working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
05 January 2015
تاریخ اشاعت
 

از طرف مدیر

خصوصی گوشہ ۔۔مدارس کا مسئلہ

آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دینی مدارس کا مسئلہ

ترتیب:سجاداظہر

16 دسمبر 2014ء ۔ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے حملے میں 145 افراد جن میں 132 طلباء بھی شامل تھے کو شہید کر دیا گیا۔ 24دسمبر2014ء وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے سیاسی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد قوم سے خطاب میں 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان کا اعلان کیا،جس کا دسواں نکتہ تھا کہ دینی مدارس کو رجسٹر کر کے انھیں ضابطوں میں لایا جائے گا۔........

مدارس کا مسئلہ، حل کے لئے سیاسی عزم ناپید ہے

ڈاکٹر راغب حسین نعیمی

ڈاکٹر راغب نعیمی جامعہ نعیمیہ لاہور کے پرنسپل ہیں ۔1980ء میں اس مدرسے کوڈاکٹر سرفراز نعیمی کے والد اور جید عالمِ دین ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے قائم کیا تھاجنھیں 12جون 2009ء کو ایک خود کش حملے میں شہید کر دیا گیا ۔ ڈاکٹر راغب نعیمی نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامی معیشت میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے رکھی ہے اور ایک کتاب ’’امن میرا حق‘‘ کے مصنف ہیں ۔ ان کا یہ مضمون اس حوالے سے اہم ہے کہ انھوں نے مدارس کے نظام میں خامیوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے حل کی تجاویز بھی دی ہیں۔

 

دینی مدارس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر مسئلہ کیا ہے ؟

محمد یٰسین ظفر

محمد یٰسین ظفر وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے ناضم اعلٰی اور نامور عالم دین ہیں ۔انھوں نے ا س مضمون میں مدارس کے اوپر لگائے جانے والے الزامات کا دفاع کیا ہے ، دینی مدارس کی رجسٹریشن ، انتہا پسندی میں مدارس کے کردار اور حکومتی کارروائیوں کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیا ہے ۔وفاق المدارس السلفیہ کے رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 1400ہے اور ان میں 40ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں ۔

سماج کی سیاسی تشکیل میں دینی مدارس کا کردار

خورشید ندیم

خورشید ندیم کا شمار افکارِ تازہ کے نمایاں قافلہ سالاروں میں ہوتا ہے۔وہ نامور کالم نگار اور پاکستان ٹیلی ویژن سے بطور اینکروابستہ ہیں۔ انھوں نے مدارس کے اس کردار پر روشنی ڈالی ہے جو1980ء کے بعد سامنے آیا اور پھر اس نے پورے منظر نامے کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لیاہماری سیاست اور حال آج بھی اسی کے اثرات سے نبرد آزما ہے۔

فرقہ واریت اور مدارس

ثاقب اکبر

ثاقب اکبر ناموعالم دین ،محقق اور البصیرہ ٹرسٹ اسلام آباد کے چیئرمین ہیں ۔اسلام ، تاریخ ، تفسیر اور سیرت پر آپ نے کئی کتب مرتب کر رکھی ہیں ۔متعدد علمی و ادبی تنظیموں سے وابستہ ہیں ۔ ان کا یہ مضمون ان روایات کا جائزہ لیتا ہے جن کے تحت مدارس کو ہر فرقہ اپنے اپنے مسلک کے ایسے پراپیگنڈے کے لئے استعمال کر رہا ہے جس نے پاکستان میں سماجی ہم آہنگی کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔

مدارس کا مسئلہ نیشنل ایکشن پلان اور موجودہ تناظر

صاحبزدہ محمد امانت رسول

ہمارا سماج، مذہب اور رسوم کی بنیاد پر تفریقات کا شکار ہے یہ گھاؤ اتنا گہرا ہے کہ اس کا علاج اتنا آسان نہیں ہے جتنا ہمیں پڑھایا اور بتایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے، اس زخم کو گہرا کرنے میں ’’اہل مذہب‘‘ نے بھی ایک بھیانک کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مذہب کے نمائندہ مرکز، مسجد اور مدرسہ ہیں اور یہ دونوں فرقوں کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔ تخلیق پاکستان کے ساتھ ہی فرقہ واریت کا زہر .....

