قائداعظم کے پاکستان کا اغوا ء

38

ڈاکٹر سید جعفر احمد پاکستان میں سماجی علوم کے ممتاز سکالر ہیں ۔ وہ جامعہ کراچی سے برسوں تک وابستہ رہے ہیں ۔ اس طویل رفاقت میں وہ سترہ برس تک پاکستان اسٹڈی سنٹر جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائض رہے ہیں ۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے ایم اے سیاسیات ، مطالعہ پاکستان میں ایم فل اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے سماجی و سیاسی علوم میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے ۔ آپ کا تدریسی تجربہ پاکستان کی سیاسیات بالخصوص وفاقیت ، آئینی ارتقا ، انسانی حقوق اور تعلیمی مسائل کے میدانوں تک پھیلا ہوا ہے ۔ وہ نامور محقق ہیں ۔ ان کی تحریر کردہ کتب کی تعداد پچیس ہے ۔ جن کی پہچان سائنسی اصولوں کی گئی تحقیقی سوچ ہے ۔ وہ سول سوسائٹی کا سرگرم حصہ ہیں۔ وہ اپنے علمی و تحقیقی کام کے سبب بہت سی ملکی و غیر ملکی کانفرنسسز میں اپنے مقالہ جات پیش کرچکے ہیں ۔ زیر نظر مضمون کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس میں ان کا پڑھا گیا مضمون ہے جس میں وہ اس مشکل موضوع کو( کہ قائد اعظم کا پاکستان کیسا تھا)کو سادہ انداز میں سمیٹتے ہیں ۔ (ازطرف مدیر)

میں آرٹس کونسل پاکستان کا ممنون ہوں جس نے آج قائد اعظم کا پاکستان کے عنوان سے یہ اجلاس اپنی عالمی اردو کانفرنس کے ایک حصے کے طور پر رکھا ہے۔ میں آپ کی اجازت سے اپنے عنوان میں تھوڑا سا اضافہ کر رہاہوں۔ میرے مضمون کا عنوان ہوگا: قائداعظم کے پاکستان کا اغوا۔
میں یہ مضمون ایک ایف آئی آر(FIR)کی شکل میں تحریر کر رہا ہوں اور کیونکہ اغوا کی اس سفاک واردات کی کوئی ایف آئی آر پاکستان کے کسی تھانے میں درج نہیں ہوسکتی، لہذا یہ ایف آئی آر میں آرٹس کونسل کے اس جمہوری ایوان میں درج کروا رہا ہوں۔ ریاستیں جب ڈِھل مِل ہوجائیں اور مرجھانے لگیں تو قوت کے سرچشمے معاشرے ہی میں تلاش کیے جاتے ہیں۔
جنابِ والا، یہ ایف آئی آر میں ملک کے ایک شہری کی حیثیت سے درج کروا رہا ہوں۔ واضح رہے کہ یہ ایف آئی آر پاکستان کے حوالے سے نہیں ہے کیونکہ وہ تو ہے، موجود ہے۔ میں یہ ایف آئی آر قائد اعظم کے پاکستان کے حوالے سے درج کروانے پر مجبور ہوں۔میں مسمی سید جعفر احمد، پاکستان بننے کے دس سال بعد اس دنیا میں آیا۔ پاکستان سے میرا ایک مادی اور جذباتی رشتہ ہے۔ میں جب پاکستان بنا اور میری والدہ نے اس سر زمین پر قدم رکھا تو ان کے پیروں میں چپلیں نہیں تھیں۔ میں نے ساری زندگی یہی جانا کہ جنت میری ماں کے قدموں کے نیچے اور پاکستان کی مٹی کے اوپر ہے۔ جناب والا میری یہی جنت، قائد اعظم کے پاکستان کے اغوا کے ساتھ اغوا ہوئی ہے۔
