working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 پاکستان میں دینی مدارس اور حالیہ تناظر

قومی منظرنامہ

عالمگیرمالی بدعنوانی اصلاح طلب
بین الاقوامی اقتصادی قانونی مسئلہ

محمد خالد مسعود

قارئینِ تجزیات کے لئے ڈاکٹر خالد مسعود کا نام نیا نہیں ۔ ان صفحات پر ان کی تحریریں تواتر کے ساتھ شائع ہوتی ہیں ۔ ڈاکٹر خالد مسعود کا شمار عہد حاضر کے نمایاں اسلامی دانشوروں میں ہوتا ہے ۔پاکستان سے باہر بھی ڈاکٹر خالد مسعود کی علمی کاوشوں کے چرچے ہیں ۔آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین بھی رہ چکے ہیں ۔آپ بین لاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل اور ہالینڈ کے انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف اسلام کے ڈائریکٹر بھی رہے ۔آپ نے اپنے حالیہ مضمون میں پانامہ پیپرز کے بعد ابھرنے والی صورتحال میں اس مسئلہ کا جائزہ اسلامی قوانین و روایات اور بین الاقوامی قانون کی صورت میں لیا ہے ۔(مدیر)

اپریل 2016ئمیں پاناما دستاویزات کی اشاعت سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ مالی بد عنوانی ایک عالمگیر مسئلہ ہے جس میں ترقی پذیر ہی نہیں ترقی یافتہ ممالک بھی ملوث ہیں۔پوری دنیا ہو شربا مہنگائی اور مالی بدعنوانیوں کا شکار ہے اور غربت میں ناگفتہ بہ اضافے کی وجہ سے ہر ملک کے عوام چیخ اٹھے ہیں۔غربت میں اضافہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی شدید مسائل پیدا کر رہا ہے۔پانامادستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ حالیہ معاشی اور معاشرتی تباہی کی اصل ذمہ دار عالمگیر اقتصادی پالیسیاں ہیں جن کو قانونی پشت پناہی حاصل ہے۔ آج ہر طرف یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ان استحصال پرور بین الاقوامی قوانین میں فوری اصلاحات کی جائیں،جن ملکوں سے یہ دولت لوٹی گئی ہے ان کو واپس کی جائے اور بدعنوانی کے مرتکب افراد کا فوری احتساب کیا جائے۔

پاناما دستاویزات کے غیر جانبدار تجزیے بتاتے ہیں کہ یہ پیچ در پیچ اقتصادی پالیسیاں در اصل طالع آزماسرمایہ داروں کے لئے بنائی گئی تھیں۔ سرمایہ داروں کو خوش رکھنے کے لیے ہر طرح کی مراعات کی ضمانت دی گئی۔ ٹیکسوں کی بے بہا چھوٹ اور اکثر مکمل ٹیکس معافی کے لیے یہ راہ نکالی گئی کہ ملکی سرحدوں سے باہر کمپنیاں کھولنے کی قانونی اجازت دی گئی تاکہ ان پر ملکی قانون لاگو نہ ہوں۔ مثلاً بعض کمپنیاں امریکہ کے ساحلی علاقوں سے دور شمالی بحر اوقیانوس کے جزائر بہاما اور پاناما میں قائم کی گئیں۔انہیں آف شور یعنی ساحل پار کا بے ضررنام دیا گیا۔ ان کمپنیوں کے قواعد و ضوابط کو آسان بنا کر ہر کس و ناکس کو سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا گیا اور اس سرمایہ کو صیغہ راز میں رکھنے کی ضمانت بھی فراہم کی گئی۔ یہ کمپنیاں اصل میں ترقی پذیر ملکوں میں موجود قدرتی وسائل اور توانائی کے ذرائع تک بے ٹوک رسائی کے لیے بنائی گئیں۔ اس مقصد کے لیے مغربی ملکوں کے سرمایہ دارکسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے۔ تیسری دنیا میں مختلف سرکاری محکموں سے کام نکلوانے کے لیے اورباہر کے ملکوں میں کاروباری سہولتیں حاصل کرنے کے لیے رشوت کو ناگزیر قرار دے کر قانونی شکل دی گئی ورنہ اپنے ملکوں میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا۔ اسے فارن برائبری یعنی بیرون ملک رشوت کہہ کر ملکی قانون سے مستثنیٰ بنا دیا گیا۔

رشوت کو پر کشش بنانے، قانون کی گرفت سے بچانے اوررشوت کی کمائی کوخفیہ رکھنے کے لیے مختلف بنکوں میں بے نام اکاؤنٹ کی قانونی سہولتیں فراہم کی گئیں اور بنکوں کو پابند کیا گیا کہ ان اکاؤنٹوں کو صیغہ راز میں رکھا جائے۔ان رقوم کی فوری سرمایہ کاری کے لیے منافع بخش ریئل اسٹیٹ یعنی جائیداد کی خرید و فروخت میں آسانیاں مہیا کی گئیں۔میزبان ملکی قوانین میں گنجائش پیدا کی گئی تا کہ رشوت اور بد عنوانی کی کما ئی یورپ میں جائیداد کے کاروبار میں لگوا کریہ سرمایہ ترقی یافتہ ملکوں میں ہی واپس لایا جا سکے۔دوسرے ملکوں نے بھی سرمایہ کھینچنے کے لئے جائداد کے قوانین نرم کیے۔ سرمایہ کاروں کے لیے جائداد کا کاروبار اس لیے بھی پر کشش تھا کہ یہ عارضی سرمایہ کاری تھی جو منی لانڈری کہلاتی تھی۔ اس طرح دولت بہت جلد پاک اور صاف شفاف ہو جاتی تھی اور بلا خوف و خطر آگے کسی دوسرے کاروبار میں لگائی جا سکتی تھی۔اس طرح رشوت، ڈرگ، اسلحہ اور ہر قسم کے کاروبار کی ناجائز کمائی کو مختصر وقت میں جائز اور حلال بنا کرنیا کاروبار کرنا آسان ہو گیا۔ان پالیسیوں کی خرابیاں اس وقت ظاہر ہوئیں جب تیسری دنیا کے اکثر ملک قلاش ہونے لگے اور گردشی قرضوں کے چکر میں ایسے پھنسے کے قرض اتارنے کے لئے مزید قرضے لینے پر مجبور ہو گئے۔ دوسری طرف یورپ میں جائدادیں اتنی مہنگی ہو گئیں کہ مقامی شہری بھی اپنے رہنے کے لیے مکان نہیں خرید سکتا تھا البتہ تیسری دنیا کے لوگ لندن اور پیرس میں محلات کے مالک بن بیٹھے۔ اس ترقی معکوس کے خلاف احتجاج کے دائرے پھیلنے لگے تو اقوام متحدہ اور عالمی اقتصادی ادارے بھی اس جانب متوجہ ہوئے۔

