کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

121

Justice rushed is justice crushed یہ وہ پیغام تھا جو مریم نواز نے اپنے والد سابق وزیر اعظم نوازشریف کے حوالے سے ٹوئٹر پر47 لاکھ سے زائد فالورزکو دیا۔آج 11 جون کو نوازشریف کمرہ عدالت پہنچے تو سب سے پہلے اپنے اسٹاف سے کہا کہ ان کی گاڑی سے اخبارات نکال کر لائے جائیں۔ کچھ دیر میں عملہ نے سب اخبارات نوازشریف کے پاس حاضر کردیے۔ نوازشریف نے اس خبر پر بھی نظر دوڑائی جو اتوار کے دن سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ہونے والی سماعت سے متعلق تھی،جس میں  نوازشریف کے خلاف ریفرنسز پر سماعت کی گئی  اور احتساب عدالت کو ایک ماہ میں تینوں ریفرنسز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیاگیا ۔ نوازشریف نے غیر رسمی بات چیت  میں  مشرف کے حوالے سے کچھ بھی نہ کہنے کا عزم کیا ۔ الیکشن 2018 میں پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لیے چوہدری نثار سے متعلق پوچھے گئے سوال پر بولے ابھی ان کا اس حوالے سے بیان نہیں پڑھا۔ البتہ جب ان کی توجہ چیف جسٹس کی طرف سے آنے والی  آفر کی طرف دلائی گئی تو جواب دیا کہ میں نے چھٹی کے لیے درخواست نہیں دی۔ احتساب عدالت میں  دی تھی، وہ مسترد ہوگئی ہے، اب عید کی چھٹیاں آ گئی ہیں، دیکھوں گا اگر برطانیہ جاسکا تو چلا جاوں گا۔

آج نوازشریف کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں پانامہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء پر جرح ہونی تھی۔ واجد ضیاء وقت سے پہلے ہی عدالت پہنچ چکے تھے۔ عدالتی کارروائی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہورہا تھا کہ کمرہ عدالت کے دروازے سے نکل کر ایک عدالتی اہلکار نے مقدمہ شروع ہونے کی دہائی دیتے ہوئے کہا نواز شریف وغیرہ۔ سابق وزیر اعظم نے دھیان سے اس صدا کو سنا۔ کچھ دیر بعد خواجہ حارث عدالت میں داخل ہوئے تو ہاتھ میں کاغذات کا بنڈل موجود تھا۔ خواجہ حارث نے مسکراتے ہوئے جج محمد بشیر سے پوچھا کیا تلاوت ہوگئی ہے۔ خواجہ حارث کے استفسار پر جج کے دائیں جانب بیٹھے عدالتی افسر عبدالمنان نے دوبارہ تلاوت کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد خواجہ حارث نے تسلی سے جج کو مخاطب کرتے ہوئے گذشتہ دن سپریم کورٹ کی  لاہوررجسٹری میں ہونے والی سماعت سے متعلق آگاہ کیا۔  خواجہ حارث نے بتایا کہ ایک ماہ کے اندرریفرنسز پر فیصلے کا حکم دیاگیا  ہے۔ چیف جسٹس نے ہفتے اور اتوار کو بھی کام جاری رکھنے کا کہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس سے 6 ہفتے کی درخواست کی تھی جو منظور نہیں کی گئی اورمیرے  لیے ڈکٹیشن پر کام کرنا ممکن نہیں ہے۔ اب میرے لیے  اپنے موکل کے  ٹرائل  کوشفاف بنانا اور انہیں آئینی حق دلوانا ممکن نہیں رہا۔ خواجہ حارث نے چیف جسٹس پر ڈکٹیشن کا الزام عائد کرنے کے بعد اپنا رخ احتساب عدالت کے کنڈکٹ پر بھی کیا اورجج محمد بشیر سے کہا کس طرح آپ  تینوں ریفرنسز پر ایک ساتھ فیصلہ دینے سے متعلق اپنے تحریری فیصلے سے پیچھے ہٹ گئےہیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے احساب عدالت سے انصاف کی امید نہیں ہے۔ خواجہ حارث  نے تینوں ریفرنسز میں علیحدہ علیحدہ تحریر کردہ درخواستیں جج کے حوالے کرتے ہوئے روسٹرم چھوڑ دیا۔ جج محمد بشیرنے نوازشریف کو روسٹرم پر بلا لیا۔ نوازشریف نے خواجہ حارث کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکارکردیا کہ اب وہ ان  کے مقدمات میں  وکیل نہیں رہے، جو کہنا ہے عدالت کو خود کہیں۔ خواجہ حارث کی جگہ نواز شریف کے ساتھ  آج سینیٹر پرویز رشید روسٹرم پر کھڑے نظر آئے۔ نوازشریف اپنے مقدمات میں وکیل کے طور پر پیش ہوئے تو جج نے استفسار کیا کہ کیا اب وہ نیا وکیل لائیں گے یا پھر خواجہ حارث کو راضی کر لیں گے؟ نوازشریف نے مشاورت کے لیے کچھ دن کا وقت مانگا اور کمرہ عدالت سے باہر نکل گئے۔ جج محمد بشیر نے چند گھنٹوں کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے نوازشریف کو 24 گھنٹوں میں نیا وکیل کرنے کا ٹاسک  دیا اور ان کے خلاف تینوں ریفرنسز پر سماعت ایک دن کے لیے موخرکردی۔

نوازشریف نے اس انصاف سے متعلق غیر ضروری جلدی پرسوالات اٹھائے اور کہا اتنی کڑی شرائط پر کوئی وکیل ان کا کیس لڑنے کو تیار نہیں ہے۔ بغیر تیاری کے وکلاء کو پیش ہونے کا کہا جارہا ہے، جو ممکن نہیں ۔ پھر کہا کہ اب مجھے وکیل سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔ نوازشریف نے کہا یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے جو چل تو احتساب عدالت میں رہا ہے لیکن ڈوریں سپریم کورٹ سے ہلائی جارہی ہیں۔ نوازشریف نے کہا جس عدالت میں وہ پیش ہوتے ہیں اس میں 40 سے زائد اور مقدمات بھی ہیں۔ انہوں نے کہاجلدی میں فیصلہ کرنا ضروری ہے تو کردیں۔ انہوں نے احتساب عدالت کے اس رویے کو آئین کے آرٹیکل A -10 کی خلاف ورزی قراردیا۔

ٹرائل کے 9 ماہ بعد ابھی تک کسی کیس کا فیصلہ نہیں  ہوسکا۔ نیب نے ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے اور سپریم کورٹ سے اضافی وقت کی درخواست کی جاتی رہی۔  بظاہر لگتا ہے کہ نوازشریف کے مقدمات کا فیصلہ اب مزید تاخیر کا شکار ہو گا اور اس کی ذمہ داری  بھی عدالتوں پرہی عائد ہوگی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...