میں ضروری سمجھتا ہوں کہ قائد اعظم کے پاکستان کے کچھ کوائف اور اس کی کچھ پہچان یہاں درج کردوں۔ قائد اعظم نے ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے حصول کو اپنا نصب العین بنایا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ انگریزی حکمرانی کے زمانے میں ہندوستان میں نمائندہ اداروں کے قیام کے بعد آبادی کے مختلف حلقوں کا سیاسی مستقبل ان کی عددی حیثیت سے مشروط ہوتا چلا جائے گا۔ انگریزہی کے زمانے میں ہندوستان میں مردم شماری کاآغاز ہوا اور اندازہ ہوگیا کہ مسلمان جنہوں نے آٹھ نو سو سال یہاں حکمرانی بھی کی تھی، آبادی کا محض یا فیصدہیں۔ مسلمانوں کے وکیل کی حیثیت سے قائداعظم نے ان کے لیے مستقبل کے ہندوستان میں ایک موزوں حیثیت کے حصول کی جدوجہد شروع کی۔ وہ مسلمان اکثریت کے صوبوں کی تعداد بھی بڑھوانا چاہتے تھے تا کہ ہندوستان کے وفاق میں مسلمانوں کو ایک قابل لحاظ مقام حاصل ہوجائے۔ انہوں نے دو قومی نظریے کو اپنی دلیل بنایا، جس کا مقصد مسلمانوں کو ایک جداگانہ سیاسی تشخص فراہم کرنا تھا۔ ان کا دو قومی نظریہ ایک سیاسی ذہن کی سیاسی حکمتِ عملی تھی جو ایک خاص سیاسی مقصد سے اختیار کی گئی تھی۔ قائد اعظم کسی اعتبار سے مذہبی مناقشہ پیدا نہیں کرنا چاہ رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تحریکِ خلافت میں حصہ نہیں لیا اور اس کو جذباتی ہیجان کا مظہر قرار دیا۔ قائد اعظم کے دو قومی نظریے کی اس سے بہتر تشریح نہیں ہوسکتی، جو خود انہوں نے مارچ کو میمن چیمبر میں تقریر کرتے ہوئے پیش کی :
I assure you that I have respect for the great Hindu community and all that it stands for. They have their faith, their philosophy; their great culture, so have the Muslims, but the two are different. I am fighting for Pakistan, because it is the only practical solution for solving the problem, and the other ideal of a united India and a rule based on the parliamentary system of government is a vain dream and an impossibility.
ترجمہ: میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ عظیم ہندو کمیونٹی کے لیے اور جن چیزوں کی وہ علمبردار ہے، ان کی نسبت میں بڑے احترام کے جذبات رکھتا ہوں۔ ان کے اپنے عقائد ہیں، اپنا فلسفہ ہے، اپنی عظیم تہذیب ہے، مسلمانوں کے پاس بھی یہ سب کچھ ہے مگر دونوں مختلف ہیں۔ میں پاکستان کے لیے لڑ رہا ہوں کیونکہ یہی واحد حل ہے مسئلے کا، اور دوسرا متحدہ ہندوستان کا آئیڈیل اور پارلیمانی طرزِ جمہوریت کی بنیاد پر حکومت سازی ایک لاحاصل خواب اور ایک ناممکن شے ہے۔
مطالب پاکستان پیش کرنے کے بعد ایک اور موقع پر انہوں نے کہا:
What are we fighting for. What are we aiming at. It is not theocracy, not for a theocratic state. Religion is there and religion is dear to us. All the worldly goods are nothing to us, when we talk of religion; but there are other things which are very vital – our social life, our economic life. But without political power how can you defend your faith and your economic life.
