حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور معیشت

214

ابن سعد لکھتے ہیں  کہ مجھے   مسلم بن ابراہیم نے بتایا کہ انہوں نے ہشام الدستوائی نے اور انہیں عطا بن السائب نے  کہا کہ جب ابوبکر خلیفہ چن لئےگئے تو ایک روز وہ بازار کی طرف جارہے تھے اور ان کے کندھے پر وہ کپڑا تھا  جو وہ بازار میں بیچا کرتے تھے۔ انہیں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ملے۔ دونوں نے کہا اے رسول اللہ کے خلیفہ، آپ کہاں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بازار۔ دونوں نے کہا آپ کو تو مسلمانوں نے اپنے امور کی ذمہ داری دی ہے اور  آپ بازار جا رہے ہیں۔  حضرت ابوبکر نے کہا کہ میں  اپنے اہل و عیال کو کہاں سے کھلاوں؟ دونوں نے کہا  آپ ہمارے ساتھ  چلئے ہم آپ کے لئے کچھ مقرر کئے دیتے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ گئے۔ ان لوگوں نے  روزانہ کے حساب سے آدھی بھیڑ اور پیٹ اور سر ڈھانپنے کے لئے  کپڑے مقرر کر دئے۔ حضرت عمر نے فرمایا  قاضی کا کام میرے ذمے ہے تو ابو عبیدہ نے کہا  کہ اموال کی دیکھ بھال کا کام مجھے دے دیجئے۔

  • ابن سعد نے مزید بتایا کہ مجھے روح بن عبادہ اور محمد بن عبداللہ الانصاری نے بتایا ہے کہ انہیں ابن عون  نے  اور اسے عمر بن اسحاق نے بتایا کہ  ایک شخص نے  حضرت ابوبکر صدیق کو دیکھا کہ   کندھے پر عبا رکھے  کہیں جا رہے ہیں۔ اس نے کہا یہ عبا مجھے دے دیجیے میں پہنچا دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا  تم مجھ سے الگ ہی رہو۔ تم اور خطاب کا  بیٹا مجھے اپنے اہل و عیال کی ذمہ داری سے  غافل نہ کرو۔
  • عفان بن مسلم نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے سلیمان بن مغیرہ سے اور اس نےحمید بن ہلال سے سنا کہ  جب حضرت ابو بکر کو والی چنا گیا تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ا صحاب نے کہا کہ رسول اللہ کے خلیفہ کو اتنا حصہ دو  کہ انہیں کاروبار کی ضرورت نہ رہے۔لوگوں نے کہا ہاں دو چادریں۔ جب وہ پرانی ہوجائیں تو ان کی  جگہ ویسی ہی دو  چادریں اور لے دو۔ سفر کریں تو سواری اور اہل و عیال  کا اتنا خرچہ دو جو وہ خلیفہ بننے سے پہلے کیا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر نے کہا میں اس پر راضی ہوں۔
  • عارم بن الفضل نے ہمیں بتایا کہ حماد بن زید نے ایوب سے اور اسے حمید بن ہلال نے بتایا کہ جب ابو بکر خلیفہ چن لئے گئے تو اپنی چادریں اٹھا کر بازار کی طرف چلے۔ پوچھا تو کہنے لگے  کہ مجھے تم لوگ   میرے اہل و عیال سے  غفلت میں نہ ڈالو۔
  • ہمیں عبداللہ بن جعفر الرقی اور اسے عبیداللہ بن عمرو اور اسے معمر نے اور اسے زہری نے اور انہیں عروہ نے کہا کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے سنا کہ  جب حضرت ابو بکر  خلیفہ چنے گئے  تو انہوں نے کہا کہ میری قوم کو پتا ہے کہ  میرا پیشی ایسا نہ تھا کہ میں اپنے اہل و عیال کی ذمہ داری  نہ اٹھا سکتا۔ مجھے مسلمانوں کے امور کی ذمہ داری دی  گئی ہے۔ اب میرا کام مسلمانوں کے مال وجان کی حفاظت کرنا ہے۔آل ابو بکر بھی  اسی مال سے حصہ لیں گے۔
  • احمد بن عبداللہ بن یونس نے ہمیں بتایا کہ ابوبکر بن عیاش نے عمرو بن میمون سے اور اس نے اپنے والد سے سنا کہ جب ابو بکر خلیفہ بنے تو مسلمانوں نے ان کے لئے سالنہ دوہزار درہم مقرر کر دئے۔ انہوں نے کہا کہ  اس میں اضافہ کرو  میرے اہل و عیال ہیں۔تم نے مجھے کاروبار سے روک دیا ہے۔ ان کی ذمہ داری سے غافل نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے پانچ سو اور بڑھا دئے۔  بیان کرنے والے نے بتایا کہ یو تو دو ہزار تھے اور پانچ سو بڑھا ئے  یا ڈھائی ہزار تھے اور پانچ سو اور بڑھا دئے گئے۔
  • ہمیں محمد بن عمر نے بتایا او ر کئی اور لوگوں نے بتایا [ یہاں ابن سعد پانچ مختلف راویوں اور ان کی اسناد  کا ذکر کیا ہے] کہ دوشنبہ ۱۲ ربیع الاول ۱۱ھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔ اسی روز  ابو بکر صدیق کی خلافت کی بیعت ہوئی۔ وہ اس وقت مدینہ میں السنح میں اپنی زوجہ حبیبہ بنت خارجہ  زید بن ابی زہیر کے پاس رہ رہے تھے۔ آپ کی زوجہ بنی حارث  بن الخزرج کے قبیلے سے تھیں۔ انہوں نے اسی مکان میں اونٹ کی اون سے ایک  جھونپڑا بنا لیا  تھا۔  خلیفہ بننے  کے بعد بھی وہیں  رہے اور  اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔  جب مدینے میں مکان ملا تو اس میں منتقل ہوے۔

بغداد [ابن سعد، 230ھ، طبقات ابن سعد، ج  3 ، ص136 -137]

حکمرانی کے سنہرے اصول  جو تاریخ کے اوراق سے مٹ نہ سکے۔ لیکن  نہ بائیس نکات میں یاد رہے،  نہ  پاکستان کے آئین میں شامل ہو سکے     ۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...