بحران بھی اسے پریشان نہیں کر سکتا۔

img Read More

ایک نئے دور کا آغاز :جو ابھی تک ایک خواب ہے !

میڈیا رپورٹ

28 برس ہو گئے تھے کسی بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کا دور ہ نہیں کیا تھا۔کیونکہ جنوبی ایشیائی ہمسایوں میں ہمیشہ جنگ کی کیفیت رہتی ہے ۔مگر 29 دسمبر 1988 کو صورتحال تبدیل ہو گئی جب بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اسلام اباد میں قدم رکھے تاکہ پاک بھارت دو طرفہ تعلقات میں ایک نئے پر امن دور کی بنیاد رکھی جا سکے ۔

img Read More

موہٹہ کی کراچی بدری اور قائد اعظم

اختر بلوچ

موہٹہ کراچی کی ایک انتہائی امیر ترین شخصیت تھی۔تقسیم ہند کے باوجود وہ کراچی کسی حال میں چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھا۔کراچی چھوڑنے کی بنیادی وجہ کلفٹن کے علاقے میں اس کا محل موہٹہ پیلس تھا۔اس محل پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔قبضہ کسی اور نے نہیں حکومت پاکستان نے کیا تھا۔موہٹہ ایک مخیر شخص تھا اور اپنے اس محل میں گاہے بہ گاہے آنے والے سوالیوں کی مرادیں پوری کرتا تھا۔مہوٹہ نے یہ محل کیوں بنوایا؟ اور بالاآخر کیوں خالی کیا؟ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں تقسیم ہند کا کرب نمایاں ہے۔

img Read More

اصلاحات کے تقاضے

اسلم اعوان

قبائلی علاقوں میں سیاسی اصلاحات متعارف کرانے کے لئے اعلی سطحی ریفارمز کمیٹی نے رپوٹ پیش کر دی،جسے 23 اگست کو وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں زیر غور لایا گیا، قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کی سربراہی میں بنائی گئی پانچ رکنی ریفارمز کمیٹی جس میں،خیبر پختون خوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا،وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ،نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ناصر جنجوعہ اور وزیرقانون زاہد حامد شامل ہیں،نے دس ماہ کی تگ و دو کے بعد جو سفارشات مرتب کیں،ان میں پہلی، فاٹا کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے بتدریج انتظامی و عدالتی اصلاحات متعارف کرانے،دوسرے، فاٹا کا انتظام چلانے کے لئے گلگت بلتستان طرز کی منتخب کونسل کا قیام،تیسرے، فاٹا کو الگ صوبہ کا درجہ عطا کرنے اور چوتھا،قبائلی پٹی کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے پر مبنی تجاویز شامل ہیں

img Read More

پنجاب سپیڈ “کی ڈھینچوں ڈھینچوں، کٹ کٹ کٹاک اور ککڑوں کوں

آصف محمود

اہل شکم جس تجربہ کاری اور ویژن کو ” پنجاب سپیڈ “ کا نام دیتے ہیں کیا آپ نے اس ” پنجاب سپیڈ “ کی ڈھینچوں ڈھینچوں ،کٹ کٹ کٹاک اور ککڑوں کوں سنی ہے؟ لیکن ٹھہریے پہلے ذرا یہ کافروں کی بات ہو جائے۔پھر تجربہ کاری اور ویژن سے مالا مال پنجاب سپیڈ کی ڈھینچوں ڈھینچوں ،کٹ کٹ کٹاک اور ککڑوں کوںسنیں گے۔ کبھی آپ نے سوچا یہ یہودی کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں؟کینسر جیسے موذی مرض کی انہوں نے ویکسین بنا لی ہے۔اس ویکسین کا کمال یہ ہے کہ اس کا کوئی سائڈ ایفیکٹ نہیں ہے۔یہ صرف کینسر کا باعث بننے والے خلیوں کو تباہ کرے گی۔یروشلم کے حداش آئن کیرم یونیورسٹی ہاسپٹل اور حیفہ کے رامبام میڈیکل سنٹر میں اس ویکسین کے کامیاب تجربات ہو چکے ہیں ۔اسرائیل کے ڈاکٹر لیور کیمرون کا کہنا ہے کہ بلڈ کینسر سمیت نوے فیصد کینسر کا کامیاب علاج اس ویکسین کے ذریعے ممکن ہے۔

img Read More

مذہبی فرقہ واریت کا سد باب: توجہ طلب پہلو

عمار خان ناصر

فرقہ واریت کی اصطلاح عموماً‌ اس مذہبی تقسیم کے حوالے سے استعمال کی جاتی ہے جس کا اظہار مختلف گروہوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تکفیر وتضلیل کے فتاویٰ اور اپنے اپنے وابستگان میں دوسروں کے خلاف مذہبی بنیاد پر منافرت پیدا کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے اسباب بنیادی طور پر دو ہیں۔ ایک کا تعلق مذہبی فکر سے اور دوسرے کا سماجی حرکیات سے ہے۔ فرقہ وارانہ مذہبی فکر کا محوری نکتہ یہ ہوتا ہے کہ کسی مذہبی عقیدے کی تعبیر میں مستند اور معیاری موقف (یعنی جسے کوئی گروہ اپنے فہم کے مطابق مستند اور معیاری سمجھتا ہو)سے اختلاف کرنے والے اس مذہب کے ساتھ اپنی جس اصولی وابستگی اور نسبت کا دعویٰ کرتے ہیں، اس کی یکسر نفی کر دی جائے اور انھیں ان لوگوں کی مانند قرار دیا جائے جو سرے سے اس مذہبی روایت کے ساتھ کوئ نسبت ہی نہیں رکھتے۔

img Read More

مسئلہ فلسطین کا تاریخی پس منظر اور غامدی صاحب (حصہ اوّل)

عاطف محمود

پیغمبروں کی سرزمین پر یہودی کیونکر قابض ہوئے؟ کیا یہ قبضہ جائز ہے؟ قبضہ کے وقت فلسطین پر کس کا کنٹرول تھا؟ کیا فلسطین خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا؟ فلسطین کو برطانوی تفویض میں دینے والا کون تھا؟ کیا عربوں اور مسلمانوں کو یہودی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا پچھلے دنوں محترم غامدی صاحب نے جائزہ لیا اور مخصوص انداز میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا جس کے بعد سے اس موضوع پر ہمارے علمی و سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے، ہم پہلے اس مسئلے کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیں گے اس کے بعد غامدی صاحب کی معروضات پر نظر ڈالیں گے کہ وہ کس حد تک ان تاریخی حقائق سے مطابقت رکھتی ہیں۔

img Read More

نرم اہداف کا قضیہ

محمد عامر رانا

دہشت گرد ''نرم اہداف''کا انتخاب کیوں کرتے ہیں؟عمومی تا ثر یہی ہے کہ جب ''سخت''اہداف کا حصول مشکل ہو جائے ۔اگر ایسا ہے تو وہ کون سی چیز ہے جو ہدف کو ''نرم ''بناتی ہے؟ سکیورٹی اُمور کے ماہر اس مسئلے کو مختلف حوالوں سے سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں اور ابھی بہت سے سوالات ،جواب طلب ہیں ۔مثال کے طور پر کیا دہشت گرد بھی ''نرم اہداف''کو واقعی اتنا ''نرم'' سمجھتے ہیں ،جتنا کہ ریاست بتاتی ہے ۔کیا ایسے اہداف کو قدرے کم منصوبہ بندی اورا سٹریٹجک سوچ کی ضرورت ہوتی ہے ؟اور سب سے اہم یہ کہ دہشت گرد کا اپنا تصورِ دُشمن کیا ہے جسے وہ ہدف بنانا چاہتا ہے ؟

img Read More

دانا ماجھی کی بیوی اور نامعلوم شخص

شازی احمد

ایک دوسرے کے دُشمن معاشرے اندر سے اپنے ہی دُشمن ہیں ،اس کے لیے دو واقعات کا بیان ہی کافی ہے۔ایک واقعہ اُس طرف پیش آیا او ر ایک اس طرف۔دونوں نے سماجی بے حسی کی بدترین مثال قائم کردی۔دانا ماجھی کا اپنی بیوی کو تقریباًبارہ کلومیٹر کندھوں پر اُٹھانا اور دوسری طرف نامعلوم شخص کو گدھے ریڑھی پر ڈال کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا،جہاں انسانیت کی تذلیل ہے ،وہاں بہت سے سوالات بھی ذہن میں کلبلا اُٹھتے ہیں۔

img Read More

انسدادِدہشت گردی کے لیے برقعہ پر پابندی دانشمندانہ اقدام نہیں

میڈیا رپورٹ

حالیہ ہفتوں میں دہشت گردی کے خطرات میں تیزی سے اضافہ کے ساتھ،معرو ف جرمن سیاست دانوں کی ایک معقول تعداد نے متنازعہ ردِ عمل دیا ہے: مسلم خواتین کے کسی بھی طرح کے مکمل چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد ہو گی۔''مکمل چہرے کے پردے پر پابندی واجب ہے ،جیسا کہ برقعہ اور نقاب،اور یہ دنیا کے لیے ایک اشارہ ہو جائے گا''جینز سیفن جو کہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی کرسچن ڈیموکریٹ پارٹی کی اُبھرتی ہوئی شخصیت ہیں ،نے ڈائی ولٹ اخبار کو گذشتہ ماہ خود کو ''برقعہ فوب''بتایا۔

img Read More

ہمارا معاشرہ اور بے چارگی میں ڈوبا فرد

ڈاکٹر افتخار بیگ

ہمارا پاکستانی معاشرہ اس وقت قافلہ ء اقوام عالم کے ساتھ مستقبل کے سفر پر گامزن ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اس قافلے کی آخری ٹولی کے طور پر سفر کر رہے ہیں۔اس آخری ٹولی میں نہ ہمت ہے ، نہ حوصلہ اور طاقت ۔نتیجتاً اس معاشرے کے لوگ اقوام عالم سے خائف بھی ہیں اور حسد کا شکار بھی۔آگے بڑھ نہیں سکتے اور پیچھے رہنا گوارا نہیں کرتے۔ ہمارے معاشرے کے لوگ ایک عجیب سی خفت اور انفعالیت کا شکار ہیں۔اس خفت اور انفعالیت کا نتیجہ ہے کہ ہم باقی ماندہ دنیا کے معاشروں کے حوالے سے ایک غصے کا شکار بھی ہیں۔

img Read More

اردو، ناول اور غزل:چند خیالات(آخری حصہ)

محمد عاصم بٹ

زبانیں اپنی بقا کے لیے تشکیلی عمل میں گرفتار رہتی ہیں اور یہی گرفتاری جسے ہم ارتقاء یا وسعت پذیری کا نام دے سکتے ہیں، ان کی اثرانگیزی اور تازہ کاری کی ضامن بھی ہوتی ہے۔ اردو میں وسعت پذیری کے رویے کے بجائے اس کے خالص پن پر اصرار کو معیار بنایا گیا اور اس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ خالص پن سے کیا مراد ہے یہ بات ایک 'میل شاونسٹ' معاشرے میں سمجھنا کچھ زیادہ دشوار نہیں ہے۔ رامائن میں سیتا کو اگنی پرکشا سے گزرنا پڑا تھا کیوں کہ اس کے خالص پن پر شک کیا گیا تھا۔

img Read More

پاکستان میں آلات ِ جراحی کے شعبے کی حالت ِ زار

میڈیا رپورٹ

پاکستان آلات ِ جراحی کا سرکردہ بر آمد کنندگان میں سے ہے لیکن پھر بھی مقامی مینوفیکچرز کے حصے میں اس کی عالمی تجارت جو کہ17 ارب ڈالر کی ہے اس کا صرف دو فیصد یعنی 359ملین ڈالر ہی آتا ہے کیونکہ اصل پیسہ آڑھتی لے جاتا ہے ۔اب اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کے ذمہ دار اس صنعت سے وابستہ وہ لوگ ہیں جو عالمی سطح کی کوئی برانڈ بنا ہی نہیں سکتے ۔بنیادی طور پر مقامی تیار کنندگان امریکہ اور مغربی یورپ کی برانڈز کے لئے مال بناتے ہیں جو اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ان کی برانڈز سیالکوٹ کے ہنر مند ہاتھوں کے ذریعے تیار ہو ۔ک

img Read More

مسئلہ کشمیر اور ہمارے لکھنے والے

پروفیسرفتح محمد ملک

صاحب طرز انشاءپرداز اشفاق احمد کے ایک افسانے کی مرکزی کردار مظلوم کشمیری لڑکی شازیہ اُردو کے نامور ادیبوں اور شاعروں کے پاس یکے بعد دیگرے جاتی ہے اور ان میں سے ہر ایک کی خدمت میں کشمیری مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ پیش کرتی ہے مگر سارے کے سارے ادیب کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کے پاس اپنا اپنا بہانہ ہے۔کوئی کہتا ہے کہ "میری لائن انسان دوستی ہے سیاست نہیں"کوئی کہتا ہے کہ "یہ میری فیلڈ نہیں ہے میں گرامر،عروض اور ساختیات کا سٹوڈنٹ ہوں"۔یہ لڑکی ستیاجیت رائے اور گلزار جیسے فلم سازوں کے پاس بھی کشمیریوں کی مظلومیت کی فریاد لے کر جاتی ہے۔

img Read More

تبدیلی تو شاید مکاچوک میں جنم لے چکی ہے

شازی احمد

ایم کیو ایم کے قائد جو بمطابق فاروق ستاراب بانی قائد ہیں،کی بائیس اگست کی تقریر ایم کیو ایم کو ایک نیا موڑ دے گئی۔جیسے ہی الطاف حسین نے تقریر ختم کی ،تو کارکنان مشتعل ہوگئے۔اُن کا اشتعال میں آنا ،متحدہ کو نئے چیلنجز کے حوالے کر گیا۔بائیس دسمبر کی شام کے بعد صورتِ حال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتی چلی گئی ۔اگلے دِن یعنی تیئس اگست کو فاروق ستار نے پریس کانفرنس کی ،جس میں پارٹی کے معاملات یہاں سے چلائے جانے کا اعلان کیا۔تو ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔سوالات اُٹھائے جانے لگے،اندازے قائم کیے جانے لگے کہ فاروق ستار کی یہ بات کہ متحدہ کے فیصلے اب کراچی سے ہوں گے ، کس حد تک او ر کیونکر ممکن العمل ہوگی۔

img Read More

کیا واقعی! مقامی قیادت ہی متحدہ کے فیصلے کرے گی؟

سید عارفین

گذشتہ سال 11 مارچ کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ، اپنے مرکز نائن زیرو پر مارے گئے رینجرز کے چھاپے کے بعد عتاب کا شکار تھی۔یکم مئی کو رینجرز نے رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینیر ڈاکٹر فاروق ستار کے کوارڈینیٹر آفتاب احمد کو حراست میں لیا۔ دو دن بعد 3 مئی کوآفتاب احمد کو انتہائی تشویشناک حالت میں جناح اسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ آفتاب احمد کے جسم پربہیمانہ تشدد کے نشانات موجود تھے جس کی تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بھی ہوگئی تھی۔بظاہر تو یہ آفتاب احمد کے اہل خانہ او ر ان کی جماعت کے لئے بری خبر تھی لیکن درحقیقت یہ وہ پہلا موقع تھا جب ایم کیو ایم کو اس موقع پر میڈیا کی بھرپور سپورٹ ملی ۔

img Read More

ارض فلسطین کا اصل حقدارکون:مسلمان یا یہودی؟

عاطف محمود

"فلسطین بنیادی طور پر یہودیوں کی ہی سرزمین تھی اس لیے اگر وہاں دوبارہ یہودی آباد ہوئے ہیں تو یہ ان کا تایخی حق ہے" یہ وہ مغالطہ ہے جس کی بازگشت اب ہمارے ہاں بھی سنائی دے رہی ہے،یہ نظریہ اصل میں اوسط درجے کے عیسائیوں خصوصا ان پروٹسٹنٹ کا ہےجن کی تربیت اولڈ ٹیسٹامنٹ (عہد نامہ عتیق ) پر ہوئی ،پروٹسٹنٹ عیسائی فلسطین کو یہودیوں کا ملک سمجھتے ہیں جس کا اختتام آمد مسیحؑ پر ہوتا ہے،اس کے بعد آنے والے دوہزار برس میں ایک خلا ملتا ہے اسی لیے ایک خالی ملک کی نسبت یہ رائے قائم کی گئی ہے کہ وہ ایسے پراگندہ اور منتشر لوگوں کی طرف سےپذیرائی کا انتظار کر رہا ہے جو مدتوں پہلے تتر بتر ہو چکے ہیں،مقبول عام قول بھی اسی بنا پر ہے کہ " ایک بےقوم ملک ،ایک بے ملک قوم کو دیا جائے" مگر تاریخی حقائق سے تھوڑی سی آگاہی اس غلطی کا طلسم توڑنے کے لیے کافی ہے۔

img Read More

الطاف حسین کی تقریر: ایم کیوایم پھرمشکل میں

ضیاء الرحمٰن

سندھ کے شہری علاقوں خصوصاً کراچی اورحیدرآباد کی ایک مؤثرپارلیمانی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ستمبر2013 سے شہر میں رینجرزکی سرپرستی میں شروع ہونے والے ٹارگٹڈآپریشن کی وجہ سے پہلے ہی مشکلات کاسامنا کررہی تھی اورشہرکے معاملات پرگرفت کمزور ہوتی جارہی تھی۔ ایسی صورت حال میں پیر کو پارٹی قائد الطاف حسین کی جانب سے کراچی پریس کلب میں منعقدہ بھوک ہڑتالی کیمپ سے برطانیہ سے ٹیلیفون پر پاکستان مخالف تقریر اور اس کے بعد ایم کیوایم کارکنوں کا میڈیا اداروں اوراہلکاروں پرحملوں سے، بلاشبہ ایم کیوایم کے مسائل میں مزیداضافہ ہواہے۔

img Read More

دہشت گردی کے مقابلے کے لئے کاروباری طبقے کا کردار

افشاں صبوحی

پاکستان کے کاروباری طبقے کو کوئٹہ دھماکے سے ایک بار پھر سخت دھچکا لگا ہے ۔والدین خوف زدہ ہیں کمپنیاں اور ان کے ملک سے باہر شراکت دار اس انتظار میں ہیں کہ حالات کب بہتر ہوتے ہیں انتظامیہ کب ملک میں امن و امان بحال کرتی ہے ۔کئی معروف سرمایہ کاریہ گمان کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کی مالی مدد کے الزام میں ان پر ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے کیونکہ اس سلسلے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے جاتے ۔

img Read More

مذہب اور معاشرتی اصلاح ، خواتین کے مقام وحقوق کے تناظر میں

عمار خان ناصر

اللہ کے مستند پیغمبروں کی دعوتی جدوجہد سے مذہب کا جو تصور سامنے آتا ہے، اس کا ایک بہت بنیادی جزو معاشرتی ناہمواریوں اور اخلاقی بگاڑ کی اصلاح ہے۔ مذہب انسان کے عقیدہ وایمان کے ساتھ ساتھ اس کے عمل کا بھی تزکیہ چاہتا ہے، چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ انسانی جبلت کے منفی رجحانات سے پیدا ہونے والے معاشرتی رویوں اور رسوم واعمال کی اصلاح مذہبی تعلیمات کا موضوع بنے۔ اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو آپ نے بھی عرب معاشرے کے تین پسے ہوئے اور مظلوم طبقوں، یعنی غلام لونڈیوں، عورتوں اور بے سہارا یتیموں کو اٹھانے اور انھیں ان کے حقوق دلوانے کو اصلاح معاشرہ کی جدوجہد کا بطور خاص ہدف ٹھہرایا۔

img Read More

اُردو ناول اور غزل :چند خیالات(دوسرا حصہ)

