img Read More

دہشت کا سرچشمہ (دولت اسلامیہ کی تاریخ )،فواذ اے جارج کی کتاب پر تبصرہ

محمد عامر رانا

یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بہت بڑی فوجی ناکامی بھی تھی جنہوں نے عراقی فوج کی تربیت پر 25 ارب ڈالر صرف کر دیئے مگر اس کے باوجود امریکی قیادت اور اس کی تربیت یافتہ فوج اس گروہ کے ساتھ مقابلہ کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ۔

img Read More

تحریک خلافت میں سندھی ہندووں کو سزائیں

اختر بلوچ

تحریک خلافت کے بارے میں مورخین نے بہت کچھ لکھا ہے، لیکن اس میں سندھ کے ہندووںکا کردار عموماً نظرانداز کیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سندھی ہندووںنے خلافت تحریک کے دوران ناصرف سزائیں بھگتیں بلکہ جرمانے بھی ادا کیئے۔1920 کے عشرے میں انگریز سامراج کے خلاف ہندوستان میں ہندووںاور مسلمانوں نے مشترکہ سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ تحریکِ خلافت کی قیادت مولانا محمد علی جوہراور مولانا شوکت علی جوہر کر رہے تھے، جبکہ ترکِ موالات کی تحریک کی رہنمائی گاندھی جی کر رہے تھے۔ تحریکِ خلافت کا مقصد تُرکی میں خلافت کے خاتمے کو روکنا تھا۔سٹی پریس کی شایع کردہ کتاب ”کراچی کا تاریخی مقدمہ“ مرتبہ مرزا عبدالقادر بیگ کے ابتدائیے میں درج ہے کہ: اُس وقت کے سیکولر ہندوستانی رہنماوں نے، جن میں محمد علی جناح بھی شامل تھے، سیاست میں مذہب کے اس استعمال سے اختلاف ظاہر کیا تھا۔

img Read More

احمد ندیم قاسمی سے پہلی ملاقات(آخری حصہ)

پروفیسر فتح محمد ملک

ہم ایک دوسرے کی اٹوٹ رفاقت پر ہمیشہ نازاں رہے مگر وفات سے فقط چند ماہ پہلے فیض احمد فیض پر میرے ایک مضمون نے اُنہیں وقتی طور پر رنجش میں مبتلا کر دیا تھا۔میں منصورہ احمد کا احسان مند ہوں کہ انھوں نے میری موجودگی میں اِس مضمون میں پیش کردہ نکات پر اپنے مخصوص انداز میں نکتہ چینی شروع کر دی تھی اور یوں مجھے اِس موضوع پر کُھل کر بات کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ ہرچندندیم بھائی نے اِس باب میں میرے استدلال کویہ کہہ کر رَد کر دیا تھاکہ میں اپنا نقطہ ¿ نظر پیش کرنے میں سراسر ناکام ہوں۔یہ بات انھوں نے بڑے غُصّے میں کہی تھی مگر کہتے وقت کیک کا ایک ٹکڑا پلیٹ میں رکھ کر مجھے پیش کر دیا تھا۔ اِس مٹھاس نے تلخی کو اپنے اندر جذب کر لیا تھا اور میں نے کسی اور موضوع پر بات شروع کر دی تھی۔

img Read More

احمد ندیم قاسمی سے پہلی ملاقات(دوسرا حصہ)

پروفیسر فتح محمد ملک

بی اے کا امتحان دینے کے بعد میں نے اپنے گاﺅں بیٹھ کر نتیجے کا انتظار کرنے کی بجائے روز نامہ ”تعمیر“ میں ملازمت اختیار کر لی۔ اخبار کے ایڈیٹر جناب محمد فاضل نے ایک زمانے میں مولانا عبدالمجید سالک کے ہاں احمد ندیم قاسمی کو دیکھا تھا اور پھر وہ دونوں دوستی کے رشتے میں منسلک ہو گئے تھے۔ اب جب وہ آ آ کر مجھے قیدوبند کے مصائب میں مبتلااحمد ندیم قاسمی سے ملاقات کا حال بتاتے تو میں اُن کے ہاتھ کتابیں رسالے بھجوا دیا کرتا تھا۔ ایک آدھ بار انہوں نے کہا بھی کہ چلو کل تمہیں ملا لاتے ہیں مگر میں نے جواب میں یہی کہا کہ ہم تو ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں۔

img Read More

ہر بیانیہ!جنگ کا نقاب ابہام بنتا ہے؟

اسلم اعوان

نومبر 2001 ءمیں افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں دہشتگردی کے خلاف چھڑنے والی مہیب جنگ کے مقاصد بظاہر افغانستان سے القاعدہ و طالبان کی بالادستی ختم کرنے تک محدود تھے لیکن خاموش قدموں کے ساتھ چلنے والی تغیر پذیر لہروں نے ان جنگی چالوں کو التباسات کے لبادے پہنا کے بالآخر اس جنگ کو ہمارے دروازے پہ لا کھڑا کیا۔اب ہم اس جدلیات کا حصہ ہیں،ایسا کیوں اور کیسے ہوا؟ ان ایشوز پہ لب کشائی آسان نہیں کیونکہ جنگ ہمیں ان سوالات پہ غور کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔تاریخ بتاتی ہے کہ ان سوالوںکے حتمی جوابات ہمیشہ تباہی کے ملبہ سے ملتے ہیں۔اسلئے ہم میں سے کوئی بھی براہ راست حقائق کو جان سکتا ہے نہ بیان کرنے کی تاب رکھتا ہے۔اس دلدل میں اتارنے کے ذمہ داروں کا تعین ممکن ہے نہ فی الحال دوست و دشمن کی واضح شناخت کی جا سکتی ہے۔ البتہ واقعات کو سمجھنے کے لئے انہیں حقیقی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں تو ردعمل کے خطرات کم ہو جائیں گے۔

img Read More

ماضی پرستی اور سماجی قباحتیں

ڈاکٹر افتخار بیگ

پاکستانی معاشرے میں عام آدمی کے فکری مغالطوں اور سماجی بے چارگی کی وجوہات میں سب سے اہم وجہ اس معاشرے میں رائج ماضی پرستی کے رویے ہیں۔ان رویوں کو رائج کرنے میں مخصوص مذہبی طبقوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، توساتھ ہی ریاستی بیانیے کا تعین اس انداز سے کیا گیا کہ عام آدمی کے حواس پر چھا کر رہ گیا اور لمحۂ موجود کے جدید فکری رویے ہمیں لغو،لایعنی،اور شریعت سے متصادم نظر آنے لگے۔اس معاملے کی تفہیم میں نفسیات کے حوالے سے ژونگ کا تصور اور سماجیات کے حوالے سے لیوی اسٹراس کا نقطہ نظر بہت اہم ہے۔فکری و نظری حوالے سے ان دونوں دانش وروں کے نقطہ نظر کی تفہیم بظاہر ایک مشکل عمل ہے، مگر انسانی زندگی کے ایک سادہ سے عمل کو سمجھ لیا جائے تو تفہیم میں کچھ آسانی ہوجاتی ہے۔