ھڈیاں ہماری، کھال تمہاری

267

کبھی آپ نے غور کیا کہ تعلیم و تربیت کا ذکر آتے ہی مار پیٹ کیوں یاد آتی ہے؟ ہمارے ہاں والدین اپنے لخت جگر کو استاد اور میاں جی کے حوالے کرتے ہوے یہ کیوں کہتے ہیں کہ ہڈیاں ہماری اور کھال تمہاری؟ قرآنی مدارس خصوصاً حفظ کے تعلق سے جو کہانیا ں سننے میں آتی ہیں ان کی وجہ سے بھی یہ مشہور  ہوگیا ہے مار پیٹ اسلامی تعلیم و تربیت کا لازمی حصہ ہے۔ اس مضمون میں ہم اسلامی روایت کے حوالے سے ان سوالوں کا جواب تلاش کریں گے۔

تربیت کا تعلیم کے ساتھ ذکر ہو تو اس کے چار مفہوم ذہن میں آتے ہیں۔ ایک تو ادب کاعمومی مفہوم ہے جس کی روسےتربیت کا مطلب ادب آداب  سکھانا تاکہ وہ بزرگوں کا احترام کرے، اپنے بڑوں اور استادوں کا کہنا مانے۔ اسی لئے کہا جاتاتھا با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب۔ دوسرا مفہوم اخلاقی تربیت ہے۔ یعنی بچے کو اچھا انسان، ذمہ دار شہری اور دیانتدار شخص بنانا ہے۔ قانون شکنی نہ کرے، دوسروں کا خیال کرے، نیکی کے کام کرے ۔  مختصر الفاظ میں اسےادب، قانون اور اخلاق کی پابندی سکھائی جائے۔ اسےزندگی کے مقصد اور کائنات کے تصور سے ضروری آگاہی دی جائے۔ تربیت کا تیسرا مفہوم یہ ہے کہ اسے عملی زندگی میں کام  آنے والی مہارتیں سکھائی جائیں۔ اسے لکھنا ،پڑھنا، گنتی، بول چال، صحت کا خیال رکھنا اور حساب کتاب سکھایا جائے۔  اور چوتھا مفہوم یہ ہے کہ اسے وہ ضروری مہارتیں بھی سکھا دی جائیں جو آئندہ تعلیم میں اور مختلف علوم کے سیکھنے میں کام  آئیں۔

اسلامی تعلیم و تربیت کے حوالے سے سب سے اہم قرآن کریم پڑھنے کی مہارت ہے۔ مسلم روایت میں شروع سے یہ اہتمام رہا  ہے کہ تعلیم و تربیت کی ابتدا قرآن کریم سے ہو۔ طالب علم قرآن کی تلاوت سے براہ راست اسلامی تعلیمات سیکھے۔ قرآن مجید میں کلامی اور فلسفیانہ موشگافیوں کے بغیر دین اور دنیا کے بارے میں بنیادی اسلامی اصول  روز مرہ کی  عام زبان میں بیان ہوے ہیں۔ کائنات اور انسان کی تخلیق کی کہانی کے ذریعے  انسان کی زندگی کے مقصد، دنیا اور آخرت میں کامیابی  کے راستے کی پہچان،انبیا کے تذکروں سے انسان کے عروج و زوال کی کہانیوں  ، انفرادی، عائلی اور معاشرتی ذمہ داریوں کا اور اخلاقی اقدار کا علم ہوتا ہے۔

اسلامی روایت میں ابتدائی یا پرائمری تعلیم اس لئے بھی اہم ہے کہ ذہن سازی اور اخلاقی اور انسانی اقدار کو سوچ اور عادت میں بدلنے کی یہی عمر ہوتی ہے۔ صحیح  تربیت  کے لئے پرائمری تعلیم اعلی تعلیم سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ چنانچہ اسلامی تربیت کی روایت یہی ہے کہ بچے کو ابتدا میں ہی قرآن کریم کی تعلیم کے دوران بچے کو وہ چاروں مہارتیں سکھا دی جائیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔

اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ تربیت کے اس مفہوم میں مارپیٹ اور تادیب کا ذکر کہاں سے آیا۔ اسلامی ادب میں تعلیم و تربیت، طریقہ تعلیم، معلمین یعنی اساتذہ اور متعلمین یعنی شاگردوں کے حقوق، فرائض اور آداب پر بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ تعلیمی ادراوں کی تاریخ کے جائزے بھی  دستیاب ہیں، مثلاً ابن خلدون نے مقدمہ میں مدارس کے ارتقا کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ سفرنامے بھی ملتے ہیں جن میں ابن عربی جیسے ماہرین تعلیم کا سفر کے دوران مدارس میں بھی جانا ہوا تو ان مدارس کی خوبیوں اور خرابیوں کا ذکر بھی کیا۔ ان سب میں تربیت میں مارپیٹ کے رواج پر سب نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ان قدیم کتابوں میں  سے ایک محمد بن سحنون (م۲۴۰ ھ) کا رسالہ آداب المعلمین ہے جس میں تربیت کے قواعد و ضوابط اور آداب بیان ہوے ہیں۔ اوپر اٹھائے گئے سوالوں کے جواب تیسری صدی ہجری کے اس رسالے میں بھی ملتے ہیں۔ اس سے جہاں یہ پتا چلتا ہے کہ یہ مسئلہ اور اس کے بارے میں تشویش کتنی پرانی ہے، وہاں یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ  مروجہ مار پیٹ کا  تصور اسلامی تعلیمات  سے کتنا دور ہے۔

محمد بن سحنون (ولادت ۲۰۲، وفات۲۴۰ھ)  نے تیسری صدی ہجری میں افریقہ میں اسلام کی ترویج اور  تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا شمارمالکی فقہ کے سرکردہ علما میں ہوتا ہے۔ان کے والد سحنون بن سعید تنوخی کی تالیف المدونہ مالکی فقہ کی بنیادی کتاب گنی جاتی ہے۔ محمد بن سحنون  فقہ کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کے ماہر کی حیثیت سے بھی مشہور ہیں۔ ابتدائی تعلیم قیروان میں اپنے والد سے حاصل کرنے  کے بعد  ابن سحنون نے مدینہ منورہ  گئے اور امام مالک کے شاگردوں سے مالکی فقہ کا علم حاصل کیا۔ مالکی فقہ کی اشاعت میں، خصوصاً افریقہ میں اس کی تعلیم و تدریس میں باپ بیٹے دونوں نے بہت کام کیا۔  

محمد بن سحنون کے زمانے میں براعظم افریقہ کے شمالی علاقوں میں جنہیں اسلامی تاریخ میں افریقیہ کہاجاتا تھا اور جہاں اب تونس، الجزائراورمراکو واقع ہیں بربر قبائل میں اسلام تیزی سے پھیل رہا تھا۔ قبول اسلام کے بعد انہیں مسلم معاشرے کا حصہ بنانے کے لئے ان کی خصوصی تعلیم و تربیت کی ضرورت تھی۔ ۔

صحابہ کرام جس علاقے میں جاتے قرآن کریم کی تعلیم کا اہتمام بھی کرتے۔ یوں افریقیہ میں ابتدائی تعلیم کا رواج اسلام کی آمد کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا تھا۔ بچی اور بچیاں دونوں کے لئے ابتدائی تعلیم لازم تھی ۔ تاریخ کی کتابوں میں اس دور میں معلمات کا ذکر بھی ملتا ہے۔

تعلیم کی ابتدا قرآن کریم سے ہوتی۔ قرآن کی تعلیم و تربیت کے ادارے کو  کتیبہ (جمع کتاتیب)، کُتّاب یا مکتب کہا جاتا تھا۔ کیونکہ یہاں طلبہ کو لکھنا بھی سکھایا جاتا تھا۔ قرآن کریم کی لکھنے یا کتابت کے فن کو رسم  یا رسم الخط کا نام بھی دیا جاتا تھا۔ افریقہ میں  کتابت کے تین  طریقے رائج ہو گئے تھی۔ عام خط یا طرز کتابت نسخ یعنی نقول تیار کرنا کہلاتا تھا، اسکے علاوہ مغربی، اندلسی اور افریقی تھے۔ افریقی کوفی رسم الخط کی ہی ایک شکل تھی۔ افریقیہ میں کتاتیب کا آغاز پہلی صدی ہجری میں ہی ہوگیا تھا۔  کتابت کے فن پر اس لئے بھی زور تھا کہ  قرآن اور مختلف علوم کی  کتابوں کی نقول کے لئے کاتب یا کتاب کی ضرورت تھی۔ اسے بہت جلد صنعت کا درجہ حاصل ہو گیا۔ کتابت سکھانے کے لئے  تختی سے کام لیا جاتا ۔ افریقہ میں ابتدائی تعلیم کی درسگاہوں کو لوحی کا نام  بھی دیا جاتا ہے۔ استاد قرآن کریم کی آیت یا سورت طالب علم کی تختی پر لکھ کر دیتا ہے  جس کے ذریعے بچہ پڑھنا اور لکھنا سیکھتا تھا۔

