working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 سیاسی عمل کو وسعت دیجیے

قومی منظر نامہ

آن لائن سرگرمیاں اور عسکریت پسندی

نگہت داد

عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے میں جو سب سے بڑا چیلنج ہے وہ یہ ہے کہ یہ انٹرنیت سے منسلک ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی مہارت سے کر رہے ہیں ۔اطلاعات کے ذرائع کی بے پناہ ترقی اپنے ساتھ یہ جزو بھی لائی ہے کہ کچھ لوگ اس کو اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے اس کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے کے سدباب کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے اور کیا کہیں ایسا تو نہیں کی اس کی آڑ میں حکومت آزاد�ئ اظہار رائے کو بھی مقید کرنا چاہتی ہے ؟ زیر نظر مضمون میں اسی بات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔(مدیر)

یہ کہنا اب اچنبھے کی بات نہیں کہ عسکریت پسند اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے انٹر نیٹ کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں ۔جس سے ان کا پیغام چہار دانگِ عالم میں پھیل جاتا ہے جو کوئی اس سے مستفید ہونا چاہے اس کو خوش آمدید کہا جاتا ہے ۔جہادی گروپ ایسی ویب سائٹس چلا رہے ہیں جہاں پر وڈیوز اور میگزین مفت دستیاب ہیں جو ان کے نظریات کی ترجمانی کرتی ہیں ۔جس سے عسکریت پسندوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مل گیا ہے جہاں سے انھیں اپنے نظریات کے پر چار اور لوگوں کو اپنی جانب راغب کر کے انھیں ساتھ ملانے کے مواقع مل گئے ہیں ۔ جس کے دیکھتے ہوئے ہی غالباًحکومت نے نیشنل ایکشن پلان میں یہ نقطہ شامل کیا کہ سوشل میڈیا کو بھی کسی ضابطے کا پابند بنایا جائے گا۔انٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھ کر انسداد دہشت گردی میں مدد مل سکتی ہے ۔لیکن دہشت گردوں کو پکڑنے کے لئے کیا یہ موئثر طریقہ ہے ؟ اس سلسلے میں کئی ابہامات موجودہیں ۔پہلے تو یہ کہ پاکستان میں بھرتیوں کے لئے یہ لوگ کس طرح متحرک ہیں اس بارے میں حتمی طور پر کچھ اندازہ نہیں ۔مگر جیسے کہ ٹائمز سکوائر پر بم حملے کرنے کی کوشش کرنے والے نے یو ٹیوب پر ایک وڈیو دیکھی تھی جسے القائدہ کی یمن شاخ نے انٹر نیٹ پر ڈالاتھا ۔مگر وہ امریکہ تھا پاکستان نہیں ۔پاکستان میں عسکریت پسندی زیادہ تر ان علاقوں میں ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے جیسا کہ فاٹا اور جنوبی پنجاب وغیرہ ۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ شہری علاقوں کے دہشت گرد انٹرنیٹ کہا سہارا نہیں لیتے ۔وہ اس سے بھر پور مدد لیتے ہیں ۔لیکن ہمارے حکام اس کے تدارک کے لئے جو کچھ سوچتے ہیں دہشت گرد اس سے بھی دو قدم آگے کی سوچتے ہیں ۔عسکریت پسند عوامی فورمز پر ایک دوسروں سے رابطے کے لئے اشاروں کی زبان یا کوڈ ورڈز بھی استعمال کرتے ہیں ۔

