img Read More

پاکستان کے دو مختلف نوجوانوں کی کہانی

ہما یوسف

حالیہ ہفتوں میں دوپاکستانی نوجوان یورپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواچکے ہیں ۔پہلا پینتیس سالہ نوجوان محمد عثمان،جس پر فرانسیسی حکام کی طرف سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ نومبر میں پیرس حملوں مےں دہشت گردوں کے ساتھ ملوث تھا۔اُس نے مذکورہ خون ریز ی میں حصہ لینا تھا ،مگر وہ ممکنہ طور پر شام سے فرانس کے راستے میں آتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔وہ دھماکہ خیز مواد بنانے کا ماہر تھااور مبینہ طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والی دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ کے ساتھ کام کرتا تھا

img Read More

ڈیورنڈلائن کی قانونی حیثیت

محمد مشتاق جدون

جب بھی پاک افغان تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں ،ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ اُبھر کر سامنے آیا ہے۔تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کا میزبان، پاکستان ہزاروں افغانیوں کو روازنہ داخل ہوتے دیکھتا ہے۔۔۔ ،بنیادی طورپر طورخم اور چمن چوکیوں اور بے ضابطہ داخلی راستوں کے ذریعے بھی۔تصورات کے برعکس ڈیورنڈلائن معاہدہ 1893ء،افغانستان پر ایک الگ تھلگ تاریخی معمول سے ہٹ کر برطانوی راج کی طرف سے زبردستی عائد نہیں تھا۔واقعات کا ایک تسلسل ،جن میں انگریز افغان جنگوں ،فارورڈ پالیسی ،روس کی وسطی ایشیاء کی طرف پیش قدمی او ر ایرانی سرحدوں کی تقسیم ،یہ گریٹ گیم کے کچھ واقعات ہیں۔ڈیورنڈ لائن معاہدے سے بہت سی داستانیں جڑی ہیں جیسا کہ اس کا سوسال تک قابلِ قبول ہونا،مزید کہ اس پر دباؤ کے تحت دستخط ہوئے تھے اور یہ پاکستان کے لیے قابلِ اطلاق نہیں ہے۔ اَٹھارہ سو تہتر میں برطانیہ نے روس سے بدخشان او روخان سے متعلق جواب طلب کیا۔اَٹھارہ سو اَٹھاسی میں روسو اینگلو مشترکہ سرحدی کمیشن نے روس افغان سرحد تیار کی تھی۔روس کی پیش قدمی پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی تھی،برطانیہ نے روس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ ایران کے ساتھ سرحد کی تقسیم کرے،برطانیہ نے ان کی تجاویزات کو قبول کیا اور اَٹھارہ سو تراسی کے معاہدے پر دستخط کردیے۔اب روس کی باری تھی کہ برطانیہ افغانستان کے جنوبی علاقے تقسیم کرے۔روس برطانیہ کی خواہشات اور اپنے شمال مغرب میں توسیع کے ارداے پر شک میں مبتلا تھا۔

img Read More

آزادی اظہار پر وار ہونے والا ہے !

زہرایوسف

الیکٹرانک کرائم کی روک تھام کے بل کی موجودہ شکل کو اختیار کرنے کے حوالے سے مَیں اپنے گہرے خدشات کا اظہار آپ کے گوش گزار کرنا چاہتی ہوں،کہ اس کی موجودہ شکل قانونی حقوق،آزادی رائے،رازداری،انسانی حقوق اور ملکی جمہوریت پر ناخوشگوار اثرات مرتب کرے گی۔ پاکستان کا انسانی حقوق کا ادارہ ،سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انفرادی سطح پر سخت جدوجہد کرنے والوں پر فخرکرتا ہے ،جنہوں نے مجوزہ قانون کے متنازعہ دفعات کو اجاگر کرنے اور سفارشات کا اشتراک اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کرنے والوں کے ساتھ متبادل ضابطہ بندی اور بعدازاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن پر سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں، اپناوقت اور توانائیاں صرف کیں۔

img Read More

قدامت پسند ایرانی شدید ردِ عمل کے ذریعے موجودہ صدر کو کنارے لگا کر خود برسرِ اقتدار آنا چاہتے ہیں

