لودھراں الیکشن میں تحریک انصاف کی شکست

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

62

لودھراں میں پی ٹی آئی کے امیدوار علی ترین کی شکست کوئی اچنبھے اور حیرت کی بات نہیں ہے ۔یہ نو شتہ دیوار  بہت پہلے پی ٹی آئی کی قیادت کو پڑھ لینا چا ہیے تھا۔اب شاید پڑھنے ،سمجھنے اور عمل کر نے کا وقت بھی پی ٹی آئی کے ہاتھوں ریت کے ذرّوں کی طرح نکل رہا ہے۔عمران خان صاحب کا کہنا ہے”کا میاب لوگ نا کامیوں سے سیکھتے ہیں” لیکن نا کامی در نا کامی  پہ لوگ کا میاب نہیں نا کام کہلاتے ہیں ۔اگر یہ کہا جائے کہ عمران خان نیا پاکستان تمام پرانے اور استعمال شدہ میٹریل سے بنا نا چا ہتے تھے یا بنا نا چا ہتے ہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔ اگر ہم گزشتہ ساڑھے چار سال پہ نظر ڈالیں تو عمران خان دوراہے پہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں ایک طرف بلند وبانگ دعوے ہیں لیکن عملی کارکر دگی اس کے مطابق نہیں ہے ۔مثلاً خیبر پختونخوا میں صرف دو منصوبوں کاجائزہ لے لیا جائے تو حقیقت کھل کر سامنے آ تی ہے ۔پہلا منصوبہ ایک ارب درخت لگانے کا ۔دوسرا منصوبہ ڈیمز کا ۔یہ دو نو ں منصوبے حقیقتاًویسے نہیں ہیں جیسے خیبر پختونخوا کی حکومت نے عمران خان  کو بتا یا ۔آج یہ صورت حال ہے  کہ میڈیا یا سوشل میڈیا اِن منصوبوں کی صرف قلعی نہیں کھول رہا بلکہ تمسخر و مذاق بھی اڑا رہا ہے ۔جس سے پی ٹی آئی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے ۔دوسری مثال یہ ہے کہ عمران خان نے اپنی مخالف جماعت کے اکثر لیڈرز کو کرپٹ اور مافیا قرار دیا لیکن انہی جماعتوں سے آئے ہوئے لیڈرز کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ انہیں اہم عہدے بھی عطا کیے۔خیبر پختونخوا کی پولیس دو ٹیسٹ کیسزمیں نا کام نظر آئی ۔ایک کیس اس بچی کا جسے سرِ بازار بے لباس کیا گیا اور دو سرا کیس اسماء کے ساتھ ہونے والی  زیادتی کا،جن سے پولیس کی کار کر دگی بھی سا منے آگئی۔اس سب کے بعد پی ٹی آئی 2018کے الیکشن میں عبرتناک شکست کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

انسان کے لیے کبھی بھی سنورنے کے مواقع اور تو بہ کے دروازے بند نہیں ہو تے ۔تحریک انصاف کی جانب سے ہونے والی کچھ غلطیاں ایسی ہیں جن کا مداوا لیکشن 2018کے بعد ہی ممکن ہے ۔اگر وہ کسی صوبے میں الیکشن جیت پاتے ہیں تواس صوبے کی ترقی اور خو شحالی کے لیے دن رات ایک کر دیں اور اسے ایک مثالی صوبہ بنا کر دکھائیں تا کہ 2023کے الیکشن اپنی کار کر دگی کی بنیاد پر جیت سکیں۔اگر چہ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کا جیتنا بھی مشکل ہے۔تحریک انصاف کو فوری بنیادوں پہ مندرجہ ذیل تبدیلیاں لانی چاہیے۔

تحریک میں  نیک نام لو گو ں کو آگے لانے کی کوشش کی جائے تا کہ عوام کو تحریک کے اندر تبدیلی نظر آ ئے ۔

جتنا وقت بچ گیا ہے خیبر پختونخواہ پہ بھر پور توجہ دی جائے۔اگر تین چار ماہ میں شہباز شریف منصوبے مکمل کر سکتے ہیں تو پرویز خٹک کیوں نہیں  مکمل کر سکتے ہیں ۔

عمران خان دو رخی پالیسی کے بجائے یک رخی پالیسی اختیار کریں اور وہ یہ ہے کہ سیاست میں عملی کار کر دگی کی بنیاد پر فیصلے ہوتے ہیں۔ آپ سیاستدان ہیں سیاستدان بن کر دکھائیں اور سیاست میں ہمیشہ فیصلہ زمینی حقائق پہ ہوتا ہے۔

گزشتہ ساڑہے چار سال میں جن گروہوں اور جماعتوں نے تحریک انصاف کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا یا ہے اُن سے کنارہ کشی اختیار کر نے پہ غور کیا جائے۔تحریک قصاص کے عنوان سے لاہور مال روڈ پہ منعقدہ جلسے نے تحریک انصاف کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا،اِس جلسے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن)کے رہنماؤں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔

عمران خان و دیگر ممبران پارلیمنٹ کا احترام کریں اور اجلاس میں بھر پور شر کت کریں۔لعنت جیسے غیر ذمہ دارانہ بیا نات سے آئندہ پرہیز کریں،اس سے مخالفین کے ہاتھ  آپ کو بدنام و ناکام کر نے کا موقع  لگ جا تا ہے ۔

اگر ممکن ہوسکے توعمران خان فی البدیہہ بولنے سے پرہیز کریں ۔اگر ان کی تقریر تحریر شدہ ہو تو وہ بہت سے جذباتی اور غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے بچ جائیں گے ۔

نواز شریف کی مخالفت میں اس حد تک آگے نہ جا یا جائے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کا جو تاثر قائم ہو چکا ہے اُسے مزید تقویت ملے ۔نواز شریف نے بہت سمجھداری سے”مجھے کیوں نکالا”کے کارڈ کو استعمال کیا ہے اور اپنے مخالفین کو غیر سیاسی قوتوں کے مہرے ثابت کر نے کی کوشش کی ہے ۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ عمران خان نے اپنے بیانات سے یہ تاثر مزید پختہ کیا ہے ۔

کوشش کی جائے کہ تحریک کا تر جمان اُسے مقرر کیا جائے جولہجے اور الفاظ میں محتاط بھی ہو اور اُسے مخا لفین کی تذلیل پر نہیں دلیل پہ اپنا موقف بیان کر نے کا سلیقہ آتا ہو۔

2013کے الیکشن سے قبل جس لا ئحہ عمل پہ سو چا گیا تھا اس پہ دو بارہ سو چنا شروع کیا جائے ۔

عمران خان اپنے مخالفین کی جن کمزوریوں کو نشانہ بناتے رہے،اُن کمزوریوں کو اپنی جماعت میں پیدا نہ ہونے دیں جیسے مو روثی سیاست۔لودھراں کی نشست پہ نا کامی کی وجوہات میں سے ایک وجہ مو روثی سیاست بھی ہے ۔

عمران خان نے سیاست میں جو اعلیٰ معیار اپنے مخالفین کے لیے قائم کر دکھایا ہے ۔اب عوام انہیں اُس اعلیٰ معیار پہ دیکھنے کے متمنی اور خواہش مند ہیں ۔سیاست میں عمران خان کی کا میابی اور فتح کا واحد راستہ عوام کو مطمئن کر نا ہے ۔اپنے کر دار ،پالیسی اور فیصلوں سے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...