نواز شریف کو ہٹانے کے لئے عمران پیپلز پارٹی سے اتحاد کر سکتا ہے ,عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ احمد کے ساتھ خصوصی گفتگو

90

الیکشن کے دنوں میں چوہدری نثار کا فون آیا تھا تو انہوں نے کہا کہ پارٹی میں واپس آجائیں مگر میں عمران کے ساتھ معاملات طے کرچکا تھا ،عمران خان کو زبان دے چکا تھا۔

شیخ رشید احمد موجودہ پارلیمنٹ میں پرانے ترین ایم این ایز میں سے ایک ،جو 1985سے الیکشن لڑتے آرہے ہیں سوائے 2008کے انہوں نے باقی تمام الیکشن جیتے ہیں،شیخ رشید احمد نواز شریف سے لیکر جنرل مشرف کے نامزد کردہ وزیراعظم شوکت عزیر اور ظفر اللہ خان جمالی کے تین دفعہ وزیر بھی رہ چکے ہیں ۔
ان سے زیادہ پارلیمنٹ کی سیاست اور اقتدار کی کی غلام گردوشوں کے رازوں کا علم کس کو ہوگا؟
شیخ رشید احمد اس وقت نواز حکومت کے لیے اکیلے ہی درد سر بنئے ہوئے ہیں اگر اس دفعہ نواز شریف کی حکومت گرتی ہے تو اس میں شیخ رشید احمد بہت بڑا حصہ بھی ہو گا اور ہاتھ بھی۔
شیخ رشید احمد کو نواز شریف پر اس بات کا غصہ ہے کہ 2013کے الیکشن سے قبل ان کے میاں محمد نواز شریف سے مفاہمت نہ ہوسکی جس کے نتیجے میں میاں محمد نواز شریف نے شیخ رشید احمد کو اپنی پارٹی میں لینے سے انکار کردیا ۔
شیخ رشید احمد  کوسیاسی پیش گوئی کرنے میں خاصہ حاصل ہے وہ اب بھی پیش گوئی کررہے ہیں 2017میں الیکشن ہونگے اور نواز حکومت کے پاس 100یا120دن کا ٹائم ہے اس کے بعد نواز شریف کے ہاتھ میں اقتدار نہیں ہوگا ۔
شیخ رشید احمد میڈیا میں ان رہنے کا گر جانتے ہیں وہ عا م سیاستدانوں کی نسبت اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ اس جدید دور میں لوگ سیاستدانوں کی با ت کیسے سنتے ہیں ۔ان کے پاس ہر روز نئی انفارمیشن ہوتی اور وہ اس انفارمیشن کو صحیح وقت پر استعمال کرنا بھی جانتے ہیں ،وہ اس لیے بھی میڈیا میں مقبول ہیں کیونکہ ان کے پاس ہرروز تازہ ترین انفارمیشن ہوتی ہے۔شیخ رشید احمد کے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ دیرنیہ تعلقات ہیں اس کے علاوہ بہت سارے سول ،فوجی اور بیوروکریٹ کے ساتھ بھی ان کے بہت اچھے تعلقات ہیں جو صرف ان کو انفارمیشن دیتے ہیں۔شیخ رشید احمد جب بھی ٹی وی ٹاک شوز میں بولتے ہیں لوگ ان کی بات کو توجہ سے سنتے ہیں کیونکہ ان کے پاس حکومتی کارکردگی کے اعدادوشمار ہوتے  ہیں اور وہ اندر کی خبریں بھی سامنے لارہے ہوتے ہیں۔
س:عالمی عدالت نے کلبھوشن کی پھانسی روک دی ۔آپ کس طرح دیکھ رہے ہیں عالمی عدالت کے اس فیصلے کو؟
ج:جب اپنے گھر کے لوگ ہی چوروں سے ملے ہوئے ہوں ،جب قیادت ہی بزدل اور نااہل ہو تو قوم کی رسوائی ناگزیر ہوتی ہے ،یہ سب ملی بھگت سے ہوا ہے یہ سب سجن جندال کی نواز شریف سے ملاقات کے ثمرات ہیں ،جب قوم ایسے لیڈران کو منتخب کرے گی جن کا کوئی ویثرن نہیں تو عالمی سطح پر بھی ہماری رسوائی ہی ہوگی ۔ہمارے پاس برصغیر کا سب سے بڑا کیس تھا ،ہماری بڑی کامیابی تھی جو ہم نے بھارت کاحاضر سروس جاسوس پکڑا ۔میرے بولنے کے بعد وزارت خارجہ نے اپنا موقف دیا ،پاکستان امن تباہ کرنے والوں کو کوئی ریلیف نہیں دینا چاہیے
س:کیا پاکستان بیرونی دباؤ میں  آجائے گا یا قومی سلامتی کو مدنظر رکھ  کرفیصلہ کرنا چاہیے؟