ترجمہ: ہم کس لیے لڑ رہے ہیں۔ ہمارا ہدف کیا ہے۔ یہ کوئی الوہی مملکت نہیں ہے۔ ہم مذہبی ریاست کے لیے نہیں لڑ رہے۔ ہاں مذہب ہے، اور مذہب ہمیں عزیز ہے، مگر اور بھی چیزیں ہیں جو بہت اہم اور ناگزیر ہیں۔ ہماری سماجی زندگی ہے،ہماری اقتصادی زندگی ہے۔ مگر سیاسی طاقت کے بغیر آپ اپنے عقیدے اور اقتصادی زندگی کو کس طرح محفوظ بنا سکتے ہیں؟
نومبر کو علیگڑھ یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک پرانے کانگریسی لیڈر اور سابق وزیر داخلہ کے الزامات کا جواب دیا جن کا کہنا تھا کہ:
The State under the Pakistan Scheme would not be a civil government responsible to a composite legislature consisting of all communities, but a religious State pledged to rule according to the teaching of that religion thus by implication excluding all others not following that religion from a share in the government.
ترجمہ: پاکستان میں ریاست ایک ایسی حکومت کی حامل نہیں ہوگی جو تمام کمیونیٹیز کی نمائندہ مقننہ کے سامنے جوابدہ ہو، بلکہ یہ ایک مذہبی ریاست ہوگی جس کا مقصد اس مذہب کی تعلیمات کے مطابق حکمرانی کرنا ہوگا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس مذہب کے پیروکار نہیں ہوں گے، وہ حکومت میں حصہ کے حقدار نہیں ہوسکیں گے۔
قائد اعظم نے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا:
Is it not an incitement to the Sikhs and the Hindus? Telling them that it would be a religious State excluding them from all power is entirely untrue…. They are like brothers to us and would be the citizens for the State.
ترجمہ: کیا یہ ہندوں اور سکھوں کو اکسانے کی کوشش نہیں ہے۔ ان کو یہ بتانا کہ یہ (پاکستان)ایک مذہبی ریاست ہوگی جس میں انہیں حکومت واقتدار سے الگ رکھا جائے گا، کھلا جھوٹ ہے۔ وہ(ہندو اور سکھ)ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں، اور وہ ریاست کے شہری بن کر رہیں گے۔
جناب والا، قائداعظم کے ایسے بیسیوں بیانات ہیں جو پاکستان کو ایک جدید جمہوری ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے موقع پر اگست کے مہینے میں انہوں نے جو آئین ساز اسمبلی میں اظہار خیال کیا اور شہریوں کی برابری کا جو منشور پیش کیا اس کو پاکستان کا میگناکارٹا قرار دیا جاسکتا ہے۔ بس جناب والا، اسی میگنا کارٹا کے پیش ہونے پر قائد اعظم کے پاکستان کے اغوا کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ ان کوششوں کا آغاز سول اور ملٹری بیوروکریسی کی طرف سے ہوا، جو پاکستان کو کسی طور ایک جمہوری وفاق بنانے پر آمادہ نہیں تھی۔ قائد اعظم کی مذکورہ تقریر کو سنسر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ کسی طور شائع ہوگئی۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد سول ملٹری بیوروکریسی کی تشکیل کردہ مقتدرہ نے بجائے پاکستان میں کسی معاہد عمرانی کی بنیاد پر ملک کی ثقافتی وحدتوں اور تہذیبی تنوعات کی بنیاد پر ایک جمہوری وفاق تشکیل دینے کے قومی سلامتی کے نام پر بنائی گئی ایک شدید قسم کی مرکزیت پسند ریاست کی تعمیر کی جس نے قائد اعظم کے افکار کو پہلے ہی مرحلے میں ایک طرف رکھ دیا اور ان قوتوں کو منظرِ عام پر لے آئی جو نظری اور فکری اعتبار سے قیامِ پاکستان کی مخالف رہی تھیں۔ جناب والا، واضح رہے کہ پاکستان کے یہی مخالفین بعدازاں پاکستان کے اغوا میں یا تو براہ راست طور پر شریک ہوئے، یا انہوں نے اس سلسلے میں سہولت کاروں کا کردارا دا کیا۔ پاکستان کے ایک شہری کی حیثیت سے میں اس ایف آئی آر میں چند سہولت کاروں کی نشاندہی ضروری سمجھتا ہوں۔ میں اس ایف آئی آر میں منسلک کر رہا ہوں فتووں کی ایک کتاب:الجوابات السِنیہ علی زھاِ السوالاتِ الیگِیہیہ مسلم لیگ کے بارے میں دریافت کردہ سوالات کے بارے میں اکابر علما کے فتوے ہیں،جن میں سے چند فتوے یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔
تاج العلما محمد میاں نے فرمایا: آل انڈیا مسلم لیگ کا دستوراساسی اور اغراض ومقاصد صریح محرماتِ شریعہ پر مشتمل اور حرامِ قطعی ہے اور ان کے ہوتے ہوئے لیگ کی شرکت و رکنیت سخت ممنوع اور حرام ہے ۔
قائد اعظم کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایک ایسی جماعت جس کا صدر بدمذہب ہوکیا اس میں شمولیت اختیار کی جاسکتی ہے؟
تاج العلما محمد میاں صاحب نے فتوی دیا: ناجائز اور حرام ہے۔ مفتی مناظرِاعظم حشمت علی خاں نے فتوی دیا: بد مذہب کو صدر بنانا اور کسی مجلس کا بد مذہب صدر ہو تو اس کا رکن بننا ناجائز اور حرام ہے۔
جناب والا، یہ ایک مسلک کے علما کے فتوے ہیں۔ ایک اور مسلک کی طرف آئیے۔
مفتی مناظرِ اعظم حشمت علی خان قادری کا فتوی ہے:جمہوری سلطنت قائم کرنے کی کوشش کرنا جس میں کفارو مشرکین ومرتدین پوری طرح آزاد اور خود سرہوں، شرعا قطعا حرام ہے۔ لیگ کے مقصدِ اولین میں اچھوتوں، سکھ، پارسیوں، ہندوستانی ، یہودیوں، ہندوستانی عیسائیوں کے ادیانِ باطلہ ومذاہب کفریہ وعقائد شرکیہ کی تبلیغ واشاعت کی مثر ومکمل حفاظت کرنا ٹھہرا۔ یہ کھلا ہوا کفر اور ارتداد ہوگا۔
سید العلما آلِ مصطفی قادری فتوی دیتے ہیں:لیگ کا مقصدِ الف حسب ذیل ہے: ہندوستان میں کامل آزاد وفاقی جمہوری پارٹیوں کا قیام جس کے دستور میں مسلمانوں کی اور دوسری اقلیتوں کے حقوق ومفاد اور مکمل حفاظت کی جائے۔ اللہ اکبر، کتنے مہیب الفاظ ہیں جن کا تخیل ہی اسلامی دماغ رکھنے والے انسان کو لرزہ براندام کردیتا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر مولانا ابوالاعلی مودودی کو قائد اعظم کے تصور پاکستان یعنی پاکستان کے قومی ریاست ہونے پر اعتراض تھا۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمان یا تو نسلی مسلمان ہوتے ہیں یا عقلی مسلمان۔ قومی ریاست نسلی مسلمانوں پر مشتمل ہوگی چنانچہ اس کا اسلامی ریاست ہونا ممکن نہیں ہے۔ وہ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے۔مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش میں لکھتے ہیں:
