پاکستان پیپلزپارٹی کے پچاس سال

94

پاکستان کی پچھلے پچاس سالہ سیاسی تاریخ کسی نہ کسی طرح سے پاکستان پیپلزپارٹی کے اقتداریااس کی مخالفت کی تاریخ رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارٹی 30نومبرکوپچاس کی ہوگئی ہے۔ یہ پارٹی 1967میں طلبہ، کسان اورمزدورتحریک میں متحرک سیاسی کارکنوں نے ایک انقلابی تحریک کے عین بیچ میں قائم کی تھی۔ اس کے بانی ذوالفقارعلی بھٹوتھے جو اس سے پہلے ایوب خان کی کابینہ میں وزیرخارجہ کے عہدہ  کوچھوڑکرعوامی تحریک کواپنے پیچھے لگانے میں کامیاب ہوگئے۔ زیڈ اے بھٹونے اس وقت چینی رہنما ماوزے تنگ کاساعوامی اندازاپنایاتوماؤازم سے متاثرہ دانشورانہ رحجان رکھنے والے  سرگرم سیاسی کارکن اورنوجوان اس کے ساتھ ہولیے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کی بنیادرکھنے اورعوام میں مقبول بنانے میں کلیدی کرداراداکیا۔ زیڈاے بھٹو نےروٹی، کپڑا اورمکان کانعرہ لگانے کے ساتھ پارٹی کے نعروں میں سوشلزم ہماری معیشت، اسلام ہماردین، جمہوریت ہماری سیاست کو بھی شامل کیا۔ پارٹی کے ابتدائی آئین کوآج تک سب سے ریڈیکل آئین خیال کیاجاتاہے۔ اس انتخابی آئین کی تیاری میں دیگرکے ساتھ جے اے رحیم نے کلیدی کرداراداکیاتھا۔پیپلزپارٹی نے 1970کے انتخابات میں ملک کے مغربی بازوسے اکثریتی نشستوں پرکامیابی حاصل کی۔ مشرقی بازو، جہاں آبادی کے زیادہ ہونے کی وجہ سے نشستیں بھی زیادہ تھیں، سےعوامی لیگ نے تقریباًتمام ہی نشستوں پرکامیابی حاصل کی تواس کو، ایک یادوسرے طریقے سے، جب اقتداردینے میں پس و پیش کیاگیاتوبنگال میں علیحدگی پسند عناصرمضبوط ہوئے اوربالآخرجب فوجی آپریشن ناکام ہواتوملک 1971میں ٹوٹ گیا۔

باقی ماندہ پاکستان میں پیپلزپارٹی نے مرکزاوردواہم صوبوں پنجاب اورسندھ میں حکومت بنائی جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں اپوزیشن نیشنل عوامی پارٹی، جمعیت العمائے اسلام کے اشترک سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ دریں اثناء زیڈاے بھٹونے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے ساتھ مل کرملک میں ایک متفقہ آئین بنانے کی کوشش کی۔ تمام پارٹیوں کی طرف سے متفقہ آئین 1973کاآئین قرار پایا۔ پارٹی کے ریڈیکل عناصرکے دباؤمیں پیپلزپارٹی کوکئی اصلاحات نافذکرنی پڑیں۔ لیکن جوں ہی پیپلزپارٹی کی حکومت بحران سے نکلی، اس نے پارٹی کے اندراورباہرسیاسی کارکنوں اورریڈیکل عناصرپروارکیا۔ پارٹی سے ریڈیکل عناصر جیسے جے اے رحیم اورمعراج محمدخان کونکالاگیا یانکلنے پرمجبورکیاگیا۔ اس کے نتیجہ میں پارٹی کے اندردائیں بازوکے عناصرمضبوط ہوتے گئے۔ پارٹی نے ایک طرف صنعتوں کوقومیانے کی پالیسی کے تحت سرمایہ داروں اوراوربعدازاں درمیانے کاروباریوں پروارکیاتودوسری طرف مزدورطبقہ کے خلاف باقاعدہ معرکے لڑے گئے۔ یوں حکومت کئی ایک محاذوں پربرسرپیکارتھی۔ ایک طرف بلوچستان میں اسلحہ بند قوم پرستوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری تھاتودوسری طرف میں سرحد قوم پرستی کی سیاسی تحریک چل رہی تھی۔ مختلف طبقات پرایک ساتھ وارنے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ یہ پارٹی کی اپنی بنیادیعنی مزدورطبقہ اورشہری مڈل کلاس پروارتھا۔ بالااخرایک پی این اے اورنظام مصطفی کی تحریک نے حکومت کوچیلنج پیش کیا توجنرل ضیاء الحق کے تحت فوج نے 1977میں پیپلزپارٹی کی حکومت کاتختہ الٹ کرمارشل لاء نافذکیا۔زیڈاے بھٹو نے فوجی جرنیلوں کی قوت اورعوام میں اپنی مقبولیت کے غلط اندازے لگائے، اس لئے آخری وقت تک ڈٹے رہے۔ بھٹوکی پھانسی کے بعد بھٹوفیملی کی خواتین نے پارٹی کی سیاسی قیادت سنبھالی، توبیٹے جلاوطن ہوکردہشت گردی کی طرف متوجہ ہوئے۔ بیگم نصرت بھٹو اوربے نظیربھٹوکے گرد تحریک بحالی جمہوریت (ایم آرڈی) منظم ہوئی توشاہنوازبھٹواورمرتضی بھٹونے الذولفقارنامی دہشت گردتنظیم کی بنیاد رکھی۔

