سیاسی ارتقاء کا ابطال

92

حالیہ عدالتی فعالیت کی بدولت ملک میں ستر سالوں سے جاری سیاسی کشمکش فیصلہ کن مر حلہ تک آ پہنچی ہے لیکن اسٹیٹس کو کی قوتیں اس  کی جدلیات کو تحلیل کر کے اسی پرانی ڈگر پہ لانا چاہتی ہیں جس میں سیاستدانوں کو اپنی حقیرانہ  حثیت پہ قانع ہونا پڑے اور ایک مخصوص گروہ بدستور قومی پالیسیز اور ریاستی اتھارٹی پر حتمی اجارہ داری سے لطف اندوز ہوتا رہے۔تاہم سیاسی ارتقاء کے فطری محرکات اپنے نتائج ضرور پیدا کریں گے۔اگر نواز شریف نہیں ہوں گے تو  وظائف زندگی کی استواری کیلئے فطرت کسی اور کو چن لے گی کیونکہ حیات اجتماعی اپنی بقاکے تقاضوں کو فراموش نہیں کر پائے گی ۔سیاست اپنا کوئی الگ وجود نہیں رکھتی بلکہ وہ میدان عمل میں کارفرما انسانوں کے کردار میں ظاہر ہوتی ہے۔اس عہد جدید میں جب اقتصادی طاقت بے عمل جاگیرداروں کے ہاتھ سے نکل کر زندہ دل تاجروں کے قبضہ میں آئی تو سیاسی مظاہر تبدیل ہو گئے،ایسا لگتا ہے کہ ہنگامی طور پہ ماضی نے حال پر سے اپنی گرفت ڈھیلی کر کے سماجی زندگی کے طور اطوار بدل ڈالے۔اسی تغیر سے قانون میں غیر معمولی لچک پیدا ہوئی،ہر اصول اور عدالتی فیصلہ پہ تنقید کا رجحان بڑھ گیا۔ماضی کی طرح اگر اب بھی طاقت کے ذریعے ذہن انسانی میں رونما ہونے والی ان تبدیلیوں کی رخ گردانی کی کوشش  کی گئی تو معاشرہ تصادم پہ اتر آئے گا اور یہ بے مقصد کاوش قوم کو سیاسی انتشار سے دوچار کر کے  سوائے مایوسی کے  کچھ نہیں دے پائے گی ۔ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ آزادی کا شعور  ہی  معاشرے کی بقا کا ضامن ہوتا ہے، آزادی کے شعور سے عاری قومیں زندگی کے مقاصد کی توضیح کر سکتی ہیں ، نہ اپنے حق حاکمیت کو بچانے کے قابل ہوتی ہیں۔ذہنی طور پہ غلام معاشرے اپنی بقاء کو اس زوال پذیر حربی طاقتوں سے منسلک رکھنے پہ مجبور ہوتے ہیں جو بجائے خود  اپنے سے زیادہ طاقتوروں پہ انحصار رکھتی ہیں۔

غلامی خواہ کتنی ہی منصفانہ کیوں نہ ہو وہ روح کیلئے پنجرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ہمارے خیال میں سعودی عرب کے مذہبی تقدس کے پیچھے جاری سیاسی جوڑ توڑ کا محرک اصلی امریکہ ہو گا، جو اس ایٹمی قوت کی حامل مملکت کی اجتماعی قوت کو اپنے دجالی مقاصد کی آگ میں جھونکنے کی خاطر سول ملٹری تنازعات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے لیکن ہمارے سماج میں بڑھتا ہوا سیاسی شعور اور عوام کی حاکمیت کا تصور عالمی استعمار کے ان ناپاک عزائم  کی راہ میں حائل ہو رہا ہے۔چنانچہ سعودی حکمرانوں کی وساطت سے قومی سیاست کے مزاحمتی کرداروں کو رام کرکے اُس سیاسی ارتقاء کو منجمد رکھنے کی کوشش کی جائے گی،جو بائیس کروڑ انسانوںکو منظم قوم بنا کے دنیا میں باعزت مقام اور وطن عزیز کو  خودمختار مملکت بنا سکتا ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کسی بھی ملک کا تحفظ مسلح افواج کر سکتیں ہیں نہ سیاست دان بلکہ مملکت کی حفاظت وہ منظم قوم کرتی ہے جو زندگی کے اعلیٰ ترین مقاصد سے آشنا اور اپنے حق حاکمیت کا ادارک رکھتی ہو۔امر واقعہ بھی یہی ہے کہ پاکستان کی حدود میں بسنے والے کروڑوں انسان اپنے حق حاکمیت کے حصول کی خاطر مدت سے کسی مزاحمتی کردار کے متلاشی تھے جو نواز شریف کی صورت میں ابھر کے سامنے آیا تو لوگ دیوانہ وار اسکے اردگرد جمع ہونے لگے۔یہی وہ شعوری پیش قدمی تھی جس نے طاغوتی قوتوں کی نیندیں حرام کر ڈالیں،اسی رجحان کو روکنے کی خاطر اقتدار کے حریص لوگوں کی اشتہا کو استعمال کر کے پہلے غیر محدود مدت کے دھرنوں،لاک ڈاؤن اور پھر پانامہ اسکینڈل کو بروئے کار لا کر ابھرتی ہوئی مملکت کو سیاسی عدم استحکام کی دلدل میں اتار دیا گیا تاہم اس عمیق سیاسی انتشار کے اندر سے بھی فطرت نے مسلم لیگ نون کی صورت میں ایسا توانا مزاحمتی گروہ  پیدا کر دیا جو اس قوم کو زندگی کےمفید ادراک اور حق حاکمیت سے ہم آغوش بنا سکتا ہے۔ لہذا اسی صحت مند سرگرمی کو کچلنے کی خاطر مغربی طاقتیں عوامی حمایت کی حامل سیاسی قیادت کو محلاتی سازشوں کی دھند میں دفن کر کے سیاسی میدان کو ناپختہ کار اور عوامی حمایت سے محروم کٹھ پتلیوں کے سپرد کر کے قوم کے فکری ارتکاز کو تحلیل اور شعوری وحدت کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ طاقت کے سارے مراکز سیاسی فعالیت کی ان علامتوں کو غیر موثر بنانے کی غلطی کر رہے ہیں جو خود انکی اپنی بقاء کیلئے ناگزیر ہیں۔