بازاروں میں جائیے، مسلمان رنڈیاں آپ کو کوٹھوں پر بیٹھی نظر آئیں گی اور مسلمان زانی گشت لگاتے ملیں گے۔ جیل خانوں کا معائینہ کیجیے، مسلمان چوروں ، مسلمان ڈاکوں سے آپ کا تعارف ہوگا۔ دفتروں اور عدالتوں کے چکر لگائیے، رشوت خوری، جھوٹی شہادت،جعل فریب، ظلم اور ہر قسم کے اخلاقی جرائم کے ساتھ آپ لفظ مسلمان کا جوڑ لگا ہوا پائیں گے۔ سوسائٹی میں پھریے کہیں آپ کی ملاقات مسلمان شرابیوں سے ہوگی کہیںآپ کو مسلمان قمار باز ملیں گے، بھلا غور تو کیجیے یہ لفظ مسلمان کتنا ذلیل کر دیا گیا ہے اور کن کن صفات کے ساتھ جمع ہو رہا ہے۔
مولانا مودودی کا خیال تھا کہ جناح صاحب جو مملکت بنا رہے ہیں اس میں یہ سب مسلمان یکجا ہوں گے۔ سو یہ نسلی مسلمانوں کی ایک قومی ریاست تو ہوگی، یہ اسلامی ریاست نہیں ہوسکتی۔ مولانا، قائداعظم کو مسلمانوں کا قائد اعظم کہنے کے بجائے طنزا لیگ کا قائد اعظم کہتے تھے۔وہ لکھتے ہیں:
مگر افسوس کہ لیگ کے قائد اعظم سے لے کے چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی مسلمان ایسا نہیں جو اسلامی ذہنیت اور طرزِ فکر رکھتا ہو اور معاملات کو اسلامی نقط نظر سے دیکھتا ہو۔ یہ لوگ مسلمان کے معنی ومفہوم اور اس کی مخصوص حیثیت کو بالکل نہیں جانتے۔ ان کی نگاہ میں مسلمان بھی ویسی ہی ایک قوم ہے جیسی دنیا میں دوسری اور قومیں ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہر ممکن سیاسی اور ہر مفید مطلب سیاسی تدبیر سے اس قوم کے مفاد کی حفاظت کر دینا ہی بس اسلامی سیاست ہے۔ حالانکہ ایسی ادنی درجے کی سیاست کو اسلامی سیاست کہنا اسلام کے ازال حیثیتِ عرفی سے کم نہیں ہے۔
ہماری نصابی کتابیں بڑے فخر سے اعلان کرتی ہیں کہ دستور سازی میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ قراردادِ مقاصد کے پیچھے سب سے فعال کردار انہی کا تھا لیکن علامہ شبیر احمد عثمانی خود قائداعظم کے بارے میں کیا تصور رکھتے تھے، اس کا اظہار عبید الرحمن ایڈوکیٹ نے اپنی کتاب یاد ہے سب ذرا ذرا میں کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ قائداعظم لکھن تشریف لے گئے تو کسی نے اعتراض کیا کہ علما ایک مغرب زدہ آزاد خیال شخص کے پیچھے کیوں چل رہے ہیں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے جواب دیا کہ چند سال پہلے وہ حج کے لیے بمبئی سے روانہ ہوئے تو جہاز ایک ہندو کمپنی کا تھا اور جہاز کا کپتان انگریز تھا جبکہ جہاز کا دیگر عملہ ہندو،یہودی اور عیسائی افراد پرمشتمل تھا۔ شبیر احمد عثمانی کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ ایسا مقدس سفر اور یہ وسائل! لیکن جب عرب کا ساحل قریب آیا تو ایک کشتی میں سوار ایک عرب جہاز کی طرف آیاا ور اس نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ وہ اس کی اپنی رہنمائی میں سمندری پہاڑیوں اور مشکل آبی گزرگاہوں سے بچاتے ہوئے ساحل تک لے آیا۔ شبیر احمد عثمانی کا یہ کہنا تھا کہ ہم بھی یہی کر رہے ہیں، ابھی تحریک جاری ہے۔جدوجہد کا دور ہے۔ اس وقت جس قیادت کی ضرورت ہے۔ وہ قائداعظم میں موجود ہے۔ منزل تک پہنچانے کے لیے ان سے بہتر کوئی متبادل قیادت نہیں۔ منزل کے قریب ہم اپنا فرض ادا کریں گے۔
