تقسیم ہند کے ذمہ دار جناح نہیں، نہرو تھے: ڈاکٹر عائشہ جلال

معروف تاریخ نویس ڈاکٹر عائشہ جلال کا خصوصی انٹرویو

2,336

 

ڈاکٹر عائشہ جلال نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کی نمایاں ترین تاریخ نویس ہیں۔ 1985ء میں اپنی اولین کتاب The Sole Spokesman کی اشاعت کے ساتھ ہی ان کا نام ایک معتبر تاریخ نویس کے طور پر ابھرا۔ یہ کتاب تقسیم ہند اور اس میں قائداعظم محمد علی جناح کے کردار کے متعلق ہے جس میں ڈاکٹر عائشہ جلال نے اس عہد کے معروضی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسی تاریخ پیش کی ہے جو قبل ازیں بارہا دہرائے جانے والے بیانیوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

ڈاکٹر عائشہ جلال نے  The Sole Spokesman کی طرح اپنی دوسری کتاب Self and Sovereignty کے لیے بھی نوآبادیاتی عہد کی ڈی کلاسیفائی ہونے والی دستاویزات، کانگریس اور مسلم لیگ پیپرز وغیرہ سے مدد حاصل کی اور غیرمنقسم ہندوستان میں مسلمانوں کی شناخت پر تحقیق کی۔ ان کی ان دونوں کتابوں کو نہ صرف اکیڈمک حلقوں بلکہ عام قارئین کی جانب سے بھی زبردست پذیرائی حاصل ہوچکی ہیں۔ ان کی دیگر کتابوں میں The State of Martial Rule، Partisans of Allah اور The struggle for Pakistan نمایاں ترین ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ جلال کہتی ہیں کہ پاکستان میں فی الحال تاریخ نویسی پر کوئی خاص کام نہیں ہو رہا۔ وہ اب خالص سیاسی تاریخ کے علاوہ ثقافتی و ادبی تاریخ نویسی کی جانب بھی توجہ مبذول کر چکی ہیں۔ ان کی کتاب The Pity of Partition اُردو زبان کے بے مثل ادیب سعادت حسن منٹو پر ہے جس میں انہوں نے ان کی زیست کی مصدقہ ذرائع کی روشنی میں روداد بیان کی ہے۔ یہ کتاب منٹوؔ کے فن و زندگی پر ایک معتبر دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے کیوں کہ منٹوؔ ڈاکٹر عائشہ جلال کے خالو اور ان کے والد کے سگے ماموں تھے۔

وہ ان دنوں امریکا کی معروف Tufts University کے سنٹر فار سائوتھ ایشین و انڈین اوشین سٹڈیز کی ڈائریکٹر کے طور پر پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہی ہیں۔ وہ ہارورڈ یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی سمیت امریکا کی متعدد دیگر جامعات سے بھی منسلک رہ چکی ہیں۔

گزشتہ دنوں ڈاکٹر عائشہ جلال لاہور تشریف لائیں تو ان سے تفصیلی نشست ہوئی۔ وہ یہ اعتراف کرتی ہیں کہ کوئی پاکستانی تاریخ نویس ان کا فیورٹ نہیں ہے۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ہندوستان کی تقسیم کے ذمہ دار جناح نہیں، نہرو تھے اور اس حقیقت کی جانب بھی توجہ مبذول کرواتی ہیں کہ جناح پنجاب اور بنگال کی تقسیم نہیں چاہتے تھے۔ ڈاکٹر عائشہ جلال سے متذکرہ بالا علمی مباحث پر ہونے والی گفتگو قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر ذیل میں دی جا رہی ہے:

 

تجزیات آن لائن:                 اپنے بچپن کے لاہور اور آج کے لاہور میں فرق کس طرح واضح کریں گی؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           لاہور بہت زیادہ تبدیل ہو چکا ہے۔ ہم بچپن میں ریگل چوک کے قریب لکشمی مینشن میں رہتے تھے۔ اس دور کی بہت سی یادیں اب بھی ذہن میں محفوظ ہیں، مثال کے طور پر کبھی مال روڈ پر چہل قدمی کرتے اور کبھی وکٹوریا ہائوس چلے جاتے۔ کبھی آئس کریم اور کبھی بے بی چپس سے لطف اندوز ہوتے۔ خریداری کرنا ہوتی تو ایچ کریم بخش کا رُخ کرتے۔ وہ ایک اور قسم کا ماحول تھا۔ میں آپ کو یہ ضرور بتا سکتی ہوں کہ 1960ء کا لاہور، جب میں جوان ہوچکی تھی، بھی بہت پیارا تھا۔ گزشتہ دنوں میرا رنگون جانے کا اتفاق ہوا‘ اگرچہ میانمار اس وقت عدم استحکام کا شکار ہے لیکن اس کے باوجود رنگون جا کر پرانے لاہور کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ ایک سویا ہوا سا شہر۔ ہم اب ویسے نہیں رہے’ لاہور بہت زیادہ کمرشلائز ہو گیا ہے۔ آپ اسے ترقی کہہ لیں لیکن ایک طریقے سے یہ ترقی بھی نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ Decline ہے۔ آپ دیکھیں کہ لاہور کی آبادی کس قدر بڑھ چکی ہے۔ اورنج لائن ٹرین کے منصوبے پر کام جاری ہے جس کے لیے قدیم عمارتوں کو توڑا جا رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ لاہور بہت تبدیل ہو گیا ہے، موجودہ لاہور میں اب وہ کشش نہیں رہی جو اس دور کے لاہور میں تھی۔ میں آپ کو اب بھی یہ بتا سکتی ہے کہ اگر میں آج بھی مال روڈ جائوں تو میرے بچپن کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔  The Mall Road has a very strongest presence in my life۔ اس کی ایک وجہ غالباً یہ بھی ہے کہ ہم اس وقت بچے تھے۔

تجزیات آن لائن:                آپ اُردو کے بے مثل ادیب سعادت حسن منٹوؔ کی بھانجی بھی ہیں، آپ کے والد صاحب ان کے بہت قریب تھے اور آپ نے ان پر کتاب بھی لکھی ہے۔ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ منٹو صاحب تقسیم کے حامی تھے یا مخالف؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           درست کہا آپ نے! میرے والد صاحب منٹوؔ کے بہت قریب تھے اور ان کو سپورٹ بھی کیا کرتے تھے۔ میرے منٹوؔ صاحب سے دو رشتے ہیں۔ اول، وہ میرے والد صاحب کے ماموں تھے اور دوسرا، وہ میرے خالو بھی تھے۔ جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو میں نے اس بارے میں اپنی کتاب "The Pity of Partition” میں تفصیل سے بات کی ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ وہ تقسیم کی وجوہات سمجھ ہی نہیں پائے۔ مگر تقسیم کے بعد وہ پاکستان آ کر بس گئے۔ اس وقت ان کا مؤقف یہی تھا کہ اب تقسیم ہو گئی ہے اور میں نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے۔ وہ یہ کہا کہتے تھے کہ مجھے تقسیم کے دنوں میں یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہ سارا قتلِ عام کیوں ہو رہا ہے؟ انہوں نے بعدازاں حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا تھا۔ وہ یومِ آزادی کی مناسبت سے گھر کی سجاوٹ کرنے میں بچوں کی مدد کیا کرتے۔ یہ مت فراموش کیجئے کہ ان کا ترقی پسند مصنفین کے ساتھ جھگڑا بھی ہوا تھا جنہوں نے انہیں اس بنا پر سپورٹ نہیں کیا کیوں کہ ان کی حسن عسکری صاحب کے ساتھ دوستی تھی۔ دوسرا وہ شدومد کے ساتھ پاکستانی ثقافت کے فروغ کی بات کیا کرتے تھے۔

