img Read More

امن کا پُر پیچ راستہ

رواں تبصرے

امن کا راستہ بہت پر پیچ ہے ۔پاکستان کو مختلف طرح کے خطرات لاحق ہیں ۔ان کی لئے حکمت عملیاں الگ الگ ضرور ہو سکتی ہیں مگر عزم ایک ہی درکار ہے ۔ایک ایسا عزم جس میں ریاستی ادارے اور عوام ایک ہی صفحے پر ہوں ۔

img Read More

سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر1267 اور حافظ سعید

رواں تبصرے

اس قرارداد میں شامل دیگر شخصیات اورتنظیموں کے بارے میں حکومت ابھی تک کیوں خاموش ہے ؟کیا اس کا واضح مطلب یہ نہیں کہ بھارتی حکومت نے امریکہ کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ لشکر طیبہ کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرے

img Read More

فیصلہ کریں کدھر جانا ہے ؟

رواں تبصرے

پاکستان کا سفارتی سطح پر سب سے بڑا چیلنج غیر ریاستی عسکری گروپ ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی گروپ ہیں۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو اس کا کتنا ادراک اور احساس ہے اس کا اظہار گزشتہ دنوں اخبارات میں لیک ہونے والی خبروں سے ہوتا ہے جن کے مطابق اعلٰی سطحی اجلاسوں میں سیاسی قیادت اور دفتر خارجہ کے اعلٰی اہلکار نے ان غیر ریاستی گروپوں پر تنقید کی ۔اگرچہ ایسی خبروں کی تردید کی جارہی ہے لیکن اس مسئلے پر پارلیمنٹ اور میڈیا پر بحث جاری ہے ۔

img Read More

اسلام آباد بند ہونے کا فائدہ کسے ہوگا ؟

رواں تبصرے

کیا احتجاجی سیاست کا کوئی خاص ہوسم ہوتا ہے ؟کیا احتجاجی تحریک چلانے کے لئے کسی بڑے مسئلے کی ضرورت ہوتی ہے ؟احتجاجی سیاست کا نقصان کسے ہوتا ہے اور فائدہ کون اٹھا لے جاتا ہے ؟ جب سرحدوں پر کشیدگی ہو تو احتجاج کرنا چاہئے ؟جب پارلیمنٹ موجود ہے تو سڑکوں پر آنے کی ضرورت کیا ہے ؟اگر سڑکوں پر آنے پر اصرارہے تو اس فیصلے کے پیچھے کون ہے ؟ یہ اور اس سے ملتے جلتے سوال پاکستان تحریک انصاف کے ۰۳ اکتوبر کے وفاقی دارالحکومت کے ممکنہ گھراؤکے تناظر میں پوچھے جا رہے ہیں ۔

img Read More

اوڑی حملہ اور دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی

رواں تبصرے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیرمیں اڑی سیکٹر میں فوج کے اڈے پر اتوار کی صبح مبینہ طور پر چار حملہ آوروں نے دھاوا بولا ،جس میں اطلاعات کے مطابق سترہ فوجی ہلاک جبکہ تیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔حملے کے فوری بعد انڈین وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے ،اس کی شناخت دہشت گرد ریاست کے طورپر ہونی چاہیے اور عالمی سطح پر پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے“دوسری طرف دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز(ڈی جی ایم اوز)کے مابین ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا ،جس میں حملے کی صورتِ حال پر بات چیت کی گئی ۔