دینی مدارس کا مروجہ نصاب ۔ ایک مختصر جائزہ

محمد عمار خان ناصر

دینی مدارس کے مروجہ نصاب تعلیم کی بنیاد تاریخی طور پر اس نصاب پر رکھی گئی تھی جسے کوئی ڈھائی صدیاں قبل برصغیر میں ملا نظام الدین سہالوی نے اس وقت کے رائج علوم وفنون کی تدریس کے لیے مرتب کیا تھا۔ بدلتی ہوئی دینی وتعلیمی ضروریات کے تناظر میں بیسویں صدی کے آغاز میں دینی روایت سے وابستہ بڑے اہل علم نے اس نصاب کی اصلاح اور اس میں ترمیم واضافہ کے ضرورت کی طرف متوجہ کرنا شروع کیا تو عمومی سطح پر اس تجویز کی مخالفت ومزاحمت کی آوازیں زیادہ سنائی دیتی رہیں اور سخت یا نرم لہجوں میں اس پر گوناگوں تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ 

مشرقِ وسطیٰ سے مشرقِ بعید تک، مدارس پر ایک نظر

سجاد اظہر

اسلام میں تعلیم و تربیّت کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ تبلیغِ اسلام کی تاریخ ہے۔تعلیم و تربیّت کا جوسلسلہ صدرِ اسلام میں مساجد کے ذریعے انجام پاتاتھا وقت کے ساتھ ساتھ مستقل طور پر دینی مدارس کی صورت میں ڈھل گیااور یوں اسلامی دنیا میں دینی مدارس کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔اسلامی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو مذہبی تعلیم کے چار بڑے ادوار نظر آتے ہیں۔پہلا دور وہ ہے جو نبی کریم ﷺ کے ظہور سے شروع ہو کر بنو امیہ کے عہد کے اختتام تک محیط ہے۔اس دور میں مذہبی تعلیم کے نمایاں خدوخال اس طرح سے تھے :

کوئی بنک مدرسے کا اکاؤنٹ ہی نہیں کھولتا ،باہر سے فنڈنگ کیسے آئے گی
علامہ نیاز حسین نقوی ، نائب صدر وفاق المدارس شیعہ سے انٹرویو

پاکستان میں شیعہ مدارس کی تعداد پانچ چھ سو کے لگ بھگ ہے اور ان میں 20 ہزار کے قریب طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ نیاز حسین نقوی سے ہونے والی گفتگو ذیل میں درج کی جا رہی ہے۔

مدارس رجسٹریشن چاہتے ہیں مگر حکومت نہیں چاہتی
ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ قاری حنیف جالندھری سے انٹرویو

دوفاق المدارس العربیہ دیو بندی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے جس کے رجسٹر ڈ مدارس کی تعداد 20650ہے جن میں 2510482طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔مدارس کے مسئلے پر ان کا مؤقف سوالاً جواباً ذیل میں رقم کیا جا رہا ہے :

پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر عامر طاسین سے گفتگو
مدارس کو مراعات دیئے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں

پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈکا آرڈیننس2001ء میں منظور ہوا ‘ جس کا مقصد ماڈل دینی مدارس کے قیام کا عمل لانا تھا ‘ اورپا کستان کے دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کیلئے ان کی رجسٹریشن کا عمل بھی مکمل کرنا تھا ‘ 

حکومت رجسٹریشن کی آڑ میں مدارس کاکنٹرول چاہتی ہے
مولانا عبد المالک ، صدر رابطتہ المدارس الاسلامیہ پاکستان سے انٹرویو

رابطتہ المدارس الاسلامیہ پاکستان کا تعلق جماعت اسلامی پاکستان سے ہے اور اس کے ملک بھر میں ایک ہزار سے زیادہ مدارس ہیں جن میں پانچ لاکھ طلباء زیر تعلیم ہیں ان سے ہونے والی گفتگو سوالاً جواباً ذیل میں رقم کی جاتی ہے۔

 

عالم اسلام

مسلمانوں کا شناختی بحران :قومی دھارا بیانئے سے کیوں محروم ہو رہا ہے ؟

کیون میکہم

کیون میکہم ،Brigham Young University ہوائی امریکہ میں سیاسیات کے شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر کے فرائض ادا کر رہے ہیں۔اس سے قبل وہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں بھی پڑھا چکے ہیں۔کیون میکہم کو عرب ، ترکی اور اسلامی دنیا کی اسلامی تحریکوں پر دسترس حاصل ہے ، ان کا یہ مضمون بھی اسی سلسلے میں ایک اچھی کاوش ہے۔جس میں وہ ان وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیسے شدت پسندوں کے آنے سے مسلم سیاسی جماعتیں متاثر ہوئی ہیں۔