تجزیات آن لائن:                کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گی کہ پاکستان کی ثقافت سے آپ کی کیا مراد ہے؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           میں نے اپنی کتاب میں بھی یہ تاکید کی ہے کہ منٹوؔ صاحب کی فکشن کے علاوہ ان کے مضامین بھی پڑھے جائیں۔ ان کے کچھ مضامین پاکستانی ثقافت کے فروغ سے متعلق بھی ہیں جیسا کہ ’’پاکستان میں فلمیں کیسی بنیں گی؟‘‘، ’’پاکستان کا کلچر کیسا ہوگا‘‘ وغیرہ۔ ان سوالات کی جانب سب سے پہلے منٹوؔ صاحب نے ہی توجہ دلائی تھی جب وہ ’’انقلاب‘‘ کے لیے ہلکے پھلکے مضامین لکھا کرتے تھے۔ میں سمجھتی ہوں کہ وہ اس وقت تک قائل ہو چکے تھے کہ پاکستان بن تو گیا ہے لیکن اب آگے کیا کرنا ہے؟ انہوں نے اس حوالے سے حسن عسکری صاحب کے ساتھ مل کر کافی کام کیا۔

تجزیات آن لائن:                ایک سوچ یہ بھی پائی جاتی ہے کہ تقسیم کا صدمہ بھی ان کی قبل از وقت موت کی وجہ بنا؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           میرا خیال ہے کہ تقسیم کے صدمے کے علاوہ بھی ان کو اس ملک میں ہی وہ رتبہ نہیں ملا جسے انہوں نے اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ ان کا ایک بہت دلچسپ مضمون ’’دو گڑھے‘‘ ہے جس میں وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ میں اردو کا بہت بڑا ادیب ہوں لیکن وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ تم یہ گھر خالی کردو کیوں کہ تم ایک غیر ضروری انسان ہو۔ میرا خیال ہے کہ اس وقت ان کے کچھ ایسے ہی محسوسات تھے۔ لیکن میں آپ پر یہ واضح کر دوں کہ ترقی پسندوں کی جانب سے بائیکاٹ کیے جانے کے باعث ان کے پاس حلقہ اربابِ ذوق ہی واحد ایسا فورم رہ گیا تھا جہاں وہ اپنے مضامین پڑھ سکتے تھے اور اس کے علاوہ ان کے پاس اپنی سوچ کا اظہار کرنے کے لیے کوئی اور پلیٹ فارم موجود نہیں تھا اور دوسرا، کوئی ادبی جریدہ بھی ان کی تحریریں شائع کرنے کے لیے تیار نہیں تھا‘ ان کی تحریروں کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ حکومت کہتی تھی کہ وہ بائیں بازو کی سوچ کے حامل ہیں اور ترقی پسند کہتے تھے کہ وہ دقیانوسی سوچ رکھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس سارے پس منظر کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت ملک میں منٹوؔ کی طرح کے ادیبوں کے لیے کوئی مواقع موجود نہیں تھے۔

تجزیات آن لائن:                ان تمام تر حالات کی ذمہ داری اس وقت کی حکومت پر کس حد تک عائد ہوتی ہے؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           حکومت کا رِدعمل یہ تھا کہ منٹوؔ ایک غیر ضروری بندہ ہے، اس لیے ان سے گھر خالی کرنے کا تقاضا کیا گیا جب کہ مقتدر حلقوں میں ان کے بارے میں یہ سوچ پائی جاتی تھی کہ وہ بائیں بازو کی سوچ کے حامل ہیں لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ پروگریسو دانشور انہیں قبول کرنے پر تیار نہیں تھے۔ یوں ان پر دونوں جانب سے یلغار ہو رہی تھی جس کے باعث انہوں نے مہ نوشی میں پناہ حاصل کی۔ آپ منٹو کے ’’انکل سام کے نام خطوط‘‘ پڑھئے جو میرے فیورٹ ہیں۔ اس میں وہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ میں شراب نوشی کے باعث رفتہ رفتہ مر رہا ہوں۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ وہ خوش یا مطمئن نہیں تھے۔ نہ ہی وہ کبھی مالی اعتبار سے خود کو مستحکم کر پائے‘ اگر وہ کچھ پیسے کماتے تو اس سے شراب نوشی کا شوق پورا کر لیتے۔

تجزیات آن لائن:                آپ کے خیال میں ان کے بچپن کے واقعات کے ان کی شخصیت پر کیا اثرات مرتب ہوئے کیوں کہ وہ ایک Ignored Child تھے؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           میں نے اپنی کتاب "The Pity of Partition” میں ان تمام سوالات کے جواب دیئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان کے بچپن کے واقعات نے ان کی آنے والی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے کیوں کہ ان کی والدہ، ان کے والد کی دوسری اہلیہ تھیں جن کے پہلے ہی تین بیٹے تھے جو سارے ہی بیرونِ ملک پڑھ رہے تھے اور بڑے لائق فائق تھے۔ منٹوؔ کے والد کی یہ خواہش تھی کہ وہ بھی ان جیسا بن کر دکھائیں لیکن منٹوؔ کی والدہ کے ساتھ ان کے سسرالی رشتہ داروں نے کبھی اچھا سلوک نہیں کیا۔ منٹوؔ نے دل سے یہ درد محسوس کیا اور اس کے ان کی شخصیت پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ انہی وجوہ کے باعث وہ والد کو مزید تنگ کرنے کے لیے پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ منٹوؔ کے والد صاحب نے تمام تر کوششیں کر ڈالیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے (قہقہہ لگاتے ہوئے)۔ انہوں نے والد کی وفات کے بعد نہایت برے گریڈز کے ساتھ کسی حد تک تعلیم حاصل کر لی۔ آپ کی یہ بات درست ہے کہ بچپن میں ہی ان پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ ان کے ساتھ برا سلوک ہو رہا ہے یا انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان واقعات نے ان کے تخلیقی سفر پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے اور تقسیم کے بعد بھی ان کے دل میں یہ خلش موجود رہی۔

