img Read More

جناح اور اقبال ایک ماڈرن اسلامی ریاست کا قیام چاہتے تھے، جس کی آئینی اساس قرآن کی ماڈرن تعبیر پر مشتمل ہو

احمد اعجاز

28جنوری1969ء کو جنوبی پنجاب کے ضلع لیّہ میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ پوسٹ گرایجوایٹ کالج لیّہ سے گرایجوایشن کرنے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم۔ اے اْردو اقبالیات کی ڈگری حاصل کی۔ کالج کے زمانہ ہی سے علمی وادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا۔ لیّہ کی معروف ادبی شخصیات ڈاکٹر خیال امروہی، نسیم لیّہ، غافل کرنالی اور جعفر بلوچ کی صحبتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ کالج کے زمانہ ہی سے اْردو، پنجابی اور سرائیکی مشاعروں میں شرکت کے واقع ملتے رہے، کالج میگزین میں کلام شائع ہوتا رہا اور اس دَور کے معروف قومی اخبارات کے ادبی ایڈیشنز میں مضامین اور شاعری چھپتی رہی۔ معروف ادبی جرائد میں مضامین اور کلام شائع ہوتا رہا۔ ماہنامہ صریر کراچی معاصر اور بیاض لاہور وغیرہ میں خصوصی گوشے شائع ہوچکے ہیں۔ روز نامہ پاکستان لاہور میں ادارتی صفحہ پر 4 سال تک روزانہ قطعات شائع ہوتے رہے۔ اقبالیات پر دو کتابیں مرتب کی ہیں۔ وسیع المطالعہ ہیں۔ آج کل ایک ماہانہ رسالے کی ادارت کے علاوہ علمی وادبی کتب کی اشاعت کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

img Read More

پاکستان میں حکمرانی ریاست کی نہیں مذہب کی ہے

احمد اعجاز

ڈاکٹر محمد زمان نے 2003میں پنجاب یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر کیا۔جرمنی کی ایک یونیورسٹی سے سماجیات پر دسمبر 2009پی ایچ ڈی کی ڈگر ی لی۔جرمنی میں کچھ عرصہ تدریسی فرائض سرانجام دینے کے بعد ،قائداعظم یونیورسٹی آگئے۔قائداعظم یونیورسٹی میں سوشیالوجی کاکورس شروع ہوا ، ڈاکٹر زمان نے اُس کورس کو 2014ءڈیپارٹمنٹ کی شکل دی۔2014ءسے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں۔ تجزیات :پاکستانی لوگ تعصب کو عزیز کیوں جانتے ہیں ؟یا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی سماج میں تعصب کے لیے بہت گنجائش موجود ہے؟ ڈاکٹر محمدزمان:یہ ہماری تہذیب کاحصہ ہے کہ ہمیں شروع دن سے تعصبات سیکھائے جاتے ہیں ۔ یہ اچھی چیز ہے ،یہ بری چیز ہے ،یہ اچھے انسان ہیں ،یہ برے انسان ہیں ،ہم بچے کو تجربات سے سیکھنے نہیں دیتے ،ہم پہلے ہی سی چیزوں کی درجہ بندی کردیتے ہیں ۔بنیادی انسانی اقدار ہمارے ہاں پڑھائی نہیں جاتیں۔نیز تنوع کو زندگی کے مختلف رنگ سے تعبیر کرکے ان کی خوبی بیان نہیں کی جاتی ۔یہاں ہمیشہ یک طرفہ دکھایا جاتا ہے ۔اس طرف جانا ہے ۔اُس طرف نہیں جانا۔

img Read More

’’سرائیکی علاقے کے لوگوں میں کسی کے لیے کوئی نفرت اور تعصب نہیں‘‘

احمد اعجاز

)میاں ریاض حسین پیرزادہ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ وکھیل ہیں،جنوبی پنجاب کے اہم سیاست دانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔اُن کی سیاست کئی دہائیوں کے عمل پر محیط ہے۔جنوبی پنجاب سے تعلق ہونے کی وجہ سے ،وہاں کے مسائل سے باخوبی آگاہ ہیں اور اپنے تئیں وہاں کی محرومیوں کو ختم کرنے کی مساعی بھی کرتے رہتے ہیں۔تجزیات کے قارئین کے لیے اُن سے جنوبی پنجاب کی سیاست اور معاشرتی مسائل پر بات چیت کی گئی۔(