شمالی افریقہ کے لوگ قرآن کی تعلیم پر بہت زور دیتے تھے۔  اس بنیادی تعلیم میں لکھنا، پڑھنا، بولنا، حساب، اور ترسیم سب سکھا دئے جاتے تھے۔ ترسیم سے مراد خطاطی ہے جس میں شکلیں بنانا، خط  کھینچنا سب شامل تھے۔ افریقیہ میں  رسمی سے مراد خط کوفی بھی تھا کیونکہ اس طرز خطاطی میں ہندسی شکلوں سے کام لیا جاتا تھا۔ افریقہ میں قرآن کی تعلیم کے ساتھ کتابت کے علاوہ اور مہارتیں بھی سکھائی جاتی تھیں۔ قرآن کے حوالے سے رسم قرآن، ہجے،  قرائات کے اختلاف  کا علم لازمی تھا۔ باقی علوم اور مہارتیں مثلاً شعر، حساب، تاریخ، انساب، نحو اور خطابت اختیاری تھیں۔ والدین استاد کی فیس، اختیاری علوم اور تادیب کے معاملات استاد کے ساتھ طے کرتے تھے۔ تادیب سے مراد سزا کا مسئلہ تھا۔  والدین کی اجازت کے بغیر  استاد کو مار پیٹ کا اختیار نہیں تھا۔  ابتدائی تعلیم و تربیت کا مقصد بچوں میں ذہنی استعداد پیدا کرنا اور علوم سیکھنے  کی اہلیت مہیا کرنا تھا اس کے لئے  جن بنیادی  مہارتوں کی ضرورت پڑتی ہے وہ اسی دوران سکھائی جاتی تھیں۔

اسلامی تعلیم و تربیت کا آغاز مسجد کے ادارے سے ہوا۔   تعلیم کے بہت سے طریقے اختیار کئے گئے۔ جن میں  حلقے بھی تھے جن میں شاگرد استاد کے گرد دائرے میں بیٹھتے۔ استاد درس بھی دیتے، لکھنا اور پڑھنا بھی سکھاتے۔ کبھی املا کراتے اور طالب علم اسے لکھ کر محفوظ کرتے۔ کبھی استاد  کتاب سے پڑھاتے اور طلبا سنتے اور زبانی یاد کرتے۔ کبھی شاگرد کتاب پڑھ کر سناتے اور استاد پڑھنے میں غلطیوں پر  متنبہ کرتےاور طلبا کے سوالوں کے جواب دیتے، کبھی مشکل مسائل پر گفتگو ہوتی۔  جب ضرورت بڑھی تو مساجد سے باہر مدارس قائم ہونے لگے۔

محمد بن سحنون  نے ۵۲ صفحات کے اس مختصر رسالے میں بچوں کے ساتھ انصاف کی نصیحت اورمارپیٹ کی مذمت کے لئے آٹھ صفحات مخصوص کئے ہیں ۔ شروع میں وہ اس خط کا اقتباس نقل کرتے ہیں جو ان کے والد سحنون نے اپنے بیٹے محمد  کو استاد کے سپرد کرتے ہوے لکھا۔ اس سے جہاں یہ پتا چلتا ہے کہ مارپیٹ اتنی عام تھی کہ اپنے زمانے کے اس عظیم فقیہ کو بھی یہ نصیحت کرنا پڑی۔

میرے بیٹے کی تعلیم و تربیت میں اس کے اچھے کام کی تعریف  کرنا اور نرمی سے گفتگو کرنا۔ یہ ایسا بچہ نہیں جس کی تربیت  کے لئے مار پیٹ اور گالی گلوچ ضروری ہو۔ مجھے امید ہے میرا بیٹا اپنے ہم جماعتوں اور ہم جولیوں میں ممتاز، یکتا اور بے مثال ہے۔ میری خواہش ہے کہ وہ علوم کے حصول میں میری پیروی کرے ۔