محمد عاصم بٹ

اردو ادب کی ابتداءالبتہ غزل سے ہوئی۔اس کی ایک وجہ تو یہ بھی تھی کہ برصغیر میں بیشتر مسلمان حملہ آوروں اور حکمرانوں کا تعلق ایران یا فارسی بولنے والے افغانی قبیلوں سے تھا۔ فارسی ادب میں قصیدے کا، جو ایک درباری صنف مانا جاتا ہے، ایک اہم جزو غزل ہے۔ سو برصغیر میں دربار نے قصیدے کے ساتھ ساتھ غزل کے فروغ کا بھی کام کیا۔ دنیا کی بیشتر بڑی زبانوں کے برعکس جن کے ادب کا آغاز نظموں سے ہوا، اردو کو شکل دینے کی ذمہ داری غزل جیسی اختصار پسند صنف کے حصہ میں آئی۔اور یہی وہ صنف تھی جس نے آنے والے دنوں میں ادب کے مجموعی مزاج کی ساخت و پرداخت اور مختلف اصناف کے قبول یا رد کئے جانے سے متعلق فضا استوار کرنے کی ذمہ داری اٹھانا تھی۔

img Read More

اردو، ناول اور غزل:چند خیالات

محمد عاصم بٹ

اردو میں لگ بھگ ڈیڑھ سو برسوں پر پھیلی تاریخ کی حامل اس صنف ناول میں ہم عالمی معیار کے شاید اتنے ناول بھی پیدا نہیں کرپائے جتنی انگلیاں ہمارے ہاتھوں میں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے برعکس عام دلچسپی کے ناول جنھیں کمرشل فکشن کا نام دیا جاتا ہے، اردو میں اتنی تعداد میں شائع ہوئے کہ جیسی فراوانی سے اردو کی کوئی بھی دوسری صنف محروم ہے۔ سنجیدہ فکشن کی معاملے میں اردو کی یہ فرومائگی گہری تحقیق و تجزیے کی متقاضی ہے۔

img Read More

عمران دقنیش....تم وہوا سے حلب کیسے پہنچ گئے؟

حسن سردار زیدی

مَیں ڈیرہ غازی خان کے علاقے وہوامیں رہتا ہوں۔دُور کے ایک پرائمری سکول میں اُستاد ہوں۔چند سال اُدھر شادی ہوئی۔ایک بیٹاہے۔اپنا دوکمروں کا کچا پکا گھر ہے۔ایک کمرے میں ،مَیں میری بیوی اور بیٹا رہتے ہیں ۔ایک میں امی ابو۔بیٹا پہلی کلاس میں پڑھتا ہے۔مَیںنے اُسے اپنے سکول میں داخل نہیں کروایا۔اُدھر علاقے کے ایک پبلک سکول میں داخل کروایا ہے۔وہ سکول دوسرے بچوں کے ساتھ رکشہ پر آتا جاتا ہے ۔زندگی سکون سے گزررہی ہے ۔محدود خواہشیں ہیں ۔محدود ہی ضرورتیں ہیں ۔

img Read More

عرب بہار کے بعد مسئلہ فلسطین کی حساسیت

عاطف محمود

2011ء کے اوائل میں عرب بہار کے نام سے اٹھنے والی تحریک نے جہاں مشرق وسطی کے متاثرہ ممالک کو خطرے کی لپیٹ میں لیا وہاں اس کا ایک منفی اثر مسئلہ فلسطین پر بھی پڑا،انقلاب بہار سے قبل عرب دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ فلسطین میں یہودی آبادکاری اور فلسطینیوں پر تسلسل سے ڈھایا جانے والا ظلم و ستم تھا،لیکن لیبیا،یمن ،مصر اور بالخصوص شام میں "اپنوں" کی طرف سے رقم کی جانے والی ظلم کی داستاں نے صیہونی مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،جس کے بعد انقلاب بہار کے متاثرہ ممالک کی طرف توجہ مرکوز ہونا فطری امر تھا۔

img Read More

ہمارے فکری انتشار کی وجہ کیا ہے؟

سلیم گورمانی

ہمارے ہاں دانش ورانہ گفتگوﺅں میں جو خاص الفاظ یا اصطلاحات عام طور پر استعمال ہوتے ہیں اگر ان کے معانی اور مفہوم متعین ہوں تو معاشرہ میں ذہنی انتشار وخلفشار کے پیدا ہونے کا امکان بہت کم ہوجاتا ہے۔ برعکس اس کے جب صورت یہ ہو کہ ہمارے منبر و محراب، سیمینارز ، ٹی وی ٹاک شوز اور اخباری کالموں وغیرہ میں الفاظ اور اصطلاحات کی موسلادھار بارش ہورہی ہو لیکن نہ ان اصطلاحات کے معانی متعین ہوں نہ مفہوم تو ذہنی انتشار طوفانی ژالہ باری کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ آئیے چند ایک الفاظ پر غور کرتے ہیں جو کہ آج کل ہر ایک کی زبان پر ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ان کا کوئی متعین مفہوم بھی ہمارے ذہن میں ہے؟

img Read More

آسمانی شرائع کی روشنی میں اجتماعی اخلاقی حالت اور غلبہ وسرفرازی کا باہمی تعلق

عمار خان ناصر

جہاد انبیاء کی شریعتوں میں مقصد کے حصول کے ایک ذریعے کے طور پر شروع کیا گیا ہے اور اہل علم کی تصریح کے مطابق فی ذاتہ کوئی مطلوب یا مستحسن امر نہیں، کیونکہ اس میں انسانی جان ومال کا ضیاع ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر متبادل راستے موجود ہوں تو جنگ کے راستے سے گریز کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ جان ومال کی قربانی بھی تب مطلوب ہوگی اگر حصول مقصد کا ظن غالب ہو۔ بصورت دیگر یہ راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ ہاں، جب یہ ناگزیر ہو جائے اور حصول مقصد اسی راستے پر منحصر ہو جائے تو پھر مسلمانوں سے شریعت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور میدان جنگ میں جان ومال کی قربانی پیش کریں۔ ایسے حالات میں اس جیسا افضل عمل کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا اور حب دنیا اور بزدلی کی وجہ سے اس سے گریز کرنے والی قومیں ذلت ورسوائی کی حق دار ٹھہرتی ہیں۔

img Read More

سانحہ کوئٹہ:یہ ابہامات کون ختم کرے گا؟

محمد عامر رانا

کوئٹہ کے حوالے سے جو بیانا ت اور تجزیے سامنے آرہے ہیں ،اُن سے لگتا ہے کہ قومی سلامی کے معاملات پر ابہام ابھی تک موجود ہے ۔اس ابہام کی دو ظاہری وجوہات یہ ہیں ؛پہلی وجہ وہ واہمہ ہے کہ اندرونی طور پر ہم بہت مضبوط ہیں اور یہ کہ ہمارے پاس ایسی اتھارٹی ہے جس کے پاس جادو کی وہ چھڑی ہے جو تمام مسائل کو حل کرسکتی ہے ۔دوسری وجہ ہر مسئلے کو بیرونی قوتوں سے منسوب کرنا ہے ۔اس کی وجہ سے اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کا موقعہ مل جاتا ہے ۔

img Read More

ایک فون کال اور جشن آزادی

احمد اعجاز

یں بارہ اگست کی شام تک معقول حد تک خوش تھا۔بارہ اگست کی شام تک سب کچھ ٹھیک تھا۔پھر ایک فون کال آئی اور آزادی کے لمحوں میں دل بجھ سا گیا۔ مَیں نے بارہ اگست کی شام تک فون کال آنے سے پہلے آزادی کے لمحوں کو جس انداز سے منانے کا پروگرام ترتیب دیا تھا ،اُس پر عمل ضرور کیا۔مگر سارے عمل میں وہ سرمئی شام چھائی رہی۔تیرہ اگست کی شام کو ،دفتر سے ذرا جلدی نکل پڑا،گھر پہنچا تو بیوی اور بیٹاتیار تھے۔ہم تینوں گھر سے نکل پڑے۔ سب سے پہلے جناح سپر،پھر سپر مارکیٹ گئے ،خوب گھومے پھرے۔لگ بھگ ایک گھنٹہ وہاں گزارنے کے بعد پارلیمنٹ کی جانب گئے تو راستے ہی سے لوٹنا پڑا

img Read More

مابعدجدیدیت: چند منشتر خیالات

محمد عاصم بٹ

بیسویں صدی کے وسط میں جب مابعدجدیدیت کی اصطلاح فلسفہ کے ساتھ ساتھ مصوری، موسیقی ، تعمیرا ت کے فن، اور ادب میں بھی نئے طرز احساس کے اظہار کے لیے استعمال میں آنے لگی تو اس کے خلاف عالمی سطح پر مزاحمت کا رویہ بھی موجود رہا۔ چوں کہ یہ طرز فکر قدامت سے بیر رکھتی ہے اور ہر اس شے کو ہدف تنقید بناتی ہے جس کا تعلق ماضی سے ہو اور جو حتمیت کی دعویدار ہو، اس لیے کلاسیکی اقدار سے وابستہ سوچنے والوں کے ایک بڑے حلقے کی مخالفت بھی اس نے مول لی۔ کچھ یہ وجہ بھی اس کی تفہیم کی راہ کھوٹی کرنے میں سرگرم رہی۔

img Read More

اس چمن میں آشیاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

سلیم گورمانی

ابھی ہم سانحہ کوئٹہ کے سوگ میں ہیں اور اسی کیفیت میں یومِ آزادی پاکستان بھی آن پہنچا ہے۔ لاہور سے شروع ہونے والے معصوم بچوں کے اغوا کے واقعات دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے شہروں میں بھی رونما ہونے لگے ہیں۔ اسی پر بس نہیں راولپنڈی میں چھرا گروپ کی وارداتیں اس پر مستزاد ہیں۔ ایسے وقت جب وطنِ عزیز میں خوف و دہشت کا راج ہو قوم جشنِ آزادی کیسے منا پائے گی۔ کیا ہمیں جذبہ حب الوطنی پر دہشت گردی کو غالب آنے دینا چاہئے؟ یہ وہ سوالات تھے جو 8 اگست کے بعد سے ہمارے دلوں میں سر اٹھانا شروع ہوئے۔ ان سوالوں کا جواب 13اگست کو ہمیں پاکستانی عام عوام کی طرف سے واضح طور پر ملنا شروع ہوگیا ہے

img Read More

مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ ، گرمی، احتجاج، خوف اور بے یقینی۔۔

شکور رافع

کمزور ریاستوں کی فہرست میں پاکستان کا تذکرہ تو آتا ہی تھا لیکن پچھلے برسوں میں کئی ’’ معتبر ‘‘ اداروں کی رپورٹ میں بھی وطن عزیز کو ناکام ریاستوں کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے ۔ یعنی جدید دنیا کا ایک بڑا حصہ ہمیں معیشت ، حکومت ، قانون اور اس کی عملداری سے لے کر عوام کے جان و مال کے تحفظ تک میں ناکام تصّور کرنے لگ پڑا ہے ۔ مایوسی غالب آتی ہے ۔۔۔ شاید اس سے بھی بڑی آزمائشیں آنے کو ہیں ۔۔۔آزمانے کو ہیں ! مگر یہ ماہ اگست ہے ۔۔۔بڑی آزمائشوں اور عظیم امتحانوں سے نکلنے کی گھڑی ..... سو تصویر کا خوشگوار پہلو بھی ہے ۔ ہم ایک دفعہ ٹوٹ کر بھی عالمی نقشے میں ’’ قدرتی اعزاز ‘‘ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔ ملکی سطح پر ہی سہی ، کئی کامیابیاں سمیٹ چکے ہیں ۔ پچھلے کئی عشرے، ترقی کی رفتار میں مثالی اضافہ رہا ہے ۔ دفاع، تجارت ، صنعت اور زراعت میں بہت کچھ اچھا تھا ، اور اب بھی ہے ۔ ایٹمی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ’’ امت مرحومہ ‘‘ میں اپنا سیاسی کردار بھی ۔۔۔ زیادہ عرصہ بھی نہیں بیتا ۔۔۔

img Read More

مَیں خود سے باربار ایک سوال کرتا ہوں

احمد اعجاز

مَیں یہ خود سے کئی بار کئی مواقعوںپر سوال کر چکا ہوں کہ کیا ہمارا معاشرہ کتاب دوست معاشرہ ہے؟ ہر بار میرا خود کو دیا جانے والا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ ہم کتاب دشمن لوگ ہیں....کہنے والے کہیں گے کہ ہمارے ہاں بے شمار مصنفین ہیں ، بے شمار پبلشرز حضرات ہیں اور سیکڑوں کتابیں ہر سال شائع ہوتی ہیں ۔پھر ہمارا معاشرہ کیوں کر کتاب دوست معاشرہ نہیں ہے ؟ہم کس طرح کتاب دشمن لوگ ہیں ؟کہنے والوں سے گزارش ہے کہ سیکڑوں شائع ہونے والی کتابوں میں سے ایسی کتنی کتابیں ہیں جن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے ،جنھیں دوست بنایا جا سکتا ہے اور جنھیں پڑھ کر وقت کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا....؟

img Read More

تصورِ پاکستان سے انحراف کیوں؟

پروفیسرفتح محمد ملک

پاکستان کی روحانی نظریاتی بنیاد کو مٹا کر ایک نئی سیکولر بنیاد کی تعمیر میں کوشاں قوتوں کے مقدر میں بھی ویسی ہی ناکامی لکھی ہے، جیسی ناکامی سے قیامِ پاکستان کی مخالف قوتیں آج سے پہلے دو چار ہو چکی ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس وقت ہماری سیاسی اور تہذیبی زندگی پر موروثی جاگیردار سیاستدان اور مغرب کی ذہنی غلامی پر ناز کرنے والی افسر شاہی مسلط ہے مگر یہ بھی ایک تاریخی صداقت ہے کہ یہ تو وہ لوگ ہیں، جن کے آباؤ اجداد نے قیامِ پاکستان کی مخالفت میں آخر دم تک ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا اور خود کو قائداعظم کا ایک ادنیٰ سپاہی قرار دینے والے علامہ اقبال نے، جن کے بارے میں عامۃ المسلمین کو یوں خبردار کیا تھ

img Read More

منبر و محراب سے قوم کی توقعات

ظفر سلطان

برصغیر پاک و ہند کی آزادی کے بعد بالخصوص اس خطہ میں دو طرح کا تعلیمی نظام رائج ہوا' ایک عصری ' دوسرا دینی۔ عصری تعلیم کے اسکول' کالج اور یونیورسٹیوں نے اپنے طریقے پر کام شروع کیا اور قوم کے بچوں کو جدید علوم سے آگاہی ' ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم سے روشناس کرانے میں حتیٰ المقدور کام کیا۔ اسی طرح دینی تعلیم کے لیے مدارس نے قوم کے بچوں کو قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم کے لیے کوشش کی۔ مدارس نے اپنی مدد آپ کے تحت قوم کے ایسے بے یارومددگار بچوں کو تعلیم سے روشناس کرایا جن کے والدین عصری تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو پڑھانے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ سو مدارس بھی اپنے وسائل کے اعتبار سے کسی حد تک قوم کے بچوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دینے میں کوشاں رہے۔ لیکن ان دو طرح کے نظامِ تعلیم کا ہمارے سماج میں یہ اثر ہوا کہ قوم اس نظام تعلیم کے فرق سے دو گروہوں میں بٹ گئی ۔ گو دینی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کی تعدادپانچ فیصد کے لگ بھگ ہے لیکن نقصان یہ ہوا کہ مدارس میں پڑھنے والے طلباء نے قرآن ' حدیث اور فقہ کو تو پڑھالیکن جدید علوم سے مکمل ناواقفیت کی بنا پر آج کے جدید معاشرے میں ان کے لیے مسائل ہی مسائل ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلباء نے ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم تو حاصل کیے ' لیکن قرآن و حدیث سے نابلد رہے۔ جب یہ طلباء دو طرح کے نظامِ تعلیم میں پڑھ لکھ کر سماج میں آئے تو ان کے درمیان واضح فرق موجود رہا۔ ایک طبقہ قرآن جانتا ہے ' دیگر علوم نہیں ۔ دوسرا طبقہ جدید علوم سے واقف ہے لیکن قرآن نہیں جانتا ' سواِن دو طرح کے نظام ہائے تعلیم نے ایک لکیر کھینچ دی

img Read More

تیونس مشکل میں

عاطف محمود

تیونس میں حالیہ سیاسی بحران کے بعد یوسف شاہد نئے وزیراعظم بن چکے ہیں جن کا تعلق نداء تیونس پارٹی سے ہے،ان سے پہلے حبیب الصید ملک کے وزیراعظم تھے جن سےتیونسی صدر باجی قائد السبسی کے ساتھ اختلافات پیدا ہونے کے بعد پہلے استعفی کا مطالبہ کیا گیا اور بعد میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ ان کو حکومت سے الگ کردیاگیا۔ صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات نے ایک طرف نداء پارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تو دوسری طرف حکومت کی سب سے بڑی حلیف جماعت النھضہ پارٹی کے سربراہ راشد الغنوشی کی جانب سے وزارت عظمی کے لیےنداء پارٹی کی طرف سے ہی نامزد کیے جانے والے امیدوار کی حمایت پر النھضہ کے درمیان بھی اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ تیونس میں 2014ء میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے تھے جن میں سیکولر جماعت نداءتیونس نے دوسو سترہ میں سے نواسی نشستیں حاصل کر کے برتری حاصل کی تھی اور النہضہ انہتر نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی تھی۔ ندا تیونس نے النہضہ اور دو چھوٹی لبرل جماعتوں کے ساتھ مل کر حبیب الصید کی سربراہی میں قومی حکومت تشکیل دی تھی۔

img Read More

پاک ایران تعلقات کی باہمی تاریخ

محمد عامر رانا

1971ء کی جنگ کے پس منظر میں جب امریکہ کی جانب سےپاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندیوں سامنا تھا تو ذولفقار علی بھٹو امریکی لیڈروں تک رسائی کی کوشش میں تھے جس کے لئے انھوں نے امریکہ کو پیشکش کی کہ وہ پاکستان میں اپنے ہوائی اور بحری اڈے بنا سکتا ہے ۔یہ پیشکش اس وقت کی گئی جب شاہ ایران پہلے ہی چا ہ بہار کے نیلگوں سمندر میں امریکی بحریہ کے بڑے جہازوں کو لنگر انداز کرنے کے لئے آٹھ ارب ڈالر کی لاگت سے ایک بندرگاہ بنانے کا منصوبے کا اعلان کر چکے تھے ۔لازمی بات ہے کہ بھٹو کی پیشکش سے شاہ ِ ایران کو غصہ آیا ۔امریکی بھٹو کی اس پیشکش کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے ۔نتیجتاً اسلام آباد کے ساتھ ہتھیاروں کی فراہمی کا معاہدہ ہو گیا تاکہ پاکستان علاقے میں اپنی فوجی حیثیت حاصل کر سکے ۔

img Read More

دیوسائی…فطرت سے ہم کلامی کی داستان

علی اکبر ناطق

گذشتہ سے پیوستہ:جیسا کہ ہم نے عرض کیا آخرِ کار پِتا پانی کر کے بڑے پانی کے پاس پہنچ ہی گئے، جہاں ایک نہردودھ سے سِوا سفید ،ہیرے سے زیادہ شفاف اور کافور سے زیادہ ٹھنڈی بہتی ہے۔ اِس کے کنارے بھی سبزے سے بھرے ہوئے تھے اور یہاں خیمے بھی بہت لگے ہوئے تھے ۔ دو خیمے ایسے تھے ،جن میں ہو ٹل تھے ۔ اِس نہر پر دو پل بھی تھے، ایک لوہے اور بجری سیمنٹ وغیرہ کا جو کہ ثابت تھا ، دوسرا لوہے کی تاروں کا ،جو ٹوٹا ہوا تھا ، ہم تو( یعنی میں )ٹوٹے ہوئے پل سے گزر کر پار گئے اور لوگوں کو حیران کر گئے ۔ دلاور ہمارے فوٹو بناتا رہا اور ہم گزرتے رہے ۔ اِسی لیے تو گزرے تھے کہ فوٹو بن جائیں ۔ اِس نہر کی خصوصیت یہ ہے کہ اِس میں بندہ ڈوب کر نہیں مرتا ،ٹھٹھرتا ہے پھر سکڑتا ہے اور اتنا سکڑتا ہے کہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے ۔ اب عصر کا وقت ہو چکا تھا اور بھوک ایسی چمک کر لگی کہ حواس مختل ہونے لگے۔ خیمے کے ہوٹل والا(اینٹوں کا اور پتھر کا وہاں کچھ بھی بنانے کی اجازت نہیں ہے ویسے بھی یہ چیزیں وہاں ناممکن ہیں) ایک روٹی کے تیس روپے مانگ رہا تھا ،جو ہمیں نا منظور تھی اور اسے بھی نامنظور تھی کہ وہاں پچاس دے کر کھانے والے بھی موجود تھے ، چنانچہ اپنا ہی پکا کر کھانے کی امید تھی ۔ ہم نے فوراًسب خیموں سے دور اورنہر کے دوسری طرف اپنے بھی دو خیمے نصب کر دیے۔ ہم سے مراد یہاں ہمارے دوست ہیں ورنہ ہمیں تو خیمے کی کیل تک ٹھونکنا نہیں آتی، نہ کبھی اِن بکھیڑوں میں الجھے ۔ لو جی اب لونڈے تو سب خیمے لگا کر ہنڈیا روٹی کا قضیہ کرنے لگے اور ہم نہر کے کنارے کنارے سیر کو ہو لیے ۔ خراماں خراماں چلے جاتے تھے اور نہر میں کنکر مارتے جاتے تھے اور دیکھتے جاتے تھے کہ کہیں ٹرائوٹ مچھلی کا ساتھ مل جائے تو اس سے دل کا حال احوال کہہ لیں،اسی وقت اچانک ایسی سرد ہوا چلی ،کہ کچھ نہ پوچھیے ، کانوں کے رستے ،ناک کے رستے اور پتا نہیں، کس کس رستے سے سینے میں پہنچی اور جگر کاٹنے لگی ۔ ہم بھاگے واپس اور جیسے ہی بھاگے،ہمارا پائوں رپٹا اور سیدھا نہر میں ،جس کا پانی ،پانی نہیں تھا، مائینس 170-

img Read More

آزادی کا سورج آدھی رات اور نجومی

سلیم گورمانی

15 اگست 1945 ء کو دو ایٹم بم گراے جانے کے بعد جاپان نے ہتھیار پھینک دیے تھے۔ ماؤنٹ بیٹن اس وقت جنوب مشرقی ایشیاء کمانڈ کا سپریم الائیڈ کمانڈر تھا۔ 15 اگست 1945 ء کو اس نے جاپان کا سرینڈر سنگا پور میں قبول کیا۔ وہ اسے اپنے لیے بہت بڑا اعزاز سمجھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ہندوستان کو آزاد کرنے کے لیے 15 اگست کا انتخاب کیا۔ جنوبی کوریا جو کہ اس وقت جاپان کی کالونی تھا بھارت کی طرح 15 اگست ہی کو جشن آزادی مناتا ہے۔

img Read More

قبائلی سماج بدل رہا ہے

اسلم اعوان

انسان اگرچہ فطرتاً تغیر و تبدل سے خوفزدہ اور اپنے حال سے محبت کرنے والے احساس کا مالک ہے لیکن وہ ایک ہاتھ سے تبدیلی کو روکتا ہے تو دوسرے ہاتھ سے ٹٹول ٹٹول کے آگے بڑھنے کوشش بھی کرتا ہے،اسی تنوّع نے اسے ماضی سے گہری وابستگی کے باوجود مستقبل کے دبستانوں سے ہم آغوش بنایا تاہم پھر بھی وہ ہمیشہ پرنم آنکھوں اور غمگین دل کے ساتھ نئے عہد کا استقبال کرتا ہے،انسان کی جارحیت و دفاع کے ہر منصوبہ کا مقصد بھی موجود کا تحفظ ہوتا ہے لیکن جنگ ایسی تباہ کن سرگرمی ہے جو بلاآخر انہیں اَن دیکھی تبدیلیوں سے دوچار کر دیتی ہے۔ہمارے قبائلی معاشروں کو بھی اپنی دفاعی ساخت نے بہت حد تک قسمت پرستانہ فلسفہ حیات کا غلام بنا رکھا تھا اور وہ عہد جدید میں آنے والی اجتماعی تبدیلیوں سے ہم قدم رہنے کی سکت کھو چکا تھا،سچ تو یہ ہے کہ وقت جن معاشروں کو پیچھے چھوڑ دے،وہ اپنی نامرادیوں کے مداو کے لئے،درست سمت ہاتھ پائوں مارنے کی بجائے،اپنے اجداد کے کارناموں اور ماضی کی پرشکوہ یادوں میں پناہ گزیں رہنے کو ترجیحی دیتے ہیں

img Read More

ہمارے سکول،بچے اور ڈاکٹرروبنسن

ناصر محمود اعوان

بچے کی ایک تخلیق کار سے ایک غیر تخلیق کار میں کس طرح کایا کلپ ہوتی ہے؟ اس کا مختصراً جواب تو آپ کو سر کین روبنسن Robinson) (Sir Ken کی تقریر کے عنوان سے ہوجائے گا جو ان کی ویب سائٹ پر ’’سکول بچے کی تخلیقی صلاحیت کو کیسے قتل کردیتے ہیں؟ ‘‘ کے نام سے موجود ہے اور جسے اب تک 38 ملین سے زائد لوگ سن چکے ہیں۔ روبنسن ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ ہمارے سکول ہیں جو ہمارے بچے کے اندر تخلیق کو ختم کردیتے ہیں ۔ ان کا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ دنیا بھر میں تعلیم اور تخلیق کا باہمی تعلق ختم ہو چکا ہے۔ بچوں کو عمل تخلیق سے الگ رکھ کر تعلیم یافتہ بنایا جاتا ہے ۔ ہ وہ دی گئی حدود سے باہر (Out of Box ) جا کر سوچنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کے خیال کے مطابق چونکہ دنیا ہمہ جہت تبدیلیوں کی زد میں ہے اس لیے تخلیق (Creativity)اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ خواندگی(Literacy)۔ لیکن ہمارے سکولوں میں ہوتا کیا ہے ؟ ان میں ’’تخلیق ‘‘ کا مقام کیا ہے؟