پاناما دستاویزات کی اشاعت نے سول سوسائٹی کی بہت سی تحریکوں کے کام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیاہے۔ ان میں سے ایک او ای سی ڈی (آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ : معاشی تعاون اور ترقی کی تنظیم ) ہے جو1961ئسے پیرس میں قائم ہے۔ اس میں 34 ملک شامل ہیں۔ اس تنظیم کا منشور ایسی حکمت عملی کا فروغ ہے جو دنیا بھر کے ملکوں کی معیشت کو پائیدار بنا سکے۔ یہ تنظیم اس منشور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مختلف ملکوں کے سربراہوں سے رابطے کرکے ان کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ معیشت کو بہتر بنانے کے لئے ضروری قدم اٹھائیں۔ اس تنظیم کے بانی رکن پیٹر آئیگن نے ٹیڈ ( ٹیکنالوجی، اینٹرٹینمنٹ اینڈ ڈیزائین ) کے فورم پر حالیہ تقریر میں اس زمانے کے مشاہدے بیان کیے جب وہ ورلڈ بنک کے ساتھ نیروبی میں کام کر رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ معاشی بد عنوانی عالمی سطح پرایسے پھیلی ہوئی ہے کہ قومی ریاست کا ادارہ اس کے مقابلے میں بے بس ہے۔

پیٹر آئیگن نے بتایا کہ وہ ایک مرتبہ سرمایہ کاروں کی ایک میٹنگ میں شریک ہوئے جس میں افریقی ملکوں میں متعدد منصوبے زیر بحث تھے۔ ان میں ایک منصوبہ بجلی اور آبپاشی سے متعلق تھا۔ یہ افریقہ کے ایک ایسے سر سبز و شاداب علاقے سے تعلق رکھتا تھا جو پہلے سے زرخیز اور بہترین پیداوار کا علاقہ تھا اور یہاں ایسے منصوبے کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی تھی۔ زیر بحث منصوبوں میں یہ سب سے کمزور اور بے معنی تجویز تھی۔ تاہم30لاکھ امریکی ڈالر کی مجوزہ لاگت کا یہ سب سے مہنگا منصوبہ تمام سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز تھا۔ پیٹر آئیگن اس علاقے سے واقف تھے اس لیے انھوں نے شدید مخالفت کی کہ اس علاقے میں ایسے منصوبے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ بلکہ اس منصوبے پر عمل کرنے سے یہ خوبصورت اور شاداب علاقہ بالکل تباہ ہو جائے گا۔ آئیگن کو شدید حیرانی ہوئی کہ یہ بد ترین تجویز سب سے پہلے منظور کر لی گئی اور متعدد بنکوں اور اقتصادی اداروں نے فوری سرمایہ کاری کی حامی بھی بھرلی۔ ان سرمایہ کار ملکوں میں جرمنی، فرانس اور کینیڈا جیسے ملک ضامن بنے۔ پتا چلا کہ اس منصوبے کے لئے مقامی حمایت حاصل کرنے کے لئے لاکھوں ڈالر رشوت دی جا چکی تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مقامی حکومت اس منصوبے کے لیے اپنے بجٹ سے عوامی بہبود اور حفظان صحت کی مدوں سے پیسہ نکال کر اس منصوبے پر خرچ کرنے کے لئے تیار ہے۔پیٹر آئیگن نے مزید کھوج لگائی تو پتہ چلا کہ مغربی ممالک اور ورلڈ بنک ایسے منصوبوں کے لئے رشوت کو غیر قانونی نہیں سمجھتے۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ اگرچہ ان ملکوں میں رشوت جرم ہے لیکن بیرون ملک رشوت کو جسے فارن برائبری کا نام دیا گیا ہے قانون جائز قرار دیتا ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی تجارت میں ’’رکاوٹیں‘‘ اسی سے دور ہوتی ہیں۔ ورلڈ بنک بھی اپنے منصوبوں کی کامیابی کے لئے اسے ضمانت بتاتا تھا۔ معاشی بد عنوانی کی یہ شکل اتنی جڑ پکڑ چکی تھی کہ بڑی بڑی کمپنیاں مجبور تھیں اور طاقتور ملک بھی بے بس تھے۔ چونکہ انہیں یقین دلایا جاتا تھا کہ قانون اس کی اجازت دیتا ہے اور اس میں ان کے ملک کاہی بھلا ہے توغریب ملکوں کے حکمران اور حکام بھی اسے برا نہیں سمجھتے تھے۔ اس صورت حال میں آئیگن کے سامنے ایک ہی راستہ تھا کہ سول سوسائٹی کو ساتھ لے اور اجتماعی اقدام کے ذریعے رشوت اور بدعنوانی کو بین الاقوامی جرم قرار دلوائے۔

