تعلیم ،امن اور ہم آہنگی

پاک  انسٹیٹیوٹ  فار پیس  اسٹڈیز  کی  جامعات  کے اساتذہ  کے ساتھ  ہونے  والے  مکالمات  پر  مبنی  رپورٹ کی تقریب رونمائی

445

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے تعلیم،امن اور ہم آہنگی کے حوالے سے 2017 میں  کالجز اور عصری جامعات کے اساتذہ کے ساتھ ہونے والی  ورکشاپس پر مبنی  رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ کی تقریب رونمائی اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس کی صدارت ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ضیاء الحق نے کی۔ جبکہ مقررین میں معروف سکالر خورشید ندیم،اے ایچ نیر،رشاد بخاری ،ڈاکٹر خالد مسعود  اور یاسر پیرزادہ شامل تھے۔

یہ رپورٹ پاکستان کی جامعات اور کالجز کے اساتذہ کرام اور معروف ماہرین تعلیم،دانشوران،مذہبی،سماجی اور سیاسی امور کے ماہرین کے مابین منعقد کیے گئے دس مکالموں کی روداد پر مشتمل ہے ،انگریزی میں رپورٹ کی تیاری کا  کام  محمد اسماعیل اور صفدر سیال  نے کیا  جبکہ اردو   میں مکمل کارروائی کی ترتیب و تدوین میں عابد سیال اور راقم الحروف نے حصہ لیا۔ ان مکالموں کا اہتمام مارچ 2017 سے ستمبر 2017 کے درمیانی عرصہ میں کیا گیا۔

تقریب کے آغاز میں  پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز   ٹیم کے ممبراور  ورکشاپس کوآرڈینیٹر  نواف خان نے بطور منتظم اپنے تجربات سے حاضرین کو آگاہ  کرتے ہوئے  بتایا کہ ان مکالموں کے انتظام و انصرام میں انہیں کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور ملک کے مختلف حصوں میں350 سے زائد اساتذہ کرام کو جمع کرنا  کس قدر مشکل کام تھا۔دس میں سے آٹھ  ورکشاپس میں کالجز ،جبکہ دو  مکالموں میں جامعات کے اساتذہ کو مدعو کیا گیا تھا،ہر ورکشاپ کے لیے چھ،چھ ٹرینرز تھے۔نواف خان نے بتایا کہ سینئر پروفیسرز اور خواتین معلمات کوان ورکشاپس میں شرکت کے لیے قائل کرنے میں بڑی دشواری پیش آئی اور بہت سے اساتذہ  یہ سنتے ہی فون بند کر دیتے تھے کہ  کوئی این جی او اس مکالمے کا اہتمام کر رہی ہے،اسی طرح سندھ اور بلوچستان کے بہت سے کالجز کی ویب سائٹس پر اساتذہ کرام  سے متعلق مکمل اور درست معلومات نہیں تھیں جس کی وجہ سے بطور منتظم انہیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں پپس کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ عامر رانا نے جامعات اور اداروں کی طرف سے آج فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا کہ ہماری درسگاہوں میں آجکل مکالمہ اور مباحثہ نہیں ہورہا،اپنے نظریات بیان  کرنے اور دوسروں پر تنقید کرنے  کے بعد بات ختم کر دی جاتی ہے،انہوں نے کہا کہ عصری جامعات کے علاوہ پرائمری سکولز کے اساتذہ کے ساتھ  بھی مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مکمل ذہنی تربیت پرائمری سکولز میں ہوتی ہے۔

معروف دانشور اے ایچ نیر نے  عدم برداشت پر قابو پانے  کے لیے مکالمہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مکالمہ معاشرے کے صرف چند افراد کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کواس میں شریک کرنا ضروری ہے،ان کا کہنا تھا کہ  ہماری روایت میں بحث ومباحثہ کو براسمجھا جاتا ہے جبکہ علم اس وقت تک فروغ نہیں پاتا جب تک وہ قوت استدلال سے بھرپور نہ ہو۔ جامعات میں قوت استدلال کی تربیت دینا بہت ضروری ہے،نیز طلبہ کو بتایا جائے کہ تخریبی  اور تخلیقی استدالا میں حد فاصل کیا ہے؟جب بحث ذاتیات پر آجائے اور  چیخ وپکار شروع ہو جائے جیسا کہ ہم روزانہ  رات آٹھ بجے سے گیارہ بجے تک ٹی وی چینلز پر مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ منفی استدلال ہے،مکالمہ میں ضروری  ہے کہ دوسرے کی بات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی جائے اور بحث ومباحثہ میں عقائد پر استدلال کرنے سے گریز کیا جائے ورنہ اس سے فرقہ واریت کے جنم لینے کا خدشہ ہے۔ اے ایچ نیر نے مزید کہا کہ  درسگاہوں میں دلائل کے ساتھ  مباحثوں کے رجحان کو دوبارہ   فروغ دیا جائے کیونکہ  اب مباحثوں میں صرف لفاظی اور شعر وشاعری ہی رہ گئی ہے۔