img Read More

تعلیمی نصاب متشدد رویوں کو جنم دینے کا سبب بنتاہے

احمد اعجاز

ڈاکٹر علی محمد خاں 1941ءمیں پانی پت میں پیداہوئے۔1961ءتدریس سے وابستہ ہیں ۔گورنمنٹ وحدت کالج لاہور میں پچیس برس پڑھانے کے بعد گذشتہ دس برس سے ایف سی کالج لاہور میں پڑھارہے ہیں ۔پنجاب ٹیکسٹ بک بور ڈ کی نہم اور دہم کی اُردو کی کتاب بہارِ اُردواور گیارہویں و بارہویں کی اُردو کتب کا نصاب ڈاکٹر علی محمد خان ترتیب دیتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ نصاب ترتیب دینا ایک چیلنج ہے،اسے ایک فرد بھی ترتیب نہیں دے سکتا۔محکمہ تعلیم اسلام آباد کے پلیٹ فارم پر نصاب سازی کا ایک ونگ ہے۔وہاں نصاب ترتیب دیا جاتا ہے ۔چاروں صوبوں کے جغادری قسم کے لوگ نصاب سازی میں شامل ہوتے ہیں۔وہ ہر مضمون کا نصاب تیار کرکے پھر آگے ہمیں دے دیتے ہیں ۔پھر اُن کے دیے گئے نصاب کی روشنی میں ہم نصاب ترتیب دیتے ہیں۔ہم اُنہی نثر نگاروں ،شاعروں کو نصاب کا حصہ بناتے ہیں جو ہمیں بتائے گئے ہوتے ہیں ،اپنی مرضی سے ہم کسی کو نصاب کا حصہ نہیں بنا سکتے۔معاملہ یہاں تک ہی نہیں بلکہ یہ بھی بتادیا جاتا ہے کہ فلاں کا فلاں مضمون شامل کرنا ہے ۔نہم کی کتاب میں مولوی عبدالحق کا ایک لکھا ہوا”نام دیو مالی“کا خاکہ ہے۔ہمیں ہدایت دی گئی کہ اسے ہر صورت نصاب میں شامل کرنا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت ہوتی ہے کہ دوافسانے شامل کرنے ہیں ،دوناول کے اقتباس اور باقی فلاں فلاں چیزیں۔دسویں جماعت کی کتاب بہاراُردو جو دس سال نصاب کا حصہ رہی ،گذشتہ برس اُس کی جگہ نئی کتاب شامل کی گئی ،اُس کو جب ہم ترتیب دینے لگے،تو شبلی نعمانی کو ہر صورت نمائندگی دینی تھی۔میرے ساتھ ڈاکٹر تحسین فراقی اور جعفر بلوچ تھے

img Read More

زبان کو اپنی زندگی مرضی سے گزارنے کی آزادی دی جائے

محمد عاصم بٹ

مرزا اطہر بیگ سے میرا اولین تعارف فلسفہ کے استاد کی حیثیت سے ہوا۔ گورنمنٹ کالج جب یونیورسٹی نہیں بنا تھا، تو ایم اے فلسفہ میں آپ شعبہ کے سب سے پسندیدہ اور ہر دلعزیز استاد تھے۔ طلبا اکثر انھیں گھیرے رہتے۔ تب کالج میں سگریٹ پینے پر پابندی کا کوئی تصور نہیں تھا تو آپ باہر لان میں گھومتے ہوئے جب کہ دیگر سگریٹ نوش طلبا سے گفتگو کی مصروفیت بھی جاری رہتی، سگریٹ پیتے دکھائی دیتے۔ وہیں لان میں کبھی کلاس بھی لیتے۔ ہمیں آپ نے نفسیات اور جدید فلسفہ پڑھایا۔

img Read More

جس قوم کی سیاسی جڑیں کمزور ہوں اس کے ادب کی عالمی پزیرائی نہیں ہوتی

احمد اعجاز

زاہداِمروزاکیسویں صدی میں سامنے آنے والے چند نمایاں اُردو شاعروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ وہ ستمبر1986ءکو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ 2009ءمیں اُن کی نظموں کا پہلا مجموعہ ” خودکشی کے موسم میں “ شائع ہوا جسے حکومت کی طرف سے نیشنل ایوارڈدیا گیا۔ ”کائناتی گرد میں عریاں شام“ اُن کی نظموں کا دوسرامجموعہ ہے۔وہ عالمی ادب سے تراجم بھی کرتے رہتے ہیں۔2012ءمیں پابلو نیرودا کی نظموں کا ترجمہ ”محبت کی نظمیں اور بے بسی کا گیت“ شائع ہوا۔ اُن کی نظمیں سندھی اور دوسری علاقائی زبانوں میں بھی ترجمہ ہو کر شائع ہوتی رہتی ہیں۔ قائد ِ اعظم یو نیو رسٹی سے فزکس میں ایم ایس سی اور ایم فل کرنے کے بعد شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں۔ وہ نیوکلیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤاورعالمی امن کے موضوعات پر بھی کام کرتے ہیں۔اس نوجوان شاعرسے ہونے والا ایک دلچسپ مکالمہ پیشِ خدمت ہے:

img Read More

جب سماج کی ترقی رک جاتی ہے تو تنازعات پیدا ہوتے ہیں

احمد اعجاز

تجزیات:سماجی ہم آہنگی کیونکر ممکن ہے؟اسے ممکن بنانے کے لیے کیا کرنا ہو گا؟نیز سماجی ہم آہنگی کا تصور مفید تصور ہے؟
ارشد محمود:میراخیال ہے، ہمیں پہلے سماجی ہم آہنگی کے مطلب کو سمجھنا ہوگا۔کسی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ہمیں اس کے الٹ کو پہلے دیکھیں، تو اس حقیقت کے معنی زیادہ واضح ہوجاتے ہیں۔ یعنی سماجی ہم آہنگی کے الٹ کیا ہے۔ انتشار، بے ربطی، تصادم، بدامنی، اب ہمیں زیادہ آسانی سے ہم آہنگی کی سمجھ آ جائے گی۔ سماجی اتفاق و اتحاد، مختلف گروہوں کے درمیان ہمدردی اور باہمی قدرواحترام ، پرامن بقائے باہمی، مختلف رنگ، نسل، ذات، مذہب وعقیدہ کے درمیان ، طبقات کے درمیان ہم آہنگی.... سماجی ہم آہنگی کی افادیت اس تصور سے ہی واضح ہے۔ کوئی معاشرہ صحت مند، ترقی پذیر اسی وقت کہلا سکتا ہے، جب وہاں امن ہوگا اور سماجی ہم آہنگی کے لوازمات ہونگے۔ معاشی ترقی کے لئے سماجی امن کی لازمی شرط درکار ہے۔ جہاں امن نہیں، انتشار اور تصادم ہے۔ وہ معاشرے اور ملک ترقی نہیں کرسکتے۔