working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 پاکستان میں دینی مدارس اور حالیہ تناظر

از طرف مدیر

بدلتا تناظر اور بیانیہ

محمد عامر رانا

کوئی وجہ تو ہے کہ موجودہ بیانئے ،طرز فکر اور طریقہ اظہار سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہے ۔ریاست ، سیاستدان ، عسکری ادارے ،مذہبی علماء ،لبرل اور سیکولر طبقہ ہائے زندگی یا مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد ،سب ہی شاکی نظر آتے ہیں کہ کوئی چیز ہے جو ہمارے رویوں اور سوچنے کے انداز کو اندر ہی اندر گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔یہ دیمک ، یہ گھٹن کیا ہے ؟ اور اس کا علاج کیا ہے ؟اس پر متعدد آراء موجود ہیں اور ظاہر ہے اس کا تعلق ہر فرد اور گروپ کے اپنے سماجی ، سیاسی ، ثقافتی اور مذہبی پس منظر سے ہے اور اسی تناظر میں وہ حل پیش کرتے ہیں ۔

اکثر یہ آراء اور حل آپس میں متصادم لگتے ہیں ۔اس کی وجہ مختلف طبقات کو آپس میں مکالمے کی کمی اور اپنے اپنے مؤقف پر اصرار ہے ۔پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز نے قومی بیانئے کی تشکیلِ نو کی اہم ملّی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ان مختلف طبقات سے مشاورت کا ایک سلسلہ کیا اور اس کے نتیجے میں جو حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے وہ اس شمارے میں شامل ہیں ۔

2016ء میں پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز نے پاکستان بھر کی جامعات کے شعبہ اسلامیات اور عربی کے اساتذہ کے لئے تربیتی نشستوں کا اہتمام کیااور ان نشستوں میں بھی قومی بیانئے اور ان کی تشکیلِ نو جیسے فکری موضوعات زیرِ بحث رہے ۔اس سلسلے میں ان نشستوں کی کارروائی موضوع کو سمجھنے میں معاون ہو گی جو اس شمارے کا حصہ ہے ۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر خالد مسعود کا تحقیقی مقالہ بدعنوانی جیسے اہم مسئلے کو بین الاقوامی تناظر میں سمجھنے میں مدد دیتا ہے ۔ ڈاکٹر خالدہ غوث کے ادارے سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کی رپورٹ کا ترجمہ اور تلخیص بھی خاصے کی چیز ہے جو بدلتے شہری ڈھانچے اور معاشرت پر اس کے اثرات کو سمجھنے میں مدد دینگے ۔

تجزیات کے اس شمارے میں دیگر کئی اہم رپورٹس بھی شامل ہیں ۔یقیناًیہ قارئین کے ذوقِ مطالعہ پر پوری اتریں گی ۔

قارئینِ تجزیات کو گزشتہ عید مبارک