بین المذاہب ہم آہنگی اور عقیدے کی آزادی : 2 روزہ ورکشاپ کا احوال

94

پاک انسٹی ٹیوٹ  فار پیس اسٹڈیز کے زیراہتمام دو روزہ ورکشاپ بعنوان عقیدے  کی آزادی و بین المذاہب ہم آہنگی مقامی ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہوئی  ۔

دو روزہ ورکشاپ کے پہلے دن تین سیشن ہوئے جس میں  صبح کے سیشن کی صدار ت  کے فرائض محترم ظفراللہ خان ڈائریکٹر پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمننٹری اسٹڈیز  نے جبکہ بعد از دوپہر  سیشن کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر خالد مسعود سابق چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل نے سرانجام دیئے ۔ ڈاکٹر اے ایچ نیئر صاحب گفتگو میں مہمان خصوصی تھے ۔

شرکاء میں ملک  بھر سے  تمام مکاتب  فکر کے نمائندہ افراد شریک ہوئے۔   یہ ورکشاپ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی ریسرچ کا تسلسل ہے جس میں ملک بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے ۔ صفدر سیال نے  پہلے سیشن کا آغاز کیا اور ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کئے ۔  ظفراللہ خان صاحب نے اپنی گفتگو میں آئین کی مختلف شقوں کی تشریح کرتے ہوئے کہا  کہ آئین پاکستان میں مسلم و غیر مسلم شہریوں کے مابین عقیدے کی بنیاد پر کوئی تفریق روا نہیں ہے بلکہ غیر مسلم شہریوں کو بعض صورتوں میں زیادہ سہولیات میسر ہیں  جنہیں آئینی تحفظ حاصل ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے سماجی رویئے پاکستانی اقلیتی برادری میں خوف و ہراس کا باعث بن رہے ہیں جن میں مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ شرکاء میں سے بعض کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے پچاس سے زائد ممالک میں مذہب کو ریاستی حیثیت حاصل ہے لہذا پاکستان کو ایک علیحدہ یا متعصب ریاست سمجھنا درست رویہ نہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا  کہ ووٹ کی چابی سے ہی زنگ آلود نظام کا تالہ کھلے گا۔

دوسرے اور تیسرے سیشن کی صدرات جناب ڈاکٹر خالد مسعود صاحب سابق چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل نے کی۔ ان کی پریزینٹیشن کا خلاصہ تھا کہ پاکستان میں موجود غیرمسلم برادری اسلامی فقہ کی تشریحات میں برابر کی شہری ہیں۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی تفریق یا تعصب  کا سامنا اسلامی فقہ  کی رو سے جائز نہیں ہوگا ۔ ان کے اس سوال پر کہ پاکستان میں مذہبی تفریق کی موجودگی میں انسان دوست رویہ کس طرح ممکن ہے شرکاء نے اپنی رائے دی۔ زاہد محمود وزٹنگ لیکچرر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ معیشت ، تعلیم اور جمہوریت میں بلاتفریق عوامی شمولیت سے پاکستان کو ایک پرامن اور ترقی یافتہ معاشرہ بنایا سکتا ہے ۔سردار رادیش شنگھ ٹونی نے کہا کہ پاکستان کی سکھ برادری نے پاکستان کے حصول کے بعد ہمیشہ ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹایا ہے ۔ محترمہ رومانہ بشیر نے کہا کہ ملک میں نصاب کی سطح پر تمام مذاہب کی تعلیمات جو کہ امن پسندی کے موضوعات  پر ہیں انہیں شامل نصاب کرنا چاہیئے۔ ہارون سرپ دیال سربراہ آل پاکستان ہندو فیڈریشن نے کہا کہ سماجی رویئے بہتر کرنے کے لئے علماء کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جس طرح ڈینگی بخار اور پولیو کی مہم پر علماء نے اپنا کردار ادا کیا ہے اسی طرح غیر مسلم برادریوں کے ساتھ غیر متعصب رویئے کے لئے علماء کو آگے آنا ہوگا۔ دیگر نمایاں شرکاء میں مفتی عبدالجمیل عابد مہتمم مدرسہ عائشہ للبنات پشاور ، آگسٹن جیکب ، افضل خان شنواری شامل تھے ۔ تمام شرکاء نے اس ورکشاپ اور اس کے موضوع کو سراہا اور اس میں ہوئی گفتگو پر اطمینان کا اظہار کیا ۔