img Read More

دوقومی نظریہ پاکستان کو بنانے کے لیے تھایا چلانے کے لیے؟؟؟

اسرار ایوب

دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن ہم قیامِ پاکستان کے 70سال بعد بھی اسی ’’تو تکرار‘‘میں الجھے ہوئے ہیں کہ پاکستان بنا کیوں تھا؟ بات نظریۂ پاکستان سے چلتی ہے اور دو قومی نظریے پر پہنچ جاتی ہے۔ تو گزارشِ خدمت ہے کہ دوقومی نظریہ ملک بنانے کے لئے تھے ، اسے چلانے کے لئے نہیں تھا،نہ ہی اس سے ملک چل سکتا ہے۔ اس ناقص رائے سے اختلاف کا حق کسی کو بھی ہے لیکن پہلے پوری بات سن ضرور لینی چاہیے۔ ’’قوم ‘‘انگریزی لفظNation کا ترجمہ ہے جس کا مادہ لاطینی زبان میں Natus یعنی ’’پیدائش‘‘ہے۔اسی اعتبار سے’’قوم‘‘ شروع شروع میں ایک ’’نسل‘‘کے لوگوں کو کہا جاتا تھالیکن ’’ سیاسیات‘‘ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ’’قوم‘‘ کا مفہوم بھی وسیع ہوتا چلا گیا اور یہ لفظ ان لوگوں کے لیے بھی بولا جانے لگا جن کا تعلق بے شک ایک نسل سے نہ ہو لیکن وہ ایک طرح کی ثقافت رکھتے ہوں،ایک زبان بولتے ہوںیا ایک ریاست کے شہری ہوں،اسکے برعکس اسلام نے ایک فکر اور ایک عمل کے حامل لوگوں کو قوم کہہ کر پکارا۔قومیت کی اسی بنیادکو برصغیر کے مسلمانوں نے اپنایا جو نہ ایک نسل سے تعلق رکھتے تھے نہ ایک ثقافت کے حامل تھے اورنہ ہی ان کی مادری زبان ایک تھی، البتہ شہری وہ ایک ہی ریاست کے تھے لیکن انہوں نے وحدتِ فکر و عمل کے تحت دیگر شہریوں سے علیحدگی اختیار کرنے کی خواہش ظاہر کی اور اپنے لیے ایک نئی ریاست کا مطالبہ کیا۔ علامہ محمد اقبال نے کہا تھا کہ ’’مسلمانوں اور دنیا کی دوسری قوموں میں اصولی فرق یہ ہے کہ قومیت کا اسلامی تصور دوسری اقوام کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ہماری قومیت کا اصل اصول نہ اشتراکِ زبان ہے

img Read More

المیہ کا سفر

محمد عاصم بٹ

یہ حقیقت ہے کہ دنیائے ادب میں المیہ کا آغاز یونانی ڈرامہ کو مانا جاتا ہے۔ جب کہ یہ کتاب یونانی کلاسیک ڈراموں کے اردو تراجم پر مشتمل ہے۔یہ یونانی ڈرامہ نگار ہی تھے جنھوں نے اپنی تخلیقات میں المیہ کے عنصر کو متعارف کروایا اور اصل میں انھوں نے عالمی ادب میں المیہ کی روایت کی داغ بیل ڈالی۔ اس سے پہلے عالمی ادب میں المیہ کا کوئی تصور نہیں تھا۔ یونان ہی میں ہمیں ہومر اور ہیسوئڈ کی اعلی ترین تخلیقات ملتی ہیں جوطویل نظموں پر مشتمل ہیں۔ ان دونوں عظیم شاعروں نے اپنی نظموں میں دیوتاؤں کے کارنامے، محبتوں اور نفرتوں اور آپسی شورشوں کے گیت گائے ہیں، جب کہ بابل و نینوا کی اسطوریاتی نظمیں دیوتاؤں کی جرات، قہرمانی، جارحیت اور رومان جیسے موضوعات پر قائم کی گئی تھیں۔ دیوتاؤں کے ہاں المیہ کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ لافانی زندگی میں یہ تصور محال ہے۔ ڈرامہ دیکھنے والوں کی تفریح کے لیے ڈرامہ نگار دیوتاؤں کی زندگیوں کے اتار چڑھاؤ کو پیش کیا کرتے تھے۔

img Read More

فرقہ واریت اورعلما کی علمی و کتابی آرا کی اشاعت

ڈاکٹر محمد شہباز منج

ادارۂ امن و تعلیم اسلام آباد اور اقبال بین الاقوامی ادارہ براے تحقیق و مکالمہ کے زیر اہتمام اسلام آباد اور نتھیا گلی میں 26تا 30 جولائی 2016ء کے دوران منعقدہ کانفرنس بعنوان" بین المسالک ہم آہنگی کا بیانیہ اور لائحۂ عمل "، میں موضوع سے متعلق بہت سے اہم بحثیں ہوئیں۔راقم نے بھی اپنا تفصیلی مقالہ پیش کیا اور اس پانچ روزہ کا نفرنس کے مباحثے اور مکالمے کا حصہ رہا (بعض اہم امور کے بارے میں ان شاء اللہ گاہے گاہے، کچھ مزید طالب علمانہ گزارشات پیش کی جائیں گی) ایک بحث یہ رہی کہ:علما کی علمی و کتابی باتوں یا فتووں کو عوام الناس میں نہیں آنا چاہیے؛جب علمی باتیں مناظروں اور نیم خواندہ خطیبوں کے ہتھے چڑھتی ہیں، تو فرقہ واریت اور نفرتیں پیدا ہوتی ہیں۔"میرے نزدیک اس طرح کی بات اہلِ علم کی نج کی اور احباب کی محفلوں میں طنزو مزاح کے انداز میں کی گئی باتوں کی حد تک درست مانی جاسکتی ہے،لیکن تصانیف اور فتووں کو اس میں شامل کرنا ایک فضول و لا حاصل امر ہونےکےساتھ ساتھ، اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے، ان کی ذمہ داری اٹھانے سے بچنے اور خود کو یا دوسروں کو دھوکا ینے کی کوشش بھی دکھائی دیتی ہے۔

img Read More

دیو سائی۔۔۔جہاں زندگی سے ملاقات ہوتی ہے

علی اکبر ناطق

دلاور عباس آدھی رات تک دیو سائی کے سفر کا انتظام کرتا رہا ،اِس میں نہ تو اُس نے جنوں سے مدد چاہی نہ دوستوں سے مگر دوسرے دن ضرورت کا ہر سامان میسر تھا۔ رات بسر کر نے کے لیے خیمے ، سلیپنگ بیگ ،بسترے ، کھانے پینے کے برتن ، چولہا ،چھری کانٹے ، جیکٹیں ،مچھلی پکڑنے کے کانٹے (جو وہاں کسی کام نہیں آئے کیونکہ وہاں مچھلی تو ایک طرف ،اُس کی بُو تک نہیں تھی یا کہیں تھی بھی تو ہر سیاح کے ہاتھ میں مچھلی کا کانٹا دیکھ کر فرار ہو چکی تھی ) یہ سب کچھ دلاور نے لینڈ کروزر میں رکھ دیا ،جو اُس نے اپنے بھائی سے بمع ڈرائیورعاریتاً حاصل کر لی تھی۔ صبح گوشت چاول اور گھی دودھ لیتے لیتے اور دوستوں کو اکٹھا کرتے کرتے،جو سکردو کی سائے دار گلیوں گلیوں بکھرے تھے ، پھر بھی گیارہ بج گئے۔ اللہ اللہ کر کے ساڑھے گیارہ بجے سکردو سے نکلے۔ نکلے سے کیا معنی سکردو سے اُوپر چڑھنا شروع کیا۔ اگر دیوسائی کی طرف نکلنا ہو تو چڑھائی پہلے قدم پر ہی شروع ہوجاتی ہے،پھر چڑھتے جاؤ، چڑھتے جاؤ اور نیچے مڑ کر مت دیکھوورنہ پتھر کے ہو جاؤ گے یا گِر جاؤ گے اور فنا سے نہیں بچ پاؤ گے۔

img Read More

غیر مسلم معاشروں میں رہنے کے انسانی واخلاقی اصول

عمار خان ناصر

امریکا کے حالیہ مطالعاتی دورے کے دوران میں ڈریو یونیورسٹی (نیو جرسی) کے سنٹر فار ریلجن، کلچر اینڈ کانفلکٹ ریزولوشن کے زیر اہتمام ایک سمر انسٹی ٹیوٹ میں شرکت کے علاوہ مختلف احباب سے ملاقات اور بعض مقامات پر مسلم کمیونٹی کے اجتماعات سے گفتگو کا موقع بھی ملا۔ ان نشستوں میں راقم الحروف نے خاص طور پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعے کی روشنی میں چند اخلاقی اصولوں کو واضح کرنے کی کوشش کی جن کی پابندی کسی غیر مسلم معاشرے میں رہتے ہوئے مسلمانوں کو کرنی چاہیے۔ ذیل میں اس کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔

img Read More

یہ چودہ سو سالہ تقسیم مسلکی ہے یا سیاسی ؟

سجاد اظہر

عالم اسلام میں آج جو تقسیم موجود ہے اس کی بنیادیں سیاسی ہیں یا مسلکی ؟ اس کا آغاز 1979ء میں انقلاب ایران سے ہوا یا پھر اس کی جڑیں گیارہویں صدی میں سقوط ِ اندلس اور تیرہویں صدی میں سقوطِ بغداد سے اٹھیں ۔اس تقسیم کے پیچھے ابن تیمیہ کا کردار ہے یا پھر آل سعود کا ؟یہ اور اس طرح کے بہت سارے سوالات جو آج ہماری زندگیوں سے جڑے ہوئے ہیں ان کا جواب کیا ہے ؟ یہ درست ہے کہ مسلمانوں میں پہلا اختلاف ثقیفہ بنو سعدہ میں خلافت پر ہوا تھا یعنی خلافت پر کس کا حق ہے ؟تاہم کہا جاتا ہے کہ تیرھویں صدی کے وسط تک مسلمانوں کے دو مسلک تو تھے مگر ان میں تصادم کی صورتحال نہیں تھی ۔جب1031ء میں مسلمان سپین سے پسپا ہو رہے تھے تو مشرق سے تاتاری ابھر کر مسلمانوں کے شہر تخت و تاراج کر رہے تھے ۔وہ مسلمان جن کے زخم ابھی سقوطِ اندلس سے بھرے نہیں تھے کہ انہیں تاتاریوں نے آ لیا ۔1258ء میں مسلمانوں کی تہذیب و تمدن کی علامت بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ۔مشرق و مغرب میں مسلمانوں کےجس زوال کا آغا زہوا وہ رکا نہیں ۔عظیم الشان مسجد قرطبہ کو عیسائیوں نے کیتھڈرل میں بدل ڈالا توبغداد منگلولوں کے لگائے ہوئے زخموں سے لہو لہو ہو گیا ۔ مسلمانوں کے علمی خزانوں کو آگ لگا کر انہیں دریا برد کر دیا گیا ۔ اس کے بعد مسلم سلطنتیں عربوں سے نکل کر عثمانیوں ، صفویوں اور مغلوں کے ہاتھوں میں آگئیں ۔

img Read More

النصرہ فرنٹ اب نئے روپ میں

عاطف محمود

سلفی فکر سے وابستہ جہادی تنظیم النصرہ فرنٹ نے اپنا نام تبدیل کرتے ہوئے فتح الشام فرنٹ رکھ لیا ہے جس کے فوراًبعد ہی مزاحمت کاروں کی طرف سے شامی فوج پر حملے بھی تیز ہو گئے ہیں،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مزاحمت کاروں نے ایک روسی ہیلی کاپٹرمار گرایا ہے جس کے نتیجے میں پانچ روسی فوجی بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شامی سرکاری فوج کی 10 سے زیادہ بکتر بند گاڑیوں کو تباہ اور کئی ٹینکوں پر قبضہ بھی کرلیا ہے۔ لڑائی میں سرکاری فوج کے درجنوں اہل کاروں کے علاوہ حزب اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران بھی مارے گئے جب کہ متعدد فوجیوں کو قیدی بنا کر انقلابیوں نے حلب کے مغربی علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے،مزاحمت کاروں کا مقصد ہے کہ وہ حلب اور دمشق کو ملانے والے راستے پر کنٹرول حاصل کر کے دمشق کو جانے والی عالمی امداد کو روک سکیں۔

img Read More

پاکستان کا یومِ آزادی 14 یا15 اگست

اختر بلوچ

یہ غالباً 2002کی بات ہے جب ہم حیدرآباد میں تھے۔HRCP پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام لاہور میں ایک تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔حیدرآباد سے مجھ سمیت ہمارے دوست احمد رضا، امر گُرڑو ،حلیمہ سومرو،شبانہ چنا اور رﺅف چانڈیو نے شرکت کی۔جب کہ کوئٹہ سے معروف صحافی ایوب ترین ،پشاور سے جمشید باغوان ،کراچی سے ڈان کے رپورٹربھگوان داس بھی شامل تھے۔ غالباً ورکشاپ کے دوسرے یا تیسرے دن ، ورکشاپ کے دوران ممتاز سیاسی تجزیہ نگار اور صحافی امتیازعالم ہال میں داخل ہوئے اور نقی صاحب سے بولے،”مجھے ایک پروگرام میں مدعو کیا گیا تھا لیکن یہاں تو وہ لوگ ہی نظر نہیں آرہے“۔نقی صاحب اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور اپنے تمباکو والے پائپ کی راکھ ، راکھ دان میں جھاڑتے ہوئے بولے،” امتیاز صاحب ! آپ صرف چوبیس گھنٹے(24) لیٹ پہنچے ہیں اور ہاں اب ہماری سمجھ آئی کہ سُرخ انقلاب کیوں وقت پر نہیں آیا۔ان کے اس تبصرے پر امتیاز صاحب اور نقی صاحب کے درمیان خوش گوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں اس تمہید کی ضرورت کیوں پیش آئی۔مختصراً جواب یہ ہے کہ ایک تاریخی مغالطے کے حوالے سے کچھ حقائق آپ کی خدمت میں پیش کرنے ہیں۔یہ ایک پختہ اور عمومی تصور ہے کہ پاکستان 14اگست کو وجود میں آیا لیکن تاریخی حقائق اس کے بالکل بر عکس ہیں۔نامور مورخ کے-کے عزیز اپنی کتاب ”تاریخ کا قتل“(Murder Of History) کے صفحہ نمبر 179 پر ”قیامِ پاکستان کی تاریخ“ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ:

img Read More

داعش اپنے پر پھیلا رہی ہے

محمد عامر رانا

داعش کی اصل قوت تو اب ظاہر ہونا شروع ہوئی ہے۔دنیا کے مختلف حصوں میں حالیہ دہشت گردی کی لہر نے اس گروپ کے بارے میں گذشتہ تمام جائزوں اور تخمینوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ داعش عملی دنیا کے ساتھ ساتھ سائبر سپیس میں بھی فعال ہے۔سائبر سپیسز میں یہ نوجوان مسلم ذہنوں کو پرا گندہ کر رہی ہے اور ان کے نظری، سماجی،ثقافتی اور نفسیاتی ابہامات کو مزید بڑھا رہی ہے۔جس کا اظہار تشدد کی صورت میں ہورہا ہے۔دوسری طرف یہ نہ صرف طاقتور ریاستوں کو دعوت مقابلہ دے رہی ہے بلکہ دیگر دہشت گرد گروہوں کو بھی للکار رہی ہے۔ داعش نے ان ریاستوں کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کیا ہے جو سمجھتی تھیں کہ ان کے ہاں ایسی فضاء اور ماحول نہیں ہے جواس گروپ کے لیے سازگار ہو۔اس کی حالیہ مثال بنگلہ دیش ہے۔افغانستان کی حکومت بھی یہ سمجھتی تھی کہ اسے تو پہلے سے ہی طالبان کی عسکریت پسندی کا مسئلہ درپیش ہےاور خوش تھی کہ داعش نے طالبان نے طالبان کے خلاف محاذ کھولا ہے۔لیکن کابل کے حالیہ خود کش حملے نے اس کی خوش گمانی کا خاتمہ کر دیا ہے۔

img Read More

برہان وانی کے بعد کا کشمیر

سجاد اظہر

آٹھ جولائی کو کشمیری حریت پسند برہان وانی کی شہادت ہوئی ۔اس کے جنازے میں دو لاکھ سے زائد لوگ شریک ہوئے ۔اس کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں ۔برہان وانی کی شہادت کو ایک ماہ گزر چکا ہے مگر کشمیر کے حالات سنبھلنے میں نہیں آرہے ۔بدستور کرفیو نافذ ہے ۔51 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ 3100 زخمی ہیں ۔بھارتی فوجی مظاہرین پر چھرے والی بندوقوں سے فائر کر رہی ہے جس کے نتیجے ،میں سو سے زائد افراد کی بینائی جا چکی ہے ۔

img Read More

مشرق وسطی کی صورتحال اور عرب لیگ

عاطف محمود

افریقا کے عرب ملک موریتانیہ کی میزبانی میں عرب لیگ کا پہلا سربراہ اجلاس25 اور 26 جولائی کو منعقد ہوا۔ عرب لیگ کے حالیہ اجلاس میں 9سربراہان مملکت نے شرکت کی جبکہ دیگر ممالک کے وزراء خارجہ نے سربراہان کی نمائندگی کی۔ سنہ 1945ء میں عرب لیگ کے قیام کے بعد موریتانیہ کی میزبانی میں لیگ کا یہ پہلا اجلاس تھااور اسے "امید" کا نام دیا گیا تھا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےعرب لیگ کے نو منتخب سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے ترکی میں حالیہ سیاسی کشیدگی پر جلد قابو پانے کی توقع ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ترکی میں داخلی سیاسی بحران کو جلد از جلد حل نہیں کیا جاتا تو اس کے ملک کی جنوبی سرحد پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ انقرہ شام اور عراق کو کیسے ڈیل کرے گا۔

img Read More

پاکستانی فخر سے گریزکیوں کرتے ہیں

ڈاکٹر خالد مسعود

ایسا نہیں کہ ہم قابل فخر قوم نہیں یا ہم نے کبھی کوئی قابل فخر کارنامہ سرانجام نہیں دیا۔ دنیا جانتی ہے کہ مغرب نے جو بھی ترقی کی وہ ہماری نقل کرکے حاصل کی ہے۔ ہم ان باتوں پر فخر سے گریز اس لئے کرتے ہیں کہ ہم دنیا پر یہ احسان جتلانا نہیں چاہتے۔ دوسرے اب حالات بدل گئے ہیں ۔ مغربی اقوام میں بے حیائی اور فحاشی عام ہو گئی ہے۔ اب وہ اس راستے سے ہٹ کر اسلام کی تلاش میں ہیں۔۔ ہم بے حیا کو اسلام کیا جینے کا قابل نہیں سمجھتے۔ ہم غیرت کے لئےاپنی سگی بہنوں اور بیٹیوں کو قتل کر دیتے ہیں ۔تیسرے اب انڈیا، یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا ہر جگہ مسلم بیزاری کی لہر اٹھی ہوئی ہے۔ الحمد للّٰہ مودی اورٹرمپ جیسے لوگ اسلام سے خوف زدہ ہیں۔ ہم نہیں

img Read More

ترکی دو راہے پہ

اسلم اعوان

ترکی میں وقوع پذیر ہونے والی بغاوت طیب اردگان کے شخصی استبداد میں اضافہ کا سبب بننے کے باوجود صدر کی اتھارٹی کو متنازعہ اور ریاستی امور پر انکی گرفت کمزور بنانے کا وسیلہ بنے گئی اسی کمزور بغاوت کو کچلنے کی غیرمعمولی کوششوں کے مضمرات ترکی کی داخلی سلامتی اور سیاسی نظام کو دیر تک دگرگوں رکھیں گے گویا بغاوت مملکت کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکی جتنا غیر محدود حکومتی ردعمل پہنچا سکتا ہے۔ کیا اس مہمل کشمکش نے ترکوں کو ایکبار پھر دو راہے پہ لا کھڑا کیا؟جہاں انہیں ملکی مستقبل کا از سر نو تعین کا مسلہ درپیش ہو گا۔خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد جب مملکت کے ساتھ ملت کا شیرازہ بھی بکھر رہا تھا تو کمال اتاتر ک نے کمال فراست اور الوالعزمی کےساتھ ترکوں کو نسلی تعصبات اور مذہبی انتشار کی دلدل سے نکال کے منظم قوم بنایا لیکن اب طیب ادگان، اتاترک جیسی وسعت نظر اور عالی ظرفی کا مظاہرہ کر کے انتقام پہ درگزر اور عفو کو ترجیح دے پائیں گے؟

img Read More

ڈھول بجانے والے کی کہانی سے اقتباس

احمد اعجاز

کچھ مدت اُدھر ،ایک ڈھول بجانے والے سے ملاقات ہوئی۔وہ سرگودھا کے کسی گاؤں کارہنے والا تھا۔مگر ڈھول بجانے کے لیے راولپنڈی میں اپنے سات افراد کے گروپ کے ساتھ ایک کمرے میں رہائش پذیر تھا۔کمرہ بظاہر کافی کشادہ تھا مگر سات لوگ رات کو سونے کے لیے آتے تو وہ بھر جاتا۔فرش پر ترتیب وار بستر لگے ہوئے تھے ،جن سے غربت کی سڑاند اُٹھ رہی تھی۔ایک طرف سب کی جوتیاں اور کھانے پینے کے آلودہ برتن پڑے تھے۔ایک پرانا ٹی وی ٹوٹی پھوٹی میز پر دھرا پڑا تھا۔جس پر کوئی سیاسی ٹاک شو آرہا تھا۔گرمیوں کے دِن تھے،ایک نکڑ میں سردیوں میں استعمال کی جانے والی رضائیاں اور گدے موجود تھے،جن پر نظر پڑتی تو گرمی کا احساس دوچند ہوجاتا۔سگریٹ کا دھواں ایک نکڑپر پڑے ڈھولوں پر منڈلا رہا تھا،یوں لگ رہا تھا جیسے ڈھول جل رہے ہوں۔صبح سویرے روزی روٹی کی تلاش میں جانے کے لیے جب سات زندگیاں ایک ساتھ بیدار ہوتیں تو باتھ روم پر شامت آجاتی۔ایک عجیب منظر ہوتا۔ایک نکل رہا تو دوسرا جارہا ہے اور تیسرا باہر کھڑا اپنی باری کا انتظار کھینچ رہا ہے۔