یہ ممکن ہے کہ منٹوؔ واپس انڈیا چلے جاتے لیکن وہاں بھی جب بہترین افسانے منتخب کرنے کی باری آئی تو منٹوؔ کو نظرانداز کر دیا گیا۔ وہ اس حوالے سے بہت زیادہ Sensitive تھے اور میری خالہ نے بھی انہیں انڈیا واپس جانے کی اجازت نہیں دی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ منٹوؔ کو اپنی صلاحیتوں پر یقین تھا اور وہ یہ ادراک رکھتے تھے کہ وہ ایک عظیم مصنف ہیں۔ ان کے لیے Recognition کا نہ ملنا ایک تکلیف دہ تجربہ تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس ملک میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو اسی نوعیت کے تجربات سے گزر رہے ہیں۔ میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ منٹوؔ کو Discover کرنے کا سلسلہ ابھی شروع ہوا ہے ۔ ان کے افسانے جس قدر زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہوں گے، لوگ ان کے بارے میں مزید جاننا چاہیں گے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں بھی لوگ اب منٹوؔ میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ آپ مجھ سے یہ سوال کر سکتے ہیں کہ وہ کیا وجہ ہے کہ منٹوؔ اب تک Relevant ہیں؟ میں ہمیشہ یہ جواب دیتی ہوں کہ منٹوؔ ہمیشہ ایک خاص طرز کے لوگوں کے لیے Relevant ہی رہیں گے جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو روایت سے ہٹ کر سوچنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لوگ ہمیشہ ان کے خلاف رہے ہیں اور رہیں گے اور جیسا کہ ذکر ہوا’ منٹوؔ کی زندگی میں بھی لوگ ان کے خلاف رہے، حکومت نے سپورٹ نہیں کیا لیکن منٹوؔ کا ایک اپنا رتبہ ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ منٹوؔ کو ان کی زندگی میں پاکستان اور نہ ہی انڈیا کی حکومتوں کی جانب سے کبھی سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی‘ لیکن عوام ضرور انہیں اردو کا عظیم ترین افسانہ نگار قرار دیتے ہیں۔ انڈیا میں آپ منٹوؔ کے بارے میں بات کیجئے تو سو لگ جمع ہو جائیں گے‘ یہاں تو شاید کم لوگ ہی جمع ہوں۔ میرے خیال میں یہ ایک تخلیق کار کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

تجزیات آن لائن:                میری یہ خواہش ہوگی کہ آج کے انٹرویو میں آپ کا ساراعلمی کام سمٹ جائے‘ اگرچہ ایسا ناممکن ہے لیکن ہم کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ ہم نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ اکیڈمک کتابوں کی شیلف لائف عموماً کوئی بہت زیادہ نہیں ہوتی لیکن آپ کی کتاب The Sole Spokesman تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود آج تک نہ صرف مقبولِ عام ہے بلکہ یہ اس موضوع پر ایک مستند حوالہ بن چکی ہے۔ دوسرا، آپ نے مجھے اپنے گزشتہ انٹرویو میں یہ بتایا تھا کہ آپ ان اولین محققین میں سے ایک تھیں جنہوں نے اس کتاب کے لیے برطانوی راج کی ڈی کلاسیفائی ہونے والی دستاویزات سے مدد حاصل کی؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:            درست کہا آپ نے (قہقہہ لگاتے ہوئے)۔ اس وقت حال ہی میں کچھ پیپرز ڈی کلاسیفائی ہوئے تھے جنہیں بنیاد بناتے ہوئے میَں نے یہ کتاب لکھی تھی۔ میں نے ایک ایسا بیانیہ پیش کیا جو اس وقت تک قابلِ قبول بیانیوں سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ اگر اس کتاب میں ایسے معتبر ذرائع شامل نہ کیے جاتے تو غالباً یہ کتاب کامیاب نہ ہو پاتی۔ جیسا کہ آپ نے ذکر کیا  The Sole Spokesman کو شائع ہوئے تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن میری کتاب میں پیش کیا گیا استدلال ہی اب تک دہرایا جا رہا ہے۔ یہ کوئی اس قدر عجیب بات نہیں ہے کیوں کہ ایک اچھی کیڈمک کتاب ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ آپ دیکھ لیجئے کہ داس کیپیٹل بھی تو اب تک زندہ ہے‘ ایڈم سمتھ کی کتاب "The Wealth of Nations” کی مثال دی جا سکتی ہے۔ میں نے دیگر بہت سی کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں سے کچھ زندہ رہیں گی اور کچھ نہیں۔

میں آپ پر یہ بھی واضح کرتی چلوں کہ میں نے The Sole Spokesman کے لیے برٹش آرکائیوز، کانگریس پیپرز، مسلم لیگ پیپرز وغیرہ سے مدد حاصل کی۔ 1947ء کے بعد کی آرکائیوز یا تو غائب ہوچکی ہیں یا دکھائی ہی نہیں جاتیں‘ یہ افسرِشاہی کا ایک عمومی رویہ ہے۔ مگر جب تک آپ مجھے آرکائیوز نہیں دکھائیں گے’ میں تاریخ نہیں لکھ سکتی۔ تاریخ لکھنے کے لئے ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے، میں فکشن رائٹر تو ہوں نہیں کہ تاریخ Invent کر سکوں۔ میں منٹوؔ نہیں ہوں۔ تاریخ دانوں کو آرکائیوز کی ضرورت ہوتی ہے اور پاکستان میں حقائق کو پوشیدہ رکھنے کا رجحان عام ہے۔ ریاست کے زیرِانتظام آرکائیوز کا کوئی مربوط نظام قائم نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو وہ اس قابل نہیں کہ اس سے استفادہ کیا جا سکے۔

تجزیات آن لائن:                کیا ان تین دہائِوں کے دوران آپ کی سوچ میں کوئی تبدیلی آئی یا آپ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہیں؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           ایک کتاب اس وقت لکھی جاتی ہے جب ایک محقق کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اور ایک محقق کے لیے سوال اس کے اردگرد کے مسائل کی بنیاد پر ابھرتا ہے۔ تاریخ ماضی اور حال کے درمیان مکالمے کا نام ہے۔ اگر میں عہدِحاضر کے موضوعات کے بارے میں سوچ رہی ہوں، مثال کے طور پر جب میں ’’تقسیم اور پاکستان کی تخلیق‘‘ کے بارے میں سوچ رہی تھی اور اس موضوع پر تحقیق کی تو اس وقت میں The State of Martial Rule لکھنے میں کامیاب رہی۔ میرے ذہن میں یہ سوال کلبلا رہا تھا کہ پاکستان میں کیوں جمہوریت نہیں آسکی اور انڈیا میں جمہوریت کے فروغ پانے کی کیا وجوہات ہیں؟ ایک اورسوال یہ پیدا ہوا کہ وہ کیا وجوہات ہیں جن کے باعث مذہبی جماعتیں انتخابات میں کبھی کامیابی حاصل نہیں کر پائیں؟ مختصر الفاظ میں بات کی جائے تو A research question informs how to write a book?۔ اور ہر کتاب فرق ہوتی ہے۔ میری شروعاتی کتابیں اکیڈمک ہیں‘ بعدازاں مجھ سے کہا گیا کہ کوئی جنرل کتاب بھی لکھوں۔ میَں یہ بھی واضح کرتی چلوں کہ عہدِ حاضر میں ناشرین ایسی کتابیں شائع کرنا چاہتے ہیں جو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے زیرمطالعہ آئیں۔ میں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کی ابتدا کے دوران جو کتابیں لکھیں تو ان کی وجہ یہ تھی کہ میں اکیڈمک ورلڈ میں اپنا آپ منوانا چاہ رہی تھی۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اب ایسی کوئی کتاب نہیں لکھنا چاہتی جسے چند لوگ ہی پڑھیں۔

