پاک افغان تعلقات : بدلتی حرکیات اور مستقبل

پاک ا نسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے زیر اہتمام پاک افغان تعلقات پر منعقدہ سمینار کی رپورٹ

154

پاک افغان تعلقات ہمیشہ سے اہمیت کے حامل رہے ہیں اور دونوں  ممالک  ایک دوسرے کے لیے آئینے کی حیثیت رکھتے ہیں،اگر افغانستان  میں امن،ترقی اور خوشحالی ہو گی تو اس کے بھی اثرات  پاکستان پرپڑیں گے اور وہاں پائی جانے والی بدامنی اور عدم استحکام  بھی پاکستان کو  متاثر  کرتی ہے۔ٹرمپ کی حال ہی میں افغانستان کے لیے جاری کی جانے والی پالیسی کے بعد چیزیں کافی تبدیل ہو رہی ہیں اور پاکستان کو بھی  افغانستان کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ  لینے کی ضرورت ہے۔اسی صورتحال کے پیش نظر  پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز  نے 29  نومبر  کواسلام آباد میں   ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا جس میں  افغان سفیر عمر  ذاخیلوال،سابق سینیٹر افراسیاب خٹک،سینئر صحافی  و اینکر پرسن سلیم صافی  اور محمدعامر رانا  سمیت  متعددسابق سفیروں، نامور دانشوروں اور صحافیوں نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے پاک افغان تعلقات  پر بات کرتے  ہوئے کہا کہ  ہمارے درمیان تعلقات کی تین جہات ہیں،تجارت،سیکیورٹی اور علاقائی روابط۔ہمیں ان میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور  کرنے کے لیے  اقدامات کرنا ہوں گے اور امریکہ کی نئی افغان پالیسی  کے بعد  پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کے اثرات کا جائزہ لینا ہوگا۔سینئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے  دونوں ممالک  کے میڈیا کا رول  بیان کرتے ہوئےکہا

دونوں ممالک کےمیڈیا کا رول الگ الگ ہے، پاکستان میں اخبارات کا رول کلیدی ہے جبکہ افغانستان میں اخبارات  اس طرح اسٹیبلش نہیں ہو سکے، ٹی وی چینلز  وہاں ڈرائیونگ سیٹ پر ہیں،دوسرا نمبر سوشل میڈیا  کاہے اور مسجد کے مولوی کا کردار  کم و بیش دونوں طرف ایک جیسا  ہی ہے۔

دونوں ملکوں کے میڈیا کے مشترکات بیان کرتے ہوئے انہوں  نے کہا  کہ پاکستان کا میڈیا ہر طرح کے ضابطے  سےاس قدر آزاد ہے  کہ ایسی آزادی کا دنیا بھر میں کہیں تصور بھی نہیں  تاہم افغانستان سے متعلق رپورٹنگ یا تجزیہ میں پاکستانی میڈیا آزاد نہیں ہے بلکہ  یہاں کی اسٹیبلشمنٹ  کے دباؤ میں ہے۔دوسری طرف افغان میڈیا  بھی بڑی حد تک ہماری پیروی کر رہا ہے اور ہر قیدو قاعدے سے آزاد ہے۔ان کے ٹاک  شو میں بھی ہمیں  طلال چوہدری اور مراد سعید کے لہجے میں بات کرنے والےملیں گے لیکن پاکستان  کے معاملے میں  وہ بھی غلام ہے۔ اگرچہ  افغان فوج کو ابھی تک یہ حیثیت حاصل نہیں  ہوئی تاہم  وہاں یہ رول انڈیا،امریکہ اور ایران ادا کر رہے ہیں۔