دونوں تحریکیں جزوی طورپرکامیاب رہیں۔ اگرچہ جنرل ضیاء انتہائی جبرکے ساتھ ایم آرڈی کی تحریک کودبانے میں کافی حدتک یوں کامیاب ہوئے کہ اس نے بلدیاتی انتخابات، مجلس شوریٰ کے علاوہ ملک میں ایم آرڈی کے بائیکاٹ کے باوجود ریفرنڈم سے لے کر الیکشن اورمحمدخان جونیجوکی سربراہی میں حکومت بنانے میں کامیاب رہے۔ جنرل ضیاء نے زیڈاے بھٹوکے نامکمل اسلامی ایجنڈے کوعروج بخشالیکن وہ جمہوری عمل کومکمل طورپردبانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ 1986 میں بے نظیربھٹوکی لاہورآمد پرشانداراستقبال نے متبادل کوواضح کردیا۔ 1988میں جنرل ضیاء الحق کے طیارے کی حادثہ میں موت اورانتخابات نے ضیا  باقیات کی شدیدمزاحمت کے باوجود پی پی پی مرکزمیں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔بے نظیربھٹونے اقتداراورسیاسی مخالفین سے نمٹنے کی خاطرضیاء باقیات کے ایک حصے سے سمجھوتہ کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ بے نظیربھٹونے 1990کی دہائی میں وقت کے تقاضوں کے عین مطابق نیولبرل پالیسیوں سے پارٹی کوآراستہ کیاتو1970کے برابری، مساوات، نیشنلائزیشن اورزرعی اصلاحات کی جگہ مارکیٹ اکانومی کے فلسفہ نے لے لی۔ اب پارٹی کی نوعیت اورکرداربالکل ہی بدل گیا۔ اس نے عالمی معیشت سے جڑے پاکستانی سرمایہ داروں اورکاروباریوں کے ایک حصہ کی بھرپورحمایت حاصل کرلی۔ ایسے جاگیردارجنہوں نے زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی سے سرمایہ کاری کی ،یہ  پارٹی ان کی نمائندہ بن کرسامنے آئی۔  لیکن اسٹبلشمنٹ کبھی بھی زیڈاے بھٹوکی طرح بے نظیربھٹوسے مطمئن  نہ ہوئی۔ عدلیہ اورفوج نے پردے کے پیچھے سے پیپلزپارٹی کی تین حکومتیں ختم کیں۔ بے نظیراوران کے شوہرکوکرپشن کے الزامات کاسامناکرناپڑا۔