ج:پاکستان کو عالمی عدالت کے فیصلے کا پابند نہیں ہونا چاہیے ،قومی سلامتی اور قومی مفاد کو مد نظر رکھنا چاہیے ،یہ سب پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے ہورہا ہے ،خارجہ پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے بھارت ہمیں آنکھیں دیکھا رہا ہے ۔
س:2017میں عام الیکشن ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔آپ پھر 120دن کی ڈیڈلائن دے رہے ؟
ج:میں تو 2017میں الیکشن ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں حالات بڑے عجیب اور خراب ہیں،100،120دن ملکی تاریخ   میں بہت اہم ہیں ،مجھے اللہ سے امید ہے نواز شریف اور صادق و امین نہ ہونے پرنواز حکومت نہیں رہے گی ،میں ذہنی طور پر تیار ہوں کہ 2017الیکشن کا سال ہے ۔2017میں الیکشن ہو جائیں تو یہ ملک و قوم کے لیے بہت اچھا ہوگا۔ڈان لیکس کے فیصلے کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ نواز شریف اپنے سیاسی انجام کو جار ہا ہے ۔
س:ڈان لیکس کا معاملہ سٹیل ہو گیا ۔کیا پاکستان کے لیے اچھا ہوا یا برا؟
ج:ابھی ڈان لیکس کا معاملہ سٹیل نہیں ہوا ،دنیا کچھ بھی کہے میں نہیں سمجھتا کہ ڈان لیکس کا معاملہ سٹیل ہو گیا ہے، ابھی تو ڈان لیکس میں تین بندوں کو نکالا گیا ہے ،یہ ثابت ہوا ہے کہ پرائم منسٹر ہاؤس سے لیکیج ہوئی ہے ،پرائم منسٹر ہاؤس سے سیکیورٹی بریچ ہوئی ہے اور اس کو تسلیم کرلیا گیا ہے ۔اگر سیکیورٹی بریچ نہیں ہوئی تو ان تین بندوں کو کیوں نکلا گیا؟
اس وقت ہیجان بر پا عالمی سطح پر سازش ہورہی ہے کہ پاکستانی فوج کو سائیڈ لائن کردیں،پاکستانی فوج کا امیج تباہوبرباد کردیں ،پاکستانی فوج کو پنجاب پولیس بنا دیںیہی نواز شریف کا مشین ہے ۔ڈان لیکس ہے کیا ڈان اخبار میں جو خبر لگی اس میں یہی تھا انہوں نے کہا کہ آپ ہے جو سب کچھ کررہے ہیں فوج کررہی ہے ۔اس وقت فوج میں نواز شریف کا امیج صفر ہے ۔اس خطے میں فوج کا امیج خراب ہونا بہت بڑا جرم ہے۔ڈان لیکس نے اتنا گہرا زخم چھوڑا ہے کہ یہ آگے جاکے کینسر بھی بن سکتا ہے۔
س:آپ بھی وزیر اطلاعات رہے ہیں کیا پرویز رشید کو خبر نہ رکوانے پر ہٹا دینا یہ ان کے ساتھ نا انصافی نہیں ہے؟
ج:پر ویز رشید قومی سلامتی کو پامال کرنے میں ملوث پائے گئے اور ان سے ان کی وزارت کا قلمدان واپس لے لیا گیا خبر ڈان اخبار میں کس نے لگوائی ہے یہ بتا دیں اصل مجرم تک پہنچ جائیں گے ۔ڈان لیکس رپورٹ کا شائع ہونا بہت ضروری ہے ۔
س:ڈان لیکس معاملے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔جو تناؤ کی کیفیت تھی ختم ہو گئی ہے؟
ج:بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر  ہیں مگر حقیقت اس کے بر عکس اور میرا نہیں خیال کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔
س:آپ کی نواز شریف کے خلاف جنگ ہے یا کرپشن کے خلاف؟
ج:نواز شریف کرپشن کا گارڈ فادر ہے ،جب کرپشن کے خلاف بات کرتا ہوں تو نواز شریف کے خلاف بات کرتا ہوں ۔
س:کیا عمران خان نے آپ کو تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی ہے؟
ج:ج:عمران خان نے دی تھی تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت ،میں مسلم لیگی ہی رہنا چاہتا ہوں ویسے بھی مجھے عمران خان کی پارٹی سے ڈر لگتا ہے کیونکہ پارٹی میں بڑے بڑے لو گ ہیں ۔میں عمران خان کے ساتھ ہوں بس ،عمران کی پارٹی کے لوگ مجھ سے حسد کرتے ہیں کیونکہ ان کی عمران خان تک اتنی رسائی نہیں جتنی میری ہے ۔