گھیراؤ

نیشنل ایکشن پلان کے اعلان کے بعد اس مسئلے کا جو حل تجویز کیا گیا وہ انٹرنیٹ کے ضابطوں سے شناسائی سے مبرا معلوم ہوتا ہے ۔خبر آئی کہ حکومت عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے خلاف سائبر کرائم بل لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔جس کے ذریعے وہ سرگرمیاں بھی محدود ہو سکتی ہیں جو دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتیں ۔دور حاضر کی دہشت گردی جس کا آج کل پاکستان کو سامنا ہے وہ ایک عارضی مظہر ہے ۔جس کا آغاز 9/11 کے بعد ہوا ۔اس کے بعد سے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ گھر میں موجود دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جائے ۔مگر اس سلسلے میں جن ناکامیوں کا ہمیں سامنا کرنا پڑا اس کی وجہ معاملے کی درست جانکاری نہ ہونا اور ہماری بوکھلاہٹ بھی ہے ۔ جب ریاست عسکریت پسندوں کا قلع قمع کرنے کا فیصلہ کرے گی جیسا کہ کہا جا رہا ہے تو پھر دہشت گردوں کو کہیں پناہ نہیں ملے گی ۔اس کے لئے ایک ایسے رد عمل کی ضرورت ہے جو مسلسل جاری رہے۔مثال کے طور پر فوجی عدالتوں پر سیاسی جماعتیں اس وقت متفق ہوئیں جب انھیںیہ یقین دہانی کرائی گئی کہ یہ صرف دو سال کے دورانئے کے لئے ہوں گی ۔لیکن سائبر کرائم بل اگر ایک مرتبہ بن گیا تو پھر یہ ہمیشہ رہے گا۔ بل کو سفاکانہ کہا جا رہا ہے ۔جس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں جو اس کے شکنجے میں پھنس گیا اس کا نکلنا مشکل ہو گا ۔کئی سال قید اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے ۔لوگوں پر صرف شک کی بنا پر ہاتھ ڈالا جا سکے گا ۔ان کے آلات ضبط ہو سکیں گے ۔جیسا کہ کسی پر پاکستان مخالفت کا الزام لگا کر اسے الجھایا جا سکتا ہے ۔یہ مجوزہ قانون کسی جرم کی زبانی حمایت پر بھی حرکت میں آجائے گا ۔

کوئی بھی ملک اپنی قومی سلامتی پر سمجھوتا نہیں کر سکتا ۔لیکن ایک ایسا قانون جو سیکورٹی کے نام پر انسانی حقوق پر ہمیشہ کے لئے قدغن لگا دے کو کوئی ایسا حل قرار نہیں دیا جا سکتا جو قابلِ تحسین ہو ۔اس قانون کے تحت ہر وہ بندہ دہشت گرد ہے جو آن لائن جرم کرے گا ۔حالانکہ ان جرائم کا تعلق ہو سکتا ہے کہ دہشت گردی سے نہ ہو ۔اس وقت یہ بل قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے زیر غور ہے ۔ایک ورکنگ گروپ بھی بنا دیا گیا ہے جو اس کی نوک پلک سنوار رہا ہے لیکن اس سارے عمل کو خفیہ رکھا جا رہا ہے ۔جو کچھ تھوڑا بہت معلوم ہوا ہے اس کا تعلق بھی اس کمیٹی کے ممبران کے ناموں ،اجلاسوں کی کارروائی اور کچھ دوسری معلومات سے ہے ۔یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس بل پر کام کافی عرصہ پہلے شروع ہو جانا چاہئے تھا اور اس کے پیش نظر وسیع تناظر ہو نا چاہئے تھا جیسا کہ الیکٹرانک ڈکیتیاں جس کے ذریعے لوگ دوسروں کے اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز کی معلومات چوری کر لیتے ہیں ۔وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمٰن نے یہ تسلیم کیا ہے کہ بل کی وجہ دہشت گردی کا منڈلاتا ہوا خطرہ ہے ۔انھوں نے ایک موقع پر کہا کہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیکورٹی ایجنسیاں دو ہی محرک ہیں جو اس بل کا نفاذ چاہتی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سول سوسائٹی بھی ؟ تو انھوں نے اس بات کی نفی کی ۔ لیکن ایک بات جس کا وہ یا ان کی پارٹی ادراک نہیں کر رہی وہ یہ ہے کہ کیا ایسے میں وہ سیاسی جماعتیں اس کا نفاذ چاہیں گی جب وہ یا ان کے ساتھی بھی سائبر کرائم بل کی زد میں آجائیں گے ۔کیونکہ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ یا منافرانہ تقریریں عام سی بات ہو چکی ہے ۔اور پھر یہ میلان بھی رواج پا چکا ہے کہ جس طرح بھی ہو سکتا ہے مخالفین کو ننگا کرو ، انھیں برا بھلا کہویا انھیں خوف زدہ کرو۔ان کو لگام ڈالنے کے لئے انسانی حقوق کے رضاکاروں کی جانب سے بھی دباؤ ہے ۔مگر یہ منافرانہ تقریریں دائیں بازو کے ان لوگوں کی جانب سے بھی عام ہیں جو اپنے مخالفین کی حب الوطنی یا ان کے ایمان تک کو اپنے جوش خطابت کی نظر کر دیتے ہیں ۔یہ لوگ ان لوگوں کے لئے بھی مشکل کھڑی کر رہے ہیں جو معاشرے میں تکثیریت کی آوازہیں ۔حکومت پاکستان کے مجوزہ فارمولے سے تو یہ لگتا ہے کہ یہ آوازیں مزید دبا دی جائیں گی جس سے ان لوگوں کو ضرور تقویت ملے گی جو ہر قیمت پر مخالف آراء کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