img Read More

وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ سب اچھا چل رہا ہے؟

رواں تبصرے

وزیرِ اعظم نواز شریف نے کراچی میںپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ ”دُنیا تسلیم کررہی ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج دس بہترین اسٹاک ایکسچینج میں سے ایک ہے ،صنعتوں کو سوفیصد بجلی و گیس مہیا کی جارہی ہے ،دوہزار اَٹھارہ تک لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا،ملکی ادارے منافع کما رہے ہیں اور اُن کا منافع اَربوں میں ہے ،ملک کے زرِ مبادلہ بلند ترین سطح پر ہیں .۔مگر اُن کے خطاب اور زمینی حقائق میں بہت زیادہ بُعد ہے۔لوڈشیڈنگ کا سلسلہ پورے ملک میں جاری ہے ۔چھوٹے شہروں میں تو اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ ہر بیس منٹ بعد بجلی غائب ہوجاتی ہے اور پھر کئی گھٹنے غائب ہی رہتی ہے۔غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ نے کاروبارِ زندگی کو درہم برہم کر رکھا ہے ۔حتیٰ کہ لاہور جیسا شہر بھی بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہے۔

img Read More

سپہ سالار کا خطاب اور چند معصومانہ معروضات

رواں تبصرے

ملکی فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے چھ ستمبر منگل کے دن جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقدہ یومِ شہدا تقریب سے جب خطاب کیا تو ،تو اُن کے خطاب میں خاصی گرم جوشی محسوس کی گئی۔جنرل راحیل شریف کے خطاب کے چند ایک پہلو تو بہت قابلِ غور اور بحث طلب ہیں ۔اُن کے خطاب کے یہ نکات کہ ”نیشنل ایکشن پلان پر اس کی رُوح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے،سی پیک کی بروقت تکمیل ہمارا قومی فریضہ ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کرپشن اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ توڑنا ہو گا“انتہائی اہمیت کے حامل ہیں

img Read More

جب چینی اشرافیہ نے وزارت خارجہ کو طاقت کی ادویات بھیجیں!!!

میڈیا رپورٹ

پاکستان میں چند ایسے اشتعال پھیلانے والے مذہبی رہنما موجود ہیں جن کے خلاف حکومت کوئی قانونی کارروائی کرسکتی ہے یا کرے گی۔انہیں پراکسی جنگوں کے نام پر مضبوط ہونے کا موقع فراہم کیا گیا اور اب وہ ریاست کے تشدد پر اجارہ داری کے اختیار میں بھی شریک ہیں ۔کچھ دیگر مذہبی رہنما بھی ہیں جن کو کچھ نہیں کہا جاسکتا ،کیونکہ انہیں دیگر پراکسی جنگوں کی حمایت حاصل ہے اور اگر ریاست ان سے لاتعلقی اختیار کرتی ہے تو اس سے اسٹیبلشمنٹ کے اندر دراڑیں پیدا ہونے کا احتمال ہو سکتا ہے ۔

img Read More

تعلیم کا بنیادی مقصد اور اسلامی نظریاتی کونسل کا نقطہ نظر

رواں تبصرے

تعلیم کا بنیادی مقصد اور اسلامی نظریاتی کونسل کا نقطہ نظر

img Read More

کراچی میں امن کے لیے کیا ضروری ہے؟

رواں تبصرے

سندھ میں سائیں قائم علی شاہ کا آٹھ سالہ دور اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ نئے وزیر اعلـٰی سید مراد علی شاہ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جس میں سر فہرست کراچی میں آمن وآمان کو برقرار رکھنا ہے۔کراچی میں امن وامان کو رینجر کی موجودگی سے مشروط کردیا گیا ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوگیا ہے کہ رینجر کے بغیر شہرمیں امن وامان قائم نہیں رہ سکتا اس تاثر کے پیچھے بہت سی تاویلات ہیں اور انہی کی بنیاد پر کراچی میں رینجر کے اختیارات میں اضافے کے ساتھ ساتھ پورے صوبہ سندھ کو ان کے خصوصی دائرہ کار میں دینے کا مطالبہ ہوتا ہے۔