img Read More

دنیا ہمارے پیچھے کیوں پڑی ہے ؟

محمد عامر رانا

خاص طور پر جب جب اندرونی اور علاقائی سطح پر تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہوں اور جہاں نہ صرف نت نئے بیانئے جنم لے رہے ہوں بلکہ ان بیانیوں کے رد عمل کا عمل بھی عروج پر ہو۔ ذرا ان موضوعات پر ایک نظر ڈالئے جوآج کل عمومی بحث کا حصہ ہیں اور ہم انھیں کس طرح سرسری طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ بظاہر اندرونی سلامتی کی صورتحال بہتر ہے اور ہم مطمئن ہیں ۔افغانستان کے صدر اشرف غنی کے حالیہ پاکستان مخالف بیانات میں کوئی نیا پہلو نظر نہیں آتا۔ البتہ مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی ہلاکت سے ایسا لگتا ہے کہ وادی ایک بار پھر بد امنی کی لپیٹ میں آنے والی ہے ۔پھر ہم سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ حکومت کیا کررہی ہے ؟ دوسرے ہی سانس میں ہم بنگلہ دیش پر لپکتے ہیں ۔دیکھو حسینہ واجد کیا کر رہی ہے ؟ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہو رہی کہ داعش نے بنگلہ دیش کی اشرافیہ میں جگہ بنا لی ہے ۔لگتا ہے کہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد پاکستان میں جمہوریت پر سے خطرہ ٹل گیا ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ کرپشن کا بازار گرم رہے گا ؟

img Read More

قندیل بلوچ کو کس نے مارا ؟

وقار گیلانی

15اور 16جولائی کی رات کو ابھی تک کی تحقیقات کے مطابق اپنے بھائی کے ہاتھوں گلا دبا کر ماری جانے والی سوشل میڈیا کی دلربا اور ٹی وی چینلوں سے تفنن طبع کا ذریعہ بنے والی قندیل بلوچ اب منوں مٹی تلے جا چکی ۔ قندیل جنوبی پنجاب کے انتہائی پسماندہ ، ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے صدرالدین شاہ کے ایک غریب اور مزدور گھرانے میں پیدا ہوئی ۔ وہ پاکستان میں اس طرح کے ماحول میں پلنے بڑھنے والی ہزاروں لاکھوں احساس محرومی کا شکار لڑکیوں میں سے ایک تھی ۔اسے گھر میں دال روٹی کے لئے بس کی ہوسٹیس (سفری میزبان)بھی بننا پڑا۔ قندیل ماں باپ کی حسب تو فیق خدمت بھی کرتی رہی ۔ یہ اس کی ماں کی محبت تھی کہ اس نے قندیل کی لاش کے ہاتھوں اور پاﺅں پر مہندی بھی لگائی ۔ یہ مہندی اس علاقے کی روایت کے مطابق ان عورتوں کو لگائی جاتی ہے جو بے گنا ہ مار دی جاتی ہیں ۔

img Read More

ترکی: فوجی انقلاب سے عوامی انقلاب تک

عاطف محمود

ترک فوج کے ''امن کونسل'' کے نام سے ظاہر ہونے والے ایک دھڑے کی جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کی تفصیل وقت کے ساتھ ساتھ منظر عام پر آرہی ہے جس کے بعد سے ملک بھر میں حکومتی اداروں کی صفائی کا کام جاری ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ انقلاب 17 جولائی کو علی الصباح شروع ہوگا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر حالات کا پانسہ پلٹا توباغیوں نے عجلت سے کام لیکر طے شدہ وقت سے 6گھنٹے پہلے 15جولائی کو شام 9 بجے بغاوت شروع کی رپورٹ کے مطابق فوج کے ایک مخصوص گروہ کے تین ہیلی کاپٹروں نے مرمریس شہر میں ترکی صدر کی جائے اقامت کا رخ کیا جن میں40 فوجی سوار تھے اور ان کوباغی سرغنوں کی طرف سے اردوان کوگرفتار یا قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن اردوان اس گروہ کے پہنچنے سے 44 منٹ قبل وہاں سے نکل چکے تھے اور ہوٹل کی لابی میں اردوان کے خصوصی محافظوں اور انقلابیوں کے درمیان لڑائی ہوگئی۔

img Read More

قندیل بلوچ تم نے مرنا ہی تھا

احمد اعجاز

قندیل بلوچ تم نے مرنا ہی تھا اور غیرت کے نام پر ہی مرناتھا۔تم فوزیہ سے قندیل بنی اورپھر قندیل بن کر موت کے منہ میں چلی گئی۔تم فوزیہ سے قندیل کیوں اور کیسے بنی؟اس پر ہم کیوں غور کرتے؟ہم یہ جاننے کا کیوں تردّد کرتے کہ تم کبھی ایک عام سی دیہاتی لڑکی تھی ،جس کی کم عمری میں شادی کردی گئیتھی؟ہمیں فوزیہ میں کوئی دلچسپی نہیں ۔ہمیں تو قندیل بلوچ سے دلچسپی ہے۔ہماری یہی دلچسپی تمہاری موت کی وجہ بن گئی۔مجھے تمہارے مرنے کی خبر اس وقت مل گئی تھی ،جب پہلی بار تم میڈیا پر اُبھر کر سامنے آئی تھی۔

img Read More

بس کے ایک مسافر کی کہانی

محمد عاصم بٹ

بس کی بریکیں شاید ہوا خارج کرتی تھیں کیوں کہ جب انھیں لگایا جاتا تو ہوا کا بھبھکا سا شراٹے اور سیٹی مارتا خارج ہوتا اور ایسا بار بار ہونے سے اس کی توجہ کسی اور طرف جا ہی نہیں پا رہی تھی۔ وہ دروازے کے برابر ہی ایک سیٹ پر بیٹھا تھا۔ تبھی ا س کی نظر کھڑکی کے پاس ہی لگی ایک تختی پر پڑی، لکھا تھا، ’معذور افراد کے لیے۔‘ تختی پر اشارہ اسی کی سیٹ کی طرف تھا جس پر وہ بیٹھا تھا۔ اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ بیٹھے بیٹھے پہلو بدلا۔ آس پاس نظر دوڑائی۔ بس میں اب کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہیں بچی تھی۔ آر اے بازار تک ابھی راستے میں بارہ تیرہ سٹاپ تو ہوں گے۔جس جس رفتار سے یہ بس جا رہی تھی، لگتا نہیں تھا، اگلے چالیس پنتالیس منٹوں سے پہلے آر اے بازار تک، جو اس کا آخری سٹاپ تھا، پہنچ پائے۔

img Read More

ڈیرہ اسماعیل خان کی شماریات بدلنے کی سازش

اسلم اعوان

پاک افغان بارڈر پہ بڑھتی کشیدگی کے علاوہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں وسیع سیاسی حمایت کی حامل اور مرکز و صوبوں میں شریک اقتدار جے یو آئی،پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور اے این پی کی طرف سے مہاجرین کے پر امن انخلاءکی مخالفت نے افغان مہاجرین کو ملک کے مستقبل کےلئے مہیب خطرہ بنا دیا لیکن ان خطرات سے نمٹنے کے لئے جس نوع کی سیاسی ہم آہنگی درکار تھی وہ ابھی تک مفقود ہے،ہمارا فعال میڈیا،بپھری ہوئی اپوزیشن اور پس چلمن حلقوں نے اگر گورنمنٹ کو یونہی دباو میں رکھا تو متذکرہ بالا تینوں جماعتیں حکومت کی سیاسی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

img Read More

لکھنا، آج اور آنے والے زمانے میں

زاہد حسن

انتظار حسین نے اس مسئلے پر 1962ءمیں لکھا تھا اور کہا تھا کہ آج کے زمانے میں لِکھنا سُود مند ہے کیا؟ انتظار صاحب، تب حلقہ اربابِ ذوق کے سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔ خبر، پڑھنے کے بعد شاکر علی پاک ٹی ہاﺅس آئے اور انتظار حسین کے لفظوں میں ”مجھے پُرسا دیا کہ ”آخر کو تم بھی سکتر بن گئے۔“ جیسا کہ انتظار حسین کے مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ حلقہ کا سیکرٹری منتخب ہونا گویا مالی منفعت سے جُڑا کوئی کام ہے۔ تاہم پتہ یہ چلا کہ خاص طور پر ہمارے جیسے معاشروں میں لکھنا اور وہ بھی ادب کا، سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ لکھنے والے کے لیے اور لکھنے والے کے عزیز و اقرباءکے لیے۔ شاید، اسی لیے ہمارے یہاں جب کسی کے تعارف میں یہ بتایا جاتا ہے کہ موصوف کو شعر و ادب سے علاقہ ہے، تو چھوٹتے ہی یہ سوال پوچھا جاتا ہے۔ ”وہ تو ٹھیک ہے، لیکن کام کیا کرتے ہیں؟“

img Read More

ایدھی کی عیدی

ڈاکٹر خالد مسعود

ایدھی مرتے مرتے بھی ہم سب کو شرمندہ کر گئے۔ آخر میں ان کے بدن میں صرف آنکھیں رہ گئی تھیں جو کسی کے کام آسکتی تھیں۔ ایدھی وہ بھی عیدی دے گئے۔ گیتوں میں برہا کی ماری تو کا گا سے یہ ِبنتی کرتی سدھاری تھی کہ تن کا سارا ماس چن چن کھائیو پر دو نینا مت کھائیو۔ وہ آخری سانس بھی پیا مِلن کی آس میں ِبتانا چاہتی تھی۔ ایدھی تو سب کچھ تیاگ کر پیا کے پاس گئے۔ ایدھی نے جیتے بھی شرمندہ رکھا مر کر بھی شرمندہ کر گئے۔ ایدھی کے معیار پر ہم نہ جی سکتے ہیں نہ مر سکتے ہیں۔ اسی شرمندگی میں ہم سب بار بار کہ رہے ہیں کہ ایدھی صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ہم یہ کہ کر در اصل ایدھی کی روایت کو جاری رکھنے کی ذمہ داری کا بوجھ سر سے اتاررہے ہیں۔

img Read More

داعش کی اصل قوت

محمد عامر رانا

داعش کی اصل طاقت کیا ہے؟ اس پر ایک سے زائد آرا پائی جاتی ہیں۔ کوئی اس کے نظریے کو اس کی اصل جان قرار دیتا ہیں۔کسی کی نظر میں اس کی دہشت گردی کی حکمت عملی اہم ہے جو بہت خوفناک ہے۔کچھ ماہرین اس کی سیاسی حکمت عملی کو اہم سمجھتے ہیں کہ کس طرح اس نے مسلمان متوسط طبقے میں اپنے لیے سیاسی گنجائش پیدا کی ہے۔متوسط طبقے کے نوجوان جو اس تنظیم کی جانب راغب ہیں وہ بھی اس کا اثاثہ ہیں اور سائبر دنیا میں اس نے جو ایک طوفان برپا کیا ہے وہ کئی ماہرین کی نظر میں اس کی اصل قوت ہے۔ یہ تمام عوامل کسی نہ کسی سطح پر اہم ہیں،لیکن اس کی طاقت مسلم ریاست کی کمزوری میں پوشیدہ ہے مسلم اشرفیہ ابھی تک یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ داعش ہو یا القاعدہ ان کی جڑیں سماج میں اتنی گہری جاچکی ہیں کہ بد معاش،ڈاکو دہشت گرد گمرا جیسی طعنہ زنی سے یہ خطرہ ٹلنے والا نہیں ہے۔اس کی دوسری قوت مذہبی طبقے کی طرف سے جواب نہ آنا ہے اس کی وجہ دہشت گرد قوتوں کا خوف ہو سکتا ہے یا پھر یہ طبقے عملی فکری انحطاط کی اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ ان سے دہشت گرد نظریات کے فکری تریاق کی توقع رکھنا بھی غلط ہے

img Read More

آئینہ میرا دوست،تصویر میری دشمن

محمد عامر رانا

عکس کے اندر جادوئی طاقت ہوتی ہے۔یہ طاقت کسی کو بھی احساس تفاخر میں مبتلا کرسکتی ہے یا ندامت کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہے۔عکس ہمارے ساتھ کیا کھیل کھیلتا ہے اس کی وضاحت شاید دو اقوال سے ہو سکے۔ جو تصویر کشی کی ایک ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں۔پہلا قول ہے”میں آئینے میں تو اتنا خوبصورت دکھتا ہوں،یہ تصویر میں مجھے کیا ہو جاتا ہے؟“ دوسرا قول یہ ہے کہ”کیا آئینے کی تصویر،آئینہ نہیں ہوسکتی؟“۔ پہلے قول سے تو نرگسیت صاف جھلکتی ہے لیکن دوسرا قول قدرے تہڑا ہے۔ہر فرد میں نرگسیت کی کم یا زیادہ،ایک مقدار ضرور موجود ہوتی ہے لیکن بعض دفعہ یہ اس سطح کو چھونے لگتی ہے جہاں تصویر اور آئینے کا فرق ہی ختم ہونے لگتا ہے اور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ بھلا تصویر بھی کبھی آئینہ ہوتی ہے؟۔

img Read More

بقائے دوام : میلان کنڈیرا کی ایک تخلیقی جہت

محمد عاصم بٹ

بقائے دوام کی کہانی کا آغاز ایک دل ربا اشارے سے زندگی پاتا ہے۔ ایک عورت رخصت ہوتے ہوئے سوئمنگ پول کے قریب اپنے سوئمنگ انسٹرکٹر کو الوداع کہتی ہے اور اسے ہاتھ لہرا کر اشارہ کرتی ہے۔

img Read More

کیا یہ عید نئے نوٹوں کے بغیر ہی گزارنی پڑے گی؟

حسن سردار زیدی

پاکستان میں عیدالفطر کے پرمسرت موقع پر عیدی کے طور پر کرارے نوٹ دینے کی روایت بہت پرانی ہے۔شاید میری عمر سے بھی پرانی کیونکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے مجھے بھی بچپن میں عیدی میں کرارے نوٹ ہی ملتے تھے اور یہ نوٹ لے کر ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے ۔ ان نوٹوں کی بار بار گنتی کی جاتی تھی کہ کہیں کم تو نہیں ہوگئے اور جب ان کو خرچ کرنے کی باری آتی تھی تو وہ بھی آہستہ آہستہ خرچ کیے جاتے کہ کہیں جلدی کم نہ ہو جائیں۔

img Read More

اوریانیت

ڈاکٹر خالد مسعود

پچھلے دنوں ایک اشتہار میں ایک باپ کی نافرمان بچی کو کرکٹ کے میچ میں اچھلتے کودتے دکھایا گیا ۔ میڈیا میں بچی کی نافرمانی اور اچھل کود کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ وہ لباس میں بھی بہت سے لوگوں کو قابل اعتراض حرکتیں کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ہم دہشت گردی کی مذمت کرتے تو نہیں تھکتے کہ اس میں جا ن ومال کا نقصان ہے لیکن اس دہشت گردی پر جس میں عزت اور ایمان پر چھریاں چل جاتی ہیں صرف اندر ہی اندر کڑھتے ہیں لیکن زبان نہیں کھولتے صرف اس لئے کہ اسے کھل کر عریانیت، بے حیائی اور بے حجابی نہیں کہا جاسکتا ۔ ایک عرصے سے محسوس کیا جارہا تھا کہ کوئی لفظ ایسا ہو جو اس بے حیائی کو عریاں کر ڈالے۔ اللہ بھلا کرے سوشل میڈیا کا جس نے گذشتہ ہفتے اوریانیت کا لفظ متعارف کرایا۔عریانیت عربی زبان کا لفظ ہے، اوریانیت اردو کا۔ لیکن فرق صرف ہجوں کے ہیجان کا نہیں واہمے پر اعتماد کا بھی ہے۔عریانیت ظاہر کی آنکھ کو نظر آتی ہے۔ اوریانیت دل کی آنکھ کو دکھائی دیتی ہے۔ عریانیت لباس سے چھپائی جا سکتی ہے لیکن اوریانیت چھپائے نہیں چھپتی۔

img Read More

شیعہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ پر بھوک ہڑتالی کیمپ

وقار گیلانی

اسلام آبا دپریس کلب کے باہرپاکستان کی شیعہ تنظیم مجلس وحدت ا لمسلمین کی جانب سے لگایا گیا بھوک ہڑتالی اور احتجاجی کیمپ ساتویں ہفتے میں داخل ہو چکا ۔اس احتجاجی سرگرمی کا آغاز 13مئی کو کیا گیا تھا تاکہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف آواز بلند کی جائے اور حکام بالااور عسکری قیادت کو آئے روز شیعہ افراد کی منظم ہلاکتوں کے خلا ف عملی اقدامات لینے پر مجبور کیا جائے ۔ کیمپ کی خاص بات مجلس وحدت المسلمین کے سیکرٹری جنرل راجہ ناصر عباس کا اعلان ہے انہوں نے شیعہ ہلاکتوں پر جب تک کہ ریاست کو کسی واضح عملی قدم نہیں اٹھاتی مسلسل بھوک ھڑتال کا اعلان کیا ہے

img Read More

بحرین –ایران کشیدگی

عاطف محمود

بحرین میں معروف شیعہ عالم شیخ عیسی قاسم کی شہریت منسوخ کر نے پربحرین میں شیعہ کمیونٹی کی طرف سے بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے،ادھر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی نے بھی بحرینی حکومت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ منامہ کے خلاف مسلح مزاحمت کی حمایت کریں گے۔ جنرل سلیمانی کے بیان کو عموما ایران کی سرکاری پالیسی کا عکاس قرار دیا جاتا ہے۔

img Read More

ڈیرہ اسماعیل خان میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ

اسلم اعوان

دو موٹر سائکل سوار دہشتگردوں نے بدھ کے روز انسداد دہشتگردی یونٹ کے اے ایس آئی طارق جمشید کو سر میں گولیاں مار کے اس وقت ابدی نیند سلا دیا جب وہ نجی بنک کے اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کےلئے رکے،پانچ ماہ میں یہ چھٹا پولیس اہلکار ہے جسے دن دھاڑے مسلح پولیس اہلکاروں کے سامنے موت کے گھاٹ اتاراگیا،بلاشبہ ایک تھکی ہوئی پولیس فورس کے جوان،جو اپنے رفقاءکار کے جنازے اٹھاتے اُکتا چکے ہیں،دہشتگردی کی کاروائیوں کا جواب دینے کی بجائے بےکسی کی موت پہ قانع نظر آتے ہیں۔حیرت انگیز طور پہ اسی دن ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مجلس وحدت المسلمین کے دھرنا کو 40 دن پورے ہوئے،ایم ڈبلیو ایم والے5 مئی سے یہاں احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں جس میں ہر روز درجنوں افراد علامتی بھوک ہڑتال میں شریک ہوتے ہیں،دوسرے تیسرے روز عورتوں اور بچوں کی قابل ذکر تعداد دھرنا دیکر گھنٹوں سرکلر روڈبلاک رکھتی ہے، شیعہ وکلاءکی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مجلس وحدت المسلمین نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے بھی دھرنا دے رکھا ہے،وہاں بھی ڈیرہ اسماعیل خان کے مقتولین کے پسماندگان کی شرکت یقینی بنائی گئی۔وحدت المسلمین کے ڈویژنل صدر سید تحسین علمدار کہتے ہیں کہ انہیں مقامی اتھارٹی پر بھروسہ نہیں،انتظامیہ کی یقین دہانیوں کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے رکے نہ دہشتگردی کے عفریت کو نکیل ڈالی گئی،پچھلے پندرہ سالوں میں صرف ڈیرہ اسماعیل خان میں428 بے گناہ شہری موت کے گھاٹ اتارے گئے،ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں 328جبکہ خود کش حملوں میں 100سے زیادہ افراد مارے گئے۔

img Read More

گھر کی مرغی دال برابر؟

ڈاکٹر خالد مسعود

آج کل ملک میں یہ مطالبہ زور پکڑرہا ہے کہ اب یہاں پارلیمانی جمہوریت کی بجائے صدارتی جمہوریت کا نظام لانا چاہیے۔ بعض دانشور اب بھی پارلیمانی جمہوریت پر اصرار کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کی مشکوک بصیرت پر تشویش ہے کہ مرغی کی موجودگی میں دال کھانے پر اصرار کر رہے ہیں۔ بہانہ مہنگائی کا ہے لیکن درحقیقت وہ یہود و ہنود کی سازش کا شکار ہیں۔ پرانے زمانے میں یہود بھی من و سلوی کی موجودگی میں دال مانگتے تھے۔ ہنود اب تک دال کے دلدادہ ہیں۔ ہنود اور یہود میں فرق صرف لہسن اور پیاز کا ہے جو یہود کی پسند ہے۔ ہنود کو اس سے نفرت ہے۔ ہمارے دال پسندوں کو یہود و ہنود کے اختلافات سے سروکار نہیں۔ ان کو صرف مرغی سے بیر ہے اور وہ بھی ہنود سے میل ملاپ کے لئے۔ کوئی ان سے پوچھےکہ دال ہی کھانی تھی تو پاکستان کیوں بنایا۔ مرغی سے اتنی نفرت رہی تو یہ ملک اسلامی ریاست کیسے بنے گا۔

img Read More

اقتصادی راہداری کے لیے سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے

محمد عامر رانا

پاکستان اور چین دونوں اقتصادی راہداری کو اپنے لئے ایک سنگ میل قرار دیتے ہیں ۔خطے میں تعمیر و ترقی کی دوڑ میں یہ منصوبہ اس حد تک اہم ہے کہ یوریشیاء کی جیو اکنامک کو بدل کر رکھ دے گا۔دونوں اطراف اس راہداری پر جوش و خروش پایا جاتا ہے مگردونوں کے لئے اس کی وجوہات الگ الگ ہیں ۔ چینی قیادت اسے"ون بیلٹ ون روڈ " منصوبے کے ایک اہم حصے کے طور پر اس کو اپنے لئے بہت اہم سمجھتی ہے۔پاکستان اس کو خطے میں اپنے جیو سٹریٹجک مفادات کے لئے اس قدر اہم سجھتا ہے کہ اس کا خیال ہے کہ اس کے بعد گویا سارا کھیل ہی بدل کر رہ جائے گا۔ تاہم اس منصوبے کے بارے میں جس قدر جوش و ولولہ پایا جاتا ہے وہ کبھی کبھی مایوسی میں بھی بدلتا دکھائی دیتا ہے ۔چین سمجھتا تھا کہ اس منصوبے پر برق رفتاری سے کام ہو گا لیکن پاکستان میں کام کی سست روی اور ابہام کی وجہ سے بیجنگ کی پریشانی عیاں ہے ۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اقتصادی راہداری کو بھارت کے ساتھ خطے میں طاقت کے توازن کے طور پر دیکھتی ہے ۔اس منصوبے سے جڑے معاشی ثمرات پر اس کی توجہ اتنی زیادہ نہیں ہے ۔

img Read More

عرب ممالک میں رمضان کی دلچسپ روایات

عاطف محمود

مختلف ممالک میں رمضان کے مہینے کی اپنی اپنی روایات ہیں،مجموعی طور پر تو ہر جگہ اس مبارک مہینے کو رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ سمجھا جاتا ہے،عبادات اور خصوصا تلاوت قرآن کا عمل عام دنوں کی بنسبت دوچند ہو جاتا ہے،مساجد کھچاکھچ بھر جاتی ہیں، علاقہ کی ہر بڑی مسجد میں نماز تراویح میں قرآن پاک سنایا جاتا ہے،اور یہ شرف غالبا صرف پاکستان کو ہی حاصل ہے کہ ہر چھوٹی بڑی مسجد میں باقاعدگی سے مکمل قرآن پاک سنانے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اسی طرح اللہ کے نیک بندے اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے غریبوں اور بے آسرا لوگوں کا دل کھول کر تعاون کرتے ہیں اور جگہ جگہ رمضان دستر خوان بچھ جاتے ہیں جس سے ہمدردی کے جذبے کو فروغ ملتا ہے۔