مذکورہ بالا مشاہدے کی تائیدرسویڈ ن کے نامور ماہر معاشیات گنر میرڈال کی کتاب ’’ایشین ڈراما: قوموں کی غریبی کا تحقیقی مطالعہ‘‘ سے بھی ہوتی ہے جو رشوت کے موضوع پر سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ میر ڈال نے یہ کتاب ایک لمبے عرصے تک ایشیائی ملکوں میں معاشی ترقی کا مطالعہ کرنے بعد1968ء میں شائع کی۔ اس کتاب میں ترقی پذیر ملکوں کی معاشی پسماندگی کا ذمہ دار رشوت اور بدعنوانی کے اس پیچ در پیچ چکر کو ٹھہرایا گیا ہے جو بین الاقوامی تجارت کا سنہرا اصول سمجھا جاتا ہے۔ میر ڈال نے لکھا کہ معاشی ترقی کے قدیم نظریے کا دعویٰ ہے کہ بین الاقوامی تجارت سے عالمی معاشی ترقی کی راہ ہموار ہوتی ہے اور امیر اور غریب ملک معاشی طور پر ایک دوسرے کے برابرآجاتے ہیں۔ لیکن اس نے اپنی تحقیق اور مطالعے کی روشنی میں ترقی کے بارے میں مروجہ نظریے کو رد کرتے ہوے بتایا کہ یہ معاشی ترقی اصل میں ایک ایسے گردشی عمل کو جنم دیتی ہے اور ایسے عوامل پیدا کرتی ہے جو ترقی یافتہ ملکوں میں تو ترقی کی رفتار کو تیز کرتے ہیں لیکن غریب ملکوں کو زیادہ پسماندہ اور کمزور بنا دیتے ہیں۔ کیونکہ بین الاقوامی تجارت سے حا صل آمدنی ترقی پذیر ملکوں کی بجائے ترقی یافتہ ملکوں میں واپس چلی جاتی ہے۔ ان کے نزدیک اس کا سبب رشوت ستانی کی وہ پالیسی ہے جو بہت بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے۔ ان غریب ممالک میں رشوت کے ذریعے مطلوبہ مراعات اور منافع حاصل کئے جاتے ہیں۔ منافع اور رشوت دونوں سے جو سرمایہ حاصل ہوتا ہے وہ ترقی یافتہ ملکوں میں پہنچ جاتا ہے۔

اس تحقیق پر میرڈال کونوبل انعام تو ملا اور اس نے قدیم معاشی ترقی کے نظریے پر تنقیدی مطالعات کا دروازہ بھی کھولا لیکن میر ڈال کا نیا نظریہ بہت جلد عالمی معیشت کے دلفریب سیل رواں کی نذر ہو گیا۔ میر ڈال کے ہم خیال پیٹر آئیگن نے عالمی معیشت کے اس تزویراتی عمل کو بے نقاب کرنے کیلئے اس بات پر زور دیا کہ مناسب قانون سازی کے ذریعے ان خرابیوں کی اصلاح کی جائے۔ تیسری دنیا کی حکومتیں اتنی کمزور ہو چکی ہیں کہ وہ ان پیچ در پیچ تزویراتی پالیسیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتیں۔ اب لازم ہو گیا ہے کہ دنیا بھر میں سول سوسائٹی کی تنظیمیں آگے آئیں اور حالات جن قانونی اصلاحات کا تقاضا کر رہے ہیں اس کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ اور بین الاقوامی سطح پر اس تحریک کو مضبوط کریں جس کی جانب ماہرین اقتصادیات بہت پہلے سے متوجہ کرتے آ رہے ہیں۔ اب بھی یہ حال ہے کہ اقتصادی رجحانات کے خطرناک نتائج سامنے دیکھتے ہوئے بھی عالمی ترقی کی چکا چوند میں غربت کے مسائل آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ میگا پراجیکٹ کی شان و شوکت کے سامنے ا سکولوں اور ہسپتالوں کی طرف دھیان نہیں۔

مالی بد عنوانی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے 1993ء میں ٹرانسپیرنسی (شفافیت ) کی عالمی تنظیم قائم ہوئی۔ پیٹرآئیگن اس تنظیم کے بھی بانی رکن ہیں۔ یہ تنظیم مختلف ملکوں میں رشوت ستانی کے واقعات کے جائزے تیار کرتی ہے اور شفافیت کی بنیاد پر ملکوں کی درجہ بندی کے اعداد و شمار شائع کرتی ہے۔2014ء کی رپورٹ میں پاکستان دیانت اور شفافیت کے اعتبار سے 167 ملکوں میں 126 ویں درجے پر تھا۔ دوسرے مسلم ملک بھی عام طور پر نچلے درجوں میں ہیں۔ ٹرانسپیرنسی کا کہنا ہے کہ رشوت پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اس لئے اس کا تصور واضح نہیں رہا۔ ٹرانسپیرنسی کے بقول رشوت اور بد عنوانی کی بے شمار شکلیں ہیں جن کی ایک قدر مشترک یہ ہے کہ اقتدار یا عہدے کو جو امانت کے طور پر کسی کے سپرد کیا جاتا ہے ذاتی منفعت کے لئے استعمال کیا جائے۔ رشوت انسانی معاشرے کی بنیادی اقدار یعنی امانت و دیانت اور اعتبار کی بیخ کنی کرتی ہے۔ سیاسی، معاشی اور قانونی اداروں پر سے لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں اور رہبروں پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ بالآخر عوام کی آزادی، صحت، عزت اور اکثر اوقات جان و مال خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

ان سول تنظیموں نے مسلسل جدوجہد کے بعد او سی ای ڈی کے1997ء کے اجلاس میں مختلف ملکوں کے سربراہوں اور سرمایہ کاروں کے سامنے یہ حقائق رکھے کہ فارن برائبری کا قانون صرف غریب ملکوں کو ہی تباہ نہیں کر رہا بلکہ اس سے سرمایہ کاری بھی لا قانونیت اور بد عنوانی کے چکر میں پھنستی جارہی ہے۔34 ملکوں کی متفقہ قرارداد سے فارن برائبری کا قانون منسوخ ہوا اور رشوت کی اس شکل کو جرم قرار دیا گیا۔ تاہم آئیگن کا کہنا ہے کہ یہ قانون پوری طور پر منسوخ نہیں ہو سکا۔ سرمایہ کاروں کے دباؤ کی وجہ سے یہ عملی طور پر اب بھی رائج ہے۔ اب بیرون ملک رشوت براہ راست نہیں بلکہ نائبوں اور غیر سرکاری گماشتوں کے ذریعے ادا کی جاتی ہے اور اسے خلاف قانون نہیں کہا جاتا۔ برطانیہ میں سرمایہ کاری کے ایک منصوبے میں ایک عرب ملک میں42 ارب سے زیادہ کی رشوت ادا کی گئی۔ جرمنی میں اگر سرکاری ملازم اس کا ارتکاب کرے تو جرم ہے لیکن اگر سرکاری ملازم اپنے نائب کے ذریعے کرے تو جرم نہیں۔اسی طرح کی دوسری سول سوسائٹی کی تنظیموں میں گلوبل وٹنس (عالمی گواہ) بھی ہے۔ اس کے ساتھ اور بہت سی تنظیموں نے کئی برس تک رشوت کی خرابیوں سے آگاہی پر کام کیا۔

