img Read More

محفوظ اور ہم آہنگ پاکستان ، مگر کیسے ؟

سجاد اظہر

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز نے رد ِ انتہاپسندی کے حوالے سے گزشتہ ہفتوں میں دس مکالموں کا انعقاد کیا جن میں ملک بھر سے دانشوروں ، ماہرین ِ تعلیم ،ممبران ِ پارلیمنٹ اور صحافیوں نے شرکت کی ۔ان دس مکالموں میں سامنے آنے والے چارٹر پر اسلام آباد میں ۲۵ مئی ۲۰۱۷کو اسلام آباد میں ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کی جبکہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر ظفر اللہ خان مہمان ِ خصوصی تھے ۔

img Read More

نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد مگر کیسے ؟

عاطف ہاشمی

طارق کھوسہ نے نیشنل ایکشن پلان کے مختلف نکات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلان دسمبر 2014 میں پشاور حملے کے بعد بنایا گیا تھا اور اس میں یہ طے پایا تھا کہ مدارس میں لوکل طلبہ آ سکیں گے دوسرے صوبوں کے نہیں،اور مدارس اپنی رجسٹریشن کروائیں گے،فوری طور پر 37 مدرسے رجسٹرڈ ہوئے لیکن پھر یہ کام رک گیا،حکومت مدرسہ اصلاحات کو لے کر نہیں چل سکی

img Read More

نیشنل چارٹر آف پیس کیا ہو ؟

عاطف ہاشمی

بیانیہ کے مفہوم میں بھی ابہام ہے،مفتی منیب صاحب کا بیانیہ ان کے ذاتی خیالات ہیں،اسی طرح مولانا فضل الرحٰمن کے خیالات نے ابھی تک دیوبندیوں کے بیانیہ کی شکل اختیار نہیں کی

img Read More

عسکریت پسندوں کی واپسی اور بحالی

عاطف محمود

پاکستان میں اس وقت 237 مذہبی جماعتیں کام کر رہی ہیں اور شدت پسندی کے حوالے سے ملک کا منظرنامہ بڑا پیچیدہ ہے۔ایک دور میں ڈاکٹر فاروق مرحوم عسکریت پسندوں کی واپسی کے حوالے سے انفرادی طور پر بڑا اہم کام کر رہے تھے لیکن انہیں راستے سے ہٹا دیا گیا

img Read More

مذہبی فکر اور تنازعات کا حل

عاطف محمود

برصغیر کی دو بڑی شخصیات گزری ہیں،ایک جمال الدین افغانی اور دوسری سرسید،سرسید نے قوم کے لیے جس علمی راستے کا انتخاب کیا تھا قوم اس کو چھوڑ کر افغانی کے پیچھے چل پڑی۔اور علم مدرسہ و یونیورسٹی سے نکل گیا، ہمیں سرسید کی طرف لوٹنا ہو گا

img Read More

دینی صحافت کس حال میں ہے ؟

صاحبزارہ عبداللہ نقشبندی

پاکستان کے ہمہ رنگ معاشرے میں آج بھی بلا تفریق مذاہب و مسالک باشندگان وطن کی اکثریت ایسی ہے جو اجتماعی شعور کی سطح پر عصر حاضر میں ملک کے لمحہ بہ لمحہ تغیر پذیر سیاسی احوال اس کے مفاسد و مضرات، مسائل و عزائم اور دور رس نتائج کو لے کر فکر مند ہے

img Read More

خوف و دہشت کے سائے رخصت ، ڈیرہ میں عرس اور میلے لوٹ آئے

اسلم اعوان

موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی روایتی میلوں اورمذہبی تہواروں کا انعقاد زندگی کی بوقلمونی کو نکھارکے حیات اجتماعی کو تر و تازگی اور تہذیبی روایات کو درخشندگی عطا کرتا ہے،زندگی کی تلخیوں کے ہاتھوں ستائے انسان تسکین حاصل کرنے اور سال بھر کی ذہنی تھکاوٹ سے نجات پانے کی خاطر میلے ٹھیلوں میں پناہ ڈھونڈتے ہیں تاکہ اس زوال پذیرجسم کو پھر سے غم حیات کا بوجھ اٹھانے کے قابل بنایا جا سکے۔