پیغام پاکستان۔۔۔مالہ وماعلیہ

191

1829علمائے کرام اور مفتیان عظام کے دستخطوں سے 16جنوری 2018 کو ایوان صدر سے جاری ہونے والی دستاویز جسے”پیغام پاکستان” کا نام دیا گیا ہے، کے بارے میں گفتگو اور تبصرے جاری ہیں۔ عمومی طور پر پاکستان میں اس دستاویز کا استقبال کیا گیا ہے لیکن اس پر کی جانے والی تنقید اور اس کے بارے میں سامنے آنے والے تحفظات کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ 1947سے لے کر آج تک جو اہم دستاویزات پاکستان میں تیار ہوئیں اور جن پر عمومی اتفاق رائے قائم کیا گیا،ان میں سے 31علماء کے 22نکات اور 1973 کے آئین کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ”پیغام پاکستان” کے اندر موجود علماء کا فتویٰ اور اعلامیہ کے 22نکات بھی تاریخ پاکستان کی نہایت اہم دستاویزات کا حصہ ہیں۔
عموماً اس تاثر کا اظہار کیا جارہا ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے اس پیغام کی جس انداز سے تشہیر کی جانا چاہیے تھی وہ نہیں کی گئی۔ اگرچہ کہا جاسکتا ہے کہ ایوان صدر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجا ظفر الحق، وزیر خارجہ خواجہ  محمد آصف اور وزیر داخلہ احسن اقبال موجود تھے، تاہم اس کے باوجود اخبارات اور میڈیا میں جس انداز سے اس کی تشہیر کی جانا چاہیے تھی اور پاکستان کے موجودہ حالات میں اتنے اہم اتفاق رائے کا جس انداز سے استقبال کیا جانا چاہیے تھا، وہ نہیں کیا گیا۔ اسی لیے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایوان صدرمیں حکومتی نمائندگی فقط دکھاوے کے لیے تھی ورنہ یہ دستاویز حکومتی دلچسپی کے بغیر ہی تیار کی گئی ہے۔
ہماری رائے یہ ہے کہ خود اس طرح کی کوششیں حکومت کی طرف سے ہی کی جانا چاہئیں اور دیگر تمام اداروں کو ان کوششوں میں ہاتھ بٹانا چاہیے لیکن کیا کیا جائے کہ حکومت کے اہم ترین ذمے داروں کی دلچسپیاں اور ترجیحات کچھ اور دکھائی دے رہی ہیں۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی اس دستاویز کے اہم ترین حصے کو عوام تک پہنچانے کے لیے ایک ہمہ گیر منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ امر نہایت اہم ہے کہ اس دستاویز کے مطابق پاکستان کے تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے 1829 علمائے کرام نے پاکستان میں خود کش حملوں کے خلاف متفقہ فتوٰی جاری کیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنا ریاست پاکستان کا شرعی حق ہے۔فتوے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر ریاست کے خلاف مسلح تصادم حرام اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا فساد فی الارض ہے۔ اس فتوے میں خود کش حملے کرنے، کروانے اور ان کی ترغیب دینے والوں کو اسلام کی رو سے باغی کہا گیا ہے۔ فتوے کے مطابق ریاست پاکستان ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔فتوے میں کہا گیا ہے کہ جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے، کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کے خلاف بغاوت تصور کیے جائیں گے، جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔فتوے میں کہا گیا کہ طاقت کے بل پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا بھی شریعت کے منافی اور فساد فی الارض ہے اور حکومت اور اس کے ادارے ایسی سرگرمیوں کے سدباب کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔
بعض حلقوں کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ "پیغام پاکستان "کے نام پر شائع کی گئی دستاویز میں فتویٰ اور اعلامیہ تو علماء کی تائید سے شامل کیا گیا ہے تاہم دیگر ابواب علماء کی نظر سے نہیں گزارے  گئےاور نہ ہی ان کی تائید علماء اور مفتیوں سے حاصل کی گئی ہے۔ چنانچہ اس کے ابتدائی باب میں ایسی عبارتیں شامل کی گئی ہیں جن سے وحدت ادیان کا تصور ابھرتا ہے۔ اس طرح اسلام کی عظمت و سربلندی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ خاص انداز بیان اختیار کرکے اسلام کو دیگر ادیان کے برابر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہماری رائے یہ ہے کہ اول تو جس چیز پر اتفاق رائے حاصل کیا گیا تھا اسے الگ سے شائع کیا جانا چاہیے تھا اور اگر کچھ ابواب کا مزید شامل کیا جانا ضروری تھا تو اس کی تائید بھی علماء سے حاصل کی جانی چاہیے تھی تاکہ اعتراض کی کوئی نوبت پیش نہ آتی اور ایک نہایت اہم دستاویز پر اس طرح کے تحفظات کا اظہار نہ کیا جاتا۔
البتہ اعتراض کرنے والوں کے مسائل کچھ اور بھی ہیں چونکہ جو لوگ موجودہ حکومت اور پاکستان کی ریاست کو اسلامی نہیں سمجھتے ان کے نزدیک اب بھی اس کے خلاف جہاد و قتال کی گنجائش موجود ہے۔ یہ وہی نظریہ ہے جو ہمارے خطے میں طالبان کا چلا آرہا ہے اور دیگر خطوں میں القاعدہ اورداعش کا رہا ہے اورآج بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فتوے کے ذریعے سے اس نظریے کو مسترد کیا گیا ہے۔
بعض معترضین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلام سرحدوں سے ماورا ایک دین ہے اور اس کے شرعی احکام کو سرحدوں میں مقید نہیں کیا جاسکتا جب کہ اس دستاویز میں پاکستان میں کیے جانے والے خود کش حملوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی اس پہلو پر اعتراض کیا ہے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ افغانستان میں کیے جانے والے خود کش حملوں کو بھی حرام قرار دیا جانا چاہیے تھا۔ اس ضمن میں علماء کی طرف سے جو وضاحت سامنے آئی ہے اس کے مطابق ان کے سامنے پیش کیے جانے والے سوال کے مطابق جواب دیا گیا ہے۔ سوال چونکہ پاکستان کے حوالے سے کیا گیا ہے اس لیے جواب بھی پاکستان کے حوالے سے دیا گیا ہے۔ بعض علماء کا یہ کہنا ہے کہ استفتاء کے پس منظر اورعبارت کو سامنے رکھ کر ہی علماء جواب دیتے ہیں۔”پیغام پاکستان” میں شامل علماء کے فتوے کو اسی انداز سے دیکھا جانا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ ابھی بہت سے افراد ذہنی طور پر ماضی میں رہتے ہیں جب مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنتیں خلافت کے نام پر قائم تھیں۔ جب کہ اس وقت دنیا میں قومی ریاستیں معرض وجود میں آچکی ہیں اور ہر ریاست کا اپنا دستور اور نظام قانون موجود ہے۔ اس لحاظ سے ہر ملک کے اپنے تقاضوں کے مطابق ایک نقطۂ نظر سامنے آتا رہتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جیسے وقت بدلنے سے نئے تقاضے پیدا ہو جاتے ہیں، ملک یا علاقہ بدلنے سے بھی نئے تقاضے معرض وجود میں آتے ہوں۔ تاہم یہ وہ بات ہے جسے ابھی بہت سے مذہبی اذہان قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔دوسری طرف عالمی طاقتیں جن میں سر فہرست امریکا ہے، نے اپنے لیے کوئی حد اور سرحد باقی نہیں رکھی۔ اس کی افواج دنیا بھر میں موجود ہیں اور اب تو اقوام متحدہ ہی نہیں بلکہ ناٹو سے مشورے کا تکلف کیے بغیر بھی امریکا تن تنہا فوجی کارروائیاں کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ وہ بھی زیادہ تر مسلمانوں کے ممالک میں۔ اس طرح سے اگر عالمی سطح پر مسلمان امریکا کے خلاف ایک جیسا سوچتے ہیں تو اس کی وجوہات موجود ہیں۔
اس صورت حال میں حکومت اورمتعلقہ حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ غوروفکر اور مشاورت کے لیے مزید اقدامات کریں اور اپنے نقطۂ نظر کی توجیہ کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کا نقطہ نظر بھی سنیں اور مزید ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان کے حالات اور پاکستان کو درپیش خارجی اور داخلی مشکلات ان حلقوں کے سامنے رکھیں اور جہاں تک ممکن ہو مستقبل کے حوالے سے ہم آہنگ خطوط پر اتفاق رائے حاصل کیا جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...