پارلیمنٹ کی بالادستی اور فرحت اللہ بابر

292

دوروز قبل سینیٹ آف پاکستان میں ہونے والی سینیٹر فرحت اللہ بابر کی تقریر سے پیپلز پارٹی نے اعلان لاتعلقی کرتے ہوئے جناب فرحت اللہ بابر کو پارٹی ترجمان کے منصب سے ہٹا دیا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا  تھا کہ اداروں کے درمیان دائرہ کار کے حوالے سے پارلیمان ناکام رہی ہے۔  پارلیمینٹ کی بالادستی ختم ہورہی ہے، ریاست کے اندر ریاست بن رہی ہے اور کشمکش ہے۔ پارلیمنٹ نے ڈی فیکٹو ریاست ختم نہ کی تو ٹکراؤ ہوگا۔ کہیں 2018 کا الیکشن عدلیہ کے خلاف  ریفرنڈم نہ بن جائے۔فرحت اللہ بابر نےسینیٹ میں الوداعی خطاب کے دوران اپنی جماعت پیپلزپارٹی سے شکوہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹ کی بالادستی سے ہٹ گئی ہے۔واضح رہے کہ فرحت اللہ بابر گزشتہ 40سال سےمحترمہ  بینظیر بھٹو ، آصف علی زرداری کے ترجمان کے علاوہ پیپلز پارٹی کی  اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے ہیں، پارٹی پالیسی سے منحرف ہونے کا الزام لگا کر انہیں ان کی طویل عرصے کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا  جمہوری عمل کے فروغ اور سیاسی نظام کی پختگی کے لیے آواز بلند کرنا ،اپنی یا کسی بھی سیاسی جماعت کی پالیسیوں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنانا جرم ہے؟

کیا آئین پاکستان میں پارلیمان کی بالادست حیثیت کا تعین نہیں کیا گیا،اگر کیا گیا ہے اور یقیناً کیا گیا ہے تو پھر پارلیمان کی بالادستی کے لیے بلند ہونے والی آواز وں کو دبانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے۔

اعلیٰ عدلیہ اور پارلیمان کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے اشاروں ،کنایوں کے ذریعے الزام تراشی کا جوسلسلہ شروع ہوا ہے،کیا اس کے نتائج اچھے برآمد ہونگے؟

تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...