باوجود اس کے کہ ایسے قوانین پہلے سے ہی موجود ہیں جن کے ذریعے حکومت انٹرنیٹ پر دہشت گردی کو ہوا دینے والوں پر کڑی نظر رکھ سکتی ہے ۔جن میں سے ایک قانون اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997ء بھی ہے جو دہشت گردی سے متعلق ہے 1887ء کے ٹیلی گراف ایکٹ جس کے سیکشن 509-PPC کے تحت عورتوں کے خلاف جرائم کی ممانعت کی گئی ہے ۔اسی طرح پاکستان پروٹیکشن ایکٹ ہے جس کا دورانیہ دو سال ہے ۔اس کی چار شقیں ایسی ہیں جو اس زمرے میں موئثر ہیں مگر پھر بھی دہشت گر وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں ۔کیونکہ وہ انٹرنیٹ اور اس سے منسلک ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے مزموم مقاصد پورا کرنا جانتے ہیں ۔ اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ وہ حکومت کی پہنچ سے باہر رہ کر کام کر رہے ہیں ۔ لیکن جو بات تشویشناک ہے وہ یہ کہ جب دہشت گردی کا عفریت قابو میں آجائے گا تو اس قانون کے نشانے پر عام شہری ہوں گے ۔ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو اس نیشنل ایکشن پلان کے اس نقطے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے گی ۔مگر نو ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کمیٹی نے کتنے اجلاس منعقد کئے اور ان میں کیا کیا فیصلے ہوئے ۔

واضح حکمت عملی

حکومت کے پاس سائبر کرائم سے نمٹنے کے لئے محدود تیکنیکی صلاحیت ہے ۔کیونکہ وہ اس مسئلے کو ابھی صحیح طریقے سے جان ہی نہیں سکی ۔عمومی طور پر جب ڈیٹا اکھٹا کرنے کی بات ہوتی ہے تو ایجنسیوں کو فیئر ٹرائیل ایکٹ کے تحت اس کی اجازت لینا ہوتی ہے ۔ تاہم حکومت کی اس میں حکمت عملی دو حوالوں پر مشتمل ہے یعنی مانیٹرنگ اور سینسر شپ۔حکومت پہلے ہی پاکستان مخالف ویب سایٹس پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ان میں سے کئی کو بلاک بھی کر چکی ہے ۔پاکستان میں انٹر نیٹ کی نگرانی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کرتی ہے ۔پرائیویسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق جون 2013ء تک پاکستان کے خفیہ اداروں نے نگرانی کا ایک وسیع نظام بنا لیا تھا ۔جس میں وہ انٹر نیٹ صارفین پر کڑی نظر رکھ سکتے تھے ۔یہ سسٹم امریکن نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے ماڈل پر بنایا گیا تھا ۔حکومت نے اس مقصد کے لئے ایسے سافٹ ویئر خریدے جن کی مالیت کئی ملین ڈالر میں تھی ۔ مثال کے طور پر Fin Fisher پر پانچ کروڑ ستر لاکھ روپے لاگت آئی ۔مزید ستم ظریفی یہ کہ اس سافٹ ویئرکے ذریعے لوگوں کی ایک قلیل تعداد پر نظر رکھی گئی اور اس پر اور کئی ملین ڈالر کا خرچہ آیا ۔یہ رپورٹس بھی سننے کو ملیں کہ پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں کے ایما پر پاکستانی کی آئی ٹی کمپنیوں نے بدنام زمانہ عالمی فرموں سے بھی رابطے کئے جن میں ہیکنگ ٹیمیں اور

نگرانی کرنے والے خصوصی آلات بھی شامل تھے جن کی مالیت کئی ملین ڈالر ہے ۔اس سلسلے میں پرائیویسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ چشم کشا ہے ۔اسی طرح حکومت نے نگرانی کرنے والے ایک بڑے سسٹم کی خریداری میں بھی دلچسپی لینا شروع کر دی ہے اور اس کے لئے ٹینڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے ۔کسی حد تک موئثر طریقے سے حکومت نے وہ ویب سائٹس بھی بلاک کر دی ہیں جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔جبکہ دوسری جانب دہشت گردی کی کئی ویب سائٹس تک رسائی عام ہے ۔جو حکومت کے انٹر نیٹ پر نگرانی کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتی ہے ۔جبکہ حکومت پہلے ہی کئی بلوچ ویب سائٹس پر ہاتھ ڈال چکی ہے ۔لیکن ایسی ویب سائٹس جو نوجوانوں کو مذہبی بنیادوں پر کھینچتی ہیں انھیں کھلی چھٹی دے دی گئی ہے ۔