اسلامی نطریاتی کونسل کے رکن خورشید ندیم نے کہا  کہ یہ پہلی جامع اورمستند رپورٹ ہے جس میں تعلیمی میدان میں شدت پسندی کی وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس طرح عامر رانا نے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا  کہ دو  چیزیں  نظری ہیں اور دو عملی ، عملی طور پر تعلیم کے معاملے میں فکری وحدت کی ضرورت ہے اور اسے صوبائی مسئلہ بنانے کی بجائے ریاست کو چاہیے کہ وہ اس سے متعلق اپنی ترجیحات متعین کرے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے اقدامات میں ابہام در ابہام ہے،صوبہ کے پی  میں مدارس اصلاحات کی خبر آئی ہے لیکن  یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ وفاق المدارس  کو اعتماد میں لیے بغیر صرف ایک صوبے کی حد تک یہ کام کیسے ہوگا؟ دوسرا انتظامی مسئلہ یہ ہے کہ سول سوسائٹی اور ریاست میں کوئی ہم آہنگی نظر نہیں آتی،بیک وقت کئی لوگ پہیہ ایجاد کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں  اور ریاست و معاشرے کی سطح پر ایک واضح انتشار فکر نظر آرہا ہے۔بحیثیت رکن نیکٹا مجھے وہاں بھی ابہام میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔

نظری طور پر بھی ہماری سمت متعین نہیں،ہمیں  بالکل نہیں معلوم کہ ہمیں کس طرح کے لوگ چاہییں اور سوسائٹی کو کتنے،ڈاکٹرز،علمااور وکلا کی ضرورت ہے۔ایک بڑی الارمنگ چیز یہ ہے کہ عصری جامعات کے شعبہ اسلامیات میں ان لوگوں کا غلبہ ہے جو مدارس سے آرہے ہیں گویا  یہ بھی عملا مدارس کی توسیع کا نمونہ پیش کر رہے ہیں،کراچی کی ایک ورکشاپ میں اقلیتوں پر بات کرتے ہوئے جب احمدیوں کا ذکر آیا تو  ایک  صاحبب نے کہا کہ اس موضوع پر بات نہیں ہو سکتی۔ پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز  کو تجویز دیتے ہوئے خورشید ندیم نے کہا کہ اگلے قدم میں وہ نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بھی اس جانب لانے میں  اپنا کردار ادا کرے۔

رشاد بخاری کا کہنا تھا کہ  بدقسمتی سے ہمارا طبقات پر مبنی نظام تعلیم غیر شعوری طور پر سائنسی فکر،تخلیقی سوچ اور تنقیدی صلاحیت سے بھرپور سکالر تیار کرنے کی بجائے طبقاتی تفریق کو بڑھارہا ہے اور جوڑنے کے بجائے توڑنے کا سبب بن  رہا ہے۔ رشاد بخاری نے رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تحقیق کرنے اور انہیں جانچنے،پرکھنے کی ضرورت پر زوردیا۔انہوں نے تجویز دی کہ دنیا بھر کے سکولوں میں  جو ایک ہی طرح کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں ان   کے تقابلی جائزے کی ضرورت ہے کہ دوسرے ملکوں میں کس سطح پر کس طرح کا نصاب پڑھایا جاتا ہے اور  تدریس کے کون سے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ہمارے ہاں عدم برداشت بڑھتا جا رہا ہے لیکن  ماضی میں اس سے بھی زیادہ  عدم برداشت کی مثالیں موجود ہیں ۔

معروف صحافی یاسرپیرزادہ نے انتہاپسندی کے حوالے سے میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر تین چار سال  پہلے کے میڈیا کا ہم جائزہ لیں جب دہشتگردی عروج پرتھی تو میڈیا کے پروگراموں میں  ان واقعات کی مذمت بھی کی جاتی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا کہ یہ ہماری نہیں امریکہ کی جنگ ہے،بلیک واٹر کی سازش ہے، ڈرون حملوں کا رد عمل ہے، کوئی ثبوت نہیں  کہ ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والے واقعی طالبان ہیں وغیرہ ، پھر ان دہشتگردوں سے مذاکرات بھی کیے گئے،آپریشن ضرب عضب کی حمایت بھی کی گئی لیکن کسی  نے اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک اور بڑا مسئلہ معیشت کا بھی ہے لیکن ہم نے کبھی نہیں سنا کہ کسی یونیورسٹی  نے  غربت کو کم کرنے کے لیے کوئی تجاویز دی ہوں،اور نہ ہی انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے جامعات کا کوئی کردار نظر آتا ہے،پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اتنی مستند ڈاکمنٹس کی تیاری پر مبارکباد کا مستحق ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ آج ہماری جامعات محقق اور سکالر تیار کرنے کی بجائے فرقہ وارانہ ایکٹیویسٹ تیار کررہی ہیں ،ہم دوسروں  کو مسلمان بنانے کی بجائے ہم مسلک بنا رہے ہیں،اور یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ایسے میں   پاک انسٹیٹیوٹ  فار پیس اسٹڈیز   امید کا چراغ ہے۔ہمیں آج قومی بیانیہ کی تشکیل کے لیے یہ سوچنا ضروری ہے کہ تعلیمی میدان میں کون سی ایسی خامیاں ہیں جو تشدد،فرقہ واریت اور شدت پسندی کو جنم دیتی ہیں۔

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے تمام مہمانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ یہ مکالمے اساتذہ کرام کے درمیان باہمی روابط بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک مثبت علمی تعلق کا سبب بنے ہیں۔ ہمارا مقصد اساتذہ کو مثبت مکالمے کی طرف لانا تھا تاکہ وطن عزیز کو جن فکری، سماجی،نظری اور تعلیمی مسائل کا سامنا ہے اس پر ان کی آراء سے نہ صرف ان مسائل کی نوعیت کو سمجھنے میں مددملے بلکہ وہ راہیں بھی روشن ہوں جن پر چل کر ہم اپنے سکولوں،کالجوں اور جامعات کو  مفید شہری بنانے کے ادارے ،امن کے گہوارے اور فکری نشوونما کی نرسریاں بنا سکیں۔


یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...