جناح اور اقبال ایک ماڈرن اسلامی ریاست کا قیام چاہتے تھے، جس کی آئینی اساس قرآن کی ماڈرن تعبیر پر مشتمل ہو جان

95

معروف شاعر اورمدیرسلیم گورمانی سے دلچسپ مکالمہ

28جنوری1969ء کو جنوبی پنجاب کے ضلع لیّہ میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ پوسٹ گرایجوایٹ کالج لیّہ سے گرایجوایشن کرنے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم۔ اے اْردو اقبالیات کی ڈگری حاصل کی۔ کالج کے زمانہ ہی سے علمی وادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا۔ لیّہ کی معروف ادبی شخصیات ڈاکٹر خیال امروہی، نسیم لیّہ، غافل کرنالی اور جعفر بلوچ کی صحبتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ کالج کے زمانہ ہی سے اْردو، پنجابی اور سرائیکی مشاعروں میں شرکت کے واقع ملتے رہے، کالج میگزین میں کلام شائع ہوتا رہا اور اس دَور کے معروف قومی اخبارات کے ادبی ایڈیشنز میں مضامین اور شاعری چھپتی رہی۔ معروف ادبی جرائد میں مضامین اور کلام شائع ہوتا رہا۔ ماہنامہ صریر کراچی معاصر اور بیاض لاہور وغیرہ میں خصوصی گوشے شائع ہوچکے ہیں۔ روز نامہ پاکستان لاہور میں ادارتی صفحہ پر 4 سال تک روزانہ قطعات شائع ہوتے رہے۔ اقبالیات پر دو کتابیں مرتب کی ہیں۔ وسیع المطالعہ ہیں۔ آج کل ایک ماہانہ رسالے کی ادارت کے علاوہ علمی وادبی کتب کی اشاعت کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
تجزیات :آپ اِقبالیات کے بھی طالب علم ہیں۔ آج پاکستان میں تشدد پسندی کا جو عمومی مزاج ہے کیا اس کی جڑیں کلامِ اقبال میں تلاش کی جاسکتی ہیں؟
سلیم گورمانی:میرے خیال میں آج کی تشدد پسندی کے پیچھے علاقائی اور عالمی سیاسی حالات کا ہاتھ زیادہ ہے۔ وہ ہاتھ پہلے سے موجود میلانات کا استعمال اپنی مرضی کے رُخ پر مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے کرتا ہے۔ اقبال کی شاعری اس کی ذمہ دار نہیں ہے۔ اقبال کی شاعری کا تجزیہ کیا جائے تو اس کے تین عہد بنتے ہیں۔ پہلا دور تصوّ ف دوسرا دَور جب وہ یورپ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر آئے تعقل کا دور کہا جاسکتا ہے اور تیسرا دَور جب بیماریوں نے گھیر لیا اور بڑھاپا نزدیک آنے لگا تو پھر تصوّ ف کی طرف لوٹ گئے۔ فکری اعتبار سے ان کا بہترین حصہ درمیانی یعنی تعقل والا سمجھا جاتا ہے۔
اقبال کے ہاں جو تصوّ ف ہے وہ تو کسی طور تشدد کی ترغیب نہیں دے سکتا۔ میرے خیال میں تعقل بھی کسی طور ’’تشدد‘‘ کے میلان کو پروان نہیں چڑھاتا۔ اصل میں اس دَور میں ہندوستان انگریز کی غلامی سے آزادی کی جدوجہد سے گزر رہا تھا۔ یہ تحریکِ آزادی کے ماحول کے اثرات تھے جس نے اقبال کی شاعری کو بلند آہنگ کردیا تھا۔ آج کی تشدد پسندی کی جڑیں اِقبال کی شاعری یا فکر میں تلاش کرنا قرین انصاف نہ ہوگا۔
تجزیات :جناح اور اقبال کس قسم کی مملکت کا خواب دیکھ رہے تھے سیکولر یا اسلامی؟
سلیم گورمانی:جناح اور اقبال کا عہد خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے، اشتراکیت اور سرمایہ داری کے ٹکراؤ کا عہد تھا۔ وہ ایک ماڈرن اسلامی ریاست کا قیام چاہتے تھے۔ جس میں اشتراکیت، سرمایہ داری(Capitalism)اور سیکولرزم کی مثبت خوبیاں موجود ہو ں اور اس مملکت کی آئینی اساس قرآن کی ماڈرن تعبیر پر مشتمل ہو۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ خواب، خواب ہی رہا۔ پاکستان نہ سیکولر بن سکا نہ ماڈرن اِسلامی مملکت۔
تجزیات :جناح، اقبال اور نظریۂ پاکستان کے بہت بڑے موید غلام احمد پرویز کے افکار بھی پاکستان میں پذیرائی حاصل نہ کرسکے۔ کیا وجہ رہی؟
سلیم گورمانی:جی ہاں! درست فرمایا آپ نے۔ جیسا کہ آغاز میں عرض کیا تھا کہ سماجیات میں فجائی ارتقاء نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک سماج اچانک سے ماڈرن ہوجائے۔ میں آپ کو اقبال اور جناح کے دو مویدین کے دو واقعے سناتا ہوں۔