آئین کے آرٹیکل 19کے باوجود کئی ایسے ضابطے ہیں جو انٹر نیٹ صارفین پر شکنجہ کس سکتے ہیں جن میں اینٹی ٹیررزم ایکٹ ، پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس اور مذہبی شعائر کی توہین کے قوانین شامل ہیں۔ یہ قوانین خفیہ اداروں کو اختیارات دیتے ہیں کہ وہ جو چاہیں کریں۔اینٹی ٹیررا زم ایکٹ پولیس کو اس سلسلے میں اختیارات دیتا ہے ۔مجوزہ سائبر بل ایجنسیوں کو اور پاکستان پروٹیکشن ایکٹ فوج کو بااختیار بناتا ہے۔ وہ جیسے اختیارات چاہتے تھے انھیں مل گئے ہیں اور اس پر ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ نئے قوانین کے تحت نگرانی کا نظام وسیع اور بے لگام گھوڑے کی طرح ہو چکا ہے حالانکہ فیئر ٹرائیل ایکٹ 2013ء میں کہا گیا تھا کہ کسی کی نگرانی سے پہلے ہائی کورٹ سے اس بات کی اجازت لی جائے گی ۔مگر اب یہ سب سوالیہ نشان بن چکا ہے کیونکہ ایجنسیاں اس کی دھجیاں اڑا رہی ہیں ۔انھوں نے اس کو اپنا صوابدیدی اختیار سمجھ لیا ہے اور وہ جو ڈیٹا اکھٹا کرتے ہیں اس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔مجوزہ بل کے تحت ڈیٹا پر قبضہ کیا جا سکتا ہے اور اسے ایک سال تک حکومت اپنے پاس رکھ سکتی ہے ۔جبکہ انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والے اداروں سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اسے لمبے عرصے تک اپنے پاس رکھیں ۔اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ حکومت تحویل میں لئے گئے ڈیٹا کی حفاظت یقینی نہیں بنا سکتی اور یہ ڈیٹا سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے لیک کیا جا سکتا ہے ۔ہم اس میں تبدیلی کے خواہاں ہیں یا ان عوامل کو ختم کر دیا جائے جس کے تحت سروس فراہم کرنے والے ادارے ڈیٹا پر دسترس حاصل کر سکتے ہیں ۔کیونکہ یہ بہت ہی ناموزوں ہو گا اور اس طرح ہر ایک کی پرائیویسی داؤ پر لگ جائے گی ۔تاہم اگر عدالت ان سے درخواست کرے تو وہ کسی بھی صارف کا وہ ڈیٹا جو ان کے پاس ہے وہ حکام کو دے سکتے ہیں ۔ ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کے لئے بھر پور قانون سازی کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں ہوا ۔ قانون میں ایسا کوئی طریقہ نہیں کہ جو لوگ اس کا نشانہ بنے ہیں ان کی شنوائی ہو سکے ۔ ایک پرائیویسی کمیشن بننا چاہئے جو واچ ڈاگ کی حیثیت سے کام کرے ۔وہ نہ صرف ایک عام آدمی کی شکایات کا جائزہ لے بلکہ اس سلسلے میں ہونے والی قانون سازی پر بھی نظر رکھے جوپرائیویسی کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں ۔

مسلم دنیا بمقابلہ مغرب ۔تعداد اہم ہے یا مہارت ؟

سجاد اظہر

دنیا میں اہمیت تعداد کی ہے یا استعداد کی ہے ؟ اس حوالے سے ہم الجھن کا شکار ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہماری تعداد تو ہر سال لاکھوں میں بڑھ رہی ہے مگر ہماری حالت ابتر سے ابتر ہو رہی ہے ۔ ہر آنے والا اپنا رزق اور مقدر لاتا ہے مگر اس کے کم یا زیادہ ہونے کا انحصار اس ماحول پر بھی ہوتا ہے جس میں وہ جنم لیتا ہے ۔آج عالم اسلام کے پاس وسائل بھی ہیں اور آبادی بھی بہت ہے مگر پھر بھی وہ زبوں حالی میں ہے ۔اس کی وجہ کیا ہے ؟ زیر نظر مضمون میں اسی نکتے کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے ۔(مدیر)