میڈیا کی ایک دوسری مشترک ٹریجڈی پاپولرائزیشن کا شوق ہے۔پاکستان میں پاپولر بننے کے لیے افغان حکومت کو گالی دینا فیش بن گیا ہے،ادھر افغانستان میں بھی یہ تاثر ہے کہ  پورا پاکستان  ہی ان کے  خلاف نفرت  پھیلا رہا ہے۔مفروضوں کی بنیاد پر  نفرتیں پھیلائی جارہی ہیں ،ہمارے لوگوں کی افغانستان سے متعلق بے خبری کا یہ حال ہے کہ شمالی اتحاد کا 2001 کے بعد سے وجود ہی نہیں اور یہاں آج بھی تجزیے چل رہے ہیں کہ شمالی اتحاد پاکستان کا دشمن ہے۔پاکستانی میڈیا میں ڈرائیونگ سیٹ پر پنجاب اور کراچی کے لوگ ہیں،دوسری طرف    کے پشتون بھی جنگوں میں  شریک  رہے اس لیے دونوں طرف   کا بیانیہ نان  پشتون لوگ تشکیل دے رہے ہیں ۔اسی لیے دونوں ممالک سے متعلق غلط فہمیاں  برقرار ہیں اور  غلط پکچر  پیش  جا رہی ہے۔افغانستان میں بہت کچھ مثبت بھی ہو رہا ہوتا ہے لیکن ہمارے میڈیا  نے قسم کھا رکھی ہے  کہ صرف منفی رخ ہی دکھانا ہے۔مثال کے طور پر پچھلے سال ہم پی ایس ایل پاکستان میں نہیں کروا سکے لیکن انہوں نے اپنے ہی ملک میں اپنا ٹورنامنٹ کروایا لیکن یہاں کسی نے رپورٹ نہیں کیا۔اسی  طرح وہ بھی   طاہر اشرفی  ،حمید گل  مرحوم  جیسے لوگوں کو تو کوریج دیتے ہیں لیکن نہیں بتاتے کہ یہاں  افراسیاب  خٹک اور ماروی سرمد بھی ہیں۔ دور دراز کے ملکوں میں ہمارے  میڈیا کے بیورو آفسز  ہیں لیکن 45 منٹ کی مسافت پر کابل میں جیو کا آفس نہیں ہے،میں تین چار سال کی ذاتی کوششوں کے باوجود  یہ کام نہیں  کروا سکا۔

ایک حوالے سے افغانستان کا پلا ہم پر بھاری ہے کہ وہاں کیبل پر جیو اور  ڈان بھی ملے گا مگر یہاں افغان چینلز پر پابندی ہے جس پر ہم شرمندہ ہیں،حالانکہ یہاں  بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین بھی ہیں۔البتہ شوبز میں  جانبین کے میڈیا کا رول مثبت ہے، ہمارے  پی ٹی وی  نے جو ڈرامے ان کو دیے ہیں  وہ دکھا رہے ہیں۔نجیبہ فیض  افغان  سنگر ہیں،انہیں  پاکستان نے ہی متعارف کروایا ہے،پی ٹی وی پر انکانغمہ بھی دکھایا جاتا ہے۔اس میدان میں اور اسی طرح  سپورٹس میں بھی کافی حد تک میڈا کا رول مثبت ہے۔افغان ٹیم میں ازبک اور تاجک نہ ہونے کے برابر ہیں،ان کے ہیرو عمران ،آفریدی  اور وسیم اکرم جیسے پاکستانی کرکٹر ہیں کیونکہ  کرکٹ انہوں نے یہاں سے سیکھی۔ پی ایس ایل کو افغانستان کے دو چینلز نے  پشتو اور دری کمنٹری کے ساتھ اسی طرح لائیو  دکھایا جیسے یہاں دکھایا گیا،۔اس لیے  ہم شوبز اور سپورٹس پر توجہ دے کر بھی دونوں قوموں کو قریب لا سکتے ہیں۔

کو آرگنائزر  اور جرمن سکالر رالف پیچ   نے کہا  کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششیں مخفی نہیں،چین اور روس بھی  اہم ہیں،خطے کی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور ہم بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سابق سفیر عزیز احمد خان  کا کہنا تھا کہ  پاک افغان تعلقات ہمیشہ  سے اہمیت کے حامل رہے ہیں اور رہیں  گے۔ چین نے طالبان دور میں بھی افغانستان کے ساتھ بڑا غیرجانبدارانہ تعلق رکھا،وہی اب بھی اس پوزیشن میں ہے کہ تعلق کو بڑھا سکے۔پاکستان طالبان کے ساتھ غیر جانبدار نہیں رہ سکا۔

پاک افغان تعلقات میں  بہتری لانے کے لیے مذاکرات اور مکالمہ ہی بہتر  ذریعہ ہے۔ہم یہ مسائل حل کر سکتے ہیں۔میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ دونوں جانب تعلقات میں بہتری لانے کی بڑی خواہش ہے۔امید ہے کہ ہم اس کوشش میں جلد کامیاب ہوں گے۔

سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمدنے کہا کہ یہ پروگرام  دو اہم موضوعات کا احاطہ کرتا ہے،جیو پالیٹکس او ر جیو اکنامک  تنازعہ، پھر ان  دونوں کی علاقائی اور عالمی ،تین مختلف سطحیں ہیں،ہر سطح  ہی متاثر ہے،داعش افغانستان میں پہنچ گئی ہے اوربہت پیچیدہ صورتحال ہے۔اگر اس کو جلد حل نہ کیا گیا تو  معاملہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر عمر  ذخیلوال  نے اپنی گفتگو میں کہا کہ  پاک افغان تعلقات خطے کے لیے بھی اور عالمی سطح پر بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ہمارے تعلقات مین بہتری  تو آ رہی ہے مگر بہت آہستگی کے ساتھ۔چند عوامل تعلقات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔اگر ہم غلط فہمیوں کو دور کریں اور اعتماد کی فضا کو بحال  کریں اور ماضی کے بجائے  مستقبل  کی طرف دیکھیں ۔جب سے  میں نے عہدہ سنبھالا مختلف نشیب و فراز آئےیہاں تک کہ کبھی تعلقات بالکل صفر پر  بھی چلے گئے۔

