علامہ محمد اقبال اور آزادی افکار

106

ایک دعوی ٰیہ ہے کہ فکر کی آزادی کے بغیرعلم و دانش کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا، ترقی کی سیڑھی کا ایک زینہ نہیں چڑھا جاسکتا، اقوام عالم میں کسی عزت کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ نہ کوئی نظریہ سازی، نہ کوئی فکراندوزی، نہ کوئی نکتہ آفرینی، نہ کوئی تدبر، نہ کوئی تذکر، نہ کوئی تفکر۔ اگر آپ کو اس دعویٰ سے اتفاق ہے تو پھر افسوس ہے کہ آپ میں اقبال کا شاہین بننے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضرب کلیم میں اقبال فرماتے ہیں۔

آزادیٔ افکار سے ہے ان کی تباہی

رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ

ہو فکر اگر خام تو آزادیٔ افکار

انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ

اقبال کے اس کلام سے اگر یہ نتیجہ نکالا جائے کہ اقبال آزادی افکار سے منع فرما رہے ہیں تو شاید زیادتی ہوگی اور اقبال سے ہماری عقیدت ہمیں اپنی کج فہمی پر ضرور  ملامت کرے گی۔ کیو نکہ یہاں اقبال نے آزادی فکر کی مخالفت نہیں کی بلکہ فکر و تدبر کے سلیقے کے بغیر”مغرب” سے درآمدہ اس خوش نما نعرے کو اپنانے کے خطرناک مضمرات سے  آگاہ کیا ہے۔ انکار کی مجال نہیں لیکن کچھ سادہ مزاج ایسے بھی ہیں جوفکر و تدبر کے اس مجوزہ سلیقے کے مفروضہ خدوخال میں الجھے رہتے ہیں، جسے حاصل کرنا فکری آزادی کی خواہش سے پہلے فرض ہے۔ کیا اس سلیقے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اپنے فکر و اذہان کی کچی دیواروں کو اپنے مصدقہ بزرگوں اورمسلمہ عقائد اور ان پر تیقن کے ذریعے اتنا پختہ کرلیا جائے کہ کسی نئی فکر کا پتھر ان میں دراڑیں نہ ڈال سکے؟ کیا فکری آزادی کا جگنو پکڑنے کی ہمت آپ کو اسی وقت کرنی چاہئے جب کم سن فکری شعور بلوغت کی منزل حاصل کرچکا ہو؟

لیکن پھر سوال یہ ہے کہ پختہ کاری کی عمررسیدگی میں کسی بھی جگنو کو پکڑنے کی، چاہے وہ فکری آزادی کا جگنو ہی کیوں نہ ہو، خواہش ہی کہاں رہ جاتی ہے؟ پھر تو بس اپنے خیالوں کا ادعا، ان کی تکرار اور ان کا دفاع ہی رہ جاتا ہے؟ یا ایسا نہیں؟ شائد ہم خودسمجھنے میں کچھ غلطی کر رہے ہیں۔  سوچ بھی ایک ایسی کافر چیز ہے کہ یہ پوچھنے سے باز نہیں رہتی کہ اگر آزادی افکار نہیں تو پھر کیا غلامی افکار ہوگی؟ اور کیا غلامی افکار کا مطلب یہ صاف صاف اعتراف نہیں کہ ہم یا اصل میں آپ، چونکہ فکر کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لئے ہم سے پہلے ہماری ہی فکری روایت میں جو عالی دماغ لوگ فکر فرما گئے ہیں، ان کے بنائے گئے دائرے میں رہنا ہی عافیت ہے۔ دیکھئے فکر کی ضرورت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آخر کوئی نہ کوئی فکر تو ضروری ہے اپنی نہ سہی دوسروں کی سہی اور پھر دوسروں کی بھی کیوں ہمارے اپنے جتنا ہمارے لئے سوچ گئے کیا اتنا کافی نہیں؟ اس سے آگے بڑھے تو گمراہی اور تباہی کا گڑھا ہمارا منتظر ہے۔