منٹو کی کتاب سیاہ حاشیے میں ایک افسانچہ ’’خبر دار ‘‘ ہے

بلوائی مالک مکان کو بڑی مشکلوں سے گھسیٹ کر باہر لائے ۔کپڑے جھاڑ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بلوائیوں سے کہنے لگا ’’تم مجھے مار ڈالو لیکن خبر دار جو میرے روپے پیسے کو ہاتھ لگایا ‘‘۔

اگر کہیں مغرب میں یہ منظر ہوتا تو بندہ سب کچھ بلوائیوں کے حوالے کرتا اور کہتا بس میری جان بخشی کر دو ۔کیونکہ اس کے نزدیک جان زیادہ اہم ہے مال تو پھر مل جائے گا ۔مگر ہم اکثر اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ ڈکیتی میں مزاحمت کے دوران فلاں بندہ اپنی جان سے گیا ۔حالانکہ اگر وہ اپنا مال اسباب حوالے کر کے اپنی جان بچا لے تو یہ مہنگا سودا ہر گز نہیں ہے۔ مگر اس کا کیا کیجئے کہ یہاں جان کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے ۔گولی مہنگی ہے اور جان سستی ،کہتے ہیں کہ جہاں گرانی ہوتی ہے وہاں زندگی سب سے ارزاں جنس بن جاتی ہے ۔گرانی کہاں ہوتی ہے جہاں نوکریاں کم ہوں اور بے روزگار زیادہ ،جہاں گھر کم ہوں اور مکین بہت ، جہاں ہسپتالیں اور سکول بھی ضرورت سے بہت زیادہ کم ہوں۔ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ یہاں کسی نہ کسی چیز کا بحران ہی رہتا ہے ۔کبھی آلو کا کبھی پیاز کا ،کبھی چینی کا کبھی پیٹرول کا ،اگرچہ اس میں بدانتظامی کاعمل دخل بھی ہے مگر مسئلے کی اصل جڑ آبادی ہے ۔ہماری آبادی جوقیام پاکستان کے وقت تقریباً ساڑھے تین کروڑ تھی اب بڑھ کر تقریباً 20کروڑہو چکی ہے ۔ہمارے وسائل کم ہیں اور آبادی زیادہ ہے۔بے ہنگم شہر ، مفلوک الحال دیہات ، گاڑیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسی ہوئی سواریاں ، ہسپتالوں میں جائیں تو لگتا ہے مچھلی منڈی میں آگئے ہوں ۔ڈاکٹر ہیں نہ دوائیاں، پہلے سکولوں میں داخلہ اور پھر نوکری کے لئے سفارش اور رشوت ، سرکاری دفاتر میں عوام کا جم غفیر ،کوئی کام پرچی کے بغیر نہیں ہوتا ۔انصاف نا پید ظلم کا بازار گرم ،ان سب کا تعلق کسی نہ کسی طور پر آبادی سے بھی بنتا ہے ۔مگر ہم لوگ آبادی پر توجہ دینے کی بجائے اس خام خیالی میں لگے ہوئے ہیں کہ شاید تعداد میں زیادہ ہونے کا تعلق طاقت سے بھی ہے ۔اس میں ہمارے ہاں ایک عام انسان سے لے کر امت مسلمہ کے بڑے بڑے رہنمابھی شامل ہیں ۔مثلاً ایک بار انڈونیشیا کے صدر سہارتو پاکستان آئے تو ان سے پوچھ گیا کہ آپ کا ملک آبادی کے لحاظ سے اسلامی دنیا میں سب سے بڑا ہے کیاآپ آبادی کنٹرول کا بھی کوئی پروگرام چلا رہے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ دنیا میں طاقت کے دو ہی اظہار ہیں ballot or bullet ،دونوں میں آبادی کا ہی اہم کردار ہے ۔اسی طرح کا ایک قول یاسر عرفات سے بھی منسوب ہے انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ ’’ہم نے اسرائیل کو ختم کر کے خالصتاً ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا منصوبہ بنایا ہے ۔اس کے لئے ہم عملی طور پر جنگ کریں گے اور آبادی بڑھائیں گے تاکہ ہم یروشلم سمیت ہر چیز کا کنٹرول سنبھال لیں ‘‘۔ یہی وہ ویژن ہے جو آج امت مسلمہ لے کر چل رہی ہے ۔جس روز اخباروں میں یہ خبر آتی ہے کہ 2070تک اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہو گا اس روز ہر طرف تبصرے ہوتے ہیں کہ دیکھیں اسلام دنیا میں کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔لیکن دنیا میں جو نظام چل رہا ہے اس میں طاقت اس کی ہے جس کے پاس سرمایہ ہے یا مہارتیں ہیں ،سرمایہ بھی دراصل مہارتوں سے ہی آتا ہے علم سے آتا ہے جو قومیں علم میں آگے ہیں وہی مرتبے میں بھی بر تر ہیں ۔