img Read More

افغان مہاجرین کو تحفظ دینے والے کون ہیں ؟

اسلم اعوان

دیر آید درست آید کے مصداق بلآخر وفاقی حکومت نے ناجائز ذرائع سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے والے ان لاکھوں افغان مہاجرین کا سراغ لگانے کی خاطر پولیس کے زیر کمانڈ کام کرنے والی اسپشل برانچ کی خدمات حاصل کر لیں۔ افغان وارکے ابتدائی ایام میں اے این پی،جمعیت علماءاسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی جیسی بائیں بازو کی مذہبی اور قوم پرست جماعتیں نقل مکانی کر کے پاکستان آنے والے مہاجرین اور روسی مداخلت کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والے مجاہدین کو باغی اور اشرار جیسے القاب سے پکارتیں اور انہیں وطن واپس پلٹ جانے کی ترغیب دیتی رہیں۔ نائن الیون کے بعد ان کے سیاسی مفادات تبدیل ہوئے تو یہی جماعتیں افغان مہاجرین کی یہاں غیرقانونی آباد کاری کی سب سے بڑی حامی بن کے ابھری ہیں۔افغانستان میں امریکی مداخلت کے بعد گزشتہ پندہ سالوں کے دوران جے یو آئی، اے این پی اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی نے جامع منصوبہ بندی کے تحت خیبر پختون خوا کے علاوہ بلوچستان میں بھی بڑے پیمانے پہ افغان مہاجرین کو پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے میں معاونت دی،اس سے قبل جماعت اسلامی بھی اس کار خیر میں حصہ ڈالتی رہی۔

img Read More

چھیڑ چھاڑ سے ہاتھا پائی تک

ڈاکٹر خالد مسعود

بات چھیڑ چھاڑ سے ہاتھا پائی تک پہنچی تو مرزا غالب بھی گھبرائے کہ دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہ تھا۔یاد آیا کہ ایک دن مولوی غالب ہی پیش دستی کر بیٹھے تھے۔ بات آئی گئی ہو جاتی لیکن سراپا ناز نے رقیب خان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور وہ سنائیں کہ مولوی غالب وارے نیارے ہو گئے۔ تاہم دل ناداں حیران تھاکہ یہ گالم گلوچ سن کر رقیب خان وجد میں آ رہا تھا اور بار بار یہی کہے جاتا تھا

img Read More

قرآن تو ریاست پڑھائے گی! سمجھائے گا کون ؟

الماس حیدر نقوی

کسی بھی ریاست میں تعلیمی نصاب مستقبل سے متعلق ریاستی ترجیحات کی سمت کا تعین کرتا ہے کہ وہ آئندہ نسل میں کن خصلتوں کو دیکھنا چاہتی ہے ۔اگریہ کہا جائے کہ پاکستان کے موجودہ سماج کی فکر ی ساخت ، ماضی کی مجموعی تعلیمی نصابی ترجیحات کا نتیجہ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ ریاست نے نصابی سرگرمی کے طور پر قرآن پڑھانے کافیصلہ کرلیا ہے ۔یہ سیکولر ریاست کیلئے جدوجہد کرنے والوں کیلئے بری جبکہ مذہبی وابستگی رکھنے والوں کیلئے ایک اچھی خبر کے طور پر سامنے آئی ہے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانامحمدخان شیرانی اوروزیر مملکت برائے تعلیم و فنی تربیت بلیغ الرحمن نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ وزیرمملکت کے مطابق پہلی سے پانچویں جماعت تک تمام بچوں کوقرآن پاک ناظرہ پڑھایا جائے گا، چھٹی سے بارہویں جماعت تک طلبا کو قرآن پاک کی ترجمہ کے ساتھ تعلیم دی جائے گی۔ ساتویں سے دسویں جماعت تک قرآن مجید میں بیان کئے گئے واقعات پڑھائے جائیں گے۔دسویں سے بارہویں تک مسلمانوں کو دیئے گئے احکامات پر مشتمل صورتیں ترجمے کے ساتھ پڑھائی جائیں گی۔بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ ہرجماعت میں قرآن مجید کی تعلیم کے لئے 15 منٹ کاخصوصی پیریڈ مختص کیا جائے گا۔ قومی نصاب کونسل کے اجلاس میں صوبوں کو تجاویز فراہم کردی ہیں صوبے تجاویز کاجائزہ لینے کے بعد اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔

img Read More

سانحہ آرلینڈو ۔۔۔۔امریکی مسلمانوں میں بڑھتی ہو ئی شدت پسندی

سجاد اظہر

امریکہ کی تاریخ میں قتلِ عام کے حوالے سے 12 جون6201 ء ایک اور اندوہناک دن ہے جہاں ایک ہی واقعہ میں 50 افراد کو اس وقت گولیوں سے بھون دیا گیا جب وہ ہم جنسی کے ایک کلب میں رقص و سرود میں محو تھے ۔اس کا مرتکب ایک افغانی نژاد 29 سالہ امریکی شہری عمر متین کو قرار دیا گیا ہے جو کہ پرائیویٹ سیکورٹی آفیسر تھا۔

img Read More

لیاقت علی خان امریکہ کیوں گئے ؟

فیاض راجہ

گزشتہ ماہ 21 مئی کو بلوچستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے کے بعد پاک امریکہ تعلقات ایک بار پھر " بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آتے ہیں " کی تصویر بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ گزرے 65 برسوں میں پاک امریکہ تعلقات ہمیشہ ہی سے نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں۔ ایسے میں ایک طبقہ پھر سے وہی آواز بلند کررہا ہے جس کی بازگشت ہم ماضی میں بھی کئی دفعہ سن چکے ہیں کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے دیرپا دوستی کے لئے روس کی بجائے امریکہ کا انتخاب کیوں کیا تھا؟؟؟

img Read More

عبداللہ حسین: اردو کے پہلے پاکستانی نثر نگار

محمد عاصم بٹ

گہرے سیاسی شعور اور خاص کر پاکستان کی سیاسی تاریخ پر گہری نظرکے حامل اہل قلم میں عبداللہ حسین سربرآوردہ ہیں۔عاجزانہ طورپر یہ دعوی بھی کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سیاست کا شعور جس پختہ اور گہری سطح پر عبداللہ حسین کے ناولوں میں پایا جاتا ہے، اردو میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔لیکن یہ شعور محض سیاسی نہیں ہے، سماج اور فرد سے جڑا ہوا ہے۔اردو میں عبداللہ حسین پہلے ناول نگار ہیں جنھوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو فکشن کی صورت میں اپنے تبصرے کے ساتھ محفوظ کیا۔ یہ تاریخ یوں تو ان کے سبھی ناولوں میں جزواً جزواً موجود ہے، اور مجموعی طور پر اس کے سیاسی وژن کو ہم پر واضح کرتی ہے لیکن دو ناول اس حوالے سے خاص طورپر قابل ذکر ہیں، اداس نسلیں اور نادار لوگ۔

img Read More

ہم خوش کیوں نہیں ہیں؟

زبیر توروالی

ویلیم بلیک نے کہا تھا، ’A mark on every face I meet, Marks of weakness, marks of woe ‘ یعنی جس چہرے سے بھی ملتا ہوں میں اسی پہ لاچاری اور اداسی کی نشانیاں دیکھتا ہوں”۔ کسی گلی میں، بازار میں، دیہات میں، سکول میں غرض ہر جگہ اپکو لٹکائے ہوئے چہرے ملیں گے۔ ہر کسی کو کوئی نہ کوئی پریشانی کھائے جارہی ہے۔ طالب علم سکول سے تنگ، استاد ڈیوٹی سے؛ شوہر بیوی سے نالاں بیوی شوہر سے گلہ مند؛ دکاندار گاہگ سے گتم کھتا، ڈرائیور سواریوں سے جھگڑتا ہوا؛ مولوی مقتدیوں کی ایمانی کمزوریوں پہ غصّہ تو مقتدی مولوی کی واعظوں سے بے نیاز۔ پولیس عوام سے بدگماں تو عوام پولیس سے تنگ۔ کوئی کسی کی ’بے مذہبیت ‘ پر لعن طعن بھیجتا ہے تو کوئی مذہب کی تجارت پر رونا روتا ہے۔ کوئی کسی کو پند و نصح میں مشغول ہے تو کوئی عدم دلچسپی میں سر دھنتا رہتا ہے۔ کسی کو نوجوانوں کی ’اخلاقی باختگی ‘ کی فکر ہے تو کسی کو محبوب نے پریشان کیا ہوا ہے۔ ساس کو بہو کی خامیاں نکالنے سے فرصت نہیں تو بہو ساس کی شکایتیں لگانے میں لگی ہے۔ عاشق کو رقیب کی نفرت کھائے جارہی ہے تو معشوق کو عاشق پہ اعتماد نہیں ہے۔

img Read More

طالبان کا مستقبل

صفدر سیال

بہت سے تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ افغان طالبان امیر ملا محمد اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت نے افغان مصالحتی عمل یا مزاکرات کا راستہ روک دیا ہے ۔کم علم یا دال روٹی کے چکر میں مصروف عام لوگ اس سے مطلب یہ بھی لے سکتے ہیں کہ ملا اختر منصور مزاکرات میں شرکت کے لئے آرہے تھے کہ امریکی ڈرون نے انھیں راستے میں ہلاک کر دیا ۔یعنی امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے خطے میں امن قائم ہو۔ یہ امر بھی حیران کن ہے کہ جب طالبان کابل میں خود کش حملے کر رہے ہوں یاافغان شہروں کا گھیراؤ کر رہے ہوں تو بہت کم تجزیہ کار طالبان کے ان پُر تشدد اقدامات کے افغان مفاہمتی مزاکرات پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں ۔اکثر زور اس بات پر ہوتا ہے کہ مفاہمتی طالبان افغانستان میں اپنی طاقت اور دائرہ بڑھا رہے ہیں ۔یا پھر طالبان کے حملوں کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ ہونے والے ممکنہ مزاکرات میں اپنی معیشت بہتر بنا رہے ہیں تاکہ اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات منوا سکیں ۔اگر ایسا ہی ہے تو کیا افغان حکومت اور اس کے اتحادی طالبان کے ساتھ مزاکرات میں اپنی معیشت بہتر بنانے کے لئے (یا طالبان کو مزاکرات کی میز پر لانے کے لئے ) کوشش یعنی طاقت کا ستعمال نہیں کر سکتے ؟

img Read More

داعش،خلافت اور پہلا پارہ

عاطف محمود

خلافت عثمانیہ کے سقوط پر تقریبا ایک صدی کا عرصہ بیت چکا ہے،ابھی خلافت میں کچھ سانسیں باقی تھیں کہ 1916ء میں عربوں نے اپنی خلافت کے قیام کے لیے تگ و دو شروع کر دی تھی ،اس کے بعد سے اسلامی دنیا کے مختلف خطوں میں وقتا فوقتا احیائے خلافت کی تحریکیں اٹھتی رہیں جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے خلافت کا نام داعش جیسی ایک ایسی تنظیم کی طرف سے سامنے آیا جس کے بعد سے خلافت کے لفظ کو وحشت کا مترادف سمجھا جانے لگا ہے اور نئی نسل جب اسلام کی تاریخ میں خلافت کے لفظ کو پڑھتی یا سنتی ہے تو اس کے ذہن میں اس سنہر ی دور کا تصور بھی داعش جیسی وحشت گری کا قائم ہوتا ہے، اس لیے اسلامی خلافت اور داعشی خلافت میں تقابل سے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان دونوں میں فرق واضح کیا جائے اور اصل اور نقل کا فرق نمایاں کیا جائے۔

img Read More

اصلی دُشمن کون ؟

محمد عامر رانا

بلوچستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت نے خود مختاری، علاقائی استحکام، افغانستان میں امن اور پاک چین اقتصادی راہداری کی سیکورٹی، وغیرہ سمیت مختلف مسائل کے بارے میں ایک پیچیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔ پہلے ہی سے بگڑتے پاک امریکہ تعلقات پر منفی اثر پڑنا ہی تھا،لیکن اس واقعے نے ایران کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق جب ملا منصور کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ،اُس وقت وہ ایران سے آرہا تھا۔ پاکستان کے لیے ایران فیکٹر انڈیا اور مشرق وسطی کے تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ تاثر ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کو ایران اور انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن کے عنصر کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ظاھر ہے کہ ملا منصور کی موت کے تناطر میں ان تعلقات پر بھی بات کی جا سکتی ہے۔کیا یہ حیران کن نہیں لگتا ہے کہ طالبان رھنماء کی ھلاکت کا سارے تزوراتی اور علاقائی سیاسی منظرنامے سے کیا تعلق ہے؟

img Read More

اشتھار برائے اطلاع خاص و عام

ڈاکٹر خالد مسعود

ہر گاہ کہ بارہا یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ گھریلو اور مذہبی تشدد میں تمیز لازم ہے۔ مذہبی تشدد کے مقابلے میں گھریلو تشدد کا ضرب خفیف ہونا امر واجب ہے اور اس شرط سے مشروط ہے کہ اس ضرب کےنشانات نظر نہ آئیں ۔ تاہم ایسی فرماں بردار بیویاں بھی جو خفیف گھریلو تشدد پر معترض نہیں اسے خفیف نہیں پاتیں۔ نہ خاوند اس میں خفت محسوس کرتے ہیں۔ درآنحالیکہ اکثر خاوندوں کے لئے قوامیت اور مردانگی کے اظہار کا یہی نادر موقع ہوتا ہے اس لئے وہ یہ عمل پوری تندہی اور حمیت دینی سے ادا کرتے ہیں۔ اندریں حالات فرماں بردار بیویوں کی طرح وہ خاوند بھی جو عادت سے مجبور پشیمان رہتے ہیں بدیں وجہ اس ضیق استثنائی سے باہر نکلنے کا چارہ نہیں پاتے کہ تا حال کوئی آلہ ضرب تشدد خفیف کا دستیاب نہیں۔ہرگاہ کہ خاوند ضرب شدید کا ارادہ نہ ہونے پر بھی دستیاب آلات کی بنا پر ضرب شدید کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ ہم اس اشتہار کے ذریعے ہر خاص و عام کو خوش خبری دینا چاہتے ہیں کہ فرماں بردار بیویوں اور عادت سے مجبور خاوندوں کی انہی مشکلات کے پیش نظر ہم نےزر کثیر صرف کرکے برطانیہ سے ایسی چھڑیاں درآمد کی ہیں جن سے ضرب خفیف ممکن ہے اور خاوند چاہے بھی تو ضرب شدید ممکن نہیں ہوگی۔ برطانیہ کا انتخاب اس لئے کیا کہ چھڑیوں کی صنعت میں اس ملک کا تجربہ مسلمہ ہے۔ یہ قوم نابینا لوگوں کے لئے حساس چھڑی بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے جسے سفید چھڑی کہتے ہیں

img Read More

تیرا بجٹ۔ میرا بجٹ

فیاض راجہ

یہ قومی اسمبلی کا منظر ہے،ادھیڑ عمر اور خوش پوش وزیر خزانہ اپنے سامنے ڈھیر ساری کتابوں کا انبار لگائے ایک فائل ہاتھ میں لئے کھڑے ہیں۔ ٹائی سوٹ میں ملبوس وزیر خزانہ نے کھنکار کا گلا صاف کیا اور بڑی تمکنت سے بولے۔ "جناب اسپیکر! اس ملک میں روزگار کے مواقع پہلے سے زیادہ ہوگئے ہیں، لوگوں کے ہاتھ میں پہلےسے زیادہ پیسے آ گئے ہیں جس کے باعث ملک میں کاروں اور ایئر کنڈیشنز کی طلب میں اضافہ ہوگیا ہے۔" جناب اسپیکر! غریبوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے اور مہنگائی پر بھی پوری طرح قابو پا لیا گیا ہے۔ بنیادی ضرورت کی اشیا کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور حکومت پوری طرح قیمتوں پر نظر رکھے ہو ئے ہے۔ "

img Read More

عورت کی سرزنش کی وڈیو، حقیقت کیا ہے ؟

عاطف محمود

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی پر "خاندان کے مسائل" کے عنوان سے ایک تربیتی سیریز چل رہی ہے جس میں میاں بیوی کے حقوق و فرائض قران و سنت کی روشنی میں بیان کیے جا رہے ہیں۔سیریز کے چار منٹ پر محیط ایک سیگمینٹ کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہےجس میں بیوی کی سرزنش کی شرعی حدود پر گفتگو کی گئی ہے۔پروگرام کے میزبان خالد بن ابراہیم صقعبی نے اس سیگمینٹ میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اگر زوجین میں اختلاف ہو جائے اور اختلاف کی وجہ عورت کی ہٹ دھرمی ہو تو اس اختلاف کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے اور بیوی کو کس طرح تنبیہ کی جائے جس سے اسے غلطی پر ہونے کا احساس ہو؟پروگرام کے میزبان خالد صقعبی نے اس کا جواب دیتے ہوئے شریعت کی حدود بیان کرتے ہوئے ایک حدیث کا حوالہ دے کر بتایا کہ آخری درجہ یہ ہے کہ مسواک کے ذریعہ بیوی کی سرزنش کی جائے جس سے ظاہر ہے کہ صرف بیوی کو اپنی غلطی پر متنبہ کرنا مقصود ہے۔ یہ تھی وہ ویڈیو جس کو "بیوی کو کیسے ماریں؟" کا عنوان دے کر پھیلایا گیا اور پھر اس ویڈیو میں بتائی گئی تفصیل کو سنے بغیر ہی اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔میں نے یہ ویڈیو ایک سے زائد دفعہ دیکھی کہ مجھے اس میں قابل اعتراض بات نظر آئے لیکن کمنٹس سے مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ صرف عنوان کو دیکھ کر تنقید کی جارہی ہے جیسا کہ ہمارے ہاں بھی یہ چلن عام ہے کہ کسی بھی ویڈیو یا تحریر کے مندرجات کچھ ہوں گے اور عنوان کچھ اور دیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس طرف متوجہ ہوں۔

img Read More

ڈیرہ میں لوڈ شیڈنگ کے ستائے عوام

اسلم اعوان

گرمی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ہی دور افتادہ شہروں میں ٹرانسفارمز پھٹنے اور بجلی کی تاریں گرنے جیسے حادثات بڑھ جاتے ہیں،جن کی فوری مرمت و بحالی کی صلاحیت ناپید ہونے کی وجہ سے گنجان آباد علاقوں میں مسلسل کئی کئی دن تک بجلی بند رہتی ہے۔تکنیکی خرابیوں کو بروقت سملجھانے میں دانستہ تاخیر اور غیر اعلانیہ لوڈ شڈنگ جیسے مسائل سے نمٹنے کی خاطر ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے کمشنر نے ایس ای سرکل سے لے کر پیسکو اور پیپکو چیف کو خط لکھ کے کوارڈینشن کی درخواست کی تو واپڈا کے ذیشان افسران نے جواب دینا تک گوارہ نہ سمجھا لیکن واپڈا اہلکاروں کی کوتاہیوں کے باعث اگر امن و عامہ کا مسلہ پیدا ہو جائے تو ذمہ داری انتظامیہ کے سر ہو گی،انہی عمیق تضادات نے انتظامیہ کو بے بس کر رکھا ہے ۔حیران کن امر یہ ہے کہ شہر اور مضافاتی علاقوں میں اب بھی ازمنہ رفتہ کی بوسیدہ تاریں

img Read More

فرقہ واریت: اسی عطار کے لونڈے سے دوا

ثاقب اکبر

فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے کی جانے والی بعض کوششوں کو ”اسی عطار کے لونڈے سے دوا“ لینے کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے۔ شاید میر کی یہ تعبیر بھی صحیح صورت حال کی پوری عکاسی نہیں کرتی۔ ہم تو فرقہ پرست عناصر کو اور بھی قوی کرتے جارہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس ”نسخہ کیمیا“ سے فرقہ پرستی، انتہا پسندی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہم میر سے بھی زیادہ سادہ ہیں۔ گاہے ہم اپنے درد کا علاج انھیں سے دریافت کرنے پہنچ جاتے ہیں جو درد بانٹے کا کاروبار کرتے ہیں۔ ہماری کیفیت کی ترجمانی شاید یہ شعر کرتا ہے:

img Read More

وادئ سوات کے پُرفضا مقامات کی سیر اور کچھ مسائل کا تذکرہ

زبیر توروالی

مئی کی 26 تاریخ تھی۔ پاکستان کے بیشتر شہروں کا درجہ حرارت 45 ڈگری سے زیادہ تھا۔ جبکہ مجھے ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ میں کسی چٹان کے اوٹ کی تلاش میں تھا تاکہ اس ٹھنڈی ہوا سے محفوظ رہ سکوں۔ ساتھیوں کی حالت بھی ایسی تھی۔ ایسے میں مجھے شہروں میں بستے ان غریبوں کی فکر ستانے لگی جو جھلسا دینے والی گرمی میں سخت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ مجھے وہ ٹیکسی ڈرائیور یاد آیا جو دو دن پہلے مجھے اسلام آباد میں ملا تھا۔ اس کی آنکھیں خوابیدہ تھیں۔ وہ رات کو نہیں سو سکا تھا۔ رات کو نہ سونا اس کا معمول بن چکا تھا کیونکہ جب وہ روٹی روزی کمانے کے بعد گھر آتا اور سونے کا ارادہ کرتا تو بجلی لمبے عرصے کے لئے چلی جاتی اور وہ بغیر پنکھے کے نہیں سوسکتاتھا۔ صرف وہ نہیں ملک کی واضح اکثریت بجلی کی اس کمی سے اکیسویں صدی میں بھی جان نہ چھڑا سکی۔

img Read More

منحوس ماری عوام

صاحبزادہ محمد امانت رسول

صدر پاکستان جناب ممنون حسین صاحب نے بددیانت اور ایماندار میں ایمان افروز فرق بتایا ہے جو پڑھنے کے بعد کم از کم میں جھوم اٹھا ہوں اور اہل ایمان بھی ضرور جھومے ہوں گے۔ انہوں نے فرمایا: ”جو جتنا کرپٹ اس کے چہرے پر اتنی ہی نحوست ہوتی ہے“ فرماتے ہیں: ”کرپٹ لوگوں میں بھی مختلف درجات ہیں کوئی بہت زیادہ کرپٹ ہے کوئی درمیانہ کرپٹ ہے بہت زیادہ کرپٹ لوگ منحوس ہوتے ہیں ان کے چہروں سے نحوست ٹپک رہی ہوتی ہے اللہ کی لعنت اُن کے چہروں پر ہوتی ہے۔“