بحث کا آغاز بچوں کی تربیت میں سختی سے پیش آنے والے استاد کی مذمت کے بارے میں ایک حدیث سے کیا ہے۔

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : شرار امتی معلمو صبیانھم  اقلھم رحمة للیتیم و اغلظھم علی المسکین۔ میری امت کے سب سے برے لوگ بچوں کے وہ استاد ہیں جو یتیم پر  سب سے کم رحم کرتے ہیں اور مسکین طلبہ کے ساتھ سب سے زیادہ شدت سے پیش آتے ہیں۔

محمد بن سحنون اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ ایسے استاد کی برائی یہ ہے کہ وہ غصے میں مار پیٹ کرتا ہے، طالب علم کی بھلائی کے لئے نہیں۔ تادیب اور تنبیہ کے لئے زیادہ سے زیادہ سزا چھڑی سے تین مرتبہ مارنا ہے۔ اس حدیث میں یتیم اور مسکین بچوں کا ذکر ہے۔ جن پر استاد اس لئے بھی غصہ اتارتا ہوگا کہ ان سے کچھ ملنے کی توقع نہیں ہوگی۔اور مار پیٹ کی وجہ تادیب نہیں بلکہ اس بات کا غصہ ہوگا۔ اسی لئے ابن سحنون اس بات پر زور دیتے تھے کہ تعلیم و تربیت ایک معاہدے کے تحت ہونا چاہئے۔ سزا باپ کی اجازت سے دی جائے۔ باپ کی اجازت ہو تو تین  سے زیادہ مرتبہ چھڑی مارنے کی سزا بھی دے سکتا ہے۔ تاہم قرآنی تعلیم و تربیت میں تین سے زیادہ کی پھر بھی اجازت نہیں۔ابن سحنون کی اس بحث کی بنیاد پر کہ والد بچے کو استاد کے حوالے کرتے وقت مار پیٹ کی اجازت دیتا تھا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہڈیاں  ہماری اور کھال تمہاری ایسے ہی موقع پر کہی گئی ہوگی۔

ابن سحنون نے تادیب کے قانونی پہلو پر تفصیل سے بات کی ہے۔ ایک خاص باب اس عنوان سے قائم کیا ہے: تادیب کے طور کونسی سزا کی اجازت  ہے اور کونسی کی نہیں۔  اس باب میں ایک روایت بیان کی ہے کہ بچے کو تین سے زیادہ مارنے پر استاد کو قیامت کے روز قصاص کی سزا ملے گی۔ رسول اللہ نے بچے کے سر اور چہرے پر مارنے سے منع کیا۔  امام مالک  کا فرمان تھا کہ اگر استاد نے مار پیٹ میں بچے کی آنکھ ضائع کردی یا اس کا ہاتھ توڑ دیا تو اس کی دیت لازم ہوگی۔ موت کی صورت میں بھی دیت ادا کرنا ہوگی۔ اگر معمول کی چھڑی کی بجائے لاٹھی یا تختی سے مارا اور موت واقع ہوگئی تو قصاص لازم آئے گا۔

بعد کے ادوار میں  جیسا کہ ابن خلدون کے مقدمے میں ذکر ہے مار پیٹ کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ ابن خلدون نے اس کی مذمت کی ہے اور لکھا ہے کہ اس تشدد کے بہت برے اثرات پڑتے تھے۔ بچوں میں علم سے رغبت ختم ہو جاتی۔ کاہلی اور سستی میں اضافہ ہوتا۔ ذہن ماؤف ہو جاتا۔

ابن خلدون نے ابتدائی تعلیم میں مار پیٹ کے مسئلے پر بحث کے لئے ایک فصل مخصوص کی ہے جس کا عنوان ہے “طلبا پر سختی ان کے لئے نقصان دہ ہے”۔ چھوٹی عمر کے جن بچوں کی پرورش تشدد اور مارپیٹ سے ہوتی ہے ان میں علم اور عمل کا شوق ختم ہوجاتا ہے۔ اکثر مدرسے سے بھاگ جاتے ہیں۔ ان میں سستی، آلکس، جھوٹ بولنے، برا سوچنے، مکر، دھوکہ دہی جیسی بری عادتیں پڑتی ہیں۔  ضمیر مردہ ہوجاتا ہے۔ خوف، اجبار اور دہشت کی نفسیات اس کی عزت نفس کو مجروح کرڈالتی ہیں۔