اگر ہماری فکر پہلے سے ہی پختہ نہیں ہے تو کیا فکری آزادی ہمیں حیوان بنا دے گی؟ اب اس کے بعد فکری آزادی یا دوسرے لفظوں میں اپنی فکر اختیار کرنا ایک بہت بڑا رسک لینے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے؟ اور  پھرجو بھی ایسی جرأت کرے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ حیوانوں کے بارے میں انسانوں کی کیا رائے ہے۔اپنی آزاد فکری کا مظاہرہ کرنے والے ہمارے ہی اکابرین کی ایک لمبی فہرست ہے، جنہیں اس فکری آزادی کے جرم کی پاداش میں نہ صرف تحقیر و تذلیل سے لیکر، کفر و الحاد کے فتوے برداشت کرنے پڑے بلکہ قیدو بند، سماجی مقاطعے اور موت تک سے دوچار ہونا پڑا۔

کبھی کبھی خواہش ہوتی ہے کہ جیسے اقبال کو رومی مل گئے، رومی کو شمس تبریز مل گئے، موسیٰ کو خضر مل گئے، کاش ہم جیسے راندہ درگاہوں کو بھی کوئی مرشد کامل مل جاتا اور انگلی پکڑ کر مشکل سوالوں کے بھنور سے پار کرا دیتا۔ لیکن سب کا ایسا نصیب کہاں؟  شکر ہے کہ ہمارے پاس اقبال ہیں۔ اقبال کے کلام میں ایسی تاثیر ہے اور یہ آپ کے جذباتی شعور کی اس سطح کو متاثر کرتا ہے، آپ میں عشق اور لگن کی وہ جوت جگاتا ہے کہ عقل لب بام تماشے میں محو ہو جانے کے علاوہ کسی کام کی نہیں رہتی۔ اب یہ عشق اور لگن بھی تواصل میں ایک عطا ہے جو کسی عقل کی گٹھڑی میں بندھے کا مقدر نہیں۔ سوچ میں پڑے ہوؤں کا کوئی علاج نہیں۔

ایک اعتراض وارد ہو سکتا ہے کہ کسی کے ایک اقتباس یا شعر کو سیاق و سباق سے نکال کر اس کی فکر کے بارے میں اتنے بڑے نتیجے کیسے نکالے جا سکتے ہیں۔ بالکل بھی نہیں۔ لیکن اقبال کی اس سوچی سمجھی رائے کے بارے میں ان کی اردو، فارسی، انگریزی کی کتابوں سے بہت سے حوالے پیش کیے جاسکتے ہیں اور علماءاور روایت پسندوں کا بڑا طبقہ اگر ان کا شیدائی ہے تو اس کی ایک وجہ بھی یہی ہے کہ اقبال اپنے فکری دائرے اور اس کی حدود کو نہ صرف خود پہچانتے ہیں بلکہ اپنے پڑھنے والوں کو بھی اسی دائرے میں رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہ اقبال فکر و تدبر کے خلاف ہیں لیکن وہ فکر و تدبر کے لئے اپنا پیمانہ استعمال کرنے پر زور دیتے ہیں۔ البتہ پیمانے پر سوال اٹھانے کی اجازت نہیں ہے کیوں کہ یہاں معاملہ عقل کی حدود سے نکل کر عشق کی اقلیم میں داخل ہوجاتا ہے۔

اقبال کے ہاں اپنی شناخت کا احساس بہت گہرا ہے اور شاید اسی لیے شناخت کے بحران میں پھنسی قوم کے لئے ان کی آواز نقارۂ جاں فزا ہے بلکہ آوازہ حق ہے۔ شناخت کا موضوع، اس کے کھو جانے یا بگڑ جانے کا خوف اور اس کی ہماری سوچ میں کارفرمائیاں ایک علیحدہ مضمون کے متقاضی ہیں۔ لیکن کیا یہ ایسا ہی نہیں کہ جیسے محلے کے گمراہ اور بدقماش لڑکوں کی صحبت کے برے اثرات سے بچانے کے لیے اپنے بچوں کو اپنے گھر کے دالان میں قید کردیا جائے؟ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو پھر اپنی ہی ذات کے گنبد میں اذانیں دینے والوں سے یہ بھی نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ تم نے علم و فن میں ترقی کیوں نہیں کی؟ کیوں کہ ان کی کسی علمی یا فکری ترقی کے امکان کا گلہ تو ہم انہیں اپنے گھر کے دالان میں قید کر کے خود گھونٹ چکے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ یہ کہیں مغربی فکر کے دھندلکوں میں، اپنی شناخت کے جو ہمارے علیحدہ وجود کا اثبات کرتی ہے، کھو جانے کا خوف تو نہیں جو اقبال جیسے عبقری کو اپنی قوم میں فکری آزادی کی لگامیں کھینچ لینے پر مجبور کرتا ہے؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...