پریسا حفیظی

ایران او ر مغرب کے مابین نیوکلیئر معاہدے کے ایک سال بعد،قدامت پسند وں کا حلقہ اثر ایک منفی گروہ کی صورت وسیع ہورہا ہے ، جن کی منشا یہ ہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھنے والے صدرحسن روحانی کے خلاف ایسا ردِ عمل ظاہرکریں کہ اگلے سا ل کے انتخابات میں اُسے کنارے لگادیں یا سیاسی طور پر کمزور کردیں۔ ایران کی سفارتی تنہائی کے خاتمے کے وعدے پر ،حسن روحانی دوہزار تیرہ میں بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے تھے۔معاہدے کے نتیجے میں تہران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے میں مالی پابندیاں ہٹادی جائیں گی۔

img Read More

ہائی پروفائل غیر ملکی باشندوں کا اغوا،طالبان کے لیے منافع بخش معاملہ ہے

مشتاق یوسف زئی

ہائی پروفائل غیر ملکی ،خاص طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے باشندوں ،اس کے ساتھ ساتھ افغان اعلیٰ شخصیات کا اغوا،افغان طالبان کے لیے قیدی ساتھیوں کی رہائی یا بھاری تاوان کی وصولی کے لیے ہمیشہ منافع بخش معاملہ ثابت ہوئے ہیں ۔طالبان ذرائع کے مطابق ،اب تک ،امریکی سپاہی بوئی برگدال(Bowe Bergdahl )ثابت کرچکا ہے کہ تباہ حال افغانستان کی جنگ میں غیر ملکی شہریوں یا عسکری حکام کا اغوا اُن کے لیے اُن کی مہم میں ” سب سے مفید شکار “ہے۔2009ءمیں پاکستانی سرحد پر ،پرآشوب قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے قریب ، افغانستان کے شورش زدہ صوبہ پکتیکا ، سے اُس کو اغوا کرنے کے بعد،2014میں،طالبان نے گوانتاناموبے میں قید اپنے پانچ اعلیٰ کمانڈر آزادکروالیے۔

img Read More

نواز شریف کو کو ن سےچھ چیلنج درپیش ہیں ؟

اعزاز سید

ملک سے باہر گزارے ان کے 48 دنوں میں مخالفین کو بھر پور موقع میسر آیا کہ نواز شریف کے بارے میں افواہوں کا بازار گرم رکھ سکیں مگر اپنی واپسی سے انھوں نے مخالفین کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ مقابلے کے لئے میدان میں اتر چکے ہیں ۔تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنے سات بڑے چیلنجوں کا سامنا کس طرح کرتے ہیں کیونکہ اسی طرح یہ معلوم ہو سکے گا کہ وہ اپنا دور ِ اقتدار مکمل کریں گے یا پھر طاقت کے ایوانوں میں گردش کرنے والی افواہوں کو حقیقت ملے گی ۔وزیر اعظم پاکستان 22 مئی کو دل کے آپریشن کے لئے ملک سے باہر گئے تھے ۔ا س وقت سے صحت کے مسائل کو جواز بنا کر ان کے استعفے کے خبریں زیر گردش ہیں۔جبکہ دوسری جانب آپریشن کے بعد اپنے ڈاکٹروں کے مشورے سے وہ لندن کی گلیوں میں گھومتے بھی دیکھے گئے مگر ان کے چہرے پر کشیدگی کے آثار نمایاں نظر آئے ۔

img Read More

رمضان صارفین کی منڈی بڑھا دیتا ہے

افشاں صبوحی

ہمیشہ کی روایت برقرار رکھتے ہوئے،اس رمضان میں بھی کھانے پینے کی اشیاءکی زائد قیمتوں کی وجہ سے گھریلو ماہانہ اخراجات کی سطح بلند ہی رہی۔تمام علاقوں اور طبقوں کے باورچی خانوں کے بجٹ کے حجم میں اضافے کے باعث ایک اندازے کے مطابق امسال رمضان میں550ارب روپوں کا کا روبار ہوا۔ اگر ہم اس تصور کو قبول بھی کرتے ہیں تو اس سے جنم لینے والے سوالوں کاجواب دینا آسان نہیں ہوگا۔اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟کیا پاکستانی خاندان اپنی معمول کی پوری آمدنی کو صَرف کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں؟