افسروں کا وفد مولانا شبیر احمد عثمانی کے پاس گیا۔ اس وفد میں ایک نوجوان افسر ظہور مرزا بھی شامل تھے جو کہ ابھی تک بقیدِ حیات ہیں اور راولپنڈی میں مقیم ہیں۔ ان کے بقول مولانا شبیر احمد عثمانی نے وفد کی بات سننے کے بعد فوراًاُٹھ کر کمرے کا دروازہ بند کیا اور رازدارانہ انداز میں فرمایا کہ آپ کا مؤقف بالکل درست ہے لیکن آپ یقین جانئے کہ اس پر عمل کرانا ناممکن ہے۔ اس قوم کو قربانی سے روکنا ناممکن ہے۔

قیامِ پاکستان کے دو روز بعد عیدالفطر منائی گئی۔ اِس دوران مہاجرت کا اندوہناک عمل بھی جاری رہا۔ بھارت سے مہاجرین کے لٹے پٹے قافلے پاکستان پہنچتے رہے۔ دو اَڑھائی ماہ بعد جبکہ بقرہ عید قریب آنے لگی تو چندا ہلِ در و سول آفیسرز نے میٹنگ کی کہ اس دفعہ پاکستانی مسلمان اگر بقرہ عید پر قربانی کی بجائے قربانی کے جانور کے برابر پیسہ حکومتِ پاکستان کے پاس ایک فنڈ میں جمع کرا دیں تو یہ رقم لٹے پٹے مہاجرین کو سیٹل کرنے میں کام آجائے گی اور مملکتِ پاکستان کی اس نازک وقت میں بہت مدد ہوجائے گی۔ سوال پیدا ہوا کہ اس کے لئے قوم کو کیسے آمادہ کیا جائے۔ تجویز آئی کہ مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب کو راضی کرتے ہیں کیونکہ وہ قیامِ پاکستان کے حامیوں میں سے ہیں اور دلِ درمند کے ساتھ عقلِ سلیم کے حامل ہیں۔ افسروں کا وفد مولانا شبیر احمد عثمانی کے پاس گیا۔ اس وفد میں ایک نوجوان افسر ظہور مرزا بھی شامل تھے جو کہ ابھی تک بقیدِ حیات ہیں اور راولپنڈی میں مقیم ہیں۔ ان کے بقول مولانا شبیر احمد عثمانی نے وفد کی بات سننے کے بعد فوراًاُٹھ کر کمرے کا دروازہ بند کیا اور رازدارانہ انداز میں فرمایا کہ آپ کا مؤقف بالکل درست ہے لیکن آپ یقین جانئے کہ اس پر عمل کرانا ناممکن ہے۔ اس قوم کو قربانی سے روکنا ناممکن ہے۔