گزشتہ سال اکسفام نے ورلڈ اکنامک فورم میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ دنیا کے ساڑے تین ارب افراد یعنی آدھی دنیا کے پاس جتنی دولت ہے اتنی ہی دولت دنیا کے 85امیر ترین افراد کی ہے ۔اور اس دولت کا اندازہ 110کھرب ڈالر لگایا گیا ہے ۔اس وقت دنیا میں عیسائی مذہب کے ماننے والوں کی تعداد دو ارب بیس کروڑ ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد ایک ارب ساٹھ کروڑ ہے ۔مگر مسلمانوں کی آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے 2070ء تک مسلمان سب سے زیادہ ہو ں گے ۔کیا تعداد میں زیادہ ہونا طاقت کی بھی علامت ہے ۔اس کے لئے ہمیں صرف یہودیوں کی آبادی دیکھنی ہو گی اور یہ دیکھنا ہو گا کہ تعداد میں انتہائی قلیل ہونے کے باوجود وہ طاقتور کیوں ہیں ۔دنیا میں اس وقت یہودیوں کی کل آبادی ایک کروڑ چالیس لاکھ ہے ۔گویا ایک سو مسلمانوں کے مقابلے پر ایک یہودی ہے ۔مگر پھر بھی ایک یہودی سو مسلمانوں پر بھاری ہے ۔گزشتہ 105سال کی نوبل انعام یافتگان کی فہرست نکال کے دیکھ لیں اس میں یہودیوں نے 180نوبل انعام حاصل کئے ۔جبکہ ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلمانوں نے صرف چار ۔دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان البرٹ آئن سٹائن یہودی تھا جسے ٹائم میگزین نے صدی کی شخصیت قرار دیا تھا ۔سگمنڈ فرائڈ ،کارل مارکس ،پال سموئیلسن اور ملٹن فرائیڈ بھی یہودی تھے ۔ بنجمن روبنجس نے ٹیکہ ایجاد کیا وہ بھی ایک یہودی تھا ۔پولیو ویکسین ایجاد کرنے والا جو نس سالک ،لوکیمیا کی دوا ایجاد کرنے والا گیرٹریج ایلن ، ہیپاٹائٹس بی ویکسین بنانے والا بروچ بلمبرگ یہ سب یہودی تھے ۔اس طرح ایک طویل فہرست ہے۔سنتلی میذور جس نے دنیا کی پہلی مائیکرو چپ ایجاد کی ،لیو سیزلرڈ جس نے پہلا نیوکلیئر ری ایکٹر بنایا ،پیٹر سکلٹز جس نے آپٹیکل فائبر بنایا جس کی وجہ سے آج آپ انٹر نیٹ سے مستفید ہو رہے ہیں ۔بینو سٹراس جس نے سٹین لیس سٹیل بنایا، ایسا ڈور اڈلر جس نے آواز کے ساتھ پہلی فلم بنائی ،ایمائیل برلنڑ جس نے ٹیلی فون اور مائیکرو فون بنایا اور چارلس گنسبرگ جس نے وڈیو ٹیپ ریکارڈر بنایا ۔ اسی طرح دنیا کی بڑی برانڈ کمپنیوں کے مالک بھی یہودی ہیں ۔مثلاً پولو کے مالک رالف لورین ، لیوائز کے مالک لیوائزسٹراس ،سٹاربکس کے مالک ہاورڈ سکلٹز ،گوگل کے مالک سرگے برن،ڈیل کے مالک مائیکل ڈیل ، اوریکل کے لیری ایلسن ، ڈنکن ڈونٹس کے بل روسنبرگ یہ سب یہودی ہیں ۔ دنیا کی سیاست میں مختلف ملکوں کے صدر ، وزرائے اعظم ،وزرائے خارجہ اور گورنر جنرلز کی ایک طویل فہرست ہے جو یہودیوں کے پاس رہے ہیں یا ابھی تک ہیں ۔سی این این کے مالک وولف بلٹزر ، اے بی سی نیوز کی بارباراوالٹر، واشنگٹن پوسٹ کے ایوجن میئر ،ٹائم میگزین کے ہنری گرانوالڈ ،نیو یارک ٹائمز کے جوزف لیلیلڈ بھی یہودی ہیں ۔اولمپکس میں اب تک سات گولڈ میڈل جیتنے کا اعزاز بھی ایک یہودی ایتھلیٹ مارک سپٹز کے پا س ہے ۔ مشہور فلم انڈسٹری ہالی ووڈ کا بانی بھی ایک یہودی تھا ۔ دنیا میں امریکی دارلحکومت واشنگٹن کی ایک حیثیت ہے مگر واشنگٹن میں جس چیز کی کوئی حیثیت ہے وہ اس کا نام The American Israel Public Affairs Committee, یا AIPACہے ۔واشنگٹن میں یہ بات عام کہی جاتی ہے کہ اگر کسی دن اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو خواب آئے کہ دنیا گول نہیں بلکہ سیدھی ہے تو امریکی کانگریس بنجمن نیتن یاہو کی اس ایجاد پر اس کے لئے مبارکباد کی قرار داد پاس کر دے گی ۔