img Read More

اسلامک اسٹیٹ کامستقبل اور اس کی خلافت

کامران بخاری

اس اسلامک اسٹیٹ کا ایک منفرد جہادی وجود ہے پہلی تمام جہادی تحریکوں کی طرح نہیں بلکہ یہ ایک ریاستی کردار کی حیثیت حاصل کر چکی ہے ۔یہ اپنے علاقے پر حکومت کرتی اور دفاع بھی کرتی ہے ۔طالبان کی طرح نہیں جنہوں نے 9/11حملوں سے پہلے افغانستان پر پانچ سال حکومت کی ، اس نے عراق اور شام کی سرحدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بین الملکی خلافت قائم کی ہے۔ 2015ءکے آخر سے لیکراب تک کچھ علاقوں سے محروم ہوئی ہے تاہم پھر بھی مغربی عراق اور مشرقی شام میں انتہائی مضبوط ہے۔ حال ہی میں اس نے بین البراعظمی خاص طور پر یورپ میں دہشت گرد حملے کر کے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

img Read More

واٹر پالیسی کے بھولے ہوئے پہلواقدامات

اشفاق بخاری

پاکستان اور افغانستان کے مابین دریا کے پانی کے اشتراک پر کوئی رسمی معاہدہ نہیں ہے۔دونوں ممالک فی الحال نو دریاﺅں کے پانی میں حصہ دار ہیں جوکہ سالانہ 18.3لاکھ ایکڑ فٹ بنتا ہے،جس میں دریائے کابل کا حصہ 16.5لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔بدقسمتی سے پاکستان دریائے کابل کے پانی کو استعمال میں لانے میں ناکام ہو گیاہے۔تاہم پانی و بجلی کے ایک سینئر عہدے دار کہتے ہیں کہ دریائے کابل کے پانی کو پاکستان سوفیصد استعمال کرنے کا عزم رکھتا ہے۔بین الاقوامی کنونشن کے تحت اور کم پانی والے دریاﺅں کے کنارے آباد ملک کے طور پر ،اس کے استعمال کرنے کا حق ہے کہ دریائے کابل سے 17ملین ایکڑ فٹ پانی لیا جائے۔اب تک پاکستان انڈیا پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ بے شمار غیر قانونی ہائیڈروپاور منصوبے مغربی دریاﺅں کے اُوپر ،جو کہ مقبوضہ کشمیر میں ہیں ،تعمیر کر چکا ہے۔

img Read More

پاکستان کے لیے امریکی امداد کی سیاست

صالحہ کمال

جب پاکستان اور امریکہ کے بتدریج خراب ہوتے تعلقات بہتری کی جانب گامزن تھے ،اچانک امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف واضح قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد میں تین سو ملین ڈالر کی کٹوتی کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ۔امریکی ایوان بالا میں تلخ بھری بحث کا سلسلہ اُس و قت شروع ہوا جب پاکستان کو F-16 طیاروں کی فروخت پر بات چیت کی جارہی تھی، اسی دوران بلوچستان میں 21مئی کو طالبان لیڈر ملا منصور ڈرون حملے میں مارا گیا جس کے نتیجے میں دوطرفہ تعلقات مزید تعطل پذیر ہوئے۔ 28مئی کو پاکستان F-16 طیاروں کی خریداری کی دستاویزات حاصل نہ کر سکا اور اب خریداری کی تاریخ کی میعاد ختم ہو چکی ہے اور مزید مذاکرات کے دروازے بھی بند ہو چکے ہیں۔یہ ایک اور موقع تھا جب پاکستانی سرزمین پر یک طرفہ کارروائی، پاکستان کی خود مختاری اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کی بحث نے زور پکڑا۔ حتی کہ پاکستان میں بھی یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ ملا منصور نے کیسے اس قدر سہولت سے ایران سے بلوچستان کا سفر طے کیا؟

