ام الابہامات

618

بین الاقوامی سیاسیات درحقیقت بیانیہ تشکیل دینے  کا فن ہے ،جس کے نتیجے میں رائے عامہ ہم وار ہوتی ہے۔گو کہ یہ عمل   سفارت کاری و رائے سازی   میں مہارت   کا متقاضی ہوتا ہے ، تاہم  سب سے اہم وہ دلائل  ہیں  جن کی بنا پر کوئی بیانیہ تشکیل پاتا ہے۔ اگر کوئی بیانیہ   اپنی اہمیت  برقرار نہ رکھ پائے تو اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمزور دلائل  محض ابہام و انتشار کا باعث ہوتے ہیں۔

عالمی برادری کی جانب سے   پاکستان میں  غیر ریاستی عناصر  کی مبینہ موجودگی  اور یہاں سے ان کی  وابستگی کے اصرار پر  پاکستان اکثر برہم دکھائی دیتا ہےاور وہ  عسکریت پسندوں کے خلاف اٹھائے  گئے اقدامات اور  اس سلسلے میں دی گئی قربانیوں  کا حوالہ دے کر عالمی برادری کو قائل کرنے کی کوشش کررہاہے۔  اس کے ساتھ ہی پاکستان  اس بات کا دعوے دار ہے کہ اس نے اچھے اور برے عسکریت پسندوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھا ہے۔تاہم حالیہ  ڈرون حملے کے بعد  کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس  ، احتجاجی مظاہرے اور اسی نوعیت کی دیگر سرگرمیاں درج بالا ریاستی موقف  کی نفی کرتی ہیں۔ بڑی حد تک اس بات کی ذمہ دار عوامی حکومتیں  بھی ہیں  جو  سفارتی سطح پر مضبوط دلائل کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ لڑنے میں ناکام رہی ہیں۔مثال کے طور پرسلامتی کونسل کی جائزہ کمیٹی کے پاکستان دورے سے قبل  حافظ سعیدنے جو کہ ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ ہیں، سلامتی کونسل کی جائزہ کمیٹی  کے دورے کے دوران  گھر پر اپنی  نظر بندی کےحکومتی احکامات کے  خلاف  عدالتِ عالیہ میں درخواست  دائر کی، جسے عدالت نے منظور بھی کرلیالیکن  ان کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کی ذرائع ابلاغ  میں پذیرائی  کے سبب اس معاملے کی گونج دنیا بھر میں سنائی دی۔ اس سب کے بعد کون اس بات پر اعتماد کرے گا کہ پاکستان نے  کالعدم گروہوں کے خلاف خاطرخواہ اقدامات کیے ہیں؟

یہ جائزہ کمیٹی  مخصوص عسکریت پسند گروہوں  پر پابندی سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد  1267  پر عملدرآمد کی نگرانی پر مامور ہے۔یہ کمیٹی جماعۃ الدعوہ سمیت خاص طور پر ایسے  کالعدم گروہوں کے معاملات میں دلچسپی لے رہی تھی جو رفاہِ عامہ کے پردے تلے  اپنی سرگرمیاں جاری رکھےہوئے ہیں۔ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی  بھی اس بابت اشارہ کر چکے ہیں کہ جماعۃ الدعوہ  کے اثاثے اور خیراتی ادارے حکومتی تحویل میں لے لیے جائیں گے۔ماضی میں  حکومتِ پنجاب نہ صرف ان اداروں کو اپنی تحویل میں لے چکی ہے، بلکہ ان کو چلانے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے  بجٹ بھی مختص کیا گیا۔

سلامتی کونسل کی جائزہ کمیٹی معمول کے رسمی دورے پر پاکستان آئی تھی ، تاہم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے  جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت  جیسے مسائل کے خلاف  نبر د آزما  ایک عالمی تنظیم ہے ،    پاکستان میں کالعدم گروہوں کی سرگرمیوں  سے متعلق دیگر عالمی اداروں  کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

کالعدم عسکریت پسند گروہ سفارتی سطح پر پاکستان کے لیے ایک مستقل مسئلہ بنے ہوئے  ہیں۔ یہ بات کئی اعلیٰ سطحی قومی مجالس میں بارہا زیرِ بحث آ چکی ہے کہ  ایسے گروہ نہ صرف  ملک کے لیے تزویراتی  بوجھ بن چکے ہیں بلکہ   یہ داخلی سلامتی کے لیے بھی  مشکلات  کا موجب ہیں۔ یہ گروہ عالمی دہشت گرد تنظیموں اور پاکستان مخالف عناصر  کے لیے افرادی کمک کی منڈیوں کا کردار ادا کرتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعلقات پر  بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

سب سے اہم یہ کہ یہ گروہ  مختلف  سطحوں پر انتشار کا باعث ہیں۔ جب ایسے گروہ قومی  ایجنڈوں  کے پردے میں پناہ لیتے  ہیں تو عوامی تصورات ابہام کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر کالعدم تنظیموں کے اراکین اپنے آپ کو "انتہائی  محبِ وطن”  گردانتے ہوئے  پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کا محافظ  ظاہر کرتے ہیں۔   سائبر دنیا میں کالعدم تنظیموں کی ان سرگرمیوں پر حکومتی اداروں کی خاموشی عام شہریوں میں اضطرابی کیفیت پیدا کر رہی ہے۔

