فٹ پاتھ ، بادام اور قابل لوگ

74

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو فٹ پاتھ پریا بیچ سڑک میں روکا ہوگا اور حال چال پوچھ رہا ہوگا۔حال پوچھنا بڑی اچھی بات ہے اور اپنے اخلاق سے دوسروں کو متاثر کرنا ہرگز بری بات نہیں ہے البتہ اخلاق کا مظاہرہ وہاں کرنا چاہیے جہاں دوسروں کی رفتار اور گفتارمیں فرق نہ آئے۔ورنہ ایسے میں انفرادی فعل کی وجہ سے اجتماع کا اخلاق خراب ہونے کا اندیشہ موجود رہتا ہے۔معاشرتی حدود و قیود میں کوئی بھی عمل انفرادی عمل نہیں ہوسکتا ہے یہ آفاقی اصول ہے۔

جب بات سمجھ میں نہیں آتی تو ہم اپنے آپ کو طفل تسلی دے کر اپنے دوسرے کاموں میں لگ جاتے ہیں لیکن اگر ہماری بات دوسروں کو سمجھ نہیں آتی تو ہم ڈانگ لے کر اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر مسئلہ کیا ہے؟ تو مسئلہ کچھ بھی نہیں ہوتا ہم خود بناتے ہیں۔اپنی آنکھوں کے شہتیروں کو دیکھنا اس وجہ سے اچھا ہوتا ہے کہ اس طرح سے دوسروں کی آنکھ کاتنکا زیادہ واضح نظرآنا شروع ہوگا۔

ایک ایسے معاشرے میں جہاں بادام صرف اس وجہ سے کھائے جائیں کہ عقل آجائے وہاں احساس ختم ہوسکتا ہے۔کوئی بھی معاشرہ اس وقت تہذیب و اخلاق میں اعلیٰ مقام حاصل کرسکتا ہے جہاں خواتین اور ذہنی معذوروں کے وجود کا احترام کیا جائے۔

ایک بدترین لیڈر (یہاں سربراہ، رہنما بھی لکھا جاسکتا تھا لیکن بوجوہ لیڈر ہی پڑھا جائے) اپنے پیچھے برائی ہی چھوڑتا ہے جسے ختم کرنے کے لئے اس برے شخص کی مدت سے زیادہ عرصہ درکار ہوتا ہے ۔دنیابھر کے کلاس رومز میں ایسے کئی انسان گزرے ہیں جنہوں صرف اپنی ڈیسکوں پرہی اپنا نقش چھوڑا ہے۔ایک جگہ سے کچرا اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے دوسری جگہ لے جایا جائے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاں انسان رہتے ہوں وہاں صفائی ہی نہ کی جائے۔گندگی اور سادگی میں بال جیسا فرق ہوتا ہے۔اب اس پر عمل کیا جائے نہ کہ بال کی کھال اتاری جائے۔لکھاریوں کو چاہیئے کہ قارئین پیدا کریں۔ لوگوں میں پڑھنے کی تحریک شروع کی جائے۔بعض لوگ اپنی زیادہ قابلیت کی وجہ سے تساہل پسندوں کو موقع دیتے ہیں کہ وہ کام نہ کرنے کا جواز پائے۔ایک ذمہ دارشخص اس لئے بھی جواب دہ ہوتا ہے کہ یہ بھی اس کی ذمہ داری ہے۔روز کچھ نہ کچھ پڑھنا چاہیے سوچنے کے لئے بے شک وقت نکال لیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...