دنیا کے سب سے بڑی نسلی، قوم پشتون جس کی تعداد 40ملین کے قریب ہے ان کے پاس اپنا ملک نہیں ہے اسی لئے زیادہ تر پشتون ، طالبان کو اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں جو اُن کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ افغانستان سے دوگنا تعداد میں پشتون پاکستان میں آباد ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اوبامہ سرحد کے دونوں اطراف جنگ کا جتنا ضروری قرار دیتے ہیں۔ |
|
 |
|
قانون ۔۔۔ زندگی کو محفوظ تر بنانے کا ضابطہ ہے جس کو ریاستیں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں بسنے والے شہریوں پر لاگو کرتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف بنائے جانے والے قوانین بھی اسی ضابطے میں آتے ہیں ۔جن کو ممالک اس لیے اپناتے ہیں کہ ان کی بدولت وہ لوگوں کو ایسے اعمال کرنے سے روک سکیں جن کی بدولت جارحیت، فساد اور دہشت گردی جنم لیتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بیشتر خلاف دہشت گردی قوانین پارلیمنٹ کی غیرموجودگی میں بنائے گئے۔ |
|
 |
|
امریکی جاسوس ادارے سی آئی اے نے صدر باراک اوبامہ کو خبردار کیا ہے کہ برطانوی نژاد پاکستانی دہشت گرد امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والے پاکستانی جو برطانیہ کی شہریت رکھتے ہیں، وہ برطانویوں کو حاصل ویزہ استثنیٰ پروگرام کے تحت امریکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان کے پاکستانی جہادی کالعدم گروپس، لشکرِ طیبہ، جیش محمد وغیرہ سے قریبی تعلقات ہیں جو امریکہ میں نائن الیون جیسے ایک اور دہشت گرد حملے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ |
|
 |
|
پاکستان جیسے ملک کی یہ حالت ہے کہ عام آدمی ریفریجریٹر اور ٹیلی ویژن جیسی تفریح کا متحمل نہیں ہو سکتا حالانکہ ٹیلی ویژن ہی ایسا ذریعہ ہے جو زندگی کی سہولیات کے حوالے سے مختلف خواہشات کو ہوا دینے کا موجب بنتا ہے اور آج کل کے دور میں اس کا کردار نہایت اہم ہے یہ ہوائی میڈیم مختلف ثقافتوں اور منصوبوں سے آگاہی دلاتا ہے۔ عوام کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے جبکہ ملا ان سوالات سے پیچھا چھڑاتا ہے اسی لئے ان الیکٹرانک ذرائع کی مخالفت کرتا ہے |
|
 |
|
کون کیسے کہہ سکتا ہے کہ وزیرستان کا رہنے والا امریکیوں کیلئے جاسوسی کرنے کے لئے موزوں ہوگا۔کیونکہ یہ ایک ایسی سرزمین ہے جہاں دشمنی صدیوں چلتی ہے اور شیروں کی طرح بدلہ لینے کی روایت عام ہے۔اس طرح کی ظالمانہ اور بہیمانہ قتل کی وارداتیں شرم کا باعث ہیں۔اپنی خوبصورتی کے باوجود وزیرستان کبھی بھی سیاحوں کیلئے کشش کاباعث نہیں رہا سوائے چند ان لوگوں کے جو ملازمتوں کے سلسلے میں وہاں تعینات رہے۔ یا معدودے چند سیاح جو وہاں تک کبھی پہنچ سکے |
|
 |
|