غدار ٹوپیاں اور جاسوس کبوتر

947

ٹائمز آف انڈیا کی خبر ہے کہ انڈیا نے پاکستان کی طرف سے اڑایا گیا  ایک اور جاسوس  کبوتر پکڑ لیا ہے اور اس کبوتر کی جسمانی جانچ جاری ہے تاکہ اس کے جسم پر موجود کسی خفیہ پیغام یا جاسوسی کے آلے کی شناخت کی جاسکے۔ انڈیا میں اس سے قبل بھی مبینہ طور پر جاسوس کبوتروں کو پکڑا گیا تھا جس میں سے ایک کبوتر فرار ہوکر واپس پاکستان آگیا تھا۔ دوسری طرف افواج پاکستان کے ترجمان نے گذشتہ دنوں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منظور پشتین کی "غدار” ٹوپی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کیسے آناً فاناً راتوں رات "پشتین کیپس” کابل میں ڈیزائن ہوکر اور بن کر پاکستان میں "فسادیوں” کی علامت و استعارے کے طور پر پھیلائی جارہی ہیں۔

ٹوپی اور نظریات کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہماری مذہبی شناختوں اور فقہی بحثوں میں ٹوپی کو ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ بغیر ٹوپی کے ننگے سر نماز پڑھنے کے مسئلے پر برصغیر کے مناظرانہ لٹریچر میں بڑی معرکہ آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔ ٹوپی’ پگڑی اور عمامے کے باہمی تعلق اور فوقیت پر بھی تحریریں مل جاتی ہیں۔ نیز عمامے کے مختلف رنگوں میں سے روایت سے قریب تر کون سا ہے اور کتنی فضیلت کا حامل ہے اس پر بھی کتابی بحثوں کے ساتھ ساتھ سینہ بہ سینہ بہت کچھ منتقل ہوتا رہا ہے۔ ہند و پاک کے صوفیانہ سلسلوں سے وابستہ درگاہوں نے بھی اپنی اپنی شناخت کے لئے مختلف طرح کی ٹوپیوں کو ڈیزائن کر کے اپنے مریدوں میں رائج کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ صوفی ٹوپی کی ڈائنامکس سے مکمل طور پر واقف ہوں تو بندے کی ٹوپی دیکھ کر اس کی درگاہ سے وابستگی کا بتا سکتے ہیں۔ کپڑے کی خوبصورت تکون’ چوکور اور اس سے زائد حاشیوں والی مختلف رنگوں کی ٹوپیاں آپ کو مل جاتی ہیں۔ ان میں سے بعض اقسام کی ٹوپیاں صرف مخصوص درگاہوں سے ہی ملتی ہیں اور مارکیٹ میں ان کی عام سپلائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ سیاسی میدان میں جناح کیپ کا بہت چرچا رہا ہے اور اس ٹوپی کو علمائے کرام کے شہری حلقوں میں بھی پذیرائی ملی ہے۔ دیوبندی علماء کی اکثریت رومال’ عمامے یا سفید ٹوپی کو پسند کرتی ہے۔ گو کہ بعض علماء قراقلی ٹوپی بھی پہنتے ہیں۔ بریلوی علماء کی اکثریت اپنی مخصوص شناخت والی ٹوپی یا پھر عمامے کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ اھل حدیث علماء میں قراقلی ٹوپی مقبول رہی ہے مگر کچھ عرصے سے سفید ٹوپی اور سرخ و سفید رومال نے زور پکڑ لیا ہے۔

سپاہ صحابہ کی تحریک کے زیر اثر ٹوپیوں کا کلچر بھی تبدیل ہوا اور مختلف رنگوں کی ٹوپیاں سامنے آنا شروع ہوئیں۔ سندھی اسٹائل کی ٹوپی اب بہت سے نوجوان علماء و واعظین پہنے ہوئے دکھائے دیتے ہیں۔ لال مسجد کے واقعے کے بعد پشتین کیپ کے رنگوں سے ملتی جلتی ٹوپی مقبول ہونا شروع ہوئی اور یہ وہی ٹوپی ہے جو عبدالرشید غازی مرحوم استعمال کرتے تھے۔ جہادی کلچر سے بھی کئی طرح کی ٹوپیاں اور عمامے سامنے آئے۔ کالے رنگ کے عمامے کا خوب چرچا رہا اور اس میں کچھ سفید پٹیوں کے حذف و اضافے سے کئی گروہوں کے علامتی عمامے سامنے آئے۔ تھانوی ٹوپی بھی اپنی خاص شناخت رکھتی تھی گو کہ اب یہ تقریبا ناپید ہونے کو ہے۔

منظور پشتین کی ٹوپی نے بڑی تعداد میں پشتون (اور اب غیر پشتون بھی) نوجوانوں کو متاثر کیا ہے اور مزاحمت (آپ غداری بھی کہہ سکتے ہیں اپنے ذوق کے مطابق) کے استعارے کے طور پر یہ ٹوپی یکایک مقبول ہوگئی ہے۔ آپ ٹوپیاں فروخت کرنے والے کسی بھی دوکاندار کے پاس جائیں تو وہ آپ کو بتائے گا کہ پشتین کیپ کی کیا مانگ ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مانگ اور پشتین کیپ کے علامتی استعمال سے تنگ آ کر اور چڑ کر ہی یہ بیان سامنے آیا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی اس طرح کی برانڈنگ افغانستان سے کی جا رہی ہے۔ اگر حقیقت میں ایسی کوئی بات ہے بھی تو اس انداز میں اسے میڈیا کے سامنے بیان کرنے سے برانڈ کی مانگ میں اضافے کے علاوہ آپ کچھ اور حاصل نہیں کرسکتے۔ چی گویرا کی ٹوپی اس سلسلے میں ایک کلاسک مثال ہے کہ پاپولر کلچر سیاسی نظریات کو پیچھے چھوڑ کر اپنی جڑیں معاشرے کے ہر طبقے میں پیوست کر لیتا ہے۔ ایسے میں پاپولر کلچر کے استعاروں کے پیچھے بھاگنے اور انہیں پابند سلاسل کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ را کی مبینہ سازش سے مشہور ہونے والی منظور پشتین کی ٹوپی اور آئی ایس آئی کی مبینہ سازش سے بھیجا گیا جاسوس کبوتر’ دونوں اس بداعتمادی کا مظہر ہیں جس کا شکار ہم دہائیوں سے ہیں۔ اس مسئلے کا حل کبوتر کی گرفتاری اور ٹوپی کی بندش میں نہیں ہے۔ اسے حل کرنے کے لئے آوٹ آف باکس سلوشن کی ضرورت ہے مگر اس پر بات کرنے کے لئے غداری کے ڈسکورس سے نکل کر اعتماد سازی پر مبنی ماحول قائم کرنا پڑے گا۔ اگر یہ نہ کیا گیا تو کوئی نئی ٹوپی سامنے آجائے گی کہ تم کتنی ٹوپیاں مارو گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...