img Read More

تاریخ کا ایک گمشدہ باب
جب یورپی پناہ گزین مشرق وسطی پہنچے

ایشان تھارور

جنگ نے لاکھوں یورپی پناہ گزینوں کو مشرقی بحیرہ روم عبور کرنے پر مجبور کیا ۔لیکن دوسری طرف ایسا کچھ نہیں تھا ،جس کا اُنہوں نے خواب دیکھا تھا۔تنگ آکراُنہوں نے اپنے وطن کی بربادی سے فرار ہو کر اور محفوظ اور بہتر زندگی کی تلاش کیلئے سفر کیا۔یہ شامی پناہ گزینوں کا ذکر نہیں بلکہ یورپ اور بلقان کے پناہ گزینوں کا ذکر ہے ،جنہیں دوسری جنگ عظیم نے دوران مشرق وسطیٰ کی طرف نکلنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ جیسے ہی نازی اور سوویت جنگ نے مشرقی یورپ اور بلقان کے کئی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لیا،توبڑے پیمانے پر سویلین آبادیاں بے گھر ہوئیں۔وہ علاقے جن پر فاشسٹ فوج ،یہودی کمیونیٹیز اور دیگر غیر مطلوبہ اقلیتوں کا قبضہ تھا،انہیں سخت ترین حملوں کا سامنا کرنا پڑا،لیکن وہ خصوصاََ جن پر جماعتی جنگجوؤں کی پشت پناہی کا شبہ تھا ،ان کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور وہ جبری انخلا کا شکار ہوئے۔

img Read More

لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ، حقیقت کچھ اور ہے!

حسین احمد صدیقی

پاکستان آج کل شدید گرم اور خشک موسم کی زد میں ہے ،کچھ شہروں میں ریکارڈ توڑ گرمی پڑھ رہی ہے جہاں درجہ حرارت 51 سینٹی گریڈ سے بھی اوپر جا چکا ہے ۔جس کی وجہ سے بجلی کی مانگ بڑھ گئی ہے مگر دوسری جانب حکومت بجلی کی لوڈ شیڈنگ یا پھر پاور مینجمنٹ پر مجبور ہے ۔ شہروں میں رہنے والے روزانہ 10 سے ب12گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا عذاب جھیل رہے ہیں اور بعض اوقات تو انھیں معمول سے ہٹ کر بھی لوڈشیڈنگ برداشت کرنا پڑتی ہے جبکہ دیہات میں رہنے والوں کو تومعلوم ہی نہیں کہ بجلی کب آتی ہے اور کب چلی جاتی ہے ۔معمول سے ہٹ کر کئی کئی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے پانی کی سپلائی بری طرح متاثر ہوتی ہے جبکہ ہسپتالوں کے معمولات بھی درہم برہم ہو جاتے ہیں جہاں پر سٹاٖ ف ، مریٖض اور تیمار دار سبھی کی حالت قابل رحم ہوتی ہے ۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر کئی جگہوں پر شدید مظاہرے ہوئے ہیں جن میں سے کئی پر تشدد مظاہروں میں بدل گئے ۔جبکہ دوسری جانب ملک بھر میں جاری گرمی کی لہر سے درجنوں لوگ ہلاک اور سینکڑوں بے ہوش ہو چکے ہیں ۔

img Read More

شمالی افغانستان کی مخدوش معیشت ، لوگ افلاس کا شکار

گلیام دکام

ہیراتان میں افغانستان اور ازبکستان کو باہم منسلک کرنے والا پل کئی کئی دن اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ یہاں سے کسی ٹرین کا گزرہو ۔یان یہاں پر ایک کسٹم آفیسر ہے ۔شاہراہ ِ ریشم پر واقع سرحدی قصبہ حیراتان جس میں کبھی خوب چہل پہل رہتی تھی مگر آج یہ شمالی افغانستان کی معاشی زبوں حالی پر نوحہ کناں ہے ۔ اوٹھی کام میں مصروف ہے جہاں اس کا قافلہ چلنے کو ہے ۔کہا جاتا ہے کہ صوفی شاعر رومی بلخ کے صوبے میں پیدا ہوا تھا ،جہاں حیراتان واقع ہے اور جہاں سے ازمنہ قدیم کی اہم تجارتی شاہراہِ ریشم گزرتی تھی ۔اوٹھی رومی کی شاعری گنگنا رہا ہے "وہ کہتا ہے کہ ہم مسافر کیوں بھٹک جاتے ہیں "۔