img Read More

دارالعلوم حقانیہ کی امداد اور صوبائی حکومت کی ترجیحات

رواں تبصرے

دارالعلوم حقانیہ ،اکوڑہ خٹک کو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی طرف سے 30 کروڑ روپے کی خطیر امداد آج کل زیر بحث ہے اور بیشتر سیاسی سماجی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں کی متفقہ رائے سامنے آرہی ہے کہ یہ امداد سیاسی رشوت کے سوا کچھ نہیں جس سے صوبائی حکومت نے کئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس میں سب سے اہم جولائی میں متوقع حکومت مخالف تحریک میں پاکستان دفاع کونسل کی طرف سے دباؤ ڈالنا بھی ہو سکتاہے جس میں مولانا سمیع الحق کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔جمیعت علماء اسلام فضل الرحمٰن سے تحریک انصاف کی مخالفت بھی ڈھکی چُھپی بات نہیں ۔بلکہ بے باک تبصرہ نگار تو اس امداد کو طالبان اور ان کے ہمدرد حلقوں کی حمایت جیتنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

img Read More

امجدصابری کی شہادت اور چند سوالات

رواں تبصرے

معروف پاکستانی قوال امجد صابری کا بیہمانہ قتل ایک افسوس ناک واقعہ ہے۔ ان کے تاریخی جنازے نے یہ ثابت کیا کہ لوگ ان سے اور ان کے فن سے کتنی محبت کرتے تھے۔امجد صابری کی شہادت نے سب سے بڑا سوال کراچی میں رینجر کے آپریشن پر لگایا ہے۔اس سے قطع نظر کہ ان کی شہادت کے پیچھے کسی دہشت گرد گروہ کا ہاتھ تھا۔جرائم پیشہ گینگ یا دیگر سیاسی اور غیر سیاسی محرکات اس واقعہ کے پیچے کار فرما تھے۔ یہ سوال اہم ہے کہ آپریشن کی نوعیت کیا رہی اور کب تک یہ آپریشن جاری رہیگا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپریشن سے ابتدائی نتائج بہت حوصلہ افزارحاصل ہوئے۔دہشت گردوں کے وارداتوں میں 80فیصد اور ٹارگیٹ کلنگ میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔دہشت گرد کمزور ہوئے اور شہر کا امن لوٹتا ہوا محسوس ہوا لیکن ذیل سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔

img Read More

اقتصادی راہداری اور قومی قیادت کا امتحان

رواں تبصرے

سینٹ کی خصوصی کمیٹی برائے اقتصادی راہداری نے منصوبے کے مغربی روٹ سست روی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔کمیٹی نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وعدوں کے باوجود ابھی اس روٹ پر کو ئی خاص پیش رفت نہیں ہو رہی۔یقیناً یہ خوش کن پیش رفت نہیں ہے ۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اقتصادی راہداری پر اتفاق رائے کے لیے بہت محنت کی تھی اور یہ طے پایا تھا کہ سیاسی عمل ہی اس اتفاق کو قائم رکھ سکتا ہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اتفاق کو برقرار رکھنے کے لیے مربوط اور بھر پور کوشش کریں ۔گزشتہ روز عسکری اور سیاسی قیادت کا ا جلاس جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوا۔وہاں بھی یہ مسئلہ زیربحث رہا ہے اس اجلاس کے بعد چیف آف ارمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے چینی سفیر سن وی ڈونگ سے بھی ملاقات کی جس سے معاملے کی حساسیت کااندازہ ہوتا ہے۔

img Read More

انتخابی بجٹ

رواں تبصرے

اگرچہ انتخابات میں دو سال باقی ہیں ۔ لیکن حالیہ بجٹ کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ حکومت کو احساس ہے کہ قومی بجٹ اس طرح ترتیب دیا جائے کہ اس کے خلاف کسی بھی سیاسی احتجاجی تحریک یا غیر سیاسی اقدام کی صورت میں عوامی دباؤ کو کم رکھا جا سکے ۔

img Read More

ملا منصور کی ہلاکت اور خطے کا امن

رواں تبصرے

ملا محمد اختر منصورہفتے کو بلوچستان میں ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ۔اس خبر کی تصدیق طالبان نے بھی کر دی ہے ۔ تباہ ہونے والی گاڑی سے ایک پاکستانی ولی محمد ولد شاہ محمد کا پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بھی ملا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ تفتان سرحد سے پاکستان میں داخل ہوا۔جہاں اس نے ایک گاڑی کرائے پر حاصل کی ۔ان کے ڈرائیور کا نام محمد اعظم تھا جس کی لاش شناخت کے بعد ان کے رشتہ داروں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ جبکہ تیسری لاش کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ طالبان امیر ملا منصور کی ہے ۔