س:آپ کا سیاسی سفر بہت طویل ہے ،موجودہ پارلیمنٹ کے سینئر ترین پارلیمنٹرین ہے ،مختلف حکومتوں میں وزیر بھی رہ چکے ہیں کیا کبھی وزیر اعظم یا صدر بننے کی خواہش پیدا نہیں ہوئی؟
ج:وزیرعظم یا صدر بننے کی تو کبھی بھی خواہش دل میں پیدا نہیں ہوئی ،اب عزت کے ساتھ ریٹائرڈ ہونا چاہتا ہوں۔
س:اس بار الیکشن کس حلقے سے لڑیں گے؟
ج:میں اس بار الیکشن میں این اے 55اور این اے56دونوں حلقوں سے لڑو گا ،ان دونوں حلقوں میں عوامی مسلم لیگ اور تحریک انصاف کا اتحاد ہو گا۔
س:مسلم لیگ ن نے راولپنڈی کے لیے بہت کام کیا ہے میٹرو بنائی ہے وغیرہ وغیرہ۔آپ نے عوام کے لیے کیا کام کیا ہے؟
ج:میں نے عوام کے اندر شعور پیدا کیا ہے ،میں دونوں حلقوں میں ریکارڈ ساز اور تاریخی فتح حاصل کروں گا ،این اے 56میں حنیف عباسی میرے حریف ہونگے ،میں نے عوام کو بتا یا ہے کہ ایفڈرین کیا ہوتی اور 2ٹن ایفڈرین کی مالیت کیا ہے ۔
س:جسٹس کھوسہ نے آپ کی پاناما لیکس کیس میں وکالت کی بڑی تعریف کی کیا سیاست کے ساتھ وکالت کا بھی ارادہ رکھتے ہیں؟
ج:میں نے پاناما لیکس کا کیس بہت اچھا لڑا ،شائد کوئی ماہر وکیل بھی اس طرح نہ لڑتا جس طرح میں نے عدالت میں کیس لڑا ۔میں پیدائشی طور پر سیاسی آدمی ہوں سیا ست ہی میرا اوڑنا بچھوڑنا ہے وکالت کا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا نہ ہی وکالت کرنےکا کبھی سوچا ہے ۔
س:چوہدری نثار علی خان نے پارٹی میں واپس آنے کے لیے آپ سے رابطہ کیا ؟
ج:الیکشن کے دنوں میں چوہدری نثار کا فون آیا تھا تو انہوں نے کہا کہ پارٹی میں واپس آجائیں مگر میں عمران کے ساتھ معاملات طے کرچکا تھا ،عمران خان کو زبان دے چکا تھا۔
س:جے آئی ٹی سے آپ کی کیا امیدیں وابستہ ہیں۔جے آئی ٹی کا جو بھی فیصلہ آئے گا قبول کریں گے؟
ج:جے آئی ٹی میں اب یہ نہیں بچ سکتے،جے آئی ٹی حدبیہ پیپر ملز کو ٹھیک نہیں کر سکتی ،میں نہیں دیکھتا کہ کوئی شخص قطری خط کو ٹھیک کر سکتا ہے، کیونکہ پانچ ججز نے کہا ہے کہ قطری خط جعلی ہے ،نواز شریف اور اسحاق ڈار کی منی لانڈرنگ جس میں بیان حلفی پر اسحاق ڈار صاحب کے دستخط ہیں ،اگر وہ نہیں کہتے کہ یہ میرے دستخط نہیں ہے تو وہ بھی جیل میں جائیں گے ،ہاں اگر وہ کہہ دیں کہ میں اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھا مجھ سے زبردستی دستخط لئے گے تو پھر اور بات ،بہرحال میں اس جے آئی ٹی کو کامیاب ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں ،کیونکہ جے آئی ٹی کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے کافی مواد موجود ہے۔جے آئی ٹی  کا جو بھی فیصلہ آئے گا قبول کریں گے۔
س:پانامالیکس کیس:کس کی ساکھ کا جنازہ نکلے گا؟
ج:100،120میں انشااللہ ن کا سیاسی جنازہ نکلے گا ۔
س:سی پیک پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا؟