امن کے ساتھ رہنے کے لیے راہ نکالنا ہو گی،دونوں ملکوں میں  ثقافتی،مذہبی اور معاشرتی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا  کہ روس امریکہ تعلقات کے بھی افغانستان پر اثرات مرتب ہوں گے۔ حال ہی میں  آرمی چیف  جنرل  باجوہ کے دورہ افغانستان  کے موقع پر ان کا پرجوش استقبال   کیا گیا اور صدر غنی نے تعلقات بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔

سینئر صحافی حسن خان کا کہنا تھا کہ   ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ نے  نئی افغان پالیسی  میں پاکستان کو ولن بنا دیا ہے ،حالانکہ پوسٹ ٹرمپ پالیسی میں ہمارے لیےبہت سی امیدیں بھی ہیں۔ٹرمپ نے پاکستان حکومت کو موقع دیا،پہلی دفعہ ہم نے دیکھا  کہ پاکستانی  سول رہنماوں نے بھی اس  ایشو کو اہمیت دی جس پر ہمیں ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

لفٹیننت جنرل ر مسعود اسلم نے اپنے خطاب میں کہا  کہ پاکستان میں امن و امان  تب ہی ممکن ہے جب افغانستان میں امن ہو گا۔گزشتہ پندرہ سالوں سے امریکہ نے افغانستان میں متعدد پالیسیاں بنائیں،جنوری 16 سے ستمبر 17 تک آپ جائزہ لیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اعتماد کا کتنا فقدان  ہے،نہ صرف پاک افغان بلکہ خود افغانستان کے اندر مختلف قوتوں میں بھی اعتماد کا فقدان ہے۔اس وقت افغانستان کے اندر مکالمہ کروانے کی ضرورت ہے۔

زبیر احمد ملک،سابق  چیئرمین ایف پی سی سی آئی  نے کہا 2017 میں پاکستان  افغانستان  میں درآمدات کا  دوسرا بڑاملک بن گیا،2015 اور16 میں تجارتی تعلقات بلند ترین سطح پر گئے جن میں اس سال کمی واقع ہوئی ہے، دونوں ملکوں  کو تجارت کے فروغ کے لیے سرحدیں کھولنا ہوں گی لیکن یہ بھی دیکھنا ہے کہ اگر ہم انڈیا کو افغانستان کا راستہ دیں تو کیا وہ بھی ہمیں نیپال اور بھوٹان کا راستہ دے  گا؟ یکطرفہ ٹریفک نہیں ہونی چاہیے۔

ماروی سرمد کا کہنا تھا  کہ ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ تو میڈیا ہے جو کہ ہم نے بند کر رکھا ہے،انفارمیشن کا گیپ ہے،نیشنل ایکشن پلان میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کی سب سے زیادہ حمایت پنجاب اور کراچی  میں کی گئی، پیپل ٹو پیپل افغان پاک کے ساتھ پنجاب پختونخواہ کی بھی ضرورت ہے۔

پاکستان  میں کچھ سکالرشپس شروع کیے گئے ہیں لیکن ان پر پوری طرح عمل نہیں ہو رہا،پچھلے سال 3000 کا اعلان کیا گیا تھا لیکن 200 بچے آ سکے تھے تھے،یوتھ انگیجمنٹ  کے لیے سپیشل پروگرام ہونے چاہییں، بین الجامعات روابط ہونے چاہییں۔جو افغان باشندے یہاں پر رہ کر گئے انہیں پاکستانیوں سے کوئی شکوہ نہیں،صرف نکالے جانے  کے طریقے پر شکوہ تھا۔ میڈیسن اور صحت  پر تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے، وہاں صحت کی وہ سہولیات نہیں ہیں جو ہمارے بڑے شہروں میں ہیں،ہمارے ڈاکٹرز  وہاں جائیں یا وہ یہاں علاج کے لیے آئیں۔ویزہ  کا نظام فلیکسیبل ہونا چاہیے۔خواتین کے  حقوق کے حوالے سے وہاں بڑے عمدہ گروپ ہیں،ان کے ساتھ مل کر  بھی کام کرنا چاہیے۔

سابق سینیٹر افرا سیاب خٹک   نے کہا  ہمیں اپنے رویے پر نظر ثانی کرنا ہو گی،  جہاں پچاس ساٹھ ہزار لوگوں کا روزانہ آنا جانا ہو ان کے ساتھ ویسے تعلقات نہیں ہونے چاہییں جیسے برازیل اور ارجنٹائن کے ساتھ ہیں۔

 

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...