گیدڑ سنگھی

250

بدیانت معاشروں میں انسان کو اس کی محنت اور اہلیت کے مطابق کبھی کچھ نہیں ملتا ،محنت کی جگہ نا جائز ذرائع اور اہلیت کی جگہ چاپلوسی اور تعلقات ہر عہدے اور مقصد کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ معاشرے کا عام چلن ایسا قرار پا تا ہے کہ حقدار محروم اور نا حقدار سب کچھ لے اڑتا ہے ۔ایسے معاشروں میں اپنے مقاصد کے حصول کےلیے ہر وہ طریقہ اختیار کیا جا تا ہے جس کی اجازت نہ دنیا کا کوئی دھرم دیتا ہے اور نہ ہی انسانی عقل و منطق۔دنیا کا کوئی دھرم بھی کسی کا حق چھیننے ،جھوٹ ،دھو کہ دہی اور بددیانتی کی اجا زت نہیں دیتا ۔دنیا کے کسی بھی مذہب میں ظلم و زیادتی کی اجازت نہیں ہے ۔اسلام نے خاص طور پر معا ملات ومعاشرت کی بنیاد ہی عدل پہ قائم کی ہے ۔جس سے ہر ظلم و زیادتی کا قلع قمع ہو جا تا ہے ۔بد دیانت معاشروں میں حقو ق کی عدم دستیابی کے باعث تو ہم پرستی ،تعویز گنڈے اور گیدڑ سنگھی جیسے تصورات عام ہو جا تے ہیں ۔انسان کی تشنہ خواہشات جب جائز طریقے سے تمام نہیں ہو تیں تو وہ اپنے آپ کو کمزورخیال کر تا ہے ،محنت و کوشش کے باوجود نا کامی تو ہمات کو جنم دیتی ہے اور وہ کوشش کر تا ہے ،دم درود یا تعویز گنڈے سے اپنی خواہش کو پور ا کرے ۔اس کے بعد درگاہوں،خانقاہوں اور پیر خانوں کا سفر شروع ہو تا ہے ،ایسا نہیں کہ یہ سفر اس کا کا میابی اور کامرانی کا سفر کہلا تا ہے بلکہ یہ سفر یقین کی محرومی سے شروع ہو کر توہمات اور شکوک و شبہات پہ منتج ہو تا ہے۔ترقی اور حصولِ مقاصد کے اس سفر کو مختصر کر نے والے دعوؤں میں سے ایک دعویٰ "گیدڑ سنگھی”بھی کہلا تا ہے ۔اس کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ یہ جس کے پاس ہو کا میابی ،دو لت ،شہرت اس کے قدم چو متی ہے ۔اگر چہ اس پر بھی اتفاق نہیں ہے کہ”گیدڑ سنگھی”ہے کیا؟لیکن اس کے بیو پاری وہ لوگ ہو تے ہیں جنہیں ایک وقت کی روٹی میسر نہیں ہو تی، فاقے ان کا مقدّر ہوتے ہیں ۔ یہی حال ان لو گو ں کا بھی ہے جو لو گو ں کو مستبقل کی خبر دیتے ،اُن کے حا لا ت کے بارے میں بتا تے ہیں لیکن اپنے مستقبل اور حالات  سے بے خبر بھوک و افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہو تے ہیں ۔تو ہّم کا یہ عالم ہے کہ لو گ واقف حال ہو کر بھی ان سے جا کر اپنے حا لات کی خبر لیتے اور ان کی پیشگوئی پہ یقین کر لیتے ہیں۔

انسان دوخواہشوں کے درمیان سفر کر تا ہے ،جو حاصل نہیں،اس کے حصول کی خواہش،جو حاصل ہے ،اس کے ہمیشہ رہنے کی خواہش۔اس سارے سفر میں مذہب کی مہیا کر دہ ہدایت انسان کو مو جودخواہش اور حصولِ خواہش میں ہمیشہ حدود آ شنا رکھتی ہے۔ انسان مذہب کے تابع رہے تو خوا ہشات اس کے تابع رہتی ہیں۔اگر مذہب شعبدہ بازی اور کرامات گری کی صورت اختیار کر ے تو اسے ہر طرح کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیا جا تا ہے۔تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ کا فرق یہاں آ کر ختم ہو جا تا ہے جب وہ اعلیٰ تعلیم کے بعد اقتدار و دولت کے حصول کے لیے کسی وظیفہ خوار سے وظیفہ پوچھنے جا تا ہے یا ایسی گیدڑ سنگھی کی تلاش میں سنیاسی او ر جو گی کے در کی خاک چھا نتا ہے تو اس سوچ اور رویے سے اندازہ ہو جا تا ہے کہ وہ کس حد تک عملی زندگی کا ادراک رکھتا اور جائز و نا جائز کے فرق کے ساتھ آگے بڑھنے کاعزم رکھتا ہے ۔

ہمارے معاشرے میں بلا تفریق تعلیم و درجہ ،اکثریت اسی تو ہّم کا شکار ہے کہ ہماری راہ میں نظام کی خرابی اور معاشرتی بگاڑ سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں روحانیت،تعویزات اور گیدڑ سنگھی سے دور کی جا سکتی ہیں ۔اس لیےوہ اخلاق و کر دارکی اصلاح کی طرف توجہ دینے کے بجائے اس طرف تو جہ دیتے ہیں کہ کسی روحانی با با سے رابطہ کر کے اپنا مسئلہ حل کر لیا جائے یا کسی صوفی کو مستقل اپنے گھر میں ٹھکانہ دے دیا جا ئے تا کہ گھر سے منحوس سائے ختم ہو جا ئیں ۔اس رجحان کی بنیادی وجہ محدود ہی نہیں،لامحدود خواہشات کی تکمیل کی ہوس ہے ورنہ مسلمان کتاب اللہ سے ہی رابطہ رکھے ۔اسے پڑھے اور سمجھے تو ایسی قباحت و خرافات سے جان چھوٹ سکتی ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود ہے اور نہ ہی اصل۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...