ورکشاپ کے آخری  دن تین سیشن ہوئے جس میں  صبح کے سیشن کی صدار ت  کے فرائض محترم صاحبزادہ امانت الرسول صاحب سربراہ ادارہ فکر جدید نے جبکہ بعد از دوپہر  سیشن کی صدارت کے فرائض جناب رشاد بخاری  نے سرانجام دیئے ۔ محترم ذیشان ظفرصاحب  ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز برگد   (لاہور میں واقع غیر سرکاری ادارہ)   اور معروف صحافی جناب سبوخ سید گفتگو میں مہمان خصوصی تھے ۔

سبوخ سید کا کہنا تھا کہ میڈیا بین المذاہب ہم آہنگی کی کوریج میں ناکام رہا ہے ۔ وہ پشاور چرچ حملے کے بعد مقامی افراد کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا ذکر کررہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں جس طرح پشاور کے عام شہریوں نے مسیحی بھائیوں کے دکھ درد میں شرکت کی وہ حقیقی پاکستان کی عکاسی تھی جسے میڈیا پر وہ کوریج نہیں ملی جو کہ اس کا حق تھا ۔  وہ کہہ رہے تھے کہ ووٹ اور ریموٹ کے درست استعمال سے عوام پاکستان کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا اہم فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں ۔ صاحبزادہ امانت رسول کا کہنا تھا کہ علمائے کرام کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں ۔  انہوں نے مزید کہا کہ تمام مسالک اور طبقہ فکر کے لوگوں کی خوشی غمی میں شرکت سے ہی ہم باہمی اجنبیت کو ختم کرسکتے ہیں ۔ نجی ادارے برگد کے نمائندے محترم ذیشان ظفر نے کہا کہ نوجوانوں کے پاس مثبت سمت کی جانب رہنمائی کے مواقع بہت کم ہیں جس کی  وجہ سے وہ ملک کے وسائل کی بجائے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں ۔

دوسرے  سیشن کی صدرات معروف اہل علم  جناب رشاد بخاری نے کی۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والی نجی تنظیموں کا فریضہ ہے کہ وہ اس اہم فریضے کو محض پراجیکٹ کی حد تک محدود نہ رکھیں بلکہ مذہبی ہم آہنگی کا فروغ اور عقیدے کی آزادی کی تحریک  کو عوامی سطح پر لےکر جانا چاہیئے تاکہ اسے عوام کی سطح پر ضرورت سمجھا جائے ۔ہارون سرپ دیال نے خیبر پختونخواہ کے نصاب میں شامل جماعت ہفتم کی کتاب میں نفرت انگیز مواد کی نشاندہی کی  ۔سردار رادیش شنگھ ٹونی نے کہا کہ پاکستان کی سکھ برادری نے پاکستان کے حصول کے بعد ہمیشہ ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹایا ہے  ان کا بھی یہی کہنا تھا  کہ سماجی رویئے بہتر کرنے کے لئے علماء کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اسی طرح غیر مسلم برادریوں کے ساتھ غیر متعصب رویئے کے لئے علماء کو آگے آنا ہوگا۔ تمام شرکاء نےدوسرے دن  کی  ورکشاپ اور اس کے موضوع کو سراہا اور اس میں ہوئی گفتگو پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے اپنی تجاویز تحریری شکل میں ادارے کو جمع کروائیں جسے ورکشاپ رپور ٹ میں شائع کیا جائے گا ۔


Gallery

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...