working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ
05 March 2009
تاریخ اشاعت
دنیا جانتی ہے کہ پاکستان خود بد ترین دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کی سیکیورٹی فورسز کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ شدت پسندی اور عسکریت پسندی نے اس کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔

 

فیچر
جدید ممالک میں اونٹ ریس کے باقاعدہ قواعدوضوابطیں مگر عرب باشوں میں آج بھی اونٹ ریس انہی طور طریقوں کے مطابق ہوتی ہے۔جو زمانہ قدیم سے چلیآرہے ہیں۔جن میں اونٹ کی کرہان کے پیچھے کم عمر بچوں کو بہتایا جاتا ہے

فکرونظر
پاکستان میں موجودہ انتہا پسندی اور عسکریت پسندی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ یہ عسکریت پسند نہ صرف تیزی سے پھیلے ہیں (جیسے کہ صوبہ سرحد میں دیکھا گیا ہے)بلکہ مختلف تنظیمی گروہوں کی شکل میں بھی مضبوط ہوئے ہیں
چشم عالم
دنیا کے سب سے بڑی نسلی، قوم پشتون جس کی تعداد 40ملین کے قریب ہے ان کے پاس اپنا ملک نہیں ہے اسی لئے زیادہ تر پشتون ، طالبان کو اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں جو اُن کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ افغانستان سے دوگنا تعداد میں پشتون پاکستان میں آباد ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اوبامہ سرحد کے دونوں اطراف جنگ کا جتنا ضروری قرار دیتے ہیں۔

میزان
قانون ۔۔۔ زندگی کو محفوظ تر بنانے کا ضابطہ ہے جس کو ریاستیں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں بسنے والے شہریوں پر لاگو کرتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف بنائے جانے والے قوانین بھی اسی ضابطے میں آتے ہیں ۔جن کو ممالک اس لیے اپناتے ہیں کہ ان کی بدولت وہ لوگوں کو ایسے اعمال کرنے سے روک سکیں جن کی بدولت جارحیت، فساد اور دہشت گردی جنم لیتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بیشتر خلاف دہشت گردی قوانین پارلیمنٹ کی غیرموجودگی میں بنائے گئے۔

تارکین وطن
امریکی جاسوس ادارے سی آئی اے نے صدر باراک اوبامہ کو خبردار کیا ہے کہ برطانوی نژاد پاکستانی دہشت گرد امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والے پاکستانی جو برطانیہ کی شہریت رکھتے ہیں، وہ برطانویوں کو حاصل ویزہ استثنیٰ پروگرام کے تحت امریکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان کے پاکستانی جہادی کالعدم گروپس، لشکرِ طیبہ، جیش محمد وغیرہ سے قریبی تعلقات ہیں جو امریکہ میں نائن الیون جیسے ایک اور دہشت گرد حملے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

کتاب
پاکستان جیسے ملک کی یہ حالت ہے کہ عام آدمی ریفریجریٹر اور ٹیلی ویژن جیسی تفریح کا متحمل نہیں ہو سکتا حالانکہ ٹیلی ویژن ہی ایسا ذریعہ ہے جو زندگی کی سہولیات کے حوالے سے مختلف خواہشات کو ہوا دینے کا موجب بنتا ہے اور آج کل کے دور میں اس کا کردار نہایت اہم ہے یہ ہوائی میڈیم مختلف ثقافتوں اور منصوبوں سے آگاہی دلاتا ہے۔ عوام کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے جبکہ ملا ان سوالات سے پیچھا چھڑاتا ہے اسی لئے ان الیکٹرانک ذرائع کی مخالفت کرتا ہے

انگریزی پریس سے
کون کیسے کہہ سکتا ہے کہ وزیرستان کا رہنے والا امریکیوں کیلئے جاسوسی کرنے کے لئے موزوں ہوگا۔کیونکہ یہ ایک ایسی سرزمین ہے جہاں دشمنی صدیوں چلتی ہے اور شیروں کی طرح بدلہ لینے کی روایت عام ہے۔اس طرح کی ظالمانہ اور بہیمانہ قتل کی وارداتیں شرم کا باعث ہیں۔اپنی خوبصورتی کے باوجود وزیرستان کبھی بھی سیاحوں کیلئے کشش کاباعث نہیں رہا سوائے چند ان لوگوں کے جو ملازمتوں کے سلسلے میں وہاں تعینات رہے۔ یا معدودے چند سیاح جو وہاں تک کبھی پہنچ سکے