img Read More

کیا فیصلہ پارلیمنٹ میں نہیں ہو سکتا؟

رواں تبصرے

پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک بار پھر دہرادیا کہ پانامہ لیکس کے معاملے پرحقائق سامنے نہ لائے گئے تو ان کی جماعت سڑکوں پر ہو گی۔

img Read More

علی حیدر گیلانی کی بازیابی اور ٹیرر فنانسنگ

رواں تبصرے

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے، علی حیدر گیلانی افغانستان سے تین سال بعد بازیابی ایک اچھی خبر ہے۔یہ بازیابی افغان اور امریکی فورسز کے ایک مشترکہ آپریشن میں غزنی صوبے سے ہوئی ہے۔علی حیدر القاعدہ سے منسلک ایک گروہ کے قید میں تھے۔ شہباز تاثیر جو چند ماہ پہلے پاکستان پہنچے، وہ بھی القاعدہ سے منسلک ایک وسط ایشیائی تنظیم کی قید میں تھے۔

img Read More

پاکستان کا فکری افلاس اور عالمی جامعات پاکستانی سکالرز کی منتظر

رواں تبصرے

تعلیم، علم سائنس اور تحقیق کے شعبوں میں پاکستان کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے۔ذاتی شوق اور کوشش سے نام بنانے والی چند انفرادی مثالوں کے علاوہ قومی سطح پر قحط الرجال نظر آتا ہے۔علم کی سرپرستی ریاست کی تر جیح میں نہیں ہے اور اس کی تازہ ترین مثال ڈان اخبار کی ایک خبر ہے جس کے مطابق چودہ مختلف عالمی یونی ورسیٹیوں میں پاکستان چیئرز سالہاسال سے خالی پڑی ہیں۔یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ یہ چیئرز قائد اعظم،علامہ اقبال اور پاکستان اسٹڈیز جیسےناموں سے منسوب ہیں۔ برطانیہ، ایران، ترکی، مصر اور قازقستان جیسے ممالک جامعات میں قائم یہ چیئرز پاکستانی اسکالرز کی راہ دیکھ رہی ہیں۔

img Read More

ایک اسامہ کئی اسرار

رواں تبصرے

پاکستان نے اسامہ بن لادن کو 2006 میں کوہ ہندو کش کے پہاڑی سلسلے سے حراست میں لیا تھا۔جب سعودی عرب کو بتایا گیا تو انھوں نے کہا کہ اسے اپنے پاس محفوظ رکھیں ، اس کے بدلے میں سعودی عرب نے پاکستان کو کئی ملین ڈالرز دیئے ۔اگست 2010 میں ایک پاکستانی کرنل، امریکی سفارت خانے آئے اور پھر اُس وقت کے سی آئی اے اسٹیشن چیف جوناتھن بینک سے ملاقات میں کہا کہ ’اسامہ بن لادن ہمارے پاس 4 سال سے ہے۔‘مذکورہ کرنل کو بعد ازاں امریکا منتقل کردیا گیا اور آج کل وہ واشنگٹن کے قریب کسی علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔

img Read More

آپ کس قسم کا احتساب چاہتے ہیں ؟

رواں تبصرے

پانامہ پیپرز کی اشاعت کے بعد پاکستان میں احتساب کی آوازیں آنا شروع ہوئیں ۔تقریباً اڑھائی سو پاکستانی جن میں وزیراعظم پاکستان کے بچے بھی شامل ہیں ان کے نام پر آف شور کمپنیاں موجود ہیں ۔وزیر اعظم اس معاملے پر کمیشن بنانا چاہتے ہیں ۔انھوں نے ایک روز قبل یہ کہا کہ ہمارا دامن صاف ہے ماضی میں بھی کئی بار احتساب سے گزر چکے ہیں ۔دوسری جانب آرمی چیف جنھوں نے تین روز قبل ملک میں ہر سطح پر احتساب لازمی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی سالمیت خود مختاری اور استحکام کے لیے بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے،کرپشن کے خاتمے تک دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔اس بیان کے بعد انھوں نے پہل کرتےہوئے پاک فوج کے 8 اعلیٰ افسران کو کرپشن کے الزامات پر برطرف کردیا جن میں ایک لیفٹیننٹ جنرل اور ایک میجرجنرل بھی شامل ہیں یہ برطرفیاں پاک فوج کی داخلی تحقیقات کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہیں۔ب

img Read More

حکمران کا صحت مند ہونا کتنا ضروری ہے ؟

رواں تبصرے

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اپنے طبی معائنے کے لئے لندن روانہ ہو چکے ہیں ۔جہاں وہ ایک ہفتہ تک قیام کریں گے اور اپنے ڈاکٹروں سے صلاح مشورہ کریں گے ۔اس سے قبل 2011ء میں بھی لندن میں وہ دل کی سرجری کے مراحل سے گزر چکے ہیں ۔وزیر اعظم نواز شریف 25 دسمبر 1949ء کو پیدا ہوئے اس لحاظ سے اب ان کی عمر 67 سال ہو چکی ہے ۔

img Read More

سعودی عرب ایران اور بھارت :پاکستان کی سفارت کاری کا امتحان

رواں تبصرے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سعودی عرب کے دورے پر ہیں ،جہاں انھوں نے معاشی اور دفاعی شعبوں میں تعاون میں تعاون کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف معلومات کا تبادلہ اور دہشت گردی کے لئے ہونے والی فنڈنگ پر تعاون کی یاداشتوں پر بھی دستخط کئے ۔حالیہ تناظر میں سعودی عرب کے سامنے دو بڑے چیلنج ہیں کہ اپنی تیل کی مارکیٹ کو ایران کی دست برد سے بچانا اور مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے تناؤ کے تناظر میں خارجہ اور دفاعی تعلقات کو وسعت دینا ۔بھارت کے سامنے پھیلتی معیشت اور عرب ممالک میں اس کے انسانی وسائل کی کھپت کے علاوہ کئی دفاعی اور سفارتی معاملات اسے سعودی عرب کے قریب لا رہے ہیں ۔ان معاملات میں پاکستان کے قریبی دوست ممالک کے ساتھ روابط بڑھانا ہے جس سے پاکستان پر دباؤ بڑھانا بھی مقصود ہے

img Read More

پانامہ پیپرز اور اس کے پاکستانی سیاست پر اثرات

رواں تبصرے

جرمنی کے ایک اخبار نے ایک ایسی خبر بریک کی ہے جس کاچرچے اس وقت پوری دنیا میں ہو رہے ہیں ۔پانامہ پیپرز کے نام سے سامنے آنے والے یہ انکشافات دراصل ایک قانونی فرم سے لیا گیا ڈیٹا ہے جو اس کے گاہکوں کی تفصیلات پر مشتمل ہے۔ایک کروڑ پندرہ لاکھ فائلز پر مشتمل اس ڈیٹا میں تین لاکھ سے زائد کمپنیوں کی تفصیلات ہیں ۔ پانامہ کی ایک قانونی فرم Mossack Fonsecaجو کہ سمندر پار( Offshore)فرضی اور جعلی کمنیاں بنانے میں مہارت رکھتی ہے اس کا ڈیٹا کیسے لیک ہوا یہ تو ایک راز ہے تاہم اس کی زد میں دنیا کے بڑے بڑے لیڈراور سیاستدان آچکے ہیں ۔جن میں روسی صدر پیوٹن ، سعودی بادشاہ سلیمان ، آئس لینڈ کے وزیر اعظم اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سمیت 140 کمپنیاں ایسی ہیں جن کے مالک اپنے اپنے ملکوں میں اہم سرکاری عہدے رکھتے ہیں ۔