2015ئمیں یہ کوششیں رنگ لائیں۔ اچانک ایک واقعہ پیش آیا جس نے عالمگیر بدعنوانی کو بے نقاب کردیا۔ ایک نامعلوم شخص نے فرضی نام سے محض پاناما میں کام کرنے والی دولاکھ چودہ ہزار چار سو اٹھاسی (214488) ساحل پار کمپنیوں کے حسابات سے متعلق15کروڑ سے زیادہ کی تعداد میں دستاویزات نامعلوم ذرائع سے ایک جرمن اخبار زوئیدے دوئتش زائیتنگ کو پہنچا دیں۔ اس نے لکھا کہ میری جان خطرے میں ہے۔ میں کسی حکومت یا خفیہ ایجنسی کا ملازم نہیں لیکن یہ دستاویزات بہت بڑے پیمانے پر ظلم کے شواہد ہیں۔ یہ دستاویزات ایک امریکی لا فرم موساک فونسکا سے تعلق رکھتی ہیں جو مشرق وسطیٰ کے امیر خاندانوں کے خفیہ کاروبار چلاتی ہے اور تیل کی کمپنیوں کے ذریعے فراڈ، ٹیکس چوری اور دوسرے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

اخبار نے اس انبار کے مطالعے اور تجزیے کے لئے دنیا بھر کے تفتیشی صحافیوں سے درخواست کی۔ 80 ملکوں سے107صحافیوں نے اپنی خدمات پیش کیں اور یوں ایک بین الاقوامی صحافتی ادارہ انٹر نیشنل فورم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کے نام سے وجود میں آیا۔ اس ادارے نے ایک سال کام کیا اور 3 اپریل2016ء کو 149 دستاویزات پر مبنی ایک تجزیاتی جائزہ تیار کیا۔ یہ ان دستاویزات کے جائزے کی پہلی قسط ہے۔ پاناما کی حکومت اور دوسرے کئی ملکوں، اداروں اور اشخاص نے جن کے نام ان دستاویزات میں آئے ہیں ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ تاہم اس لا فرم نے ابھی تک یہی موقف اختیار کیا ہے کہ اس کمپنی نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ انٹرنیشنل فورم آف جرنلسٹس کے استفسار پر کمپنی نے وضاحت کی کہ وہ قانونی طور پر ساحل پار کمپنیوں کے ٹیکس بچانے اور ان کے تجارتی معاملات کے حساب کتاب کو خفیہ رکھنے کی پابند ہے۔ کمپنی نے بین الاقوامی ادارے ایف اے ٹی ایف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ) کا بھی حوالہ دیا جو حکومتوں کے مابین شفافیت قائم رکھنے اور بدعنوانی کے انسداد کے لئے بنا ہے۔ اس ادارے کے قواعد و ضوابط کے مطابق ساحل پار کمپنی کا اکاؤنٹ کھولنے اور کاروبار شروع کرنے سے پہلے قانون کا تقاضا ہے کہ گاہک یہ لکھ کر دے کہ اس کاروبار سے کس کو فائدہ مطلوب ہے۔ موساک کا کہنا ہے کہ اگر کسی گاہک نے غلط معلومات دی ہیں یا اصل کاروبار کو چھپایا ہے تو اس کی ذمے داری انہی پر ہے موساک جواب دہ نہیں۔

موساک کے دفاتر امریکہ میں نیواڈا اور ویومنگ کی ریاستوں میں رجسٹر ہیں۔ موساک فونسکا کے پاس2009ء میں اسّی ہزار کمپنیاں تھیں اور اب اس کے تحت تین لاکھ سے زیادہ شیل کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں زیادہ تر برٹش ورجن جزیروں میں قائم ہیں لیکن باقی کمپنیاں پاناما، بہاما، سی شیل اور سموآ میں کام کر رہی ہیں۔تاہم اس کمپنی نے اپریل 2015ء میں اپنے گاہکوں کو متنبہ کر دیا کہ اس کا برقی ڈاک کا نظام چوری ہوگیاہے ۔ یہ ساری دستاویزات پاناما میں قائم ایک امریکی قانونی فرم کی ہیں جو موساک فونسکا کے نام سے رجسٹر ہے۔ یہ دستاویزات214000ساحل پار کمپنیوں سے متعلق ہیں جو اس لا فرم کی زیر نگرانی کام کررہی ہیں۔ ان میں زیادہ تر کمپنیوں کے ڈائرکٹر مشرق وسطیٰ اور دوسرے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں تیل اور گیس کے ذخائر ہیں۔ یہ شیل کمپنیاں زیادہ تر برطانوی ورجن آئی لینڈ میں قائم ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی رپورٹ کے مطابق موساک فونسکا فرم نے جائداد کی خرید و فروخت کے لئے قرض کی سہولت کے لئے لکسمبرگ میں بھی کمپنی قائم کی ہے ۔ 2013ء میں اس کمپنی پر مقدمہ چلا تو موساک کمپنی کو اقبال جرم کرنا پڑا کہ اس کی دستاویزات میں قانونی سقم ہے جسے وہ دور کرے گی۔ یہ ساحل پار کمپنیاں اربوں ڈالر کی جائداد کے سودے کرتی ہیں۔2013ء میں ایک عرب ملک نے بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لئے موساک کی ایک کمپنی کو دو ٹرلین امریکی ڈالر کے عوض تیل کے حصص فروخت کئے۔

پاناما دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ ساحل پار کمپنیوں کا قیام اور ٹیکس کی چھوٹ قانونی جرم نہیں لیکن اس قانون کی آڑ میں کئی دوسرے قانونی جرائم چھپائے جارہے ہیں۔ مثلاً نمیبیا کا ایک شہری ایک ساحل پار شیل کمپنی کا مالک ہے۔نمیبیا میں اسے ٹیکس نادہندہ قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کی جائداد پر اس کے ذمے جو ٹیکس ہے وہ امریکی ڈالروں میں ستر لاکھ بنتا ہے۔ اس کی شیل کمپنی کی تجارتی برآمدات سے اوسط آمدنی تیس کروڑ امریکی ڈالر ماہانہ ہے۔ 2012ء سے2015ء تک یہ کمپنی اپنی سالانہ آمدنی پندرہ کروڑ ظاہر کرتی آرہی ہے۔ اس کمپنی میں اس شخص کے ذاتی حصص کی مالیت اربوں ڈالر ہے۔