ابن خلدون نے اس فصل میں خلیفہ ہارون الرشید کے اس خط کا متن بھی نقل کیا ہے جو اس نے اپنے بیٹے شہزادے امین کو خلف بن حیان الاحمر کی شاگردی  میں سپرد کرتے ہوے لکھا۔

امیر المومنین  اپنی دل وجان کا نچوڑ اور جگر کا ٹکڑا تمہاری خدمت میں بھیج رہے ہیں۔ براہ کرم  اسے اپنے علم کے وقار میں اسے جگہ دیں اور اسے اپنا حکم بجا لانا سکھا ئیں۔ اس کے  ساتھ اسی درجے  کا سلوک کریں جو امیر المومنین نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اسے قرآن کی تعلیم دیں۔ اسے اخبار اور تاریخی واقعات سے آگاہ کریں۔ اسے شعرو ادب کی تربیت دیں ۔ اسے علمی میراث سے واقفیت بہم پہنچائیں۔ اس میں پڑھنے اور سمجھنے کا ملکہ پیدا کریں۔اس کو سکھائیں کہ ہنسنا ہو تو موقع کے مطابق۔  اس کی تربیت کریں کہ یہ بنوہاشم  کا ، علما کا اور بڑوں کا احترام کرنا سیکھ لے۔اس کی ایسی تربیت کریں کہ جب  سرکردہ لوگ اس سے ملنے آئیں تو ان کے متعلقہ علوم و فنون میں ان کے مراتب کے اعتبار سے ان کا خیر مقدم کرے۔ اس کے ساتھ کبھی ایسا سلوک نہ کریں کہ اسے افسوس اور بے چارگی کا احساس ہو کیونکہ ایسے سلوک سے دل مردہ اور عقل ماؤف ہو جاتی ہے۔ تاہم اسے  اتنی کھلی چھٹی بھی نہ دیں کہ وہ سسست پڑ جائے اور تعیش کی راہ اختیار کرے۔ اس کی عادات اور رویوں کو بدلنے میں نرمی اور تحمل سے کام لیں۔ ہاں اگر وہ کہنا نہ مانے تو اس کے  ساتھ سختی سے پیش آئیں۔

 

ابن خلدون نے والدین اور اساتذہ دونوں کو نصیحت کی ہے کہ تادیب میں شدت اختیار نہ کریں۔

ان کتابوں میں مار پیٹ کے  پانچ اسباب کا ذکر ملتا ہے۔ کچھ مثبت ہیں اور کچھ منفی۔ مثبت میں نظم و ضبط قائم کرنا، اطاعت اور ادب کی عادت ڈالنا، اخلاق کی اصلاح کا ذکر ہے۔ منفی میں استاد کی جانب سے غصے اور انتقام کا رویہ، انکار اور مزاحمت کی عادت کو توڑنا، بچے کے دل میں خوف بٹھانا، اعادہ اور تکرار کے لئے جبر کو اختیار کرنا شامل ہیں۔ ان میں سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی تھا کہ نومسلموں کی بڑی تعداد کی زبان عربی نہیں تھی۔ ان کے لئے عربی حروف کو صحیح طور پر ادا کرنا مشکل تھا۔ اسا تذہ زیادہ تر عرب یا عرب اساتذہ سے پڑھے تھے۔ تلفظ صحیح نہ ہونے سے معنی بدل جاتے ہیں۔  قرآن کریم کے حوالے سے تجوید اور مخارج ایک باقاعدہ علم کی شکل ا ختیار کر چکے تھے۔ غیر عرب بچے کو صحیح آوازیں سکھانے کے لئے ان کی پہلی عادت کو توڑنا ضروری تھا۔ اس کے لئے نفسیاتی طور پر آسان طریقہ ڈرانا، دھمکانا اور مارپیٹ ہی بنتا تھا۔ قرآن کی تعلیم  کے لئے چھڑی کا استعمال عام ہوگیا تھا۔ افسوس یہ تھا کہ کم وقت میں  بہتر نتائج کے حصول کے لئےاساتذہ مارپیٹ کو تربیت کے لئے لازم و ملزوم سمجھتے تھے۔  اسی لئے مارپیٹ کو تادیب کا نام دیا گیا۔ تادیب کا اصل معنی تو ادب سکھانا یا عادت ڈالنا تھا۔ لیکن یہ سزا اور ڈر کی نفسیات کے مفہوم میں بھی جائز سمجھی جانے لگی۔