آخر وجہ کیا ہے کہ ایک سو مسلمانوں پر ایک یہودی بھاری ہے اس کی وجہ صرف اور صرف تعلیم ہے۔ 57اسلامی ممالک کے پاس صرف پانچ سو یونیورسٹیاں ہیں گویا ہر تیس لاکھ کے لئے صرف ایک یونیورسٹی ،امریکہ میںں 5758یونیورسٹیاں ہیں ،یعنی ہر57000کے لئے ایک یونیورسٹی ، اکیلے انڈیا میں 8407یونیورسٹیاں ہیں ۔المیہ تو یہ بھی ہے کہ مسلمان ممالک کی ایک بھی یونیورسٹی دنیا کی ٹاپ500یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہیں ۔ UNDPکے مطابق عیسائیوں میں شرح خواندگی90فیصد ہے جبکہ مسلمانوں میں یہ شرح 40فیصد ہے ۔ وہ ممالک جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں پر ہر دس لاکھ شہریوں میں 230سائنسدان ہوتے ہیں امریکہ میں یہ شرح 4000اور جاپان میں 5000ہے ۔ مسلمان ممالک اپنی مجموعی آمدنی کا 0.2فیصد تحقیق پر صرف کرتے ہیں جبکہ عیسائی ممالک میں یہ شرح5فیصد ہے ۔اسلام جس نے اپنی تعلیمات کا آغاز ہی ’’اقرا‘‘ سے کیا اس میں آج علم کی زبوں حالی کی یہ حالت ہے ۔آج کی دنیا علم پر کھڑی ہے اور ہم جہالت کی راہوں میں بھٹک رہے ہیں ۔دنیا میں تخلیق و اختراع کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور ہمارے ہاں یہ بحث اور فتنہ نہیں ختم ہو رہا کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ہے ۔ 57 اسلامی ممالک جن کے قبضے میں دنیا کے آدھے ذرائع پیدا وار ہیں ان کی مجموعی قومی آمدنی 2کھرب ڈالر سے کم ہے جبکہ صرف ا مریکہ کی آمدنی17کھرب ،چین کی 11کھرب جاپان کی 4،جرمنی کی 3.3کھرب ڈالر ہے ۔سعودی عرب ، ایران ،قطر اور متحدہ عرب امارات کی ملا کر کل آمدنی 1.5کھرب ڈالر سے بھی کم ،جبکہ اکیلے جنوبی کوریاکی 1.3 کھرب ڈالر ہے ۔ بدھ مت کے پیروکاروں کا ملک تھائی لینڈ جس کی سالانہ آمدنی 545ارب ڈالر ہے ۔

پاکستان کا مسئلہ جہاں پر بری حکومتیں ہیں وہاں پر وسائل سے بڑھتی ہوئی آبادی بھی ہے ۔اس وقت پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیاکا چھٹا بڑا ملک ہے ۔جس کی آبادی 20کروڑ ہے ۔اس کی آبادی میں اضافہ کی سالانہ شرح 1.95ہے اگر یہ شرح برقرار رہی تو 2050تک ا س کی آبادی36کروڑ 30لاکھ ہو جائے گی ۔ اس وقت ہماری ترقی کی شرح 4.5فیصد ہے ۔ہر سال فی ایک ہزار افراد میں 30نئے افراد کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔(اس کو اگر ملک کی سطح پر دیکھیں تو ہر سال ہم لاہور جتنی آبادی بڑھا لیتے ہیں )پوری دنیا میں 2013ء میں یہ شرح فی ہزار20افراد ہے ۔ پاکستان میں ایک فرد کی اوسط عمر 64سال ہے جبکہ دنیا میں یہ شرح 70ہے ۔اگر ہم امریکہ اور یورپ کا جائزہ لیں تو وہاں 80سال سے اوپر ہے ۔دنیامیں 30ممالک ایسے ہیں جن میں اوسط عمر 80سال سے زیادہ ہے ان ممالک میں صرف ایک لبنان مسلمان ملک ہے ۔