آئی ایم ایف کی2015ء کی رپورٹ کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیاں ترقی پذیر ملکوں سے ہر سال تقریباً 213ارب ڈالر وصول کرتی ہیں جو ان ملکوں کی آمدنی سے دوگنا ہے۔ ٹیکس جسٹس نیٹ ورک کی 2012ء کی رپورٹ ہے کہ تجارتی ٹیکس کی چھوٹ کی اسکیموں کا ناجائز اطلاق اور اس سلسلے میں مشتبہ کارروائیوں کو نظرانداز کرنا عالمی بنکوں اور اکاؤنٹنٹس کا معمول کا وطیرہ بن چکا ہے۔ لندن میں جائدادوں کی قیمت میں2007سے مسلسل50 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ جائدادیں زیادہ تر غیر ملکی سرمایہ کار خرید رہے ہیں۔ نیشنل کرائمز ایجنسی کی 2015ء کی رپورٹ بتاتی ہے کہ لندن میں جائدادوں کا کاروبار منی لانڈرنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہے اور غیر ملکی مجرمانہ سرمایہ کاری اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔

ان تجزیات سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے مفادات کے لئے ملکی اور بین الاقوامی قوانیں کو پامال کیا گیا اور ترقی یافتہ ملکوں کو مکمل دست نگر بنایا وہاں یہ بھی پتا چلتا ہے صرف معیشت ہی نہیں سیاست میں بھی مفاد پرستی اور حرص کو عروج ملا۔ اب تجارت کی طرح جمہوریت بھی غریب کے بس کی بات نہیں رہی۔آج کے جمہوری نظام میں صرف سرمایہ دار حصہ لے سکتا ہے جو اقتدار کو سرمایہ کاری کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔آج ریاست، حکومت اور قانون بد عنوانی کے سیلاب کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ سول سوسائٹی مضبوط ہو وہاں معیشت، سیاست اور قانون کو اقتدار اور طاقت کاآلہ کار بننے سے بچانے کے لئے قانون تشکیل نوکا متقاضی ہے تاکہ بامقصد معیشت اور سیاست کو استحکام ملے۔ پاکستان میں قانون کا مسئلہ زیادہ الجھا ہوا ہے۔

بر صغیر میں ماضی میں بھی قانون کی حکمرانی کمزور رہی۔ قانون کے نفاذ کے لئے حکمران کا سخت گیر بلکہ جابر ہونا ضروری سمجھا جاتا رہا۔ قانون طاقتور کے سامنے عام طور پربے بس رہا۔ دوسری جانب دین اور دنیا کی تفریق میں دنیاوی قانون کا سکہ چلتا تھا۔ ماضی بعید میں بادشاہ مطلق العنان تھے ان کے سائے میں قانون کی حکمرانی کا پوداکیسے پنپ سکتا تھا۔ قانون کی کمزوری کی وجہ سے مایوسی اور قنوطیت کا رویہ غالب رہاجو لا قانونیت اور ظلم کو ناگزیر سمجھ کر قبول کر لیتا ہے اور قانون کو طاقت نہیں بنا پاتا۔ یہی مایوسی تھی جس میں مفتیان کرام یہ فتویٰ دینے پر مجبور ہوئے کہ رشوت کے بغیراگر اپنا جائز حق لینا ممکن نہ ہو تو رشوت دینا جائز ہے۔ اس کمزوری کا دوسرا سبب اصلاح کے لئے گفت و شنید اور رائے عامہ کو تیار کرنے کے لئے عقلی استدلال اور افہام و تفہیم کی بجائے طاقت اور قوت سے تبدیلی لانے کی سوچ ہے۔ اس طرز فکر میں قانون صرف سزاؤں کا نام بن کر رہ گیا۔ تیسرا سبب یہ یقین ہے کہ قانون کے نفاذ کا اعلان ہوتے ہی لوگ بدل جائیں گے۔ قانون کا یہ تصوراس خوش فہمی پر مبنی ہے کہ موجودقانو ن ہر طرح سے مکمل ہے اور دور جدید کی تمام پیچیدگیوں سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تصور عقیدے کی حد تک اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ قانون کسی مقصد کے لئے نہیں بلکہ محض اطاعت کے لئے ہوتا ہے۔ چنانچہ اس نظریے کے تحت اوّل تو قانون کو مقصد اور اخلاقیات سے الگ کر دیا جاتا ہے۔اور یوں قانوناًایک قسم کی قنوطیت اور بے چارگی کا مظہر بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کی سب سے افسوسناک مثال رشوت کو ناگزیر سمجھ کر جائز قرار دینے کا فتویٰ ہے۔