اُردو کی ساری کی ساری لغات میں سیکولرازم کا ترجمہ لادینیت کے طور پر کیا گیا ہے اور یہ سرے سے ہی غلط ہے کیوں کہ سیکولر کا لفظ جو جارج ہولیوک نے 1860ء کی دہائی میں پہلی بار استعمال کیا تھا‘ اس کا مذہب کی مخالفت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لادینیت کے لیے ایک دوسرا لفظ Atheism ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سیکولرازم کا نظریہ مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ آپ اگر مجھ سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا جناح سیکولر تھے یا رجعت پسند؟ پڑوسی ملک ہندوستان میں سیکولرازم کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی امور کی انجام دہی میں کسی ایک مذہب کو دوسرے پر قوفیت نہ دی جائے۔ سیکولرازم کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کے ہر شہری سے یکساں سلوک کیا جائے گا۔ اگر آپ کی سیکولرازم سے مراد یہ ہے کہ مذہب سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے تو جنوبی ایشیائی تناظر میں یہ اس لفظ کی غلط تشریح ہے۔ میری تحقیق کے مطابق جناح سیکولر سے زیادہ Constitutionalist تھے۔ وہ دستور پر گہرا یقین رکھنے کے باعث یہ ادراک کر چکے تھے کہ ایک جدید ریاست میں تمام شہریوں کو یکساں و مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جناح مذہب بیزار ہرگز نہیں تھے۔ میں کہتی ہوں کہ جب تک آپ لفط سیکولر کا مطلب نہیں سمجھیں گے، اس لفظ کا تاریخی پس منظر نہیں سمجھیں گے تو آپ ہمیشہ ہی اس کنفیوژن کا شکار رہیں گے۔

تجزیات آن لائن:                آپ نے 2015ء میں دیے جانے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جناح پاکستان نہیں چاہتے تھے؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           یہ سب بکواس ہے کہ جناح پاکستان نہیں چاہتے تھے۔ میری گفتگو کو غلط طور پر پیش کیا گیا تھا۔ بات یہ ہے کہ I said the what was the Pakistan’s demand? ۔ ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ محققین اور دانشور بھی یہ کہتے ہیں کہ جناح ایک ایسا پاکستان ہی چاہتے تھے جہاں ہم رہ رہے ہیں۔ میں نے بحیثیت تاریخ دان یہ استدلال پیش کیا کہ قائداعظم پاکستان چاہتے تھے لیکن ایسا پاکستان نہیں جو اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں۔  He wanted much more۔ قائداعظم یہ تقسیم شدہ اور مسخ شدہ پاکستان نہیں چاہتے تھے جس کا اظہار انہوں نے 1944ء اور ایک بار پھر 1946ء میں بھی کیا تھا۔

تجزیات آن لائن:                پاکستان میں اس وقت دو فکری گروہ ہیں۔ ایک کا خیال ہے کہ قائداعظم سکیولر تھے اور دوسرا مکتبہ فکر ان کے چہرے پر داڑھی سجانے کی کوشش کرتا ہے‘ آپ کا اس بارے میں کیا مؤقف ہے؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           اس کی وجہ دراصل لفظ سیکولر کے بارے میں پائی جانے والی کنفیوژن ہے۔ اُردو کی ساری کی ساری لغات میں سیکولرازم کا ترجمہ لادینیت کے طور پر کیا گیا ہے اور یہ سرے سے ہی غلط ہے کیوں کہ سیکولر کا لفظ جو جارج ہولیوک نے 1860ء کی دہائی میں پہلی بار استعمال کیا تھا‘ اس کا مذہب کی مخالفت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لادینیت کے لیے ایک دوسرا لفظ Atheism ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سیکولرازم کا نظریہ مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ آپ اگر مجھ سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا جناح سیکولر تھے یا رجعت پسند؟ پڑوسی ملک ہندوستان میں سیکولرازم کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی امور کی انجام دہی میں کسی ایک مذہب کو دوسرے پر قوفیت نہ دی جائے۔ سیکولرازم کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کے ہر شہری سے یکساں سلوک کیا جائے گا۔ اگر آپ کی سیکولرازم سے مراد یہ ہے کہ مذہب سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے تو جنوبی ایشیائی تناظر میں یہ اس لفظ کی غلط تشریح ہے۔ میری تحقیق کے مطابق جناح سیکولر سے زیادہ Constitutionalist تھے۔ وہ دستور پر گہرا یقین رکھنے کے باعث یہ ادراک کر چکے تھے کہ ایک جدید ریاست میں تمام شہریوں کو یکساں و مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جناح مذہب بیزار ہرگز نہیں تھے۔ میں کہتی ہوں کہ جب تک آپ لفط سیکولر کا مطلب نہیں سمجھیں گے، اس لفظ کا تاریخی پس منظر نہیں سمجھیں گے تو آپ ہمیشہ ہی اس کنفیوژن کا شکار رہیں گے۔

تجزیات آن لائن:                قائداعظم کی بہت ساری تقاریر ایسی ہیں جن میں انہوں نے مذہب کو بطور استعارہ استعمال کیا؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           کیا آپ نے کبھی تاریخِ اسلام کے بارے میں تحقیق کی ہے؟ ہزاروں نقطۂ نظر ہیں، کوئی ایک تو نہیں ہے۔ جناح نے اسلام کی ایک روشن خیال تعبیر پیش کی۔ انہوں نے مودودی یا سید قطب کا نقطۂ نظر نہیں دہرایا۔ آپ مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ قائداعظم کا مذہبی بیانیہ عام ڈگر سے ہٹ کر تھا۔ اسلام کی بہت سی تشریحات کی جا چکی ہیں۔  Invoking Islam doesn’t mean کہ جناح نے وہ کچھ ہی کہا جو مودودی کہہ رہے تھے۔ ضروت اس امر کی ہے کہ اس ملک کے لوگوں کی سوچ کو وسعت دی جائے۔ اگر آپ اسی نقطۂ نظر کی گردان کرتے رہیں گے تو اس صورت میں آپ کے لیے حقیقت تک رسائی حاصل کرنا ممکن نہیں۔