پیپلزپارٹی نے ہمیشہ مزدوراورکسان تحریک کے پسماندہ حصوں کی حمایت حاصل کی جبکہ حقیقی عوامی تحریکیں ہمیشہ اس سے باہرآزادنہ طورپرمنظم ہوتی رہیں۔ البتہ اس نے عوامی نیشنل پارٹی پرپابندی اورایم آرڈی کی تحریک میں کلیدی کردارادا کرنے کے بعد ملک کے ترقی پسند، مزدوراورکسان تحریک میں کافی پیش رفت کی۔ خواتین، این جی اوزاورحقوق کی دیگرتنظیمیں  بنیادپرست اسلامی عناصرکے خلاف اس کوایک ناگزیربرائی کے طورپرقبول کرتے رہے۔ یوں 1988تا 2016تک یہ کسی نہ کسی طرح اسلامی تحریکوں، فوجی آمریتوں اورعدلیہ کے اقدامات کے خلاف ایک پشتہ کے طورپراستعمال ہوتی رہی۔

دیگراصلاح پسند پارٹیوں  کی طرح پیپلزپارٹی نے متضادرویہ رکھنے والے عناصرکواپنے اندرسمویا۔ اس میں ریڈیکل اوررائٹ ونگ دونوں قسم کے عناصرشامل ہیں۔ اس نے این جی اوز، لبرل اورریڈیکل ترقی پسند عناصرکوخاطرخواہ جگہ دی۔ یہ عناصراس وقت پارٹی میں زیادہ سرگرم ہوتے جب پارٹی اپوزیشن میں ہوتی۔ لیکن اقتدارمیں ہمیشہ ایسے افرادکلیدی کرداراداکرتے جوعام طورپرآمریتوں سے سودابازی کرتے یا جوتحریک کے وقت کنارے پرہوتے۔ لیکن پاکستان میں کسی بھی حکومت میں مزدوراورکسان طبقہ نے اتنی مراعات حاصل نہ کیں جتنی کہ انہیں  اس پارٹی کے دورمیں ملیں۔ پارٹی اپنے دوراقتدارمیں سرکاری اداروں کوپارٹی کارکنوں سے بھردیتی اورکچے ملازمین کوبڑے سرکاری اداروں میں پکا کرتی۔ بطور حکمران اگر کسی نے نچلی سطح تک مراعات پہنچائی ہیں تو یہ صرف پیپلز پارٹی کے دور میں ہی ممکن ہوا۔لیکن بہت سارے خونی معرکے مزدورطبقہ کوپیپلزپارٹی ہی کے دوراقتدارمیں لڑنے پڑے۔

پیپلزپارٹی نے اپنے پہلے دوراقتدارمیں ملک کوایک متفقہ آئین  دیا۔ آمریتوں کے دورمیں آئین میں کی گئی ترمیمات سے گلوخلاصی کے لئے 2010میں 18ویں ترمیم پاس کی۔ دونوں مواقع پررائٹ اورلیفٹ دونوں کوخوش رکھنے کی کوشش میں بہت دوررس تبدیلیوں سے اجتناب کیاگیا۔ پیپلزپارٹی ہی کے پہلے دورحکومت میں جب حکومت مزدورطبقہ اورریڈیکل عناصرپروارکررہی تھی تویہ دائیں طرف طرف جھکی۔ اس نے احمدی فرقہ کوغیرمسلم قراردینے کی قرارداداسمبلی سے منظورکی، جمعہ کی چھٹی نافذکی، شراب پرپابندی عائد کی۔ پیپلزپارٹی ہی ملک کوایٹمی طاقت بنانے کاسہرااپنے سرپرسجاتی ہے۔ اسی کے ساتھ مسلم امہ کوایک پلیٹ فارم پرجمع کرنے اوراسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقادکاکریڈٹ بھی لیتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے دوراقتدارمیں نیولبرل پالیسیوں پرعملدرآمد کیاگیا۔ جب سردارداؤدکی قیادت میں افغانستان کی طرف سے پختونستان کی مہم کی حوصلہ افزائی کی گئی اورافغانستان میں1970کے بعد اسلام پرست عناصرپروارکیاگیاتوبہت سارے حکومت مخالف اسلام پرست پاکستان آئے ۔زیڈاے بھٹونے افغانستان میں تحریک کےلئے ان کی پشت پناہی کی۔ یہ افرادبعدازاں 1980کے روس مخالف افغان جہادمیں رہنمابن کرسامنے آئے۔