اب تک ہم رشوت کے بارے میں مغربی قانون کی بے چارگی کا تذکرہ کر رہے تھے۔ تقریبًا یہی حال فقہ اسلامی کی بھی ہے۔ حنفی فقیہ برہان الدین مرغینانی (م 1196 ء) ظلم سے بچنے کے لئے رشوت دینے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ (دفع الرشوۃ لدفع الظلم جائزہیں۔ کویت سے شائع ہونے والے الموسوعہ الفقھیہ میں اس قول کو حنفی فقیہ ابواللیث سمرقندی (م 983 ) سے منسوب کیا ہے کہ اپنی جان اور مال کی حفاظت کے لیے رشوت دینا جائز ہے۔ تاہم الموسوعہ کے مطابق یہ صرف حنفی موقف نہیں۔ فقہا کی اکثریت اس کی قائل ہے۔ابن مازہ (م 1262ء)، ابو محمد الغانم (م 1620ء )، الھدایہ کی شرح میں لکھی گئی تمام کتابوں، حتی کہ ابن عابدین (م1836) کی مختلف کتابوں میں یہی عبارت درج ہے۔ابن عابدین نے حنفی فقہ کی کتاب فتح کے حوالے سے اور المحیط البرھانی نے رشوت کی پانچ انواع گنوائی ہیں جن میں تین حرام، ایک مکروہ اور ایک جائز ہے۔ یہاں رشوت میں تحفہ بھی شامل ہے۔ اگر یہ تحفہ دوستی بڑھانے کے لئے بلا غرض دیا جائے تو حلال ہے۔ جب کسی خوف سے یا کسی کے شر اور فلم سے بچنے کے لئے مال دیا جائے تو لینے والے کے لئے حرام لیکن دینے والے کے لیے ان معنوں میں جائز ہے کہ اس سے کوئی مؤاخذہ نہیں۔ اگر قاضی یا سرکاری اہلکار کو ناحق اور ناجائز کام کرنے کے لئے مال یا تحفہ دیا جائے تو لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔ کام جائز بھی ہو تب بھی لینا جائز نہیں۔ بعض فقہا کی رائے میں لینا حرام ہے لیکن دینا اس صورت میں جائز ہے کہ اپنا حق لینے کے لیے اس کے علاوہ کوئی صورت نہ ہو۔ اگر قاضی یا اہلکار کو براہ راست دینے کی بجائے کسی اور شخص کو دیا جائے کہ وہ سفارش کردے یا کام کروا دے تو معاوضہ اور کام طے کرکے اسے دینا جائز ہے۔ لیکن قاضی یا اہلکار کو لینا جائز نہیں کیونکہ کام جائز بھی ہو اس کا کرنا ان کا فرض ہے جس پر وہ معاوضہ نہیں لے سکتے۔اگر کام اور معاو ضہ متعین نہ ہو تو مال دینا مکروہ ہے۔ کویتی موسوعہ فقہیہ میں رشوت کی یہ پنجگانہ تقسیم حنفی بتائی گئی ہے۔ ان میں سے تین حرام، ایک جائز اور ایک مکروہ تحریم یعنی تقریباً حرام ہے۔ حرام میں قاضی، امیر،اور گواہ کو رشوت دینا شامل ہے، ان کو تحفہ دینا مکروہ تحریمی ہے۔ تمام فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ قاضی یا امیر کے عہدے کے حصول کے لئے رشوت دینا حرام ہے۔ حنفی فقہا خصاف اور طحاوی کے نزدیک ایسا فیصلہ جو رشوت لے کر کیا ہو کالعدم قرار دیا جائے گا۔ ایسے قاضی کا کوئی بھی فیصلہ قانونی طور پر نافذنہیں ہو سکتا۔ البتہ ایسے قاضی کو فوری معزول کرنے کے بارے میں اختلاف ہے۔

بعض فقہا نے مرغینانی کے اس فتوے سے شدید اختلاف بھی کیا ہے کہ یہ بات قرآن اور سنت کے خلاف ہے لیکن دوسرے فقہا نے قرآن اور حدیث کے حوالے سے جان و مال کی حفاظت کے لئے ایسے اقدامات کی اجازت کا ذکر بھی کیا ہے۔ حنفی فقیہ السرخسی (م1096) نے اس اختلاف پر روشنی ڈالتے ہوے لکھا ہے کہ عہد نبوی اور خلفائے راشدہ کے زمانے میں حالات مختلف تھے۔ قاضی آزاد تھے اور ان پر خلیفہ یا والی کا دباؤ نہیں ہوتا تھا اس لئے رشوت کا نہ رواج تھا نہ ضرورت۔ سرخسی کا کہنا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے زمانے تک رشوت کا میلان نہیں تھا۔ امام ابو یوسف اور امام محمد شیبانی کے دور میں قاضی رشوت لینے لگے تھے۔دوسرے مصنفین کے مطابق عدلیہ کی آزادی امو ی عہد سے متاثر ہونا شروع گئی تھی۔ اس کا اندازہ عربی لغات سے ہوتا ہے۔

رشوت عربی زبان کا لفظ ہے اس کا ایک مفہوم پودے کو پانی دینا بھی ہے۔ یہ لفظ انعام اور نذر کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ تاج العروس اور المعجم الوسیط میں رشوت کا مطلب کسی کے حق کو ضائع کرنے یا باطل اور جھوٹ کی بنیاد پر اپنا حق ثابت کرنے کے لئے کسی کو پیسے دینا لکھا ہے۔ قانونی لغات میں رشوت کے ہم معنی الفاظ میں المصانعہ (اس بات پر باہم رضامند ہو نا کہ اگر تم میرا کام کر دو تو میں تمہارا کام کر دوں گا)، السحت (حرام کمائی)، ہدیہ (تحفہ)، ھبہ (مفت میں کوئی مال دینا) اور صدقہ کا ذکر آتا ہے۔ صدقہ تو صرف اللہ کی راہ میں دینا ہے اس لئے اس کا رشوت سے تبھی رشتہ بنتا ہے جب اسے نعوذ باللہ اللہ کو رشوت دینا سمجھا جائے۔ ھبہ میں اگر نیت یا سمجھوتہ اس بات پر ہو کہ اس کے بدلے میں کوئی کام نکلوانا ہے تو یہ رشوت ہو گی۔ فقہا کے ہاں رشوت اور ہدیہ یا تحفہ میں مماثلت پر بہت بحث رہی ہے۔ کشاف القناع میں اس فرق کو یوں واضح کیا گیا ہے کہ تحفہ اگر مطلوبہ کام سے پہلے دیا جائے تو رشوت اور کام ہونے کے بعد دیا جائے تو تحفہ ہے۔ یہ فرق مکمل طور پر واضح نہیں کیونکہ اس کا دارو مدار نیت پر ہے۔ جیسا کہ ہم آگے چل کر بات کریں گے یہ فرق قرآن و سنت اور اسلاف کے ہاں تسلیم نہیں کیا گیا۔

لغات میں موجود یہ بحثیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عام بول چال میں رشوت کا مفہوم اتنا واضح نہیں تھا جتنا قرآن اور سنت میں بیان ہوا۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ فہم عام میں رشوت کو قاضی یا حکام کو پیسے دے کر کام نکلوانے تک محدود رہا۔ عربی زبان کی مشہور لغات لسان العرب میں رشوت کا مطلب کام نکلوانے کے لئے پیسے دینا بتایا گیا ہے۔ ایک دوسری لغات المصباح المنیر میں اس کے معنی ’’ قاضی یا کسی اور سرکاری اہلکار کو اپنے حق میں یا اپنی مرضی کا فیصلہ دینے کے لئے پیسے دینا‘‘ بیان کئے ہیں۔ اس لئے مالی بد عنوانی کا وسیع مفہوم اس تعریف میں شامل نہیں رہا۔

