کالعدم تنظیموں کی مین سٹریمنگ

447

ملی مسلم لیگ پاکستان نے لاہور میں اپناپہلا دفتر قائم کیا ہے جس کا افتتاح کالعدم جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے کیا ہے۔حافظ محمد سعید کی نظر بندی کے دوران جماعۃ الدعوۃ کی قیادت نے اپنی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کے قیام کا اعلان کیا تھا ،جس کا سربراہ حافظ سیف اللہ کو منتخب کیا گیا ۔جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنی نظر بندی کے ختم ہونے کے بعد دوبارہ متحرک ہونا شروع کردیا ہے۔  دفاع پاکستان کونسل کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ملی مسلم لیگ کے تحرک کے لیے بھی کوشاں ہیں۔گذشتہ روز حافظ محمد سعیدنے حلقہ این اے 120 کا دورہ کیا اور لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔اس حلقہ سے میاں محمد نوازشریف کی نااہلی کے بعد بیگم کلثوم نواز منتخب ہوئی تھیں جبکہ ملی مسلم لیگ کے امید واریعقوب شیخ  نےضمنی انتخاب میں  چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔ حلقہ 120میں ملی مسلم لیگ کے  دفتر کے قیام پر ہونے والے جلسہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دینے والے بینچ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی ہے جبکہ اس ویڈیو کے مطابق حافظ محمد سعید اس گفتگو کے دوران خود اسٹیج پر موجود ہیں۔

ملی مسلم لیگ کے قیام سے ہی ایک تاثرزبان زدعام ہے کہ ریاست کے ایک ادارے کی طرف سے آشیر باد حاصل ہونے کی بناء پر جماعۃ الدعوہ نے قومی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے ۔ پاکستان میں  کالعدم جماعتوں کی تعداد 72 ہے جن  میں سے بعض جماعتیں ایسی ہیں جنہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کا مطالبہ سول سوسائیٹی کی طرف سے بھی آتا رہا ہے۔خود بعض کالعدم جماعتیں علی الاعلان اس بات کا اظہار بھی کرچکی ہیں کہ وہ اپنے سابقہ شدت پسندانہ  موقف سے دستبردار ہوچکے ہیں اور قومی دھارے کی سیاست کا حصہ بن کر ملک وقوم کی خدمت پر امادہ ہیں۔پاکستان کے ایک معروف تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ایک گروپ نے یہ سفارش بھی کی ہوئی ہے کہ کالعدم تنظیموں کو قومی دھارے کی سیاست میں آنے کا موقع دیا جائے مگر کس کس کو یہ کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے،اس کا فیصلہ پارلے منٹ کرے۔پارلے منٹ اس بات کا جائزہ لے کہ ان تنظیموں کو کن وجوہات کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا تھا اور اب ان کے رویوں میں کیا ایسی تبدیلی آئی ہے،جنکی وجہ سے انہیں قومی دھارے میں شمولیت کا موقع ملنا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ اہل سیاست اور پارلے منٹ کو اعتماد  میں لیے بغیر بعض کالعدم تنظیموں کی مین سٹریمنگ کا عمل بہتر ثابت ہوگا؟

کیا اس عمل سے ریاستی اداروں کے مابین عدم اعتماد کی فضا قائم ہونے کے ساتھ ساتھ خود ان تنظیموں کی فکری وعملی تربیت کرنے کا موقع ضائع نہیں ہوگا؟

بعض تنظیموں کوسیاسی چھتری دینے اور بعض کے خلاف سخت اقدامات کرنے  سے مایوسی اور ریاست پر بداعتمادی نہیں بڑھے گی؟

 

تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...