توہین مذہب کو اخلاقی طور پر بُرا گرداننے والے روشن خیال احباب توہینِ اسلام کے کسی حقیقی واقعہ (چاہے یورپ میں ہی کیوں نہ ہو) پر احتجاجی مظاہرہ کریں تو اس سے بڑا فرق پڑے گا۔ہمیں کشیدگی اور تناؤ کی حالت سے احتیاط کے ساتھ باہر نکلنا ہوگا

دوسرا واقعہ مولانا غلام مرشد خطیب بادشاہی مسجد کاہے۔ مولانا غلام مرشد نے قائداعظم کے کہنے پر مسلم لیگ کے علماء ونگ کی پہلی کانفرنس کی صدارت کی تھی اور علامہ اقبال کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ وہ1970ء کی دہائی تک بادشاہی مسجد کے خطیب رہے۔ انہوں نے بادشاہی مسجد میں خطبہ کے دوران’’قربانی‘‘ کے متعلق اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا تو مسجد سے گھر واپسی پر ان کے سر پر اینٹ ماردی گئی جس کے باعث انہیں ہسپتال لے جانا پڑا۔ وہ تو بھاری پگڑی نے انہیں زیادہ زخمی نہیں ہونے دیا اور وہ بچ گئے۔
پاکستان کی یہی سیکولریا اسلامی کی کشمکش تھی جسے دیکھ کر غلام احمد پرویز بھی اپنے آخری عہد میں یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ اگر پاکستان کو جدید قرآنی مملکت میں ڈھالا نہیں جاسکتا تو پھر بہتر یہی ہے کہ اسے سیکولر ہی بنادیا جائے۔ اس شترگربگی سے تو یہی بہتر ہے۔

 