پیپلزپارٹی نے  2005میں اپنے سیاسی مخالف نوازشریف کے ساتھ میثاق جمہوریت کے تحت مل کرملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کاآغازکیا،جبکہ جنرل مشرف کے ساتھ امریکہ کی پشت پناہی سے حسین حقانی اوررحمان ملک کے وساطت سے معاہدہ طے پایا۔ جنرل مشرف نے بے نظیراورزرداری کواین آراوکے متنازعہ قانون کے تحت مقدمات سے بری کیاتوپیپلزپارٹی جنرل مشرف کوصدرماننے پرراضی ہوئی اوروزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے جنرل مشرف سے ہی حلف لیا۔ آصف علی زرداری صدربنے تواس نے وکلاء تحریک اورآزاد عدلیہ پروارکرکے اس کوکمزورکیا۔ اگرچہ پیپلزپارٹی مرکزمیں اپنے اقتدارکے پانچ سال پورے کرنے میں کسی نہ کسی طرح کامیاب رہی مگریہ مسلسل فوجی غلبہ اورعدالتی اثرورسوخ سے برسرپیکاررہی۔ آصف علی زرداری کے خلاف سوئس حکومت کوخط نہ لکھنے کی پاداش میں وزیراعظم گیلانی کواپنے منصب سے عدالتی حکم پردست بردارہوناپڑا اورراجہ پرویزاشرف کووزیراعظم بنایاگیا۔ پیپلزپارٹی کے اندرموجوداختلافات اوراسٹیبلشمنٹ سے بھٹوخاندان کی  لڑائی سے فائدہ اٹھاکراس کے اہم اورسرکردہ افرادنے متبادل پارٹی کھڑی کرنے کی کوششیں کیں لیکن ان کوششوں کوکبھی بھی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے ہرایسی کوشش کواسٹیبلشمنٹ کی سازش قراردیا۔

بینظیر بھٹوکے انتقال کے بعد آصف علی زرداری اوران کے خاندان کی پارٹی پرگرفت مضبوط ہوتی گئ۔ اس وقت بلاول بھٹوزرداری نے اگرچہ چیئر مین شپ سنبھالی ہوئی ہے لیکن درپردہ آصف علی زرداری اوران کی بہن فریال تالپورہی کی پارٹی اورفیصلہ سازی پرگرفت خیال کی جاتی ہے۔ عام تاثریہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے کارکن بھٹوکے علاوہ کسی کوبھٹوکاوارث تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن اس کایہ ہرگزمطلب نہیں کہ آصف زرداری کوپارٹی کارکنوں کی حمایت حاصل نہیں۔ مختلف الزامات کے تحت گیارہ سال جیل میں گزارنے والے آصف علی زرداری کی "پاکستان کھپے” اور”مفاہمتی پالیسی” کے تحت ہی پیپلزپارٹی مرکزمیں 2008تا2013تک براجمان رہی۔ جبکہ سندھ میں پیپلزپارٹی گزشتہ 9سال سے مسلسل اقتدارمیں ہے۔ اس دورمیں پارٹی کے کارکنوں کوسب سے زیادہ ملازمتیں اورمراعات ملیں۔ لیکن اس مفاہمتی پالیسی کے تحت مزاحمت کوخیربادکہنے اوردیگرپارٹیوں کوجگہ دینے کے باعث پنجاب اورکے پی میں پارٹی تقریباختم ہوکررہ گئی ہے۔ دیہی سندھ سے باہراس کی انتخابی کارکردگی 2008کے بعد سے تنزلی کی شکارہے۔ گذشتہ پچاس  سال کی اصلاح پسند سیاست کے بعد تیزی سے مقبولیت کھوتی ہوئی پیپلزپارٹی کی ضرورت کواب بھی اہم گردناجاتاہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...