img Read More

دولت کی منتقلی کے چور راستے

خلیق کیانی

پانامہ پیپرز میں انکشافات نے پرانی بحث کہ کیسے طاقتور لوگ اپنا پیسہ بدعنوانی،ٹیکس چوری اور دھوکہ دہی کے ذریعے کیسے بیرون ملک منتقل کرتے ہیں ؟اس کو دوبارہ موضوع ِ بحث بنا دیا ہے ۔اس قدر ہائی پروفائل شخصیات کے نام غیر ملکی اکاﺅنٹس میں ظاہر ہونے سے ہنگامہ خیزی برپا ہو گئی ۔ تاہم اکاﺅنٹس اورپیسے کے قانونی و غیر قانونی منتقلی سے متعلق سوالات اور ماخذات کے بارے میں محدود کوششیں کی گئی ہیں۔

img Read More

تشویش،جوش وخروش پر بھاری ہے

افشاں صبوحی

تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے کاروباری طبقے نے مطلق العنانی کو جمہورت پر ترجیح دی۔ نواز حکومت کی پالیسوں پر تحفظات کے باوجود اس بار بزنس سیکٹر نے وزیراعظم کے خلاف مہم جوئی کی حوصلہ شکنی کی۔ ان کو یہ ادراک ہوچکا ہے کہ اس طرح کے اقدامات معیشت کو فائدے سے زیادہ نقصان پہنچانے کا موجب بنتے ہیں۔

img Read More

ضربِ عضب کے بعد زندگی کی تعمیرِ نَو

زیب النساء ناصر

جون 2014میں شمالی وزیرِ ستان میں فوجی آپریشن ضربِ عضب کا آغاز ہوا تھا۔جس کے نتیجے میں ایک ہفتہ کے اندر چارلاکھ ،پینتیس ہزار چار سو اُنتیس( 435,429)سے زائد افراد نے نقل مکانی کی۔جبکہ عارضی طور پر بے گھر (ٹی ڈی پیز) ہونے والوں کی ایک اہم ہجرت حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے قائم کردہ رسمی کیمپوں میں تھی ،جبکہ اکثریت نے غیر رسمی مقامات پر رہنا پسند کیا جن کامیزبان خیبرپختونخوا سے متصل معاشرہ ہے،جس نے رہائش ،بجلی ،صحت وصفائی کے حوالے سے مزید کشیدگی پیدا کی۔

img Read More

کیا اویغر مسلمانوں کے بارے میں چین کی پالیسی بدل رہی ہے ؟

احمد رشید

چین کی طرف سے اویغر نسل مسلمانوں( جن پر کئی برس سے ظلم ہو رہا ہے) کے لیے پہلی بار مصالحتی بیان جاری کیا گیا ہے۔اور کیا یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ اُنہیں خوف اور احساسِ ندامت سے نکالنا چاہتے ہیں کہ اویغر عسکریت پسند پوری دنیا میں پھیل کر اسلام کے سپاہی بن چکے ہیں ۔ چین کے وزیرِ اعظم لی کے چیانگ نے سنکیانگ صوبہ کے کمیونسٹ پارٹی کے چیف اور وفد سے بات کی۔ایسا لگتا ہے کہ پہلی بار تسلیم کیا گیا اویغر نوجوانوں میں مایوسی کی وجہ اویغر ثقافت کاخاتمہ او ر صوبے میں ملازمتوں کی کمی ہے ۔

img Read More

زیرو ڈارک تھرٹی اہم حقائق بے نقاب ہوتے ہیں

اعزاز سید

نامور امریکی مصنف اور صحافی سیمور ہرش نے اپنی نئی کتاب''’دی کلنگ آف اسامہ بن لادن" میں دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں پاکستان نے امریکہ کی مدد کی تھی ۔ کتاب میں لکھا گیا ہے کہ اگست 2010 میں ایک پاکستانی کرنل، امریکی سفارت خانے آئے اور پھر اُس وقت کے سی آئی اے اسٹیشن چیف جوناتھن بینک سے ملاقات میں کہا کہ ’اسامہ بن لادن ہمارے پاس 4 سال سے ہے۔سیمور ہرش کے اس انکشافات میں کتنی حقیقت ہے ؟ اس کا جواب پاکستان کے ایک معروف تحقیقاتی صحافی اعزاز سید کی کتاب The Secrets of Pakistan’s War on Al-Qaeda میں بھی ملتا ہے۔ گزشتہ برس شائع ہونے والی یہ کتاب جہاں اس نوع کے کئی سوالات کو اٹھاتی ہے وہاں اس کرنل کی بھی سرگرمیاں بتاتی ہے جس نے سیمور ہرش کے بقول امریکہ کو اسامہ کے بارے میں معلومات دی تھیں ۔ اس کتاب سے ایک باب کا ترجمہ قارئین ِ تجزیات کے لئے پیش کیا جا رہا ہے ۔