img Read More

سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا ؟

احمد اعجاز

ہمارے ہاں کے نظامِ تعلیم کا ایک بنیادی نقطہ طالبِعلموں پر قبضہ کرنا ہے۔یہ کام تعلیمی نصاب اور اساتذہ کے ذریعے کیا جاتا ہے ۔تعلیمی نصاب اس انداز کا ترتیب دیا جاتا ہے جس میں سوالات کی گنجائش کم سے کم ہوتی ہے ۔یہ دھیان رہے کہ تعلیم کاتو بنیادی کام ہی سوالات کو جنم دینا ہے ۔طالبِ علموں کے ذہنوں میں سوالات کانہ اُبھرنا ہی اُن پر قبضہ کاسبب بنتا ہے ۔جب تعلیمی نصاب اور یبوست زَدہ اساتذہ کی کوششوں کے نتیجے میں طالبِ علم قابو میں آجائیں تو مسئلہ ہی حل ہوجاتا ہے کیونکہ شعور کواُجاگرکرنے کاسفرتھم جاتا ہے۔طالبِعلم کائناتی حقیقتوں سے منہ موڑ کر غیر حقیقت کے تابع ہو کر رہ جاتے ہیں ۔چونکہ طالبِعلموں کی تخلیقی قوت ختم ہو چکی ہوتی ہے یوں ایسے میں کوئی نیاتصور جگہ بنا سکتا ہے نہ سچ آشکار ہو سکتا ہے ۔والدین بھی طالبِ علموں پر قبضہ کرنے والوں کے ساتھی بن جاتے ہیں ۔ والدین ،اساتذہ ،تعلیمی ادارے ،نصاب اور تعلیمی نظام طالبِ علم سے اُس کا حق کیسے چھینتے ہیں ؟ نیز طالبِ علم اور قبضہ گروپ طاقتوں کے مابین تضادات کی نوعیت کس حد تک سنگین ہے ۔اس حقیقی کہانی سے سمجھتے ہیں ۔

img Read More

قومی زبوں حالی اور ملامت گری کا رویہ

عمار خان ناصر

احمد امین مصری کا شمار بیسویں صدی کے نصف اوّل میں عالم عرب کے ان ممتاز مفکرین اور رجحان ساز اہل قلم میں ہوتا ہے جنھوں نے بدلتے ہوئے حالات میں نئی نسل کی فکری تربیت کی اور عرب معاشرے میں جدید سیاسی ومعاشرتی تصورات کی تفہیم اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ادبی اور ثقافتی تحریروں کے ایک بڑے ذخیرے کے علاوہ اسلامی تاریخ کے ابتدائی ادوار کے تجزیاتی مطالعہ کے حوالے سے ان کی کتابوں فجر الاسلام، ضحی الاسلام اور ظہر الاسلام کی مثلث اہل علم میں اسی طرح مشہور ومعروف ہے جیسے ہمارے ہاں برصغیر کی مسلم فکر وتہذیب کی تاریخ کے ضمن میں شیخ محمد اکرام کی ’’آب کوثر’’، ’’رود کوثر’’ اور ’’موج کوثر ’’ سے ہر پڑھا لکھا شخص واقف ہے۔

img Read More

شناخت کی سماجیات اور ولدیت کا خانہ

الماس حیدر نقوی

انسان اپنی زندگی کے کن امور میں’’ مختار ِ کل‘‘ ہے اور کن امور میں ’’مجبورِ محض‘‘ ہے،حکمائے قدیم سے لیکر معاصر مفکرین تک کا جبرو قدر کے اس مسئلے پر طویل مباحث موجود ہیں۔ مذہبی ماخذیات اور فلسفیانہ مواد میں جبرو قدر کے حق اور مخالفت میں ضخیم منابع عام افراد کیلئے پیچیدہ بنادیتا ہے کہ انسان کی زندگی کے معاملات میں ’’اختیار ‘‘کہاں سے شروع ہوتا ہے اور ’’بے بسی ‘‘کی انتہا کیاہے ؟ انہیں پیچیدگیوں کے باعث افراد انفرادی تجربات سے اخذ شدہ نتائج کی روشنی میں زندگی سے متعلق تصورات استوار کرتے ہیں ۔

img Read More

اپنے مستقبل کا فیصلہ آج ہی کیجئے۔

سبوخ سید

مشہور چینی کہاوت ہے کہ جب تیز آندھی چل رہی ہو تو اس وقت سر اونچا رکھنا حماقت ہے کیونکہ آپ آندھی سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح زلزلے کے دوران اپنی جان بچانا فرض ہے۔ ایسے موقع پر صبر و تحمل یہی ہے کہ اپنی اور دوسروں کی جان بچائی جائے۔

img Read More

ملا منصور کا پاسپورٹ جلنے سے کیسے بچا ؟

سجاد اظہر

گاڑی جل کر خاکستر ہو گئی مگر پاسپورٹ "نواں نکور" پڑا ہوا ملا ۔ ایسا کیسے ہوا ؟ اس سوال کے جواب کے لئے میں آپ کو اپنا ایک ذاتی واقعہ سناتا ہوں جو 2013ء میں امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں رو نما ہوا ۔ میں نے پاکستان آنے کا پروگرام بنایا ۔جب پاسپورٹ دیکھا تو وہ زائد المعیاد ہو چکا تھا ۔سفر کے لئے اس کی تجدید ضروری تھی ۔ میں نے پاکستان کے قریبی قونصلیٹ جو اسی ریاست کے شہر ہیوسٹن میں واقع تھا وہاں رابطہ کیا ۔ڈیلس سے ہیوسٹن کا سفر تقریباً ساڑھے تین گھنٹوں کا ہے ۔قونصلیٹ نے مجھے بتایا کہ اس کے لئے آپ کو لمبا سفر کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں بس آپ فیس کے ساتھ اپنا پاسپورٹ پوسٹ کر دیں ہم اس کی تجدید کے بعد آپ کو بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیں گے ۔ امریکہ میں تقریباً دس لاکھ پاکستانی آباد ہیں ۔وہاں واشنگٹن ڈی سی کی ایمبیسی سمیت پاکستان کے چار قونصلیٹ کام کر رہے ہیں جو نیویارک ، شکاگو، ہیوسٹن اور لاس اینجلس میں ہیں۔

img Read More

علی حیدر گیلانی اور شہباز تاثیر کے متضاد تجربات

محمد عامر رانا

بہت سارے لوگ عسکریت پسندوں کو قوت استدلال سے محروم ،جرائم پیشہ افراد یا ٹھگوں کے گروہ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ علی حیدر گیلانی نے القاعدہ سے رہائی کے بعد جو کہانی سنائی ہے وہ اس مختلف نقطہ نظر کی تائید نہیں کرتی۔ القاعدہ کی جانب سے تین سالہ قید کے دوران گیلانی کو یہ احساس ہوا کہ عسکریت پسند نظریاتی محرکات رکھتے تھے،اور ان کی حقیقی طاقت ان کی سیاسی و نظریاتی بیانیوں میں پوشیدہ ہے۔ اس کے بر عکس ،شہباز تاثیر کی بتائی ہوئی کہانی میں عسکریت پسندوں کی وہی جھلک ملتی ہے،جس کے لیے وہ معروف ہیں۔ وہ آخرالذکر پر قید کے دوران بے دردی سےتشدد کرتے رہے۔ تاثیر کو تاوان کیلئے اغوا کیا گیا تھا ،جبکہ اس کے برعکس مبینہ طور پر گیلانی کے اغواءکا مقصد پاکستانی جیلوں میں قید عسکریت پسندوں کے ساتھیوں کی رہائی تھی ۔ دونوں نوجوانوں کی جانب سے دیے گئے خود وضاحتی بیان عسکریت پسندوں کے دو مختلف پہلو ﺅں کو ظاہر کرتے ہیں۔ دونوں کے قید میں رہنے کے متضاد ۔تجربات خطے میں سرگرم عسکریت پسندوں کے کردار کوبھی سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، اور ان کے نظریات اور بیانیے کس طرح صراحیت کرتے ہیں۔

img Read More

بارش کا بدھا رخصت پر ہے

سجاد اظہر

پاکستان کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے زیر زمین پانی کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں ۔ہر پانچ سال میں زیر زمین پانی 15 سے 20 فٹ مزید نیچے جا رہا ہے ۔اس سال پاکستان میں پانی کی کمی کی وجہ سے کپاس کی پیداوار ملکی ضروریات سے کم ہو گی جس کی وجہ سے پاکستان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے 4 ارب ڈالر کی کپاس در آمد کرے گا ۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور اندازہ ہے کہ 2040 ء تک یہ نقصان بڑھ کر 34 ارب ڈالر سالانہ ہو جائے گا ۔

img Read More

ہمیں تعصب عزیز ہے ،رواداری نہیں

احمد اعجاز

یہ سچ نہیں کہ ہمارے ہاں جب کوئی گروہ ، فرقہ یا جماعت دھرتی پر ظلم برپا کرتے ہیں تو اس کے افراد ظلم کو ظلم نہیں کہتے ؟کیا یہاں تعصب کا منفی جذبہ کارفرما نہیں ہوتا؟ تعصب صرف پاکستانیوں کا مسئلہ نہیں یہ دنیا کے بیشتر انسانوں کا مسئلہ ہے البتہ پاکستانی اس منفی جذبے کو بہت عزیز جانتے ہیں۔ تعصب ہی وہ منفی جذبہ ہے جو ہمیں شناخت کے بحران کے حوالے کر چکا ہے ،ہمیں جان لینا چاہیے کہ تعصب‘ تشدد کے لئے راہ ہموار کرتا ہے کیونکہ یہ نفرت پیدا کرتا ہے اور نفرت تشدد کے لئے اُ بھارتی ہے۔ ہم محسوس کریں یا اس احساس کو جھٹک دیں لیکن یہ حقیقت اٹل درجہ رکھتی ہے کہ ہماری سماجی زندگی کے نظام میں سب سے زیادہ گنجائش تعصب کے لئے رکھی گئی ہے،یہ کئی زاویوں سے پھوٹتا ہے مگر نظریاتی زاویے سے پھوٹنے والا تعصب سب سے خطرناک ہے۔ یہ تعصب ہی ہے جو دوسروں کی جانیں لے لیتا ہے اور املاک کو آگ لگوا کر خاکستر کر دیتا ہے۔ ہمارے دیہات میں،پرانے زمانے اوران دنوں بھی جب گندم کی فصل تیار ہو کر گٹھوں کی صورت ایک جگہ اکٹھی کر دی جاتی ہے تو راتوں رات اس کو آگ لگا دینے کا واقعہ کہیں نہ کہیں رُونما ہو جاتا ہے۔

img Read More

القاب کی بیساکھیاں

ثاقب اکبر

بعض القاب ایسے ہوتے ہیں کہ عام انسان انھیں پڑھ کر حیرت میں کھو جاتا ہوں۔ کبھی تو ایک شخص کے نام کے ساتھ اتنے ڈھیر سارے القاب ہوتے ہیں کہ اصل نام کا پتہ ہی نہیں چلتا اور سمجھ نہیں آتی کہ موصوف کو کس لفظ سے پکاریں۔ ایسے میں دل تو کہہ رہا ہوتا ہے کہ کس نام سے پکاروں کیا نام ہے تمھارا لیکن زبان کو یارائے اظہار نہیں ہوتا۔عامتہ الناس جن افراد کو علمائے کرام کہتے ہیں ان کے ناموں کے ساتھ شاید سب سے عجیب و غریب القاب ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں کم ازکم لقب یا خطاب یا سابقہ ان کے ناموں کے ساتھ ”علّامہ“ ہوتا ہے۔ عربی زبان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی کے علم و فضل کی بنیاد پر اس کے لیے مبالغے کا صیغہ استعمال کرنا ہو تو ”علّام“ کہا جاتا ہے اور جب مبالغے کی بھی انتہا ہو جائے تو ”علاّمہ“ کا لفظ بروئے کار لایا جاتا ہے۔

img Read More

سائکس – پیکو معاہدے کے سو سال اور عرب دنیا

عاطف محمود

سائکس اور پیکو برطانیہ اور فرانس کے وزراء خارجہ تھے جنہوں نے 1916 کے موسم بہار میں جنگ عظیم اول کے دوران میں خفیہ طور پر ایک معاہدہ طے کیا تھا۔ اس معاہدے میں برطانیہ اور فرانس نے وہ عرب ممالک جنہیں زرخیز ہلال کے ممالک(عراق ،شام،لبنان،اردن،فلسطین اور اسرائیل) بھی کہا جاتا ہے کو اپنے قبضے میں لانے کا فیصلہ کیا جو ایران اور بحیرہ روم کے درمیانی مستطیل علاقے میں واقع تھے۔فرانس نے شام کا مغربی حصہ موصل کے صوبے کے ساتھ پایا اور برطانیہ عظمی نے بغداد سے لے کر خلیج فارس تک عراق کے علاقے پر قبضہ جما لیا۔درمیانی صحرا میں جو عرب مملکت قائم ہونے والی تھی اس کا شمالی حصہ فرانسیسی قبضہ میں اور جنوبی حصہ برطانوی حدود میں شامل تھا۔رہا فلسطین تو شامیوں کو اس پر اصرار تھا کہ پورا شام جس میں اس کا وہ جنوبی حصہ بھی شامل ہے جو فلسطین کے نام سے مشہور ہے ان کے حصے میں آنا چاہیے۔اہل برطانیہ جو نہر سویز کے اتنے قریب فرانسیسیوں کے قبضہ کے خواہاں نہ تھے ان کو بین الاقوامی علاقہ بنانے پر زور دے رہے تھے اور حیفہ اور عکہ پر اپنا قبضہ جمانے کے منصوبے بنا رہے تھے۔اس طرح عربی ممالک کے حصے بخرے ہو گئے اور عربوں کو صحرا میں بند کر دیا گیا۔

img Read More

مشرق ِ وسطیٰ کو اوبامہ کی کامیابی کی بھاری قیمت چکانا پڑی

فریدذکریا

عراق زخموں سے چُور ہے ۔اس ہفتے بغداد میں ہونے والے دھماکے جن سے 90 سے زائد لوگ لقمئہ اجل بن گئے سے یہ بات ایک بار پھر شدت سے سامنے آئی ہے کہ وہاں حالات انتہائی مخدوش اور خطرناک ہیں مگر واشنگٹن میں بیٹھے مقتدر لوگوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ۔ عراق کی متزلزل صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پالیسی ساز کوئی فوری حل تجویز کریں۔سخت گیر اور اریزونا سے سینیٹر جان مکین نے زور دیا ہے کہ صرف اوبامہ انتظامیہ ہی یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ علاقے میں مزید فوجی دستے بھیج کر وہاں حالات کو کنٹرول کیا جائے۔جبکہ بعض کی رائے ہے کہ سفارتکاری اور سیاسی مشاورت ہی سے فوجی کارروائیوں کو نتیجہ خیز بنایا جا سکتاہے ۔ابھی بھی اس بات کی گنجائش موجودہے کہ عراقی قیادت کی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ وہی اس بحران کے خاتمے کا کوئی راستہ دکھا سکتی ہے ۔

img Read More

ڈیموکریسی دو ریاستیں ہیں

محمد عامر رانا

"ایک دفعہ کا ذکر ہے دو ریاستیں تھیں۔جیسا کہ تاریخ کا وطیرہ ہے کہ ایسی ریاستیں یونان میں ہواکرتی تھیں۔یونان کا حوالہ بات میں وزن ڈال دیتا ہے۔سیاست کی بدعت بھی وہیں سے شروع ہوئی۔اس سے پہلے نہ تو سیاست ہوتی تھی اور نہ ہی سیاستدان ہوتے تھے۔صرف حکومتیں ہوتی تھیں۔بہترین حکمرانی تھی کرپشن تو ہرگز نہیں تھی لیکن پھر یونان درمیان میں آگیا۔"

img Read More

برطانیہ میں نفاذ اسلام

صاحبزادہ محمد امانت رسول

صادق خان لندن کے میئر بنے تو پاکستان میں رہنے والے پاکستانیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمان، اور وہ بھی پاکستانی.... ہمیں برطانیہ میں ”نفاذِ اسلام“ کی منزل قریب نظر آنے لگی اور اس سے زیادہ خوشی اس بات کی .... یہ منزل ایک پاکستانی مسلمان سے سر ہونے لگی ہے۔

img Read More

ایک دن کی زندگی کا روزنامچہ

محمد عاصم بٹ

ناول کا بنیادی موضوع اس کے عنوان کی پٹاری میں بند ہے۔ اس پٹاری کو کھولئے، تو پورا ناول اس کے ساتھ کھلتا چلا جاتا ہے۔ لیکن ایک اور اشارہ ہمیں ناول کے انتساب سے ملتا ہے جسے خواتین کے نام کیا گیا ہے۔ آزاد مہدی کا موضوع منٹو کی طرح عام عورتیں نہیں ہیں جو ایک لگے بندھے طریقے سے معمول کی زندگی گزارتی ہیں، جو شوہروں کی وفادار اور اچھی مائیں ہوتی ہیں۔

img Read More

تہذیب جدید اور خواتین کے استحصال کے ’’متمدن“ طریقے

عمار خان ناصر

خواتین کے استحصال اور ان پر ظلم وستم کو عموماً روایتی معاشرے کا ایک مظہر تصور کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس صورت حال کا واحد ماخذ روایتی معاشرہ نہیں، جدید لبرل اور سرمایہ دارانہ معاشرت اس استحصال اور تذلیل کے شاید اس سے بھی سنگین مواقع اور صورتیں پیدا کر رہی ہے اور بدقسمتی سے ان کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔

img Read More

الجزائر کی بشار الاسد کو سپورٹ اور مغربی صحرا

عاطف محمود

اسدی فوج کی شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں حالیہ بمباری اور اس کےنتیجے میں ہونے والے معصوم بچوں اور عورتوں کے بہیمانہ قتل نے پوری انسانیت کو ہلا کر رکھ دیاہے،اور صرف عالم اسلام میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بشار الاسد کی اس وحشت گری کی مذمت کی گئی اور بجا طور پر یہ سوال اٹھایا گیاکہ ان معصوم بچوں کا کیا قصور ہے؟ اور انہیں کس جرم کی پاداش میں اس اندوہناک انجام کا شکار ہونا پڑا؟عالمی سطح پر اسدی حکومت پر دباؤ بھی بڑھا کہ جنگ کی بجائے مذاکرات سے مسئلے کو حل کیا جائے۔

img Read More

لندن میں خوف پر امید کی فتح

ثاقب اکبر

لندن کے نومنتخب مسلمان میئر صادق خان نے اپنی کامیابی پر خود جو تبصرہ کیا ہے وہ ہرتبصرے سے گہرا، بامعنی اور حقیقت پر مبنی ہے۔ یہ اس لیے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ ان کے لیے یہ انتخابی عمل فقط دیدہ و شنیدہ نہ تھا بلکہ چشیدہ تھا۔ انتخابات میں اپنی کامیابی کے بعد صادق خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان جیسا کوئی شخص لندن کا میئر منتخب ہوگا۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ تمام لندن والوں کے میئر ثابت ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم تنازعہ سے عاری نہ تھی تاہم ان کا کہنا تھا کہ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ لندن نے آج خوف کے بجائے امید کا انتخاب کیا ہے۔

img Read More

سیاست میں اخلاقیات کا مسئلہ

محمد عامر رانا

اخلاقیات ایک ایسا ہتھیار ہے جو اکثر غیر جمہوری قوتوں کی جانب سے جمہوری اقدار کو روکنے اور متبادل کے طور پر اپنی خدمات کو پیش کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اس مہلک ہتھیار کے خصوصی متاثرین وہ سیاست دان ہیںجنہیں اپنا راستہ غیر جمہوری قوتوں کے بنائے گئے نام نہاد اخلاقی معیارات کو للکارے بغیربنانا پڑتا ہے ۔

img Read More

بات سیاسی کلچر کی ہے

ظفر اللہ خان

آغاز تو ہمارا بھی خوب تھا ۔ 10 اگست 1947 ء کو جب پاکستانی کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس ہوا تومنصب ِ صدارت پر دلت رہنما جوگیندر ناتھ منڈل بیٹھے تھے ۔چلیں اگر یہ علامتی تھا تو 1951 کے لاہور چلتے ہیں جہاں ایک مزدور رہنما مرزا ابراہیم احمد ،سعید کرمانی کے مقابلے میں صوبائی الیکشن لڑتے ہیں ۔فیض احمد فیض اور مظہر علی خان ان کی مہم ایسے چلاتے ہیں کہ اس وقت کے ڈپٹی کمیشنر ایس ایس جعفری کو ووٹوں کی گنتی اتنی بار کرانا پڑتی ہے کہ مزدور رہنما کے اڑھائی ہزار ووٹ مسترد ہو جائیں اور ان کا حریف جیت جائے ۔اس وقت میڈیا مینجمینٹ سیل اور سپن ڈاکٹروں کا تصور نہ تھا اس لئے اگلے روز اخبارات نے سرخی جماعی "جھرلو پھر گیا "۔

img Read More

فکری افلاس کے آسیب میں مبتلا سماج

الماس حیدر نقوی

ان دِنوں امام غزالی کی کتاب تہافتہ فلاسفہ زیر مطالعہ ہے اس شہرہ آفاق کتاب جس میں پہلی مرتبہ یونانی منطق پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے، کئی منطقی مغالطوں کی نشاندہی کی گئی، ابو نصر فارابی اور ابن سینانے فلسفے اور مذہب میں جو میلان پیدا کرنے کیلئے عمار ت کھڑی کی گئی اس پر غزالی نے شدید حملے کئے اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یونانی منطقی ہتھیاروں سے مذہب کی توضع و تشریح نہیں ہوسکتی ۔یہ الگ بات ہے کہ ابن رشد نے اپنی کتاب تہافتہ التہافہ میں ارسطالیسی منطق کے حق اور امام غزالی کے حملوں کے جواب دئیے ۔

img Read More

چھوٹی عمر کے بچے اور رَسمی تعلیم کا" عذاب"