قرآن کریم میں رشوت کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن رشوت کے تصوراور عمل کی ممانعت آئی ہے۔ (البقرہ: 188)۔’’اور آپس میں ناحق ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ اور اس کا کوئی حصہ حاکموں کو اس لئے نہ پہنچاؤ کہ جانتے بوجھتے ظلم کرکے لوگوں کے مال کا حصہ کھا لو‘‘۔احادیث میں سرکاری اہلکاروں خصوصا ٹیکس وصول کرنے والوں کو تحفے وصول کرنے اور انہیں بیت المال میں جمع کرنے کا حکم دے کرمفادات کے تضاد کا اصول بیان کرکے حرام کمائی بتایا اور انتظامی جرم قرار دیا اور مالی بدعنوانی کے وسیع مفہوم میں شامل کیا۔ دوسری جانب اس کاسود کے ساتھ ذکر کرکے تجارتی مالی بدعنوانی کے ساتھ جوڑ کر اور اسے اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ قرار دے کر اسے ڈاکہ اور حربہ کے برابر کا فوجداری جرم بتایا۔

( النساء:161)۔’’اوراس وجہ سے کہ وہ سودلیتے تھے جب کہ ان کو اس کی ممانعت تھی اورا س وجہ سے کہ وہ لوگوں کامال ناحق کھاتے تھے۔ ہم نے کافروں کے واسطے دردناک عذاب تیارکررکھاہے‘‘۔ ایک اور آیت میں اسے جھوٹ، جھوٹی گواہی اور افواہ سازی اور حرام کمائی کی صف میں شامل کرکے اخلاقی جرائم کا حصہ بیان کیا ہے۔

(المائدہ: 42 )۔ ’’ یہ لوگ جھوٹ بولنے اوربڑے حرام کھانے والے ہیں۔ اگر یہ لوگ تمہارے پاس آئیں تو تم چاہو تو ان کے جھگڑے کا فیصلہ کر دو اور نہ چاہو تو احتراز کرو۔ اگر تم احتراز کرو تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔اگرفیصلہ کروتو انصاف سے فیصلہ کرو۔بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کوپسند کرتا ہے۔‘‘

تفاسیر میں ذکر ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں ہے۔ ابتدا میں نبی اکرمﷺ کو یہ اختیار تھا کہ وہ یہود کے جھگڑوں میں فیصلے سے احتراز کر سکتے ہیں لیکن بعد میں ان کے فیصلے بھی عدالت نبوی میں ہی ہونے لگے۔ تاہم اس بحث میں پڑے بغیر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ قاضی کو کسی خوف اور دباؤ میں نہیں آنا چاہئے۔ نہ تو دباؤ اور خوف میں مقدمہ سننے سے احتراز کرے اور نہ دباؤ میں غلط فیصلہ دے۔ فیصلہ انصاف کی بنیاد پر کرنا چاہئے۔ یہاں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ ہے جہاں اللہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ بد نیت لوگ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ لیکن حقیقی زندگی میں یہ ضمانت ریاستی نظام کو دینا ہوگی۔

رشوت کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرؓکی روایت کردہ حدیث کا زیادہ حوالہ دیا جاتا ہے۔ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں پر لعنت بھیجی (ترمذی اور ابو داؤد)۔ اس حدیث میں عدالت یا قاضی کو رشوت دینے کی تخصیص نہیں۔ البتہ حدیث میں رشوت کے الفاظ استعمال ہوئے جبکہ قرآن کریم میں ان الفاظ کا ذکر نہیں۔ قابل توجہ یہ بات ہے کہ رشوت عام اور وسیع معاش میں استعمال ہوا ہے۔ اس لئے رشوت کو ایسی مالی بد عنوانی تک محدود رکھنا جو صرف اپنا کام نکلوانے کے لئے ہو صحیح نہیں۔

رشوت سود، دھوکہ دہی، ناپ تول میں کمی، بد دیانتی وغیرہ کے بارے میں اگرچہ قرآن و سنت میں سخت وعید بیان ہوئی تھی اور سود کو تو اللہ اور رسول سے جنگ قرار دیا تھا۔

(البقرہ: 278۔28 9) ’’ مومنو! اللہ سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔ تو تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو اور اگر توبہ کر لو گے اور سود چھوڑ دو گے تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور نہ تمہارا نقصان‘‘یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مالی بدعنوانی کی کم از کم دو قسموں کو حدود میں شامل کر کے اس کی شدید ترین سزائیں بھی مقرر کی ہیں، چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا اور ڈاکے کی سزا ہاتھ پاؤں کاٹنا اور سولی چڑھانا بتایا ہے۔

(المائدہ: 33)’’یہی سزا ہے ان کی جو لڑائی کرتے ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور دوڑتے ہیں ملک میں فساد کرنے کو ان کو قتل کیا جائے یا سولی چڑھائے جاویں یا کاٹے جاویں ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے یا دور کر دئیے جاویں اس جگہ سے یہ ان کی رسوائی ہے دنیا میں اور ان کیلئے آخرت میں بڑا عذاب ہے‘‘

سود اور رشوت کو قرآن کریم میں ایک دوسرے سے جڑا بیان کیا گیا ہے۔ لیکن فقہ اسلامی میں چوری، ڈاکو اور بغاوت کے بارے میں تو تفصیل دی گئی کیونکہ ان کی سزائیں مقرر تھیں لیکن بدعنوانی کی سزائیں قاضی اور حکمران کی صوابدید پر چھوڑ دی گئیں۔ فوجداری اور دیوانی دونوں جرائم پر تفصیلی فقہی کتابیں دور جدید میں لکھی گئیں۔