یادش بخیر 1999 میں داخلی اور خارجی دباؤ ڈال کے سیاسی مزاحمت کی حامل مسلم لیگی قیادت کو سعودی عرب جلا وطن کر کے جمہوری ارتقا کو منجمد اور مملکت کو ناقابل عبور مشکلات سے دوچار کیا گیاتھا۔شاید لوگوں کو معلوم نہیں ہو گا کہ اُس وقت جدہ کے سرور پیلس میں نواز شریف سعودی حکمرانوں کا مہمان نہیں بلکہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کا قیدی تھا۔تاریخ بتاتی ہے کہ امریکی ادارے مشرق بعید کی زرد قوموں کو ہینڈل کرنے کیلئے جاپانی مقتدرہ یوروپ کورام    کرنے کی خاطر اسرائیلی اشرافیہ اور مسلم ممالک کو ڈیل کرنے کیلئے سعودی عرب کے شاہی خانوادے کو استعمال کرتے ہیں تاکہ یہاں  کے عوام میں امریکی مداخلت کے خلاف منفی ردعمل نہ ابھرے۔اس وقت امریکی پالیسی ساز  پاکستان کے سیاسی نظام کو کنٹرول کر کے اسکی سیاسی و حربی قوت کو حسب منشا استعمال کرنے کیلئے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ہمارے ملک کی داخلی سیاسی کشمکش بھی اسی امریکی تقاضے کے گرد گھوم رہی ہے،انہی مقاصد کے حصول کیلئے عوام اور ریاست میں فاصلے پیدا کرنے کی خاطر پہلے مقبول لیڈر شپ اور مقتدرہ کے درمیان تفاوت بڑھایا گیا تاکہ سیاسی عدم استحکام کی دھند میں بائیس کروڑ انسانوں پہ مشتمل قوم آزادی کا شعور پا سکے نہ حق حاکمیت کی حفاظت پہ متفق ہو۔لاریب مسلم لیگی قیادت نے ملک کے سیاسی نظام کے استحکام بارے جو موقف اختیا ر کیا وہ ہماری قومی سلامتی سے ہم آہنگ اور ایسی سویلین بالادستی کا نقیب ہے جسے کنٹرول کرنا بیرونی طاقتوں کیلئے ممکن نہیں ہو گا۔اس وقت  ابلاغ کی سائنس  اور سوشل میڈیا کی وسعت  نے انسانوں کو باہم جوڑ کے اجتماعی زندگی کے تناظر کو بدل دیا اور طویل جمہوری جدوجہد نے منتخب قیادت میں سیاسی پختگی اور وسعت ادراک کی ایسی خُو پیدا کر دی  ہےجسے قانون کے کوڑے سے ہانکنا یا طاقت کے بلبوتےپر زنجیر پہنانا ممکن نہیں رہا۔پچھلی ایک صدی سے دکھوں کے سمندر عبور کرنے والی قوم کا بڑھتا ہوا سیاسی شعور بھی لیڈر شپ کو پسپائی کی اجازت نہیں دے گا۔

بلاشبہ ہمارے منتخب سیاستدان اس راز کو پا چکے ہیں کہ سیاستدان کی موت سمجھوتوں اور بند کمروں کے مذاکرات کے ذریعے واقع ہوتی ہے جو سیاستدان عوام کے ساتھ کھڑے ہوکر میدان کارزار میں لڑتے ہیں انہیں قید وبند اور نااہلی کی سزائیں مار سکتی ہیں نہ دنیا کی کوئی قوت عوام کے دلوں سے نکال  سکتی ہے ،لیکن بدقسمتی سے کچھ  سیاستدان اب بھی عوامی احساسات کے ساتھ وابستگی کی بجائے قوت کے مراکز کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے منزل مراد پانے کے فریب میں مبتلا ہوکر خود اپنی حیثیت کو بیکار بنانے کے علاوہ  عوام کے حق حاکمیت اور جمہوری اقدار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ہمارے سیاسی ماحول میں آزادی سے خائف کئی لیڈر مصنوعی سیاسی بحرانوں سے امیدیں وابستہ کرکے چور دروازوں سے اقتدار تک رسائی پانے کی خاطر ہرحد سے گزرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔کچھ تھکے ہوئے حربی دانشور عسکری بصیرت پہ سوال اٹھانے کو گناہ سمجھتے ہیں اور کچھ حاسد آوازیں فوج کو اعتکاف میں اور عدلیہ کو حجاب میں بیٹھنے کے طعنے دیکر سیاسی معاملات میں مداخلت پر اکساتی ہیں ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...