تجزیات آن لائن:                تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ جناح کے دور میں بلوچستان میں آپریشن ہوا، جہاد کشمیر کا آغاز ہوا، صوبہ سرحد کی حکومت برطرف کر دی گئی۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ جناح گورنر جنرل تھے لیکن وزیراعظم لیاقت علی خان کے ہوتے ہوئے ساری کابینہ جناح کو جواب دہ تھی‘ کیا یہ طرز عمل جمہوری تھا؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           دیکھئے! یہ ایک Valid سوال ہے۔ لیکن ان واقعات اور پیشرفتوں کو اس عہد کی معروضی حقیقتوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ جناح صاحب Constitutionalist تھے، انہوں نے کبھی دستور کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ ہم نے تقسیم کے بعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء اختیار کیا جس میں شامل شق 93 کے تحت مرکزی حکومت صوبائی حکومتوں کو برطرف کر سکتی تھی۔ صوبہ سرحد میں کانگریس برسراقتدار تھی جسے اقتدار سے ہٹانے کے لیے دستور کی اس شق کا استعمال کیا گیا جسے جناح صاحب کا اولین غیر جمہوری اقدام قرار دیا جاتا ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ انہوں نے ساری کارروائی جمہوریت کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کی اور آئین کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ آپ جناح کے بارے میں بارہا بات کرتے ہیں کہ انہوں نے بلوچستان میں آپریشن کیا مگر آپ مجھے یہ بتائیے کہ انڈیا نے کیا کیا تھا؟ نہرو نے حیدرآباد اور کشمیر میں فوج بھیجی تھی‘ کیا وہ جمہوری طرز عمل تھا؟ آپ ذرا سوچئے، ماضی کے ہر واقعہ کو اس دور کی حقیقتوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔

تجزیات آن لائن:                آپ نے اپنے ایک انٹرویو میں جناح صاحب کی Limitations پر بات کی تھی‘ کیا کانگریس یا متحدہ ہندوستان کی دوسری جماعتوں کی کوئی Limitations نہیں تھیں؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           بالکل تھیں، نہرو صاحب کی سب سے بڑی Limitation یہ تھی کہ وہ انڈیا میں خود کو ایک Stranger تصور کرتے تھے (قہقہہ لگاتے ہوئے)۔ وہ مقامی سیاسی منظرنامے میں مغربی آئیڈیاز کا اطلاق کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ نہرو کی طرح گاندھی کی بھی بے شمار Limitations تھیں۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے ہی واقف نہیں ہیں۔

تجزیات آن لائن:                مسلمانوں نے ہزاروں برس ہندوستان پر حکومت کی لیکن کیا ہم خوف زدہ نہیں تھے کہ ہم آزاد ہندوستان میں ‘رعایا’ بنا دیے جائیں گے؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           یہ تاثر سراسر غلط ہے۔ مسلمان قریباً ڈیڑھ صدی قبل اقتدار سے محروم ہو گئے تھے۔ اس وقت انگریزوں نے ایسی پالیسیاں بنائیں جن کے باعث ہندوستان میں مذہبی تعصبات میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔ دیکھئے، ہندوستان میں مذہبی تنوع موجود تھا لیکن ان پر کبھی سیاسی رنگ غالب نہیں آیا۔ علاقائی ریاستیں تھیں جہاں ہندو، مسلم اور سکھ ایک ساتھ رہتے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ 1947ء میں ہونے والی تقسیم مذہبی بنیادوں پر ہوئی جس کے لیے آپ کو انگریزوں کے کردار کا جائزہ لینے کی ضرورت بھی ہے کہ ان کی اس بارے میں کیا سوچ یا پالیسی تھی؟ آپ لوگوں نے اسی سوچ کو فروغ دیا جو انگریزوں کی منشا کے مطابق تھی۔ وہ یہ کہتے تھے کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ گروہ ہیں۔ لفظ مسلم کے لیے کیپیٹل ’’ایم‘‘ اور لفظ ہندو کے لیے کیپیٹل ’’ایچ‘‘ کا استعمال برطانوی راج نے ہی شروع کیا۔ انگریز راج سے قبل اس دھرتی پر ایک مسلمان افغانی، ایرانی یا ترک النسل ہوا کرتا مگر وہ خود کو کبھی کیپیٹل ’’ایم‘‘ میں نہیں دیکھتا تھا۔ برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں نے یہ روش بند کروا دی اور کہا کہ You are pitted against the Hindus۔ یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث ایسا ہوا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر پیشرفت کو مذہبی تناظر میں دیکھتے ہیں، اور اس سے جڑی سیاست پر کوئی دھیان نہیں دیتے۔۔۔ میرا موقف یہ ہے کہ پاکستان کا قیام سیاسی وجوہات کے باعث عمل میں آیا۔ مذہب کی مختلف تشریحات پر تو متحدہ ہندوستان میں کوئی لڑائی جاری نہیں تھی، یہ جدوجہد مکمل طور پر سیاسی تھی۔ لہٰذا آپ اسے مذہب سے کیوں جوڑتے ہیں؟

منٹوؔ کو پاکستان میں وہ رتبہ نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے

 

تجزیات آن لائن:                جیسا کہ آپ نے کہا، یہ ایک سیاسی جدوجہد تھی، لیکن اس پر مذہبی رنگ کیوں غالب آ گیا؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           ہاں ایسا ہی ہے لیکن آپ مجھے یہ بتائیے کہ پاکستان تو بن گیا لیکن زیادہ مسلمان اب بھی ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ہی آباد ہیں تو یہ کیسا حل ہوا؟ آپ مجھے یہ بھی بتائیے کہ کیا جناح ایسا ہی پاکستان چاہتے تھے جہاں مسلمانوں کی آبادی ہندوستان اور بنگلہ دیش سے بھی کم ہو؟ کیا کمال کی ہے آپ کی تاریخ۔ ہم نے کبھی اس بارے میں سوچا؟ کیوں نہیں سوچا۔ ہم یہ ماننے کے لیے ہی تیار نہیں ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ میں نے اس بارے میں اپنی کتاب میں Explain کیا ہے لیکن ہم مزید کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتے۔

 

پاکستان کا کوئی تاریخ نویس میرا فیورٹ نہیں

 

تجزیات آن لائن:                اگر یہ صرف ایک سیاسی جدوجہد تھی تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کانگریس مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگا رہی تھی؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           پاکستان بنا کر کانگریس نے اپنی ایک بڑی مشکل کچھ یوں حل کی کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے باہر نکال دیا۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارا انتخاب تھا لیکن دراصل یہ کانگریس کی حکمتِ عملی تھی۔

تجزیات آن لائن:                آپ کے خیال میں کانگریس کے ایسا کرنے کی کیا وجہ رہی ہو گی؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           کانگریس کی حکمت عملی درست تھی کیوں کہ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو مسلمان سیاسی طور پر بہت زیادہ مضبوط ہو جاتے۔ اگر نہرو پنجاب اور بنگال کو تقسیم نہ کرتے تو پنجاب اور بنگال کے سیاسی منظرنامے میں کون سا فریق زیادہ طاقت ور ہوتا؟ ظاہر ہے کہ مسلمان سیاسی طور پر طاقت ور ہوتے۔ میں گزشتہ تین دہائیوں سے یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن ہم سرے سے کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔

تجزیات آن لائن:                آپ کے خیال میں تقسیم کے وقت ہونے والے سانحات کا ذمہ دار کون سا فریق تھا کیوں کہ بہت سے مورحین یہ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ کے کچھ رہنماؤں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت فسادات کا آغاز کیا جو بعدازاں ہندوستان اور بالخصوص پنجاب بھر میں پھیل گئے؟

ڈاکٹر عائشہ جلال: بہت اچھا سوال کیا آپ نے۔ حقیقت میں 40ء کی دہائی کے آغاز سے ہی کشیدگی بڑھنا شروع ہو گئی تھی۔ اگر آپ انٹیلی جنس رپورٹیس پڑھیں اور میَں نے ان پر بہت زیادہ تحقیق کی ہے اور بالخصوص اپنی کتاب Self and Sovereignty میں اس بارے میں تفصیل سے لکھا بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بٹوارہ ہو رہا تھا تو جو ہندو یا مسلمان غلط فریق کا ساتھ دے رہے تھے تو ان کو ٹارگٹ کیا گیا۔ یہ مذہبی جوش نہیں تھا کیوں کہ بلوائی چوریاں کر رہے تھے، جائیدادوں پر قبضہ کر رہے تھے وغیرہ ۔ اس میں مذہب کا کوئی کردار نہیں تھا۔ یہ صرف سیاست تھی ۔

تجزیات آن لائن:                یہ سیاست ہی تھی لیکن کوئی ایک ذمہ دار تو ہوگا جیسا کہ کچھ حلقوں کی جانب سے راولپنڈی میں ہونے والے بدترین فسادات کی ذمہ داری اس وقت کے ایک لیگی ایم ایل اے پر عائد کی جاتی ہے جنہوں نے بعدازاں پورے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           اس وقت متحدہ ہندوستان کے منظرنامے پر فعال سب فریق ان فسادات کے ذمہ دار تھے، کسی ایک فرد پر ذمہ داری عائد کرنا درست نہیں۔ آپ دیکھئے کہ انگریز بیوروکریسی انٹیلی جنس رپورٹیں تو جمع کر رہی تھی کہ دیہاتی علاقوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ شہری علاقوں کی نسبت دیہاتی علاقوں میں زیادہ پرتشدد واقعات ہوئے۔ انگریز بیوروکریسی یہ جانتی تھی کہ کشیدگی بڑھ رہی ہے لیکن اس کے باوجود کوئی انتظامی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ مثال کے طور پر انٹیلی جنس رپورٹوں میں یہ لکھا جا رہا تھا کہ ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں لیکن انگریز افسر شاہی نے ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ یوں، انگریز حکمرانوں پر بھی بڑی حد تک ان فسادات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیوں کہ وہ جلد سے جلد اقتدار کی منتقلی چاہتے تھے۔ تقسیم کچھ یوں عمل میں آئی کہ ریڈ کلف نے ہیلی کاپٹر پر ایک چکر کاٹا اور ایک لکیر کھینچ دی جس کے باعث لوگ کنفیوژن کا شکار ہو گئے۔ اس ساری صورتِ حال میں جناح یا لیگی قیادت کا کوئی کردار نہیں تھا بلکہ دوسری جنگِ عظیم میں حصہ لینے والے سپاہیوں کا کردار زیادہ اہم تھا۔ انگریزوں نے کیوں کچھ نہیں کیا؟ آپ پنجاب باؤنڈری کمیشن کی تاریخ کا مطالعہ کرلیں۔ مجھے بتائیے، کیا جناح کا کوئی قصور ثابت ہوتا ہے؟

تجزیات آن لائن:                کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے کہ جناح کی زندگی میں ہی قومی شناخت کا سوال بھی پیدا ہو گیا تھا جب انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تقریب میں اردو کو سرکاری زبان قرار دیا تھا؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:            میں سمجھتی ہوں کہ ہم جب تک اپنے سارے سیاسی یونٹوں کو Sense of Belonging نہیں دیں گے، بااختیار نہیں بنائیں گے تو وفاق مضبوط نہیں ہو گا۔ ملکوں کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وفاقی یونٹوں کو مرکز میں بااختیار بنایا جائے۔ صوبوں کے جب مرکز میں Stakes ہوں گے تو وہ نہ صرف اپنی بلکہ ملک کی ترقی کے بارے میں بھی سوچیں گے لیکن اگر آپ اختیارات کو تقسیم کرتے ہیں تو صوبے مرکز سے مزید الگ تھلگ ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت جناح بھی یہ کوشش کر رہے تھے۔ وہ کانگریس کے ساتھ اسی بات پر لڑ رہے تھے کہ آپ صوبوں کو وفاق میں اختیارات دیں لیکن کانگریس نے ایسا نہیں کیا اور یوں قائداعظم پاکستان بنانے پر مجبور ہو گئے۔ ہم آج ایسا ہی کچھ گلگت بلتستان کے ساتھ بھی کر رہے ہیں کہ ہم آپ کو اختیارات دے رہے ہیں لیکن مرکز میں گلگت بلتستان کو کوئی اختیار نہیں دیا جا رہا۔ جناح حقیقی معنوں میں وفاق پرست تھے۔ وہ ایک دستورساز کے طور پر وفاقیت کی اہمیت سے بھی آگاہ تھے۔

تجزیات آن لائن:                میں اپنا سوال ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ جناح کی ڈھاکہ یونیورسٹی میں کی جانے والی تقریر میں اردو کو سرکاری زبان قرار دینا کیا ایک بڑی سیاسی غلطی نہیں تھی؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ سقوطِ ڈھاکہ کا سانحہ اردو کو سرکاری زبان بنانے کی وجہ سے پیش آیا تو یہ تاثر سراسر غلط ہے۔ میرا خیال ہے کہ جو لوگ ایسا سوچتے ہیں’ ان کے لیے بنگلہ دیش کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ازحد ضروری ہے۔ یہ درست ہے کہ جناح کا یہ بیان Insensitive تھا لیکن وہ ملک کو یکجا رکھنے اور وفاقی یونٹوں کی Integration کی بات کر رہے تھے۔ دوسرا، قومی اور سرکاری زبان میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ جناح نے اردو کو ہمیشہ سرکاری زبان بنانے کی بات کی۔ جناح کی وفات کے کئی برس بعد بنگالی کو سرکاری زبان کے طور پر یکساں حیثیت دے دی گئی تھی۔ آپ کو اس وقت کے حالات کا تجزیہ معروضی حقیقتوں کے تناظر میں کرنا چاہئے۔ جناح کا وہ بیان اس وقت کے حالات کے مطابق تھا کیوں کہ اس وقت تک پاکستان کا مستقبل واضح نہیں تھا۔ لوگ سوچتے تھے کہ یہ ملک چھ ماہ میں ختم ہو جائے گا۔ وہ اس تقریر کے ذریعے مشترکات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میرا خیال ہے کہ ان کی وہ تقریر بہت زیادہ  Insensitiveتھی لیکن اس ایک واقعہ کو  سقوطِ ڈھاکہ کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔

تجزیات آن لائن:                میں آپ کی کتاب The state of martial rule کے بارے میں بات کرنا چاہوں گا، معروف محققق حمزہ علوی نے پاکستان میں فوجی اداروں کے طاقت ور ہونے کی ذمہ داری اگر کھل کر بات کی جائے تو نوآبادیاتی عہد پر عائد کی ہے، اس بارے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:           دیکھیے، پاکستان کو بھی وہ ادارے ہی ملے جو ہندوستان کو ملے۔ ان کے اس تھیسز کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی۔ انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اگر انڈیا نے فوجی مداخلت کا راستہ روکا تو پاکستان ایسا کرنے میں کیوں ناکام رہا؟ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا میں کانگریس تقسیم کے کچھ عرصہ بعد ہی دستور میں تبدیلی لانے کے قابل ہو گئی تھی جس کے باعث اس نے اداروں کی حدود متعین کر دیں لیکن پاکستان میں ایسا کچھ  نہیں ہوا اور ایوب خان جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے یہ عذر تراشا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو انڈیا ہمیں کھا جاتا جس کے باعث ملک میں جمہوریت کبھی مضبوط بنیادوں پر پروان ہی نہیں چڑھ سکی۔

تجزیات آن لائن:          آپ کے خیال میں پاکستان کی تاریخ کا بدترین مارشل لا کون سا تھا؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       میرا خیال ہے کہ ایوب خان نے آمرانہ ادوار کی بنیاد رکھی جس کے باعث اس حوالے سے ان کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ لیکن پاکستان کو تباہی کی جانب لے جانے اور اس کی سمت یکسر تبدیل کر دینے کی ذمہ داری ضیاء آمریت پر عائد ہوتی ہے۔

تجزیات آن لائن:          کیا یہ نقطہ نظر درست ہے کہ سیاست دانوں کی نااہلی یا بعض مبصرین کے نزدیک بھٹو صاحب کے آمرانہ طرزِ حکومت کے باعث ملک پر ضیاء آمریت مسلط ہوئی؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       یہ حقیقت ہے کہ بھٹو صاحب بہت سارے محاذوں پر ناکام ہو گئے تھے لیکن اس حوالے سے عالمی طاقتوں کا کردار بھی نہایت اہم تھا جو بھٹو صاحب کو اقتدار سے ہٹانا چاہتی تھیں اور وہ یوں اپنا یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ بھٹو نے بھی بہت ساری سیاسی غلطیاں کیں لیکن اس کے باوجود وہ انتخابات میں ضرور کامیاب ہو جاتے۔

تجزیات آن لائن:          پاکستان میں سماجی تاریخ کے مضمون کے حوالے سے بہت زیادہ کام نہیں ہوا‘ آپ اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       میں سمجھتی ہوں کہ سماجی تاریخ کا مضمون نہایت اہم ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی نے اس حوالے سے بہت زیادہ کام کیا ہے لیکن اس شعبہ میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک تجزیاتی تاریخ کا تعلق ہے تو میرے خیال میں اس حوالے سے پاکستان میں بہت زیادہ کام نہیں ہوا۔

تجزیات آن لائن: کیا سماجی تاریخ مرتب کرکے ہم متذکرہ بالا سیاسی سوالات کے جواب حاصل کر سکتے ہیں؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       ہاں، کیوں نہیں! ہم ان تمام سوالات کے جواب حاصل کر سکتے ہیں۔ ان دنوں ہر کوئی سماجی تاریخ کے بارے میں بات کر رہا ہے تو پھر لکھوائیے ناں پیپلز ہسٹری۔ لیکن ہم جب تک اپنی  Fundamental History سارٹ آؤٹ نہیں کرتے’ اس وقت تک کوئی دوسری تاریخ لکھنا ممکن نہیں۔

تجزیات آن لائن:          آپ کلچرل ہسٹری، لٹریری ہسٹری یا یوں کہہ لیجئے کہ انٹیلیکچوئل ہسٹری میں بھی طبع آزمائی کر رہی ہیں۔ کیا آپ مستقبل میں سماجی تاریخ یا پیپلز ہسٹری لکھنے کا بھی کوئی ارادہ رکھتی ہیں؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       اگر سماجی تاریخ کا تعلق کسی مربوط Thought کے ساتھ ہوا تو ضرور لیکن وہ بنیادی طور پر Intellectual Thought ہونا چاہئے۔ سماجی تاریخ کے لکھنے کے بہت سے طریقے ہیں لیکن میں پاپولر سوشل ہسٹری لکھنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ ایک فرق قسم کا پراجیکٹ ہے۔ اس ملک میں اب تک ایک عمومی کتاب اور مونوگراف میں فرق واضح نہیں کیا جا سکا اور اگر آپ ان دونوں میں فرق واضح نہیں کر پائیں گے تو آپ کبھی تنقید کا فن بھی نہیں سیکھ پائیں گے۔ اگر آپ ایک مونوگراف کو لے کر یہ کہیں کہ یہ بہت ہی مشکل ہے‘ یہ جنرل بک ہوتی تو بہتر ہوتا لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہیں۔ آپ کبھی ان بنیادوں پر ایک کتاب کا تجزیہ نہیں کر سکتے۔ اگر اس ملک میں لوگوں کو یہ فرق سمجھ میں نہیں آتا کہ مونوگراف اور ایک عام کتاب میں کیا فرق ہے (قہقہہ لگاتے ہوئے) تو میں اس حوالے سے کوئی بھی مدد کرنے سے قاصر ہوں۔

تجزیات آن لائن:          آپ کا پسندیدہ پاکستانی تاریخ نویس کون ہے؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       سچ پوچھیں تو کوئی ایک بھی فیورٹ نہیں۔ ابھی تو تاریخ لکھی جانی ہے۔ یہ کام آنے والی نسلیں کریں گی۔ میں اپنے طالب علموں کی اسی نہج پر تربیت کر رہی ہوں۔ کے کے عزیز نے ایک اور طرح کی تاریخ لکھی ہے۔ ان کی اولین کتاب بہت اچھی تھی لیکن ان کی دیگر کتابیں اس قدر اعلیٰ پایے کی نہیں ہیں۔ حمزہ علوی بھی تاریخ نویس نہیں تھے۔ ڈاکٹر مبارک علی نے بہت شاندار پاپولر تاریخ لکھی ہے ۔

تجزیات آن لائن:          کیا پاپولر یا سماجی تاریخ کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       ہے، بہت زیادہ ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ ہم جب تک اپنی سیاسی تاریخ کے بارے میں آگاہ نہیں ہوں گے‘ اس وقت تک تاریخ نویسی کی دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کرنا ممکن نہیں۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ ہر کوئی تقسیم کے المیے کی تاریخ بیان کرنے میں دلچسپی لے رہا ہے۔ آپ خواہ تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات کے بارے میں لکھیں یا لوگوں کے انٹرویو کر لیں ‘ مثال کے طور پر آپ نے ایک سو سالہ بڑھیا کا انٹرویو کیا اور اس کی بنیاد پر سماجی تاریخ لکھ دی۔ ایک بات بتائیے‘ کیا آپ سماجی تاریخ لکھ کر یہ بتا سکتے ہیں کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا؟ انسان اپنے تحقیقی سوال کی بنا پر ہی تاریخ لکھتا ہے۔ اگر آپ کا سوال ہی فرق ہے تو تاریخ لکھنا ممکن نہیں۔ سوال ایسا ہو جس پر کام کرنا بھی ممکن ہو۔ انسان کہنے کو بہت کچھ کہہ سکتا ہے مگر اہم یہ ہے کہ یہ کام کیا کس طرح جائے گا؟ آپ پاپولر یا سوشل ہسٹری لکھ کر دکھائیں۔ ڈاکٹر مبارک علی کا کام مفید ضرور ہے لیکن یہ کوئی علمی تاریخ نہیں ہے۔