جب آبادی بڑھنے کی شرح اور ترقی کی سالانہ شرح میں توازن قائم نہ رہے تو مسائل شدید سے شدید تر ہو جاتے ہیں ۔ بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع نہیں ملتے ، علاج کے لئے ہسپتال دستیاب نہیں ہوتے ، اچھی سڑکیں نہیں بنتیں ، صاف پانی میسر نہیں ہوتا ، روزگار نہیں ملتا ،جرائم کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ افراتفری پھیل جاتی ہے ۔جو پہلے معاشرے اور پھر ملکوں کو متاثر کرتی ہے ۔ پاکستان بھی وسائل سے تجاوز کرتی آبادی کے اسی منظرنامے سے دوچار ہے ۔

ذرا تصور کریں جب 2050ء میں ہماری آبادی 36کروڑ 30لاکھ ہو جائے گی اس وقت ہمارے کھلیان ہمارے پیٹ بھرنے کے لئے کم پڑ جائیں گے ۔ہمارے بچوں کے لئے سکول ہوں گے نہ ہسپتال ،گھر ڈربوں میں شفٹ ہو جائیں گے اور فٹ پاتھ پر سونے کے لئے فٹوں کے حساب سے جگہ بکا کرے گی ۔درحقیقت بڑھتی ہوئی آبادی ایک بم ہے جو پھٹ رہا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا ۔اگر آبادی میں اضافے کی ہماری یہ رفتار برقرار رہی تو 2030ء تک پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا۔اس وقت پاکستان کی آبادی کا ساٹھ فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی معیشت کو ہر سال تیس لاکھ نوکریاں پیدا کرنی ہوں گی یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہماری ترقی کی سالانہ شرح آٹھ فیصد ہوفی الوقت یہ شرح چار فیصد سے بھی کم ہے ۔اس وقت پاکستان میں کل بیروزگار افراد کی تعداد میں سالانہ 8.3فیصدکے حساب سے اضافہ ہو رہاہے۔ کم و بیش باقی مسلم ممالک میں بھی یہی صورتحال ہے ۔اس وقت کل مسلم آبادی ایک ارب ساٹھ کروڑ ہے اگر اس میں اضافے کی یہی رفتار رہی تو 2050ء تک یہ بڑھ کر دو ارب اسی کروڑ ہو جائے گی اس وقت اسلام دنیا کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا مذہب ہو گا مگر تعلیم ، صحت ، معیشت اور ترقی میں وہ کس مقام پر ہو گا اس کا ندازہ اگر موجودہ صورتحال سے لگایا جائے تو خاصی تشویشناک صورتحال سامنے آتی ہے ۔کیونکہ مسلم ممالک کے پا س اگر وسائل ہیں بھی تو مطلوبہ مہارتیں نہیں ۔مہارتوں کے لئے تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ہماری تعلیمات کا آغاز تو ’’اقراء‘‘ سے ہوا مگر ہم ابھی تک اس معاملے میں ’’گراؤنڈ زیرو‘‘ پر کھڑے ہیں ۔ ہم خود کشی تو بہت پہلے کرچکے تھے ’’اب خود کش ‘‘ بھی بن گئے ہیں ۔ہم اپنی آبادی میں بے ہنگم اضافہ کرکے مزید خودکشی کر رہے ہیں ۔ا س سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ موجودہ دنیا میں طاقت کا اظہار تعداد میں نہیں بلکہ مہارتوں میں ہے تعلیم میں ہے ۔اس کے لئے ہمیں پہلے اپنی آبادی کو وسائل کے مطابق بنانا ہو گا ۔پھر اپنے وسائل کو ایک فرد کی تعمیر و ترقی میں لگانا ہو گا ۔تاکہ ہر ایک کو اچھی تعلیم ملے ،صحت کی سہولتیں ملیں ،اپنی چھت اور روزگار ملے ۔جب ایک فرد پر ہم سرمایہ کاری کریں گے تو اس کا معیار زندگی بہتر ہو گا اس کی اوسط عمر میں اضافہ ہو گا۔ ایک بہتر معاشرہ تخلیق پائے گا ۔ایک خوشحال ملک کی تعمیر ہو گی ۔