مدارس ہوں یا سکول تعلیم و تربیت میں مار پیٹ پر انحصارکا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ  بچہ کی کردار سازی اورذہنی تربیت مقصود نہیں  کیونکہ مارپیٹ سے ذہن نشوو نما  نہیں پاتا بلکہ ماؤف ہوجا تا ہے۔ یہ رویہ  اس بات کو اہمیت دیتا ہے کہ بچہ اطاعت گذار ہو لیکن یہ اطاعت گذاری اعلی کردار کی ضامن نہیں ہوتی۔ اس کی بڑی وجہ ہماری طرز معاشرت  اور نظریہ حیات ہے جہاں خوف کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قانون کی حکمرانی ہو یا اللہ کی عبادت اطاعت کا انحصار خوف اور جبر پر ہے۔ دینی تعلیم و تربیت  کا بھی یہی حال ہے۔ قرآن کریم کا حفظ ہو یا ناظرہ مارپیٹ لازمی سمجھی جاتی ہے۔  کیا تعلیم وتربیت کا یہی اسلام تصور ہے؟

قرآن کریم میں سزا کا ذکر ہے  لیکن یہ کہنا صحیح نہیں کہ انسان کی اصلاح اور تربیت کے لئے قرآن کریم صرف سزا کا طریقہ تجویز کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ثواب اور انعامات کے تذکرے سزا کے ذکر سے کہیں زیادہ ہیں۔ سزا کا ذکر بھی زیادہ تر آخرت کے حوالے سے ہے جو تربیت کے طریقے کے طور پر نہیں بلکہ برے کاموں کے نتیجے کی شکل میں بیان کی گئی ہے۔   قرآن کریم کی ابتدا سورہ فاتحہ کی  دعا سے ہوتی ہے کہ اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان کا راستہ جنہیں تو نے انعامات سے نوازا، ان کا نہیں جو  بھٹک گئے یا تیرے غضب کے مستحق ہوے۔ اور سیرت نبوی میں تو رحمت اور شفقت ہی تربیت کا حوالہ ہے۔

مسلمان بچے کی دینی تعلیم اور تربیت کی ابتدا قرآن کریم سے ہوتی ہے۔  یہ بات اپنی جگہ بے حد اہم ہے۔ لیکن دینی تعلیم  خصوصاً قرآن مجید کے حوالے سے اگر بچے کو اکثر مار پیٹ سے واسطہ پڑتا ہے تو بچے کے  ذہن میں دین کے بارے میں پہلا تاثر خوف اور جبر کا بنتا ہے۔ ضرورت یہ سوچنے کی ہے کہ ہم مارپیٹ کو ضروری کیوں سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ ضرورت تربیت کے طریقے کا تقاضا ہے تو اس طریقے پر نظر ثانی لازم ہے۔ پرائمری تعلیم میں اخلاقی تربیت بہت ضروری ہے لیکن اس کا طریقہ جبر اور خوف کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ یہ بچے کی تعلیم کا وہ زمانہ ہے جہاں اسے روز مرہ زندگی کی بنیادی مہارتوں کی تربیت دی جاتی ہے۔ ایسے وقت میں ڈر اور خوف کی بجائے  امید، حوصلہ اور شوق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کے دور میں تادیب کے مفہوم کی بھی نئی تعبیر کی ضرورت ہے۔ اب اس کے حوالے سے صرف مار پیٹ، گالی گلوچ اور تشدد اور درشتی سے پیش آنے کی ممانعت ہی نہیں ایسے تمام رویوں کی مذمت ضروری ہے جن سے بچے پر کسی بھی قسم کا نفسیاتی دباؤ پڑتا ہو۔ ایسا کوئی بھی سلوک جو بچے کی عزت نفس کو مجروح کرے  اور اس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مفلوج کرے مار پیٹ سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...