رشوت کے جواز اور عدم جواز کی یہ تفصیلات اسی طرح کی مجبوریوں اور شرائط کا تذکرہ لگتی ہیں جن کا ہم نے فارن برائبری کے حوالے سے اوپر ذکر کیا۔ حتیٰ کی براہ راست اور کسی دوسرے کے ذریعے ادائیگی جسے ڈپٹی کو برائبری دینا کہا گیا وہ فقہ میں سفارش، مدد اور معاوضہ کے نام سے مذکور ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ فتاویٰ حالات و زمانہ سے سمجھوتے پر مبنی تھے۔ تاکہ امتِ مسلمہ کو ٹوٹ پھوٹ اور انتشار سے بچایا جا سکے۔ اسی لئی جابر اور فاسق حکمران کو بھی قبول کیا گیا حتیٰ کہ اگر کوئی طاقت کے بل بوتے پر اقتدار پر قبضہ کرلے تو اسے بھی امیر المومنین مان لیا گیا۔ اس تفریق کو کبھی دین اور دنیا اور کبھی شریعت اور سیاست کا نام دیا گیا۔ اس سے سیاسی وحدت تو شاید بچی رہی لیکن نہ تو صحیح معنوں میں سیاسی ادارے مستحکم ہوے اور نہ اقتصادی استحکام حاصل رہا۔

جرائم کے بارے میں حدود اور تعزیر کا فرق رکھتے ہوئے فقہ اسلامی نے صرف ان جرائم کو تفصیل سے بیان کیا جن کی سزائیں قرآان اور حدیث میں مقرر اور متعین تھیں۔ باقی جرائم کو تعزیر کے نام سے قاضی اور حکمران کی صوابدید پر چھوڑ دیا۔ عبدالقادر عودہ نے اپنی کتاب التشریع الجنائی الاسلامی میں اسلامی فقہ پر تبصرہ کرتے ہوے لکھا کہ تعزیری جرائم کے بارے میں فقہا نے زیادہ تفصیل نہیں دی۔ اکثر میں قانون سازی اولی الامرپر چھوڑ دی۔

معاصر فقیہ وہبہ الزحیلی (م 2010) لکھتے ہیں کہ رشوت کی سزا مقرر نہیں، تعزیری ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ زحیلی لکھتے ہیں کہ سچی بات تو یہ ہے کہ جدید اقتصادی نظریات پر فقہائے اسلام کے ہاں مفصل بحث نہیں ملتی۔ صرف مبادیات اور عمومی اصول پر مواد ملتا ہے۔

اسلام نے جائز طریقے سے سرمایہ کاری اور سرمایہ میں اضافہ کو جائز قرار دیا۔ سرمایہ کاری میں ظلم کی ساری شکلوں یعنی سود اور گردشی قرضے، لاٹری، ملاوٹ، دھوکہ، ذخیرہ اندازی خیانت، ناپ تول میں کمی، عیب چھپانا، جھوٹ اور فریب سے مال بیچنا، خرید اور فروخت کے معاہدوں میں جھوٹے وعدے، دھوکے اور ظلم سے کسی کے مال پر قبضہ کرنا کو سختی سے منع کیا۔ رشوت اور ہدیہ، معاوضہ، عہدے سے ناجائز فائدے میں فرق بتایا اور کامیاب انتظامی نظم و نسق کا اصول بتایا۔ تجارت اور سود کے مابین تمیز واضح کرکے صاف ظلم سے پاک معاملات کا سبق دیا۔سود اور صدقات اور اللہ کی راہ میں خرچ کے مابین فرق کو واضح کرتے ہوے ترقی یافتہ معاشرت کا ضابطہ بتایا کہ اصل ترقی معاشرے کی فلاح و بہبود میں ہے۔ معاشرے کی بہبود اور ترقی صدقات اور ٹیکس کے فلاحی نظام میں ہے۔ لالچ اور منافع پرستی کے تجارتی اور سودی نظام میں نہیں۔اسلام نے آزاد اور شفاف اقتصادیات کے اصول کو مفید قرار دیا لیکن اس کے لئے حدود مقرر کیں۔ مروجہ تجارت ذخیرہ اندوزی اور پیشگی سودوں سے منڈی کی آزادی میں دخل اندازی کرتی ہے۔ بین الاقوامی تجارتی کمپنیاں اپنے مفادات کے لئے داخلی اور خارجی سیاست پر اثر انداز ہوتی رہیں۔ مراعات اور قانون سازی کے لئے دباؤ ڈالتی رہیں۔آج کی صورت حال میں جب اقتصادی قوانین کی عالمگیر تشکیل نو کی ضرورت ہے تاکہ عالمگیر مالی بد عنوانی کی تباہیوں کی روک تھام ہو سکے،اسلامی تعلیمات میں تو رہنمائی ملتی دکھائی دیتی ہے لیکن فقہ اسلامی میں وہ وسعت نظر نہیں آتی۔

پاناما دستاویزات میں جس پیمانے پرعالمگیر مالی بدعنوانی کا ذکر ہے اس کے انسداد کے لئے معمول کی قانون سازی کافی نہیں۔ اس کے تانے بانے بہت بڑی حد تک ملکی اور عالمی دہشت گردی سے جڑے ہیں۔ مالی بد عنوانی کی کارروائیاں بھی اتنی ہی ہولناک اور بھیانک ہیں جتنی دہشت گردی کی۔ ان دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ عالمی دہشت گردی کے لئے جتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ درکار ہے وہ اسی قسم کی عالمگیر مالی بد عنوانی سے مہیا ہو سکتا ہے۔ مالی بد عنوانی کا زمانہ بھی وہی ہے جوعالمی دہشت گردی کا ہے۔ مالی بد عنوانی یقیناً پہلے سے موجود تھی لیکن بیسویں صدی کی آخری دہائی میں اس کا آغاز اور اکیسویں صدی میں عروج عالمی دہشت گردی کے آغاز اور عروج سے جڑا لگتا ہے۔ عالمی دہشت گردی کی تباہ کاریوں کے بارے میں تو اب کسی کو کوئی شک نہیں۔ پوری دنیا دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ لیکن عالمگیر بد عنوانیوں کی ہولناکی کا ابھی صحیح ادراک نہیں ہوا کہ یہ عالمی دہشت گردی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس کے انسداد کے لئے عالمگیر مالی بدعنوانی کا خاتمہ لازمی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کا مطالعہ، تجزیہ اوراس کے بارے میں قانون سازی بھی اسی پیمانے اور انہی ہنگامی بنیادوں پر کی جائے جیسے دہشت گردی کے لئے کی جا رہی ہے۔