تجزیات آن لائن:          آپ نے کلچرل ہسٹری پر بھی کام کیا جس کی ایک مثال منٹو صاحب پر لکھی گئی کتاب "The Pity of Partition” ہے‘ آپ نے اپنی کتاب کے لیے یہ عنوان ہی کیوں منتخب کیا؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       یہ انڈیا اور پاکستان کے بارے میں ہے جو حقیقی معنوں میں آزادی حاصل نہیں کر پائے اور دونوں ملکوں کے باسی اب بھی انسانی اور مذہبی جبر کے غلام ہیں۔ یہ ہے Pity of Partition کہ آپ آزاد ہو کر بھی آزاد نہیں ہیں اور اب بھی غلام ہی ہیں۔

تجزیات آن لائن:          آپ نے اپنی کتاب Partisans of Allah میں جہاد کی دو سو برس پر محیط تاریخ بیان کی ہے جس میں آپ نے اس حوالے سے دو مختلف تصورات بیان کیے ہیں؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       میں نے صرف یہ بات کہی ہے کہ اس ملک میں اور دنیا بھر میں مسلمان کسی ایک تصور کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ باقی مواد قرأن سے حاصل کر لیں گے اور بس۔ میں نے یہ لکھا ہے کہ مسلمان اپنی پوری تاریخ میں تصور جہاد کی مختلف تشریح کرتے رہے ہیں۔ سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ میں فرق ہے۔ آپ جب تک ان دو تصورات کو الگ نہیں کریں گے کہ مذہب کیا ہے؟ اور آپ کی تاریخ کیا ہے؟ تو آپ کنفیوژ ہی رہیں گے۔

تجزیات آن لائن:          قائداعظم کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ہی مذہبی رجعت پسندی میں تبدریج اضافہ ہونے لگا تھا، آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       یہ تو سیاست تھی۔ آپ کو معلوم ہی ہے کہ جماعتِ اسلامی، مجلسِ احرار، خاکسار سمیت بہت سی مذہبی تنظیمیں مسلم لیگ کے خلاف تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد ان کے لیے یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ یہ کہتے کہ آپ نے اسلام کا نعرہ بلند کیا تھا تو اب بناؤ اسلامی ریاست۔ یہ وہ لوگ ہی تھے جو قائداعظم کو کافرِاعظم کا خطاب دیتے تھے۔ ان لوگوں نے ہی پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا نعرہ بلند کیا۔

ہم جب تک اپنی سیاسی تاریخ کے بارے میں آگاہ نہیں ہوں گے‘ اس وقت تک تاریخ نویسی کی دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کرنا ممکن نہیں۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ ہر کوئی تقسیم کے المیے کی تاریخ بیان کرنے میں دلچسپی لے رہا ہے۔ آپ خواہ تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات کے بارے میں لکھیں یا لوگوں کے انٹرویو کر لیں ‘ مثال کے طور پر آپ نے ایک سو سالہ بڑھیا کا انٹرویو کیا اور اس کی بنیاد پر سماجی تاریخ لکھ دی۔ ایک بات بتائیے‘ کیا آپ سماجی تاریخ لکھ کر یہ بتا سکتے ہیں کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا؟ انسان اپنے تحقیقی سوال کی بنا پر ہی تاریخ لکھتا ہے۔ اگر آپ کا سوال ہی فرق ہے تو تاریخ لکھنا ممکن نہیں۔ سوال ایسا ہو جس پر کام کرنا بھی ممکن ہو۔ انسان کہنے کو بہت کچھ کہہ سکتا ہے مگر اہم یہ ہے کہ یہ کام کیا کس طرح جائے گا؟ آپ پاپولر یا سوشل ہسٹری لکھ کر دکھائیں۔ ڈاکٹر مبارک علی کا کام مفید ضرور ہے لیکن یہ کوئی علمی تاریخ نہیں ہے۔

تجزیات آن لائن:          آپ پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں، ایک امریکی یونیورسٹی اور بالخصوص مغرب میں تدریس کے فرائض انجام دینا آپ کے لیے کیسا تجربہ رہا؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       میں نے بی اے کی ڈگری امریکا کے ویلزلے کالج سے حاصل کی تھی۔ یوں مجھے کسی حد تک اندازہ تھا کہ امریکی یونیورسٹیوں میں تدریس کا طریقہٌ کار کیا ہے؟ یہ درست ہے کہ انسان جب ملازمت شروع کرتا ہے تو کچھ دقت ضرور ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ انسان تجربات سے بہت کچھ سیکھ جاتا ہے جیسا کہ بچوں کی ذہنی استعداد کیا ہے؟ وغیرہ۔ میں 1999ء سے امریکا کی Tufts University سے منسلک ہوں۔ میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ طالب علموں کا معیار غیرمعمولی  طور پر بہتر ہوا ہے اور میرے لیے الفاظ میں یہ بیان کرنا ممکن نہیں۔ میری کلاس میں ساؤتھ ایشین ریجن کے بچے بھی زیرِتعلیم ہیں اور آپ کے لیے یہ امر باعثِ حیرت ہو گا کہ میری نصف سے زیادہ کلاس امریکی طالب علموں پر مشتمل ہوتی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک اچھا تجربہ رہا ہے۔ لیکن جب میں یہاں پاکستان آکر پڑھاتی ہوں تو مجھے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہاں معیارِ تعلیم کس قدر بہتر ہے۔ ہمارے بچے بہت ذہین ہیں لیکن ہمارا تعلیمی اداروں کو منتظم کرنے کا طریقہ کار درست نہیں ہے۔ میں صرف یہ کہوں گی کہ انسان شروع میں جدوجہد کرتا ہے اور بالآخر کچھ نہ کچھ سیکھ ہی جاتا ہے۔
تجزیات آن لائن:          کیا کبھی تعصبات کا سامنا بھی کرنا پڑا؟

ڈاکٹر عائشہ جلال:       وہ تو رہا ہے۔ لیکن امریکا میں تعصبات Ingrained ہیں۔امریکی ہم سے زیادہ کالوں کے حوالے سے متعصب ہیں لیکن یہ تعصب اتنا زیادہ Institutionalize ہے کہ روزمرہ زندگی میں آپ کا اس سے بہت زیادہ سامنا نہیں ہوتا مگر یہ ہے ضرور۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...