ایران کا اندرونی خلفشار

181

2003 کے بعد سے علاقائی سیاست میں ایران نے بڑی تیزی سے اپنی جگہ بنائی ہے۔ عراق کی خانہ جنگی ہو یا بحرین میں ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات یا پھر یمن میں جاری جنگ ، ایران نے ان تمام عوامل سے فائدہ ہی حاصل کیا ہے۔ ان ممالک کی حکومتیں غربت، کرپشن ،مہنگائی،نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور انسانی حقوق سے جڑے مسائل سے نمٹنے میں ناکام رہیں۔ ان ممالک کے حکمران ملکی سا لمیت کے نام پر اربوں ڈالرز کے ہتھیار خریدنے میں مگن رہے اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کو نظر انداز کیا جس کے نتیجے میں ان ممالک میں انتشار بڑھا، جس کا سب سے زیادہ فائدہ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ایران نے اٹھایا  اور اس سے  علاقائی سیاست میں اس کے قد،کاٹھ میں اضافہ ہوا۔
ایک امریکی تجزیہ نگار نے چند قبل ہی کہا تھا کہ ایران کو امریکہ سے زیادہ اپنے اندرونی خلفشار سے خطرہ ہے۔ چند دن بعد ہی ایران سے مظاہروں کی خبر آگئی جس نے کچھ ہی دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ مظاہرے اب تک اکیس لوگوں کی جان لے چکے ہیں، جبکہ آزاد مبصرین کے مطابق مرنے والوں کی  تعداد کہیں زیادہ ہے۔سڑکوں پر موجود ان مظاہرین کی اکژ یت دو نعرے لگاتی نظر آتی ہے۔ ایک ” ہم ایرانی ہیں، ہم عربوں کی پوجا کیوں کریں؟”دوسرا”ہم ایران کی خاطر جان دینے کو تو تیا ر ہیں لیکن غزہ اور لبنان کے لئے نہیں۔”
ایرانی شہر مشہد سے شروع ہونے والے مظاہرے بظاہر صدر روحانی کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ یہ مظاہرین بڑھتی ہوئی مہنگائی،بیروزگاری،کرپشن اور حکمرانوں کے طرزحکومت سے نالاں ہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت ملکی وسائل کا بیشتر حصہ دوسرے ممالک میں چھیڑی جانے والی جنگوں کی بجائے عوام پر خرچ کرے۔
کچھ مبصرین ان مظاہروں کا موازنہ2009 میں ہونے والے ہنگاموں سے کر رہے ہیں۔ لیکن ایسا کرنابھی غلط ہے۔2009 میں ہونے والے مظاہروں میں شرکاء کی تعداد حالیہ مظاہروں میں موجود مظاہرین سے کہیں زیادہ تھی۔ دوسرا یہ کہ2009والے مظاہرے ایران کے    بڑے شہروں میں ہوئے تھے جبکہ یہ مظاہرے ابھی تک صوبائی علاقوں تک محدود ہیں۔
ان مظاہرین کا کوئی لیڈر نہیں۔ یہ مظاہرین زیادہ پرتشدد ہیں۔ ان کے نظریات ابھی تک واضح نہیں، ایک طرف یہ مظاہرین "آمریت” کے خلاف نعرے لگاتے ہیں ،دوسری طرف یہ ” شاہ ایران” کو یاد کرتے ہیں۔2009 کے مظاہرین کی اکژیت درمیانے درجے سے تعلق رکھتی تھی جب کہ موجودہ مظاہرین کی بیشتر تعدادکا تعلق غریب طبقے سے ہے۔ان مظاہرین کی عمریں 20سے21 سال  کے درمیان ہیں ۔ ان کے غیر لچکدار رویے کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ان کے اندر حکمرانوں کے رویے کے خلاف لاوا کافی عرصے سے پک رہا تھا جو کہ اب جاکر پھٹا ہے۔
2009 کے ہنگامے اسٹیبلیشمنٹ کی اندرونی لڑائی کا نتیجہ تھے جس میں اسٹیبلمشنٹ کا ایک حصہ” رجعت پسندوں” کے لئے اقتدار چاہتاتھا جب کہ دوسرا حصہ” اعتدال پسندوں” کو اقتدار دلوانا چاہتا تھا۔ ان مظاہروں کے حوالے سے ابھی تک یہ بات  سامنے نہیں آئی کہ ان کے پیچھے اسٹیبلمشنٹ کا کونسا حصہ کام کر رہا ہے۔ چونکہ یہ مظاہرے "رجعت پسند”کے گڑھ مشہد سے شروع ہوئے اس لئے” اعتدال پسند” اسے” رجعت پسندوں” کی کارروائی سمجھتے ہیں جبکہ”رجعت پسند” اسے غیر ملکی سازش کہتے ہیں۔ البتہ ایک بات دونوں میں ہی مشترک ہے ، وہ یہ کہ دونوں نے ہی ان مظاہروں کی مذمت کی ہے۔
کیا ان مظاہروں سے موجود حکومت کو خطرہ ہے؟ابھی اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے۔ کیونکہ یہ مظاہرے ابھی تک چھوٹے شہروں تک محدود ہیں، لیکن اگر یہ مظاہرے چھوٹے شہروں سے نکل کر بڑے شہروں تک پہنچ جاتے ہیں اور مظاہرین کی تعداد بڑھتی ہے تو حکومتی نظام کے درہم برہم ہونے کے کافی امکانات ہیں، جس سے ایرانی حکومت کی ساکھ خراب ہونے کے بھی امکانات ہیں اور اس نے حالیہ سالوں میں” علاقائی سیاست ” میں جو مقام پایا ہے اسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

اگر کسی وقت ان مظاہرین کو ایرانی حکومت کے مخالفین سعودی عرب،اسرائیل اور امریکہ کی حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو پھر ان مظاہروں کی لگائی گئی آگ کافی عرصے تک بھڑکتی رہے گی جس سے” ایرانی وحدانیت” کو کافی خطرات درپیش رہیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...