img Read More

سعودی عرب کی ابتری بڑا خطرہ

فریدذکریا

کیا امریکہ کو سعودی عرب سے اپنے تعلقات منقطع کرلینے چاہئیں؟ٍیہ سوال تازہ تنازعات اور اُوبامہ کے دورہ سعودی عرب کے دوران اُبھر کر سامنے آیا۔مَیں کئی دہائیوں سے سعودی عرب کاناقد چلاآ رہا ہوں ،لیکن تمام مسائل کے باوجود میرا خیال ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ اتحاد بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ تعلقات منقطع ہوں۔

img Read More

سعودی عرب اور امریکہ کے مابین کیا پک رہا ہے ؟

بروس رائیڈل

سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات 2000ء سے ہی خراب چلے آ رہے ہیں ۔جن کی وجہ اسرائیل ، جمہوریت ، ایران اور کچھ دیگر مسائل ہیں ۔صدر اوبامہ اس ہفتے سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جن میں وہ ان اختلافات کو کم کرنے اور مشترکہ مفادات کا اعادہ کریں گے ۔لیکن جو کچھ بھی ہو جائے یہ تعلقات اب پہلے کی طرح گرم جوش نہیں ہو سکتے ۔

img Read More

کیا قومی مفاد متعین ہوتا ہے ؟

خالد احمد

پاکستان کے سابق سفیر توقیر حسین نے 16مارچ 2016کو ڈپلومیٹ میں پاکستان امریکہ تعلقات پر لکھا :”پاکستان کو چاہئے وہ اپنے اس وہم کو چھوڑ دے کہ امریکہ پاکستان کو چھوڑ نہیں سکتا،امریکہ کو بھی چاہئے کہ وہ اس تصورپر مٹی ڈالے کہ پاکستان امریکہ کی امداد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا یا پھر امریکہ کی جانب سے امداد کا سلسلہ بند ہو جانے پر پاکستان شکست وریخت سے دو چار ہو جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفاد کے خلاف کچھ کرنے کی بجائے امداد کو چھوڑدے گا۔

img Read More

بلوچستان میں ٹرین کا انوکھا سفر

فہد نوید

ایک مٹی سے اٹا بینر کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن آنے والوں کو خوش آمدید کہہ رہا تھا جس پر تحریر تھا ِ،، پر سکون کراچی،،۔یہ بینر اس غیر منافع بخش تنظیم سے متعلق تھا جو 118برس پرانے اسٹیشن کی عمارت کی بحالی میں مصروف ہے۔لوگ ایک دوسرے کو دھکیل رہے تھے اور مسافروں کا سمندر ،پر شور پلیٹ فارم پر رواں دواں تھا۔ سور ج کی کرنیں 19ویں صدی کی عمارت کی چھت سے چھن چھن کر اندر آرہی تھیں۔ابھی اس عمارت کی شان وشوکت کا تصور ہی کررہے ہوتے ہیں کہ پان کی پیک سے بھری دیواروں کو د یکھنے والاماضی سے حال میں آجاتا ہے۔70سالہ قلی خان زادہ پول سیل (Polseel)سے زیادہ محکمہ ریلوے کے مسائل سے کون آگاہ ہے۔جس نے 1969ء میں اس اسٹیشن پربطور قلی کام شروع کیا۔اس کے گلے میں لائف ٹائم اچیومنٹ ،، میڈل تھا جو اسے حال ہی میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے دیا تھا، خان زادہ پولیسیل کا کہنا تھا کہ محکمہ ریلوے اب درست سمت میں گامزن ہے۔تاہم اس کی یہ بات کسی حد تک درست ثابت ہوئی کہ کوئٹہ جانے کے لئے بولان میل شام 6:20پر اسٹیشن آئے گی