دہشت گرد تنظیم ’’بوکو حرام‘‘ اورنائیجیریا کی سماجی تاریخ

جانوس بزنیو

جانوس بزینو نائیجیریا کی فوج میں لیفٹیننٹ کرنل رہ چکے ہیں ،انھوں نے ڈاکٹریٹ بھی کر رکھی ہے اوروہ نائیجیریا میں قیام امن کی کوششوں میں شریک ہیں جبکہ ایڈم میئر امریکن یو نیورسٹی آف نائیجیریا میں پڑھاتے ہیں۔ان کا یہ مضمون Defence Against Terrorism Review 150 DATRمیں شائع ہوا ہے جس میں بوکوحرام کے آغاز سے لے کر اس کی موجودہ سرگرمیوں اور اہداف پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

فکر و نظر

اُردو زبان کے فوری نفاذ کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ:اطلاقات اور تحدیات

قبلہ ایاز

بلوائی مالک مکان کو بڑی مشکلوں سے گھسیٹ کر باہر لائے ۔کپڑے جھاڑ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بلوائیوں سے کہنے لگا ’’تم مجھے مار ڈالو لیکن خبر دار جو میرے روپے پیسے کو ہاتھ لگایا ‘‘۔ اگر کہیں مغرب میں یہ منظر ہوتا تو بندہ سب کچھ بلوائیوں کے حوالے کرتا اور کہتا بس میری جان بخشی کر دو ۔کیونکہ اس کے نزدیک جان زیادہ اہم ہے مال تو پھر مل جائے گا ۔مگر ہم اکثر اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ ڈکیتی میں مزاحمت کے دوران فلاں بندہ اپنی جان سے گیا ۔حالانکہ اگر وہ اپنا مال اسباب حوالے کر کے اپنی جان بچا لے تو یہ مہنگا سودا ہر گز نہیں ہے۔ مگر اس کا کیا کیجئے کہ یہاں ۔۔۔۔۔۔

 

اسلامی قانون میں ’سیاست‘ کا اصول

ڈاکٹر خالد مسعود

 اسلامی قانون پر حالیہ علمی تحقیقات میں’’سیاست‘‘ ( السیاسہ ) اور شریعت ( الشریعہ)(1)کو عام طور پر ایک دوسرے سے الگ اور باہم متضاد تصورات پر مبنی اصطلاحات بتایا جاتا ہے۔ مثلاً اس دوری کی وضاحت کرتے ہوے جوزف شاخٹ لکھتے ہیں کہ شریعت نظری ہے اور السیاسۃ عملی (2)۔اس طرز فکر سے مسلمانوں کی اکثریت بھی متفق نظر آتی ہے۔ شریعت کو نظری یا دینی اور سیاست کو عملی یا غیر دینی یا دنیاوی قوانین بیان کرتے ہوے ان کے درمیان جتنی دوری کا ذکر کیا جاتا ہے وہ حقیقت میں اتنی نہیں۔ اس طرز فکرنے جہاں اسلامی قانون کی تاریخ میں ابہام پیدا کردیا ہے اوریہ خیال عام ہو گیا ہے کہ اسلامی قانون کے تصور اور عمل میں بہت دوری پائی جاتی ہے وہاں مقصد شریعت سے توجہ بھی ہٹ گئی ہے۔

قارئین کی رائے

فرقہ واریت کا پھیلاؤ اور سد باب: کیوں اور کیسے؟

محمد حسین

 پاکستان میں سلامتی امور پر نظر رکھنے والے ایک غیر سرکاری تھینک ٹینک’’ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز‘‘ نے سکیورٹی اعداد و شمار پر مبنی سالانہ رپورٹ 2015شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان میں ہونے والے بم حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی اعداد و شمار اور ان کے نتیجے میں ہونے والی اموات اور زخمیوں کی تعداد کو سامنے لایا گیا ہے۔2015کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2014 کے مقابلے میں گزشتہ سال یعنی2015 میں اگرچہ فرقہ وارانہ حملے کم ہوئے تاہم فرقہ وارانہ قتل و غارت میں مرنے والے افراد کی تعداد2014کی نسبت زیادہ ہے۔اس رپورٹ کے مطابق2015میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں تقریباً تین سو اافراد مارے گئے، جن میں سب سے زیادہ نشانہ بننے والے207 افراد کا تعلق شیعہ (اثنا عشری)، 45 افراد کا شیعہ اسماعیلی اور بوہری