باوجود یکہ  عسکریت پسند گروہوں پر پابندی کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کروانا قومی لائحہِ عمل(NAP) کا حصہ ہے  اور حکومت نے  ان تنظیموں پر دباؤ ڈالنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں، لیکن یہ تنظیمیں  عوام میں اپنا نرم تاثر  قائم کرنے کے لیے حکومت سے ٹکراؤ کی پالیسی ترک کرتے ہوئے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے  کی جوابی حکمت ِ عملی پر عمل پیرا ہیں ۔ ملی مسلم لیگ کا قیام اس کی واضح مثال ہے۔تاہم حالیہ پیش رفت زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پائی ہے۔عسکریت پسندانہ بیانیے کے رد  کے لیے مذہبی علماء کی مدد سے  "پیغامِ پاکستان ” کے نام سے جاری کردہ نئے بیانیے کو نہ صرف کالعدم تنظیموں کے سربراہان کی تائید وحمایت حاصل ہے ، بلکہ وہ ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریبِ رونمائی میں بھی شریک ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پر ذرائع ابلاغ میں  زیادہ شور نہیں اٹھا، جیسا کہ دوبرس قبل اس وقت کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ کی ملاقات پر اٹھایا گیا تھا،حتیٰ کہ اس پر عدالت نے نوٹس لے لیا تھا۔

کالعدم عسکریت پسند  گروہوں کی یہ حکمتِ عملی موثر ثابت  ہو  رہی ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال  جماعۃ الدعوہ  و دیگر روایتی عسکریت پسند گروہوں کے اراکین کو "سابق عسکریت پسند ”  افراد کے طور پر دیکھتے ہیں ، جو اپنے آپ کو رفاہی خدمات کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔انہوں نے اس امرکا اظہا کیا کہ اگر انہیں تنگ کیا گیا تو  اندیشہ ہےکہ وہ  دہشت گرد گروہوں میں شمولیت اختیارکر لیں گے ۔دلچسپی کی  بات یہ ہے کہ انہوں نے  اسلام آباد میں واقع پولیس کے صدر دفتر میں منعقدہ   انسداد دہشت گردی  فورس(ATF) کی تقریب تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے اس بات کا دعویٰ بھی کیا کہ تقریباً چار سے پانچ ہزار  عسکریت  پسندعسکری کارروائیاں چھوڑ کر فلاحی کاموں کے لیے چندہ جمع کرنے میں مصروف ہیں۔معلوم نہیں انہوں نے یہ اعدادوشمار کہاں سے حاصل کیے، جبکہ جماعۃ الدعوہ کے دعوے کے مطابق  ملک بھر میں  اس کے باقاعدہ اراکین کی تعداد  50,000 سے زائد ہے۔

یہ کہنا غلط ہو گا کہ عوامی و عسکری  انتظامیہ نے اس صورتِ حال سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں کی  ۔تاہم حالات کی واضح صورت گری میں دو  اہم امر مانع ہیں۔ اول ان گروہوں کی ریاست کے ساتھ طویل شراکتی  رفاقت ، جس نے ان تنظیموں کو ریاستی بیانیے پر تسلط جمانے کا موقع فراہم کیا ،اور دوم  ان تنظیموں سے معاملات طے کرنے کی ریاستی حکمتِ عملی۔یہی وجہ ہے کہ  مخصوص گروہوں کی بحالی و انضمامِ نو اور قومی دھارے میں واپسی کے حوالے سے کیے گئے مکرر مباحث اور نتیجہ خیز  آراء  کے کے باوجود ابھی تک مر بو ط لائحہِ عمل تشکیل نہیں دیا جا سکا۔ اس مقصد کے لیے حکومت اور عسکری انتظامیہ کے مابین  اتفاق ِ رائے انتہائی ضروری ہے۔

یہی وقت ہے کہ کالعدم گروہوں کے حوالے سے موجود ابہام و افتراق  کو دور کردیا جائے، جبکہ  قومی سلامتی پالیسی تشکیلی مراحل میں ہے  اور داخلی سلامتی پربھی  ازسرِ نو غور کیا جارہا ہے۔ قومی سلامتی کےلائحہِ عمل کے  تخلیق کاروں  کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل نظام العمل ترتیب دینا چاہیے۔ اس عمل میں مقننہ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ایوان میں کالعدم عسکریت پسند گروہوں سے متعلق کھلی بحث ہونی چاہیے۔ سپہ سالار   جنرل قمر جاوید باجوہ  دسمبر میں مقننہ کے مشترکہ اجلاس میں اس خیال  کی تائید کر چکے ہیں کہ  دفاعی و خارجہ پالیسی کی تشکیل سمیت پارلیمان  کو پالیسی سازی میں رہنمایانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ فوج ان پالیسیوں پر کاربند رہے گی۔ پارلیمان  کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ اہم مسائل  سے متعلق پالیسی  مباحث کو اپنے  ذمہ لے کرقومی معاملات میں موثر کردار اد کر سکتی ہے۔

 

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...