سو جناب والا، یہ تصور تھا ہماری ایک مقتدر مذہبی شخصیت کا جو اپنے تئیں قائداعظم کو جہاز کے انگریز کپتان کی طرح صرف ساحل تک لے جانے کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے۔ قائداعظم کی آنکھیں بند ہوتے ہی کس طرح جہازکے کپتان تبدیل ہوئے اور کس طرح قائد اعظم کے پاکستان کو اغوا کر کے نئے راستوں پر ڈالا گیا۔ اس کے عینی شاہد کروڑوں کی تعداد میں اس مملکت میں موجود ہیں ۔ میں ان سب پاکستانی باشندوں کو اپنی ایف آئی ار میں عینی شاہدین کے طور پر نامزد کرتاہوں۔
اغوا کے بعد مملکت کو کہاں کہاں لے جایا گیا۔ یہ سیٹو اور سنٹو کے بالا خانے پر بیٹھی، اس نے بڈابیر میں امریکیوں کے لیے اڈے بنتے دیکھے۔ اس نے بنگالیوں کے ذوق خودمختاری کو گولیوں سے چھلنی ہوتا دیکھا۔ اس نے آٹھ سال تک جہاد کے نام پر افغانستان کی سرحدوں پر بیرونی طاقتوں کے کھیل کا مشاہدہ کیا ۔ اس نے پچھلے سولہ سال میں خودکش حملوں میں پچاس ہزار کے قریب شہریوں کو خون میں نہاتے ہوئے دیکھا۔
اور آج جناب والا، قائد اعظم کا پاکستان اگر کہیں حاشیہ خیال میں ہو توہو، عملا جو کچھ برسرزمین ہے وہ وہی ہے جس کو قائد اعظم نے رد کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان تھیوکریسی نہیں ہوگا اور یہاں پارلیمان کی بالادستی ہوگی۔ آج سیال شریف کے ایک پیر صاحب مورچہ لگائے بیٹھے ہیں، اور پارلیمان کے اراکین سے استعفے طلب کر رہے ہیں۔ ایک صاحب اٹھارہ بیس دن فیض آباد میں بیٹھ کر جس طرح سے اپنا فیض ارزاں کرتے رہے، اس کو سنتے ہوئے بہت سوں نے کہاکہ کاش اس سب سے پہلے ہماری سماعتیں ختم ہوجاتیں۔ پاکستان کو تھیوکریسی بننے کا خطرہ لاحق نہیں ہے، پاکستان تھیوکریسی بن چکا ہے۔
میں یہ ایف آئی آر اس مہذب ایوان میں اس امید کے ساتھ پیش کر رہا ہوں کہ یہاں موجود اہل درد اور صاحبانِ نظر قائد اعظم کے یومِ پیدائش کے اس موقع پر ان کے ملک کی بازیافت کے لیے باہر نکلیں گے۔ مہذب شہریوں کا اتحاد اور ان کا ملک کے مستقبل اور اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے یکسو ہونا واحد طریقہ ہے ، قائداعظم کے پاکستان کی بازیافت کا۔

حوالہ جات

1. Waheed Ahmad (ed.), The Nation’s Voice, Vol.VI (Karachi: Quaid-i-Azam Academy, 2002), pp.15-16.
2. M.A.H. Ispahani, Quaid-e-Azam as I Knew Him (Karachi: Shaikh Mohammad Ashraf, 1968), p.326.
3. Ibid.
۴۔ الجوابات السِنیہ علی زھاِ السوالاتِ الیگِیہیعنی مسلم لیگ کے متعلق خوشنما سوالوں کے روشن جواب (حسبِ فرمائشِ اراکینِ جماعتِ مبارک اہلسنت، محلہ محتشم خان، پیلی بھیت (بمبئی: مطبع سلطانی واقع پیرولین ، بمبئی نمبر ، تاریخ ندارد)
۵۔ سید ابو الاعلی مودودی،مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش، حصہ سوم (لاہور: مرکزی مکتبہ جماعتِ اسلامی، تاریخ ندارد)، ص ۔
۶۔ ایضا ، ص ۔
۷۔ عبید الرحمن، یاد ہے سب ذرا ذرا، ص ، منقولہ، وجاہت مسعود، قراردادِ مقاصد اور سیکولرازم، ارتقا، شمارہ نمبر ، کراچی، ارتقا مطبوعات، ستمبر )، ص ۔)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...