ج:سی پیک پر اب بہت سارے سوالات اٹھ رہے ہیں حکومت کو چاہیے کہ سی پیک کا جو بھی پلان ہے منظر عام پر لائے،میں سی پیک کا بہت بڑا حامی ہوں مگر مجھ بھی ا ب اس میں شکوک وشبہات لگ رہے ہیں ،سی پیک کو اقتصادی راہداری کا ہی منصوبہ رہنا چاہیے ،دفاعی راہداری کا نہیں۔اگر دفاعی راہداری کا منصوبہ بنا تو بڑے خطرات جنم لیں گے ۔اور اگر ہم آنکھیں بند کر کے بنائیں گے تو یہ ہماری خود مختاری کے لیے بھی خطرہ ہوگا۔
س:اگر 2017میں حکومت گرتی ہے تو اس میں آپ ہاتھ سمجھا جائے؟
ج:کوشش میری شامل ہوگی باقی فیصلہ خدا کا ہوگا ،اس سے آگے اور میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔
ج:نواز شریف سمجھتا ہے کہ فوج اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ،کیونکہ باقی سب لوگوں اداروں کو اس نے جیب میں ڈال لیا ہے ،فوج کے علاوہ کوئی بھی ادارہ کام نہیں کررہا سارے کے سارے ادارے سیاست زدہ ہوچکے ہیں ۔
س:بھارت کے ساتھ کیسے تعلقات ہونے چاہیں؟
ج:بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام ایشوز پر بات ہونی چاہیے کشمیر کو پسِ پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ معاملات آگے نہیں بڑھائے جا سکتے ۔ہم کوئی پان مصلحہ کھانے والی قوم نہیں ہم ایک زندہ قوم ہیں ہمیں اپنے حق کی خاطر لڑنا چاہیے ،ہم ایٹمی قوت ہیں ہم نے میزائل کس لیے بنائے ہیں؟
س:بچپن میں شریر تھے یا معصوم تھے؟
ج:بچپن میں میں بہت شرارتی تھا
س:کیا کسی سے محبت ہوئی ہے آپ کو
ج:ہوئی ہے محبت مگر اتنی سیریس نہیں ہوئی ،بہت سے لو گ زندگی میں اچھے لگے مگر ان میں سے کوئی بھی لائف پارٹنر نہیں بن سکا ،ریکھا سے میری دوستی تھی وہ بہت اچھی خاتون ہیں۔
س:فرزندپاکستان کے بعد کوئی کتا ب لکھنے کا ارادہ ہے ؟
ج:جی میں بہت محنت کررہا ہوں ،میری بڑی سخت تیاری ہے ،مگر مجھے ٹائم نہیں مل رہا ۔کتا ب کا نام (سب اچھا ہے)سب اچھا ہے میں بہت ساری چیزیں اور واقعات لکھوں گا مگر جو بھی لکھوں گا سو فیصد سچ اور حقائق پر مبنی لکھوں گا۔
س:پاکستان اور دنیا کے کون کون سے لیڈران آپ کو پسند ہیں؟
ج:پاکستان میں مجھے محمد خان جونیجو بہت پسند تھے ۔دنیا کے لیڈر وںمیں رومیل مجھے بہت پسند تھا ،چرچل بھی پسند تھا اور ڈگال بھی پسند تھا۔
س:سگار کب پینا شروع کیا ۔اور کس سے متاثر ہو کر پینا شروع کیا؟
ج:1985میں سگار پینا شروع کیا کسی سے متاثر نہیں ہو کر ،میں نے اقوام متحد میں پہلی تقریر کی جو میرا خواب تھااس کے بعد صاحبزادہ یعقوب نے مجھے سگار کا ڈبہ بھیجاتب میں نے سگار پینا شروع کیا ،اللہ تعالی صاحبزادہ یعقوب کے درجات بلند کرے۔
س:کیا سیروسیاحت کا شوق ہے آپ کو۔دنیا میں سب اچھا ملک کون سا لگا ؟
ج:پاگل پن کی حد تک مجھے سیروسیاحت کا شوق ہے ،میں 200ممالک کا سفر کر چکا ہوں،ہر ملک کی اپنی ایک خوبی اور ہر ملک کے اندر بہت ہی خوب صورت مقامات ہیں ،مجھے جنوبی افریقہ  اور اس کا شہر کیپ ٹاؤن بہت اچھا لگا ۔
س:عام انتخابات میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کا اتحاد ہو سکتا ہے ؟
ج:میں نہیں سمجھتا کہ ان دونوں جماعتوں کا انتخابی اتحاد ہوسکتا ہے ،کیونکہ عمران خان پیپلز پارٹی کے ساتھ کبھی بھی انتخابی اتحاد نہیں کرے گا ہاں نواز شریف کو ہٹانے کے لیے اتحاد کر سکتا ہے ،اپوزیشن جماعتوں کو نواز شریف کی کرپشن کے خلاف اتحاد کرنا چاہیے اور سب جماعتوں کو مل کر کرپشن کے خلاف تحریک چلانی چاہیے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...