عمار خان ناصر

بچوں کی رسمی تعلیم کا عمل کس عمر سے شروع کیا جائے اور ابتدائی تعلیم کے مندرجات اور ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟ یہ کسی بھی معاشرے میں تعلیمی نظام سے متعلق سوالات میں ایک بنیادی اور اہم ترین سوال ہے۔ ہمارے ہاں جدید تمدن کے زیر اثر پروان چڑھنے والا ایک نہایت لا یعنی رجحان بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو رسمی تعلیمی اداروں کے سپرد کر دینے کا پیدا ہوا ہے جو کاروباری محرکات کے تحت روز بروز فروغ پا رہا ہے۔ اس حوالے سے چند دن پہلے میں نے سوشل میڈیا پر اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کیا تو قارئین کے رسپانس سے اندازہ ہوا کہ اس بات کا احساس کافی عام ہے اور اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ اس رجحان کے مفاسد اور مضرات پر گفتگو کی جائے۔

img Read More

چارٹر آف ڈیموکریسی کی تحریر مدہم پڑ چکی ؟

ظفر اللہ خان

مئی 2006 ء میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر سیاسی دلدل سے نکلنے کی کنجی میثاقَ جمہوریت میں تلاش کی تو کسی کو یہ یقین نہ تھا کہ اس معاہدے کی حیثیت اس کاغذ سے بڑھ کر بھی ہے جس پر یہ تحریر کیا گیا تھا۔ سیاست کا طالب ِ علم ہونے کے ناطے میں پریشان تھا کہ اس تاریخی دستاویز کے اوپر دستخط تو دو ہیں لیکن اس کے درحقیقت فریق تین ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو جانا ہو گا ۔تیسرے فریق نے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو کو این آر او کا جھانسہ دیا جو کہ جمہوریت کے لئے مصنوعی پل ِ صراط ثابت ہوا ۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے جان نشینوں نے سیاسی مفاہمت کامعاملہ خوب نبھایا اور پاکستانیوں نے 2013ء میں پہلی بار ایک سویلین حکومت سے اقتدار پرامن انداز میں دوسری سویلین حکومت کو منتقل ہوتے دیکھا ۔اس سفر میں این آر او سے لے کر میمو گیٹ تک کئی سپیڈ بریکر آئے لیکن چارٹر آف ڈیموکریسی کی فراہم کردہ بنیاد پرتاریخی اٹھارویں ترمیم نے جمہوریت کے گرد مؤثر آئینی حصار قائم کر دیا۔

img Read More

شاہ سلمان کا سعودی عرب بدلتا ہوا سعودی عرب

عاطف محمود

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو برسراقتدار آئے ہوئےصرف پندرہ ماہ کا عرصہ ہواہے لیکن اتنی قلیل مدت میں انہوں نے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کر کے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈال دیا ہے۔انہوں نے اپنے اقتدار کے پہلے ہی سال میں سعودیہ کو خطے کی مضبوط اور فعال طاقت میں تبدیل کر دیا ہے۔

img Read More

افسانے کی روایت کا اگلا پڑاؤ

محمد عاصم بٹ

انتظار حسین کی انفرادیت کے کئی پہلو ہیں۔ تاہم جو بات انھیں باقی سبھی لکھنے والوں سے ممتاز و منفرد کرتی ہے وہ ان کی برصغیر کے قدیم ادبی اثاثوں سے استفادے کی غیر معمولی کامیاب کوششیں ہیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ آپ نے افسانہ کے لگے بندھے اسلوب سے ہٹ کر اپنا اسلوب بنانے کی خواہش اورجتن کیا۔ آپ نے ہند مسلم تہذیبوں کے اشتراکات سے استفادہ کیا۔ آپ کی آواز میں ان دونوں تہذیبوں کے مشترکہ سُر گونجتے ہیں۔ وہ نہ صرف اردو کی کلاسیکی داستانوں اور ملفوظات کے ادب اور قدیم نثری اسالیب سے کماحقہ آگاہ تھے بلکہ سنسکرت کلاسیکی اور ہندی کتھاؤں پر بھی انھیں دست گاہ تھیں۔ ان دونوں ادبی روایتوں کو انھوں نے برتا اور ایک ترکیب بنائی جسے ہم انتظار حسین کی نثر اور اسلوب کے طورپر جانتے ہیں۔ یہ نثر انتظار حسین کا برانڈ تھی۔

img Read More

ریاست کا سافٹ ویئر کرپٹ ہو چکا ہے؟

ظفر اللہ خان

ہم تسلیم کریں یا نہ کریں ہماری ریاست کا ہارڈ ویئر تو1971ءکے جھٹکے کے باوجود کچھ نہ کچھ قائم و دائم ہے لیکن اس کا سافٹ ویئر خوب کرپٹ ہو چکا ہے اس سافٹ ویئر کی بحالی کی بات ہوتی ہے تو اس پر کوئی غیر جمہوری اینٹی وائرس چلا دیا جاتا ہے جو ہارڈ ویئر کو بھی ہلا کر رکھ دیتا ہے۔اگر69 سالہ پرانا یہ سارا کچھ چل رہا ہے تو یہ ہارڈ ویئر کا کمال ہے یا پھر اس کے اصلی مالکان۔عوام کا۔وگرنہ یہاں ہر شے کریش کرنے کےلئے کیا کچھ نہیں ہوا۔سچ پوچھیں تو پاکستانی خواب کو تعبیر آشنا کرنے کےلئے اگر کوئی واقعی مخلص ہے تو وہ یہاں کے افتادگان خاک ہیں۔امراءاور طبقہ اشرافیہ کو تو دو مہلک امراض یعنی ذوق تھانیداری اور شوق ٹھیکیداری لاحق ہیں۔

img Read More

ہم لونڈیاں نہیں ہیں

عاطف محمود

"نکاح سترہ" کا نام آپ نے پہلے کبھی نہیں سنا ہو گا،یہ عرب دنیا میں رائج ہونے والی نکاح کی ایک نئی قسم ہے،اس سے قبل کئی عشروں سے "نکاح مسیار" کے نام سے بھی شادی کا ایک سلسلہ عرب میں جاری ہے،مسیار کا لفظ" سیر" سے نکلا ہے جس کا مطلب "سفر کرنا ہے ،بظاہر یہ لفظ "میسار" کی بگڑی ہوئی شکل معلوم ہوتی ہے جس کی اصل "یسر" ہے،یعنی"آسانی"،اس نکاح میں مرد عورت شادی کی اکثر مروجہ رسموں سے آزاد ہو کر ،اور ایک دوسرے کے متعدد حقوق سے دستبردار ہو کر بڑی آسانی کے ساتھ یہ رشتہ قائم کر لیتے ہیں،عام طور پر وہ لڑکیاں اس طرح کی شادی پر آمادہ ہوتی ہیں جن کی شادی کی عمر ڈھلنا شروع ہو جائے اور اس وقت تک مسیار کے نام سے قائم کیے گئے رشتے کو باقی رکھتی ہیں جب تک باقاعدہ شادی کا پیغام نہ آجائے۔

img Read More

چین پاکستان اقتصادی راہداری کا کرشمہ

محمد عامر رانا

پاکستان کی سیاسی قیادت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری پر اتفاقِ رائے کی خبر بیجنگ میں "ون بیلٹ ، ون روڈ " کے منصوبہ سازوں کے لئے باعث ِ اطمینان تھی ۔ ان کا خیال ہے کہاس اقتصادی راہداری سے صرف چین ہی نہیں بلکہ پورے خطے کا فائدہ ہوگا،بلکہ وہ اس میں شریک تمام ممالک کے سیاسی ، اقتصادی ، انتظامی اور کاروباری ڈھانچے کو ایک نیا آہنگ دینا چاہتے ہیں ۔

img Read More

اردو ناول نگاری اور حلقہ ارباب ذوق کی تحریک

محمد عاصم بٹ

ناول کی صنف اردو زبان میں باقی اصناف سخن کے مقابلے میں کم توجہی کا شکار رہی۔ اس کی متعدد سیاسی تہذیبی سماجی و ادبی وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں۔ قصہ گوئی کی روایت برصغیر کی زبانوں میں طویل تاریخ رکھتی ہے اور دیومالاؤں اور قصوں کہانیوں کی صورت میں یہ ہمیشہ سے یہاں کے کلاسیکی ادب کا حصہ رہی ہے۔ ناول کی صنف ا س روایت کی ایک ترقی یافتہ صورت قرار دی جا سکتی ہے۔

img Read More

علامہ اقبا ل کے تصور اجتہاد کی اہمیت و معنویت (اقبال کے اٹھترویں برسی کے موقع پر)

ثاقب اکبر

علامہ اقبال نے اسلام کے تصور اجتہاد کے بارے میں اپنے خطبے کی اساس اجتہاد کے حوالے سے اپنے اس نظریے پر رکھی ہے کہ یہ اسلام کا اصول حرکت ہے۔ اقبال کے اس تاریخی خطبے پر گذشتہ تقریباً ایک صدی میں بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے۔ جہاں اقبال کے پیغام کو خوش آمدید کہنے والے اہل دانش و فکر کی کمی نہیں وہاں اس ضمن میں ان کے افکار کو اپنی تنقید کا نشانہ بنانے والوں کی بھی ایک دنیا آباد ہے۔

img Read More

اختلاف کب منافرت کا باعث بنتا ہے؟

عمار خان ناصر

ادبِ اختلاف مسلمانوں کی علمی روایت کی ایک بہت اہم بحث رہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ میں مختلف دینی اور دنیاوی امور کے فہم کے ضمن میں اختلاف رائے واقع ہوا۔ بعض حساس دینی وسیاسی معاملات پر اختلاف رائے نے آگے چل کر باقاعدہ مذہبی وسیاسی مکاتب فکر کی صورت اختیار کر لی اور بعض انتہا پسند فکری گروہوں نے اپنے طرز فکر اور طرز عمل سے مسلم فکر کو اس سوال کی طرف متوجہ کیا کہ اختلاف رائے کے آداب اور اخلاقی حدود کا تعین کیا جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ اظہار اختلاف کے بعض نہایت سنگین پیرایے سامنے آنے کے باوجود مسلم فکر میں اختلاف پر قدغن لگانے یا آزادئ رائے کو محدود کرنے کا رجحان پیدا نہیں ہوا۔ اس کے بجائے اختلاف رائے کی اہمیت اور ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے اظہار کے لیے مناسب علمی واخلاقی آداب کی تعیین پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ مسلمانوں کے علمی وفقہی ذخیرے میں اس حوالے سے نہایت عمدہ اور بلند پایہ بحثیں موجود ہیں۔

img Read More

پاک چین اقتصادی راہداری:منصوبے سرخ فیتے کا شکار ہو رہے ہیں !

خلیق کیانی

تگذشتہ سال 2015ءکے ماہِ اپریل میں پاکستان اور چین کے مابین پچاس معاہدوں کی یادداشتوں پر مفاہمتی دستخط ہوئے۔ تعمیرو ترقی پرمبنی پاک چین اقتصادی راہداری کے اُن معاہدوں کی مالیت لگ بھگ چھیالیس بلین ڈالر بنتی ہے ۔ دونوں ممالک کے مشترکہ تعاون کمیٹی کا چھٹا اجلاس جون میں بلانے سے قبل اب جب دونوں اقوام نے تاریخ ساز معاہدے کی پہلی سالگرہ مکمل کی ہے تو یہ ضروری ہوگیا ہے کہ طائرانہ نگاہ ڈال کریہ دیکھا جائے کہ ترقی کے منصوبوں پر کس حد تک پیش رفت ہو ئی ہے؟یہ فیصلہ کرنا ایک مشکل اَمر ہے کہ اس سطح تک آکر عملدرآمد کی رفتارکیا رہی ہے؟لیکن ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ محکموں کو منصوبوں پر عمل کرنے کے لیے تاحال مختلف قسم کے ابہامات اور مشکلات درپیش ہیں۔

img Read More

کیا حزب اللہ اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ؟

عاطف محمود

خبر ہے کہ 17اپریل 2016 اتوار کی شام عرب پارلیمنٹ نے حزب اللہ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا،اس بات کا اعلان عرب پارلیمنٹ کے سربراہ محمد بن احمد الجروان نے قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس میں کیا،انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اپنے اسلحے کا رخ اسرائیل کی طرف کرے،اس سے قبل عرب وزراء خارجہ کونسل 11 مارچ کو قاہرہ میں اور عرب وزراء داخلہ کونسل 2 مارچ کو تیونس میں حزب اللہ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے چکی ہے جبکہ عراق ،لبنان اور الجزائر نے اس فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری خبر یہ ہے کہ او آئی سی نے ایران کی عرب ممالک کے معاملات میں کسی بھی قسم کی بالواسطہ یا بلاواسطہ دخل اندازی کو مسترد کر دیا ہے اور یہ کہ ایرانی صدر حسن روحانی او آئی سی کا اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔

img Read More

عسکریت پسندی اور بدعنوانی کا باہمی تعلق

سجاد اظہر

منگل کو جنرل راحیل شریف نے سگنل رجمنٹ سینٹر کوہاٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ'' ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کو ختم کیے بغیر ملک امن و استحکام ممکن نہیں ہے ،دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہے لیکن ملک میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بدعنوانی کو جڑ سے ختم کیا جائے۔پاکستان کی سالمیت، استحکام اور خوشحالی کے لیے ہر سطح پر احتساب ضروری ہے اور پاکستان کی مسلح افواج اس سمت میں بامعنی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گی تاکہ ہماری آئندہ نسلوں کے بہتر مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے''۔

img Read More

اقوال زرّیں اور اشعار زریں کا المیہ

ثاقب اکبر

﴿ یہ کام ہمارے خاندان میں گذشتہ کئی نسلوں سے ہو رہا ہے۔
﴿ یہ تو ہمارے علاقے کا رواج ہے‘ ہم تو اسے ترک نہیں کرسکتے۔
﴿ یہ تو آج کل چل رہا ہے۔
﴿ یہ تو ان دنوں کا فیشن ہے۔
﴿ یہ تو ہمارے ہاں کی رسم ہے‘ ہم نے ایسا نہ کیا تو ہماری ناک کٹ جائے گی۔
﴿ یہ طریقہ فلاں شخصیت کاتھا‘ ہمارے ہاں اسے بہت مقدس سمجھا جاتا ہے‘ ہم تو اسے نہیں چھوڑ سکتے۔
﴿ یہ تو ہمارے عقیدے کا معاملہ ہے‘ ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔
ایسی باتیں اور ایسے جملے آپ روزانہ کئی افراد سے سنتے ہوں گے بلکہ خود بھی کہتے ہوں۔ شاید آپ ان کی حقیقت‘ تاثیر اور برگشت کی طرف متوجہ نہ ہوتے ہوں۔ کبھی کبھی ایسے جملوں سے بھی سابقہ پڑتا ہوگا:

img Read More

ڈی چوک –دائمی دھرنا نگر

ظفر اللہ خان

پاکستانی سیاست کی ہمہ وقت ہنگامہ خیزی میں ڈی چوک ایک نیا استعارہ بن چکا ہے۔اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے عین سامنے یہ مقام پہلی بار اس وقت با رونق ہوا جب 90 کی دہائی میں اسے 23 مارچ کی پریڈ کے لئے خصوصی رنگ و روپ دیا گیا ۔لیکن آج اس کی نئی پہچان اس کا "دھرنا نگر" بن جانا ہے ۔60 کی دہائی میں اسلام آباد کو ایک غیر سیاسی دارالحکومت کے طور پرایوبی آمریت میں کچھ اس انداز میں بسایا گیا تھا کہ یہ عوامی پاکستان سے 25 کلو میٹر دور ہو ۔ مارگلہ کے دامن میں اس خوبصورت شہر کی تین داخلی سڑ کیں بند کر دی جائیں تو یہ اقتدار کاقید خانہ بن کر زیروپوائنٹ کی بادشاہت میں سُکڑ جاتا ہے ۔تاریخی طور پر زبردستی کنٹرول کے قابل یہ شہر اس لئے بسایا گیا تھا کیونکہ اس وقت کا دارلحکومت کراچی اپنے جمہوری مزاج کو طلاق دینے پر آمادہ نہ تھا اور باوجود اس کے بنیادی جمہوریت کی چھتری تلے "ہینڈ پک" لوگوں کو ووٹ کا حق حاصل تھااور انھوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے جاہ و جلال کی بجائے مادر ِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کی بغاوت کی تھی ۔کچھ ایسا ہی معاملہ اس وقت کے پارلیمانی دارالخلافہ ڈھاکہ کا بھی تھا جہاں صوبائی خود مختاری کا ساز زور پکڑ رہا تھا ۔لہٰذا ایک غیر سیاسی دارالحکومت کا سوچا گیا ۔پھر کیا تھا آمریت اور جمہوریت کی میوزیکل چئیر کے کھیل میں اسلام آباد نصف صدی تک جو کچھ پیرا فری دور دراز علاقوں تک بھیجتا رہا،اب لگتا ہے کہ بمعہ سود واپس آ رہا ہے اور اسلام آباد میں اب سب کچھ سنبھالنے کی سکت محدود ہو چکی ہے ۔

img Read More

جماعتہ الدعوۃ کی ثالثی عدالتیں

عمار خان ناصر

جماعۃ الدعوۃ کی قائم کردہ ثالثی عدالتیں ان دنوں اخباری خبروں اور تبصروں کا موضوع ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق یہ ایک غیر رسمی ثالثی کا فورم ہے جس میں فریقین کی رضامندی سے باہمی تنازعات کا تصفیہ کیا جاتا ہے اور فیصلے کی ذمہ داری جماعۃ الدعوۃ کی طرف سے مقرر کیے گئے قاضی انجام دیتے ہیں۔ اس سے پہلے ستر کی دہائی میں جمعیۃ علمائے اسلام نے بھی اس نوعیت کی ایک مہم شروع کی تھی اور اس مقصد کے لیے مختلف شہروں میں قاضیوں کا تقرر کیا گیا تھا۔ ہمارے استاذ حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خان مرحوم اور قلعہ دیدار سنگھ کے معروف عالم مولانا قاضی عصمت اللہ صاحب مرحوم کو اسی نسبت سے قاضی کا لقب ملا۔ لیکن یہ سلسلہ بوجوہ عوام کی زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکا۔

img Read More

پنجاب میں عسکریت پسندی کا مسئلہ

محمد عامر رانا

جنوبی پنجاب میں آپریشن کا آغاز ہو چکا ہے۔یہ آپریشن جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ میں ڈیلٹائی علاقے جسے عرف عام میں کچھے کے علاقے کہا جاتا ہے میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہو رہا ہے ۔گلشن اقبال لاہور کے وحشیانہ حملے کے بعد حکومت یہ آپریشن کر رہی ہے اگرچہ بظاہر اس دہشت گردی کی واردات اوراس آپریشن میں براہِ راست کو ئی تعلق نہیں ہے ۔بہرحال اس آپریشن کا عرصے سے انتظار تھا اس آپریشن سے متعلقہ اضلاع میں لا قانونیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔

img Read More

راولپنڈی کا ماخذ پنڈ ہے یا عبادت گاہ ؟

ظفر خان نیازی

راول جوگیوں کا قبیلہ تھا ، ان کے پنڈ کو مزید چھوٹا کر کے پنڈی کہہ بھی دیا جاتا تو شاید وه اس کی پروا نہ کرتے لیکن پنڈی گھیب کے گھیبے راجپوت، نواب اور پنڈی بھٹیاں کے بھٹی حکمران راجپوتوں کی راج دهانیوں کو پنڈ کے معنوں میں پنڈی کون کہہ سکتا تھا ۔ بھٹی تو اپنی آن بان کیلئے شہنشاه اکبر وجہانگیر سے بھی متھا لینے سے نہیں ٹلتے تھے - انا کے مارے لوگ اپنے شہروں کو پنڈ سے بھی چھوٹا کیسے پکارتے۔ میں تاریخ دان نہیں ہوں اور نہ ہی میں پوٹھوار کے کلچر اور زبان کی نزاکتیں سمجهتا ہوں لیکن تھوڑی سی عقل استعمال کرنے والا مخاطب بھی پوٹھواری دانشوروں کے اس دعوے کو مانتے ہوئے سو بار سوچے گا کہ پنڈی ، پنڈ کا اسم صغیر ہے کہ نہیں ۔حالانکہ پنڈ سے چھوٹی آبادی کیلئے اور کئی نام ہیں مثلا" ڈیرا ، جھوک ، ڈہوک ، گراں ، وانڈهی یا وانڈہا وغیره -

img Read More

خدا نہ کرے بیگم کلثوم کو کراچی جانا پڑے !

سجاد اظہر

یہ غالباًمارچ 2000ء کا واقعہ ہے
ابھی بیگم کلثوم نواز شریف لاہور اور اٹک قلعے کے درمیان سفر سے ہلکان ہو چکی تھیں مگر ابھی بھی ان کی ہمت باقی تھی ۔اسلام آباد میں بیگم عشرت اشرف کا گھر ان کا ٹھکانہ ہوتا تھا جہاں چوہدری جعفر اقبال اورنجمہ حمید کےعلاوہ کوئی تیسرا چہرہ نظر نہیں آتاتھا ۔وہ نواز شریف کی زندگی کو لاحق خطرات کے بارے میں انہونے خدشات کا شکار تھیں لیکن انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ اگلے چند دنوں بعد انھیں عمر قید کی سزا سنائی جائے گی ۔وہ چاہتی تھیں کہ ان کی جماعت اپنے لیڈر کے لئے کچھ کرے ۔شیخ رشید کو جب وہ کال کرنے کی کوشش کرتیں توفون ہی بند ملتا شاید انھوں نے نمبر بدل لیا تھا۔ایک دن میں اور جاوید قریشی صاحب چوہدری شجاعت کے گھر گئے تو آگے کچھ لوگ فیتہ لے کر دیواروں کی پیمائش کر رہے تھے

img Read More

سعودیہ ایران کشمکش اب افریقہ میں

عاطف محمود

براعظم افریقہ 54 ممالک پر مشتمل دوسرا بڑا براعظم ہےجن میں سے 17 ممالک کا سرکاری مذہب اسلام ہے جو کہ افریقہ کے مغرب میں واقع ہیں۔ یہ خطہ جہاں ایک طرف گیس،پیٹرول،سونا اور یورینیم جیسے قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالامال ہے تو دوسری طرف اس کی اکثر آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے،یہی وجہ ہے کہ مختلف ادوار میں مختلف طاقتیں غربت مٹانے کے نام پر اس خطے کا استحصال کرتی رہیں اور اپنے مفادات کشیدکرتی رہیں۔

img Read More

افغان امن مذاکرات ، کیوں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے ؟

نواف خان

حکومت افغانستان نے پچھلے15 سالوں سے جاری افغان جنگ کو صحیح معنوں میں ختم کرنے کی کوشش تب محسوس کی جب یہ جنگ اپنی10 سالہ مدت پوری کرنے والی تھی۔تب سے یعنی2010 سے مذاکرات برائے مذاکرات ہوتے چلتے آرہے ہیں مگراب تک کوئی معنی خیز نتیجہ اخذ نہ ہوسکا۔

img Read More

دستور پر عمل درآمد نہ کرنے کی قیمت

ظفر اللہ خان

بہار اور آئین پاکستان1973ءمیں اکٹھے آئے تھے لیکن پھر قومی افق پر سرزمین بے آئین کی خزاں کیوں؟ جواب تلاش کریں تو گرین بک کو گرے بک بنائے رکھنے میں سبھی کا حصہ ہے۔ناقدین کا اصرار ہے کہ ہمارے ہر آئین میں نو آبادیاتی1935 کے انڈین ایکٹ کی بدروح چھپی ہوئی ہے یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ ہم اپنا معروضی آئینی ٹمپلیٹ نہیں بنا سکے۔نو آبادیاتی نظام کی نسبت ہی یہ تھی کہ مختلف اداروں اور ضابطوں کے ذریعے غلاموں کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جائے اور کبھی کبھار حسب ضرورت انہیں محدود اختیار کے وہم میں بھی مبتلا کردیا جائے۔

img Read More

نوز شریف، وقار یونس کے راستے پر

سجاد اظہر

وزیر اعظم نواز شریف جب کل شام عوام سے خطاب کرنے آئے تو انھوں نے کہا کہ پوری سیاسی زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ وہ ذاتی حوالے سے قوم کے سامنے آئے ہیں ۔انھوں نے پاناما لیکس کے بعد اپنے خاندان پر لگنے والے الزامات کا دفاع کیا ۔انھو ں نے سقوط ِ ڈھاکہ اور ذولفقار علی بھٹو دور میں اتفاق فاؤنڈری قومیانے سے اپنے مالی نقصانات کا تذکرہ کیا ۔بینظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں انتقامی کارروائیوں کا رونا بھی رویا اور پھر مشرف دور میں ایک بار پھر جب انھیں جلا وطن کیا گیا تو ان کے کاروبار بھی ٹھپ کر دیئے گئے ۔انھوں نے کہا کہ جلا وطنی کے دوران ان کے بزرگوں نے سعودی بنکوں سے قرض لے کر جدہ میں سٹیل مل لگائی ۔اور جلا وطنی ختم ہونے کے بعد یہ فیکٹری بیچی جس سے حاصل ہونے والی رقم سے میرے بیٹوں نے کاروبار شروع کیا۔انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ اس سازش کے پیچھے کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میں گھسے پٹے الزامات دہرانے اور روز تماشا لگانے والوں سے کہتا ہوں کہ وہ اس کمیشن کے سامنے جائیں اور اپنے الزامات ثابت کریں۔

img Read More

دینی مدارس کا نصاب ونظام ۔ قومی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت

عمار خان ناصر

ملک کے معروف غیر حکومتی ادارے پیس ایجوکیشن اینڈ ڈویلپمنٹ فاونڈیشن نے حال ہی میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کے تعاون سے وفاق المدارس العربیہ کے نصاب کے تجزیے پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کی تیاری میں مولانا مفتی محمد زاہد، خورشید احمد ندیم اور راقم الحروف نے حصہ لیا۔ یہ رپورٹ 96 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے ’’درس نظامی ۔ وفاق المدارس العربیہ کے نصاب کا تنقیدی جائزہ ۔ پس منظر، تجزیہ اور سفارشات’’کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ، اپنی نوعہت کا غالباً‌ پہلا کام ہے جس میں وفاق المدارس کے موجودہ نصاب کی تاریخی اساس اور ارتقا کو تحقیقی وتجزیاتی بنیادوں پر واضح کیا گیا ہے اور موجودہ نصاب کے مندرجات کا بعض دوسرے وفاقوں کے نصاب کے ساتھ موازنہ کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی وتدریسی نقطہ نظر سے اس میں پائی جانے والی خامیوں، خلاوں اور اصلاح طلب امور کی نشان دہی کی گئی ہے۔

img Read More

دولتِ اسلامیہ کا نیا رخ

محمد عامر رانا

برسلز میں ہونے والے دہشت گردحملوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ عسکریت پسند دولتِ اسلامیہ (آئی ایس)عالمی دہشت گرد گروپ میں تبدیل ہورہا ہے۔اس کی ایک وجہ عراق اور شام کے علاقوں میں اس گروپ کی کمزور پڑتی گرفت بھی ہوسکتی ہے۔مگر سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ یہ گروپ اسلامی عسکریت پسند تحریکوں میں کشش کھو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ اس کی انتہائی متشدّد فرقہ وارانہ ساکھ ہے۔آئی ایس کا، نام نہادخراسان چیپٹر بھی افغانستان اور پاکستان میں پسپا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔افغانستان میں اس کے حامیوں اور اتحادیوں کوافغان طالبان،ڈرون حملوں اور افغان سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔اسی طرح پاکستان میں وسیع نگرانی اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والوں کوایسے دہشت گرد سیلز تباہ کرنے میں بہت مدد ملی،جو ایسےِ افراد کی جانب سے قائم کئے گئے تھے جو آئی ایس سے وابستہ یا متاثر تھے۔

img Read More

ذہنی انتشار

سبوخ سید

آپ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کریں یا باربر شاپ پر بال ترشوانے جائیں ۔ کسی یونی ورسٹی کے ہٹ پر بیٹھیں یا کسی مدرسے میں داخل ہو جائیں ۔ آپ کو یہ جان کر ایک خوشگوار حیرت ہوگی کہ ہمارے نوجوان رومان کی عمر میں ملکی مسائل پر گفت گو کر رہے ہیں ۔ (اگر چہ میرا انہیں مشورہ ہے کہ وہ ضرور ملکی حالات پر بحث مباحثہ کریں تاہم زندگی کے اس اہم موڑ پر خیالات سے دل لگا نے کے ساتھ ساتھ کر رومان پروری سے فرار اختیار نہ کریں) ۔

img Read More

روس کی شام میں مداخلت اور جزوی واپسی اسباب،مقاصد اور نتائج

عاطف محمود

روس کی سیاست پر نظر رکھنے اور شام کی روس کے لیےجغرافیائی اہمیت کا ادراک رکھنے والوں کے لیےروس کی چار ماہ قبل 30 ستمبر2015 کوشام میں مداخلت کوئی اچنبھے کی بات نہیں،روس باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ خطے اور عالمی منظرنامہ کا گہرائی سے مطالعہ کرنے ،اور اپنے لیے بہت سے امکانات و اہداف کو سامنے رکھ کر میدان میں اترا ہے ،روسی سیاسی پنڈتوں کے نزدیک درج ذیل مقاصد کے حصول کے لیے روس نے شام میں مداخلت کی۔

img Read More

لیاری آج بھی اپنی تلاش میں ہے

علی ارقم

انگریزی سے ترجمہ :جاوید نور غلام رسول کلمتی،المعروف ملا کلمتی ۔مصنف اور بلوچی زبان کے شاعر جو کراچی کی سید ہاشمی لائبریری ملیر میں بلوچی ادب کے نگران کے طور پر کام کرتے ہیں۔وہ ایک اردو کتاب ،،کراچی۔قدامت ،واقعات وروایات،، کے مصنف بھی ہیں اور بلوچ قبائل کی بکھری ہوئی بستیوں کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔ جن میں زیادہ تر ماہی گیر ،سندھ و بلوچستان کی ساحلی پٹی اور دریائے لیاری کے کنارے آباد مویشیوں کے بیوپاری شامل ہیں۔ان میں سے کچھ بستیاں سیکڑوں برس قبل وہاں قائم ہوئیں جہاں ان دنوں کراچی واقع ہے ،مگر جب ساحلی علاقوں کے ساتھ ساتھ تعمیر کی گئی کھاڑیوں(گودی) کو صدیوں تک تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔جب تک کہ برطانوی راج کی جانب سے یہاں ترقی یافتہ شہر کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا۔کلمتی کہتے ہیں کہ برطانوی راج سے قبل یہ بستیاں کبھی باقاعدہ شہر کے طور پر ترقی نہ کرسکیں جس کی وجہ یہ تھی کہ سندھی اور بلوچ حکمرانوں کو وہاں معاشی فوائددکھائی دے رہے تھے اور جن کے مفادات مقامی قبائلی سرداروں پر نظر رکھنے اورحکام کے ذریعہ مقامی افراد سے مختلف قسم کے محاصل کی وصولی تک محدود تھے۔

img Read More

مقتدر قوتوں کا پتلی تماشا

ظفر اللہ خان

69سالوں کے بعد بھی جمہوری سیاست،پاکستانی حقیقت میں ایک کمزور فریق ہے۔قومی زندگی کے تمام لمحوں میں اچھی بُری عدلیہ موجود رہی بھلے اس نے آئین کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہو یا پھر عبوری آئینی حکم نامے سے وفاداری نبھائی ہو۔ افسر شاہی کا سیٹل فریم بھی قائم و دائم رہا لیکن ساری آزمائشیں جمہوری سیاست کے حصہ میں آئیں۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو موت و حیات کی کشمکش کے لمحوں میں خراب ایمبولینس نصیب ہوئی تو پہلے وزیراعظم جلسہ عام میں گولی کا نشانہ بن گئے۔ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم بھی انتخابی جلسہ کے بعد شہید کردی گئیں۔ ایک وزیراعظم کو پھانسی کا پھندا چومنا پڑا تو دوسرے کو جبری جلا وطنی کا عذاب جھیلنا پڑا۔ماسوائے دو امپورٹڈ وزرائے اعظم کے تقریباً سبھی ملک میں سیاست اور اہل سیاست کے ساتھ یہی ہوا، اگراس کا عشر عشیر بھی کسی مہذب دیس میں ہوا ہوتا تو وہاں سیاست تاریخ کا کوئی متروک باب بن چکی ہوتی۔پاکستانی سماج میں سیاست مسلسل اور سخت ترین قربانی کا دوسرا نام ہے۔

img Read More

علیحدگی پسندوں سے مذاکرات ۔ ۔ ۔ مالک بلوچ اور ثناءاللہ زہری حکومت کا تقابلی جائزہ

امبر علی

خود ساختہ جلا وطن خان آ ف قلات میر سلمان داﺅدنے حکومت کو پیشکش کی ہے اگر وہ بامعنی مذاکرات کی خواہش مند ہے تو مشرق ِ وسطیٰ کے ممالک میں سے کسی بھی ملک کو بطور ضامن شریک کیا جائے جو مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کار کے فرائض بھی ادا کرے ۔ خان آف قلات کی یہ نئی پیشکش اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے پوری طرح سے نہ صرف آمادہ ہیں بلکہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ بھی ہیں ،لیکن مذاکرات کی پالیسی میں وفاق اور حکومت بلوچستان کے رویہ میں گزشتہ چند ماہ سے سرد مہری دکھائی دے رہی ہے ۔ 2013کے عام انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بلوچستان کا مسئلہ پر امن طور پر حل کرنے کیلئے ناراض بلوچوں سے مذاکرات کرے گی جبکہ یہی منشور نیشنل پارٹی کا بھی تھا ، 9جون 2013کو نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے بطور وزیر اعلی منتخب ہونے کے بعد بلوچستان اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں کہا تھاکہ وہ بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ناراض بلوچوں سے مذاکرات کریں گے اور اس مقصد کیلئے وہ خود چل کر سب کے پا س جائیں گے ۔

img Read More

عرب بہار کے پانچ سال کیا کھویا کیا پایا؟

عاطف محمود

مشرق وسطی میں 2011 کے اوائل سے شروع ہونے والے انقلاب بہار کو پانچ سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔یمن میں حوثی باغیوں کا مقابلہ اتحادی افواج سے جاری ہے،لیبیا میں انقلاب پسندسابقہ نظام کی باقیات سے لڑ رہے ہیں،شام میں اپوزیشن کے ہر دو سیاسی و مسلح دھڑے سعودی عرب کی سربراہی میں بشار الاسدکی حکومت اور داعش سے برسرپیکار ہیں لیکن تاحال یہ مزاحمتی تحریکیں کسی نتیجہ خیز مرحلے میں داخل نہیں ہو سکیں اور حالات کے تیور بتا رہے ہیں کہ ابھی مشرق وسطی میں کشمکش جاری رہے گی ۔

img Read More

مذہبی جماعتیں اپنی افادیت کی تلاش میں

محمد عامر رانا

بہت سے افراد کو یقین ہے کہ اس کی وجہ پھانسی اور جنازے کے حوالے سے محدود میڈیا کوریج تھی۔دوسرے اس کا کریڈٹ بعض مذہبی رہنماوں کو دیتے ہیں جنہوں نے پر تشدد مظاہروں کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔قو می ایکشن پلان نے بھی انہیں باز رکھنے میں کردار ادا کیا۔مگر یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ غصہ ٹھنڈ ا ہوگیا ہے۔البتہ ایک جانب کچھ مذہبی اسکالرز کا بھی تناو ختم کرنے میں کردار ہے۔مذہبی قوتیں پھانسی کی سزا کے حوالے سے اب بھی موقع دیکھ رہی ہیں کہ سیاسی مقاصدکے لئے کیسے مذہبی جذبات کو بھڑکایا جائے۔وہ قوتیں سمجھتی ہیں کہ یہ صورتحال ان کا ملکی سیاسی اور سماجی حوالے سے تعلق جوڑے رکھنے میں مدد کرسکتی ہے جو اب معتدل ہونا شروع ہوگئی ہے۔

img Read More

اپنی شادی کو کام یاب بنائیں

امجد طفیل

محبت ازل سے انسانوں کے درمیان اہم ترین جذبہ رہا ہے۔ عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے ایسی کشش محسوس کرتے ہیں جس کے سامنے بعض اوقات ہر چیز ہیچ ہوجاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ انسان میں بھوک کے بعد دوسری طاقت ور جبلت جنس ہے جس کا اظہار محبت کے جذبے میں ہوتا ہے۔ انسانوں نے بے شمار لازوال کہانیاں، اشعار اس موضوع پر تخلیق کیے ہیں لیکن یہ جذبہ ہمیشہ کی طرح آج بھی تر و تازہ ہے اور دنیا کے بہترین ذہنوں کو تخلیقی طور پر ابھارتا رہتا ہے۔ جدید زندگی میں جہاں انسان کی نفسیات میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں وہاں یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ محبت بھی پہلے کی نسبت کچھ عارضی نوعیت کی چیز بنتی جارہی ہے۔ جدید انسان اپنی ہی ذات میں اس قدر ڈوبا ہوا ہے کہ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے فرد کو اہمیت دینے کو تیار نہیں اور چوں کہ وہ کسی دوسرے کو اہمیت نہیں دیتا اس لیے اسے جواباً اہمیت ملتی بھی کم ہے۔ یوں آپس کے تعلقات مضبوط روابط میں نہیں ڈھل پاتے۔ شادی جو دو انسانوں کو ایک دوسرے سے مضبوطی کے ساتھ جوڑنے والا ادارہ ہے اور جو ہماری جنسی جبلت اور محبت کے جذبے کی تسکین

img Read More

سیاست اور سماج

ظفر اللہ خان

قدیم انسان غاروں کی دیواروں پر لکھتا تھا،نقش و نگار بناتا تھا۔آج تک ان اولین تحریروں کے مطالب سمجھنے کی کوششیں جاری ہیں۔پتھروں پر کندہ یہ حرف آج بھی محفوظ ہیں۔ارتقاء کے اس سفر میں انسان نے صدیوں کاغذ اور قلم سے بھی اپنا رشتہ نبھایا اور علم کے ڈھیروں ذخائر آج محفوظ ہیں۔جدید انسان نے ایک بار پھر دیواروں پر لکھنا شروع کیا ہے اور یہ دیوار سائبر سمندر میں’’کمپیوٹر کی وال‘‘ ہے۔یہ ماضی سے بہت مختلف ہے اگلے ہی کلک میں بدل جاتی ہے۔ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں!نئی نسل کے مطالعہ کے انداز بدل چکے ہیں اب وہ قدموں پر چل کر لائبریری جانے کی بجائے اپنی انگلیوں کے سہارے انٹرنیٹ کی دنیا میں سرچ اور اسٹوری کرتے ہیں۔

img Read More

علم کلام اور بدلتے تقاضے

ثاقب اکبر

قدیم انسان غاروں کی دیواروں پر لکھتا تھا،نقش و نگار بناتا تھا۔آج تک ان اولین تحریروں کے مطالب سمجھنے کی کوششیں جاری ہیں۔پتھروں پر کندہ یہ حرف آج بھی محفوظ ہیں۔ارتقاء کے اس سفر میں انسان نے صدیوں کاغذ اور قلم سے بھی اپنا رشتہ نبھایا اور علم کے ڈھیروں ذخائر آج محفوظ ہیں۔جدید انسان نے ایک بار پھر دیواروں پر لکھنا شروع کیا ہے اور یہ دیوار سائبر سمندر میں’’کمپیوٹر کی وال‘‘ ہے۔یہ ماضی سے بہت مختلف ہے اگلے ہی کلک میں بدل جاتی ہے۔ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں!نئی نسل کے مطالعہ کے انداز بدل چکے ہیں اب وہ قدموں پر چل کر لائبریری جانے کی بجائے اپنی انگلیوں کے سہارے انٹرنیٹ کی دنیا میں سرچ اور اسٹوری کرتے ہیں۔

img Read More

اہل مذہب اور نفرت واحتجاج کی نفسیات

عمار خان ناصر

دہشت گردی یا انتہا پسندی کی سوچ کو عمومی طور پر اس طرز فکر کے حامل عناصر کے بعض اقدامات مثلاً خود کش حملوں وغیرہ کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی بھی اوسط سطح کے باخبر آدمی سے دہشت گردی کی سوچ کے متعلق سوال کیا جائے تو غالباً اس کا جواب یہی ہوگا کہ یہ وہ سوچ ہے جو بے گناہ لوگوں کا خون بہانے اور لوگوں کے اموال واملاک کو تباہ کرنے کو نیکی کا کام سمجھتی ہے۔ تاہم فکری سطح پر اس سوچ کا تجزیہ کرنے کے لیے مذکورہ تعریف ناکافی ہے، کیونکہ خون بہانا اور اموال واملاک کی تباہی دراصل اس سوچ کا ایک نتیجہ اور اس کا ایک اظہار ہے، نہ کہ اصل فکر۔ انتہا پسندی یا دہشت گردی کی اصل فکر ایک پورا بیانیہ ہے جس کی بنیاد ایک مخصوص ورلڈ ویو پر اور خاص طور پر دنیا کے موجودہ نظام طاقت (Power Structure) کے بارے میں ایک متعین نقطہ نظر پر ہے۔

img Read More

عدم تحفظ کی بنیاد پر بنے والی آبادیاں

محمد عامر رانا

ہجوم کا انساف ایک طرز اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے اطوار اور سماجی برتاؤ میں کچھ خاص مسئلہ ہے ۔قانون سے بالا تر چاہے کوئی بھی ہو اس کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ جو چاہے کرتا پھرے۔لاہور میں دو چرچوں پر ہونے والے حملے کے بعد جس طرح دو مشتبہ افراد کو ہلاک کیا گیا وہ اسی منتشر ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔

img Read More

افغانستان بدل رہا ہے

پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز

پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جن کا مستقبل ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہے ۔ایک پائیدار افغانستان کے بغیر ایک مظبوط پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان بد گمانیوں کا بسیرا رہا مگر اُدھر اور اِدھر کی موجودہ قیادت نے اس تاثر کی نفی کی ہے اور اب دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ہمیں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا ہے کیونکہ ہم ایک جیسے حالات سے گزر رہے ہیں۔ہمیں حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی رابطے بڑھانے ہوں گے ۔پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے حال ہی میں افغانستان کا دورہ کیا اور اس دوران اپنے مشاہدات کو قارئینِ ’’تجزیات‘‘ کے لئے رقم کیا ۔اس کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسائل کے پہاڑ کے باوجود افغان قوم میں یکجہتی فروغ پزیر ہے اور سیاسی سطح پر بھی وسیع تر مفاہمت کا آغاز ہو چکا ہے ۔ماضی میں ہتھیار اٹھانے والے کئی گروپوں کے نمایاں لیڈر اب باقائدہ طور پر سیاسی عمل کا حصہ بن رہے ہیں ۔ یہ ایک مثبت عمل ہے جس اپنے بے پایاں اثرات لائے گا ۔ مزید یہ کہ مضمون نگار نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے تجاویز بھی دی ہیں جس سے اس

img Read More

دہشت گردی کا پس منظر

ڈاکٹڑ راغب نعیمی

پاکستان میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ دینی طبقے کی جانب سے اس کو فکری سطح پر چیلنج نہ کرنا بھی ہے ۔کیونکہ جہاد کی جو توجیح شدت پسندکر رہے ہیں اور وہ جن اسلامی روایات کا سہارا لے رہے ہیں اس کا مدلل جواب کہیں سے نہیں آرہا ۔ زیر نظر مضمون میں نامور اسلامی سکالر ڈاکٹر راغب نعیمی نے ان اسباب کا جائزہ لیا ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں ۔اور ان اسباب میں سب سے نمایاں عدم برداشت کا کلچر ہے ۔اگر ہمارے معاشرے میں برداشت پیدا ہو جائے تو ہم اس ناسور چھٹکارا پا سکتے ہیں لیکن ایک مسئلہ اور بھی ہے اور وہ ہے سماجی اور معاشی ناانصافیاں جن کی کوکھ سے اس مسئلے نے سر اٹھایا ہے ۔ڈاکٹر راغب نعیمی ہر پہلو سے اس کا جائزہ لیتے نظر آتے ہیں ۔(مدیر )

img Read More

یہ دہشت کیسے تھمے گی؟

محمد عامر رانا

مغرب میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ سڈنی کیفے اور اٹاوا پارلیمنٹ فائرنگ سے شروع ہونے والا سلسلہ اب پیرس کی گلیوں تک پہنچ چکا ہے شمالی افریقہ کے مسلم ممالک جو مغربی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں، دہشت گردی کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ سالِ رواں میں امریکہ میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات ہو چکے ہیں۔ آخری واقعہ ماہِ رواں میں سان بارنارڈنو، کیلی فورنیا میں پیش آیا۔ جس میں پاکستانی نژاد فاروق اور اس کی بیوی تاشفین ملک ملوث پائے گئے۔ اس واقعے کے بعد دنیا کی توجہ ایک مرتبہ پھر پاکستان پر آئی ہے پیرس کے دہشت گردی کے واقعات میں ایک مسلمان خاتون حسنا ایتبولاچن کے ملوث ہونے نے دنیا کو حیران کیا تھا کہ سماجی حلقوں میں متحرک اور پارٹی گرل میں اچانک کیا تبدیلی آئی کہ اس نے اپنے آپ کو خود کش ایندھن بننے کے لیے پیش کر دیا تاشفین ملک نے اس حیرت میں مزید اضافہ کیا ہے اور یقیناًیہ واقعہ مغرب میں مسلمانوں کے خلاف بد اعتمادی اور اسلامو فوبیاکا سبب بھی بنا ہے۔

img Read More

جدید معاشرہ اور اہل مذہب کی نفسیات

عمار خان ناصر

عمار خان ناصر کا شمار اہلِ مذہب کی ان نئی اور توانا آوازوں میں ہوتا ہے جنھوں نے ان فکری موضوعات کو اپنی بحث کا موضوع بنایا ہے جنھوں نے عصر حاضر کی کوکھ سے جنم لیا ہے ۔ان کا زیر نظر مضمون بھی اسی پیرائے میں اس بات کا جائزہ لیتا ہے کے اہل مذہب کی مروجہ علوم و فکر پر دسترس کیوں ضروری ہے ؟ عمار خان ناصر ماہنامہ الشریعہ کے مدیر ہیں اور گفٹ یونیورسٹی میں عربی اور اسلامیات کے استاد ہیں ۔(مدیر)

img Read More

فرقہ واریت کا سد باب

صفدر سیال

نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں فرقہ واریت کا قلع قمع کیا جائے ،اس سلسلے میں ایک حکمت عملی وضع کرنی کی کوشش بھی کئی گئی اور اس کے لئے کچھ راہنما اصول بھی دیئے گئے مگر اس جانب پیش رفت کے لئے ایک لمبا سفر طے کرنا پڑے گا کیونکہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس کی جڑیں ہمارے اعتقادات اور جغرافیائی سیاست میں پیوست ہیں ۔صفدر سیال پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیزسے وابستہ محقق ہیں جنھوں نے اس مسئلے پر اب تک کی پیش رفت اور اس سلسلے میں درپیش مسائل کا جائزہ لیا ہے۔(مدیر)