تجزیات :ہمارے عہد میں جاوید احمد غامدی بھی ایک ماڈرن اسلامی سکالر ہیں۔ انہیں بھی معاشرے نے قبول نہیں کیا۔ غلام احمد پرویز اور غامدی صاحب کے افکار میں کیا فرق ہے؟
سلیم گورمانی: غلام احمد پرویز اسلام کی غایت ایک جدید قرآنی مملکت کا قیام قرار دیتے ہیں۔ ایک ایسی ریاست جس کا آئین واساس قرآنِ مجید ہو۔ قرآنِ کریم کی جدید تعبیر جو زمانے کے علمی وفکری معارج اور بلندیوں سے ہم آہنگ ہو۔ وہ قیام پاکستان کا جواز بھی اسی خواب کی تعبیر سمجھتے ہیں۔ جبکہ غامدی صاحب اسلام پر عمل کے لئے ’’اسلامی ریاست‘‘ کو لازمی نہیں سمجھتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی اقدار پر انفرادی طو رپر عمل پیرا ہواجاسکتا ہے۔
البتہ اسلامی عقائد میں سے جو زمانے کا ساتھ نہیں دے سکے۔ انہیں ماڈرنائز کیا جائے۔ مثلاً روایتی اسلام میں تصویر کا بنانا شرک تصور ہوتا تھا۔ انہوں نے اسلام میں جائز ثابت کیا ہے۔ اسی طرح آلات موسیقی وغیرہ ہیں۔ وہ فنونِ لطیفہ کے حامی ہیں اور اقبال کی طرح وہ بھی کہتے ہیں کہ اب انتظارِ مہدی وعیسیٰ بھی چھوڑدے نماز تراویح کو روزہ کے لیے ضروری نہیں سمجھتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے مسلمانوں کے عقائد کو زمانہ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بطور پرائیویٹ اور انفرادی مذہب کے وہ پرویز کی طرح اسلام کی بطور نظامِ مملکت تعبیر کے حامی نظر نہیں آتے۔
تجزیات :غامدی صاحب اور پرویز صاحب جیسے علماء جولوگوں کے عقائد پر تنقید کرتے ہیں کیا اِس سے دِل مجروح نہیں ہوتے اور پاکستان میں تشدّ د پسندی اور فرقہ واریت کو مزید ہوا نہیں ملتی؟
سلیم گورمانی: تشدّ د پسندی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا اس صورت میں ملتی ہے جب آپ خود ایک فرقہ بن کر اپنے نئے خیالات کو عقائد کی طرح مانیں اور منوانا چاہیں۔ خود کو ہر صورت میں حق پراور دوسروں کو باطل پر سمجھیں۔ لیکن اگر آپ اپنی تحقیقات اور خیالات کو محض اپنی رائے سمجھیں اور دوسروں کو بھی اپنا عقیدہ یا نظریہ رکھنے کا حق دینے پر تیار ہوں اور اس طرح قومی سطح پر ایک علمی مکالمہ کی فضا قائم ہو جس سے دِل نہ دُکھائے جائیں تو یہ ایک مثبت اور تعمیری چیز ہوگی۔ میرے خیال میں اس طرح کے لوگ چاہے مذہبی سکالر ہوں یا آزاد خیال دانشور لوگوں کی ایک کثیر تعداد کے دلوں کو دُکھانا ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ ہم عقلوں کو سوچنے پر مائل کرنے کی بجائے جذبات کو مجروح کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان وطیروں سے قوم کا مجموعی مزاج اذیت پسندی کا سا(Sadistic)ہوچکا ہے۔ ہمارے قدامت پسند طبقات ہوں یا جرأت پرست سب کے سب ’’خودکش حملہ آور‘‘(نفسیاتی طور پر) بن چکے ہیں۔ہم ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہم بات نہیں کرتے ہم ایک دوسرے کو مارنے کے لئے دوڑتے ہیں۔میرے خیال میں اس صورتِ حال میں زیادہ ذمہ داری روشن خیال طبقہ پر عائد ہوتی ہے کہ مثبت اور اپنائیت بھرے رویّے اپنانے میں وہ پہل کرے۔ کسی کے جذبات مجروح کرنے سے گریز کریں۔ ایسے عقائد جن سے معاشرے کو براہِ راست کوئی نقصان نہیں، رکھنے کا حق دینا چاہئے۔ اس طرح کے رویّوں سے کچھ عرصہ بعد ’’تشنج‘‘ کی کیفیت ختم ہوگی اور آہستہ
آہستہ علمی مکالمہ کی فضا ہموار ہوگی۔ ہمیں ایسے لوگوں کی مذمت کرنا ہوگی جو چپکے سے مندر میں گائے کا سر اور مسجد میں سور کی سِری پھینک کر فرقہ وارانہ آگ لگا کر اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔
توہین مذہب کو اخلاقی طور پر بُرا گرداننے والے روشن خیال احباب توہینِ اسلام کے کسی حقیقی واقعہ (چاہے یورپ میں ہی کیوں نہ ہو) پر احتجاجی مظاہرہ کریں تو اس سے بڑا فرق پڑے گا۔ہمیں کشیدگی اور تناؤ کی حالت سے احتیاط کے ساتھ باہر نکلنا ہوگا۔ ٹی۔ وی چینلز اور دیگر’’چینلز‘‘ کی حرص و ہوس کا شکار ہونے خود کو ہوشیاری سے الگ کرنا ہوگا جب تک قوم کے اعصاب واذہان پر ’’غصہ‘‘ سوار رہے گا ان کا ذہن سوچنے سننے سمجھنے سے قاصر رہے گا۔
تجزیات :قوم کو اس نفسیاتی تشنج کی کیفیت سے باہر نکلنے میں کیا چیز کارگر ہوسکتی ہے؟
سلیم گورمانی:’’اُمید‘‘ جو کہ مایوسی کی ضد ہے اور محبت جو کہ نفرت کا متضاد ہے۔ یہ دونوں چیزیں معاشرہ کا (بزعمِ خود) روشن خیال طبقہ مہیّا کرسکتا ہے۔ یہ معاشرہ ہم سے کچھ بھی نہیں مانگتا سوائے ’’اُمید‘‘ اور محبت کے۔ اس پر لاگت کتنی آتی ہے۔ کتنا بجٹ چاہئے۔اُمید اور آرزو کا الٹ مایوسی ہے۔ جب آدمی دیکھتا ہے کہ وہ کچھ نہیں ہورہا جو وہ چاہتا ہے تو اسے غصہ آنا شروع ہوجاتا ہے۔ جب وہ بے بسی میں اپنے خلاف غصہ نکالتا ہے تو اندوہ ناکی پیدا ہوتی ہے جس کی انتہائی شکل خود کشی ہے۔ اگر وہ اس چیز کے خلاف غصہ نکالے جو اس کی بے چارگی کا باعث اور وجہ ہو تو اسے انتقام کہتے ہیں۔ جس سے سرکشی اور بغاوت جنم لیتی ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو غصہ غیر متعلقہ چیزوں کے خلاف نکلتا ہے۔ یہ پاگل پن کی ابتداء ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہی تو ہورہا ہے ایسی صورتِ حال کا زیادہ دیر جاری رہنا انتہائی خطرناک ہے۔
بقولِ بیدل
پِیری اثرِ قطعِ اْمید است اِیں جا
تارو پودِ کفنت موئے سفید است ایں جا
مفہوم: پَیری، پژمردگی، افسردگی اور ضعیفی اُمید کو مار دینے کا نتیجہ ہیں۔
آپ کے کفن کا کپڑا دھاگے سے نہیں سفید بالوں سے بُنا جاتا ہے
تجزیات :آج ہَم آئی ٹی ریوولیوشن کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا، ہائی ٹیک انڈسٹرپلائزیشن نے ہمارے سماج کی حرکیات تبدیل کرکے رکھ دی ہیں۔ اِس تناظر میں اُردو غزل کا کیا جواز ہے؟
سلیم گورمانی:سماجیات میں فِجائی ارتقا(Emergent Evolution)کبھی واقع نہیں ہوتا جیسا کہ حیاتیات(Biology) میں ایک گم شدہ کڑی (Missing Link) کی تھیوری کا شہرہ ہے۔ سماجی ارتقاء روایت کی اساس چھوڑے بغیر خلاء میں نہیں ہواکرتا۔ فنونِ لطیفہ مصوری، شاعری، موسیقی، خطاطی کی کلاسیکی شکلیں موجود نہ ہوتیں تو انسان کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد آئی ٹی ریوولیوشن خلاء میں برپا کر بھی دیتا تو کیا فائدہ ہوتا۔ یہ وہی قدیم فنِ مصوری تھا جس کی بنیاد پر آج کمپیوٹر پر ڈایزائننگ کا شعبہ روز افزوں برق رفتار ترقی کررہا ہے۔یہ وہی فنِ خطاطی ہے جو ٹائپنگ کے دور سے گذرتا ہوا کمپیوٹر کمپوزنگ کے نت نئے مرحلے طے کررہا ہے۔ یہی معاملہ ادب کا ہے۔ اَبھی کچھ دِن پہلے جَب ذاتی دشمنوں یا سیاسی مقاصد اکے تحت بلا سفیمی کے جھوٹے الزامات کے تحت قتل وغارت گری ایک لہراُٹھی تو آپ نے پاکستانیوں کے فیس بک پیجز پر غزل کا ایک شعر سیکڑوں بار دیکھا ہوگا۔ مختلف ڈیزائینوں کے ساتھ۔
جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے
مجھے شعر کے خالق کا نام معلوم نہیں ہے۔ لیکن اس مثال سے آپ اِس عہد کے تناظر میں کلاسیکی اضافِ شعر کا جواز محسوس کرسکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...