بنیادی جمہوریت کا استرداد

55

خیبر پختون خواہ  کے جس بلدیاتی سسٹم کو عمران خان نمونہ کے طور پہ پیش کرتے پھرتے ہیں اسے حکمران اشرافیہ کی  جمود پرور سوچ  نے ڈھائی سالوں کے اندر مفلوج بنا دیاہے،پی ٹی آئی حکومت نے ترقیاتی سکیموں کو ایم پی ایز کی بجائے بلدیاتی اداروں کے ذریعے روبعمل لانے کے فیصلہ سے پسپائی اختیار کرکے پہلے لوکل گورنمنٹ کے لئے مختص مالی وسائل کا بہاؤ ممبران اسمبلی کی مجوزہ سکیموں کی طرف موڑ کے بلدیاتی نمائندوں کی معاشی افادیت کو غتربود کر دیا ۔ پھر رفتہ رفتہ ان سرکاری محکموں کو بھی صوبائی حکومت کے ماتحت کر لیا جوضلعی حکومتوں کے سپردتھے۔یونانی فلاسفر ہوریس  نے کہا تھا کہ ان لوگوں کے الفاظ کتنے ٹھیک ہوتے ہیں جو کوئی احمقانہ دعوی ٰ نہیں کرتے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ سول بیوروکریسی،حکمران اشرافیہ اور اپوزیشن پارٹیوں نے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے خواب کو چکنا چور کرنے میں عدیم المثال اتحاد کا مظاہرہ کیا۔محکمہ بلدیات کی سرکاری مقتدرہ  نے نوزائیدہ ناظمین و کونسلرز کی انگلی پکڑ کے  راہ عمل دکھانے اور بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی بجائے عام لوگوں کی امنگوں کا خون کر ڈالا۔لوکل گورنمنٹ  ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ  میں نہایت فخر کے ساتھ انکشاف کیا گیا ہے کہ 2017 میں خیبر پختون خواہ کے دس اضلاع کی ضلعی حکومتیں سالانہ بجٹ تیار کرنے میں ناکام رہیں۔چار اضلاع  میں بجٹ مسودے تو تیار ہوئے لیکن انہیں ہاؤس سے منظوری کا شرف نہ مل سکا۔رپورٹ کے مطابق ایبٹ آباد،بنوں،ہنگو ،کوہاٹ،لوئر دیر،مالا کنڈ،شانگلہ، طور گڑھ اور اپردیر میں بوجوہ رواں مالی سال کا بجٹ  پیش نہیں ہو سکاجبکہ سوات،نوشہرہ،کرک اور لکی مروت  کے تیار شدہ بجٹ مسودےضلعی کونسلوں کے ممبران کی باہمی کشمکش اور  لامتناہی مقدمہ بازی کی نذر ہو گئے۔رپوٹ میں یہ بتانا بھی ضروری سمجھا گیا کہ خیبر پختون خواہ حکومت نے مالی سال 2015.16اور2016-17 کے دوران مقامی حکومتوں کو 43 ارب روپے کے فنڈ زریلیز کیے لیکن بلدیاتی ادارے مجموعی طور پر صرف  13 ارب خرچ کر سکے۔یعنی اوسطاً ہر ضلع نے گزشتہ دو سالوں میں پچاس کروڑ سے زیادہ فنڈ استعمال نہیں کیا۔اس وقت صوبہ بھر کی چھبیس ضلعی حکومتوں کے 30 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز لیپس ہونے جا رہے ہیں۔اس ناکامی کی بڑی وجہ تو لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ان ستم رسیدہ ڈپٹی کمشنرز کو بلدیاتی اداروں کے مالیاتی امور نمٹانے کا اختیار تفویض کرنا تھا۔چنانچہ اجڑی ہوئی بیوروکریسی نے نچلی سطح کے منتخب اداروں کے مالیاتی امور کو منظم کرنے کی کوشش میں عوامی مینڈیٹ کی حرمت کو کچل ڈالا۔

1998میں نواز شریف کی دوسری حکومت نے ملک بھر کے ڈپٹی کمشنرز سے ڈسٹرک مجسٹریٹ کی پاور لیکر جوڈیشری کو دینے کا قدم اٹھا کے اضلاع کی انتظامی اتھارٹی کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ سول حکمرانی کے ڈیڑھ صدی سے آزمودہ میکانزم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاتھا۔جسکی قیمت وہ  خود اور انکی منتخب حکومتیں ادا کر رہی ہیں۔ رہی سہی کسر نئے بلدیاتی نظام کے خالق جنرل ریٹائرڈ تنویر نقوی اور سابق آئی جی پی افضل شگری کی ان اصلاحات نے پوری کر دی جس کے تحت پولیس آرڈیننس دوہزار دو کے  وسیلے پولیس فورس کو سویلین اتھارٹی کے دائرہ اختیار سے باہر کر کے مطلق العنان بنا دیا گیا۔اسی  دن سے ہر شعبہ میں اصلاحات کا کبھی نہ تھمنے والا ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے بدنظمی اور انتشار کو بڑھا دیاہے۔یہی پامال بیوروکریسی اب سسٹم کی تعمیر نو کی آڑ میں بلدیاتی اداروں کے مالیاتی اختیارات سے توانائی حاصل کرنے میں سرگرادں ہے۔کنفیوشس نے کہا تھااگر ریاست بدنظمی کا شکار ہو جائے تو اسکی اصلاح کرنے کی بجائے اپنی زندگیوں کو فرض کی باقاعدہ ادائیگی والا بنا لیجئے۔بدقسمتی سے اس وقت سرکاری اداروں میں  اصلاحات کا یہی رجحان بدنظمی کا مواد رہا ہے۔انتشارکی یہی کیفیت ناظمین اور کونسلرز میں مایوسی بڑھا کے انہیں سسٹم سے لاتعلقی پہ مجبور کرتی ہے۔ہر ضلع کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران نے بلدیاتی اداروں کوکانٹا سمجھ کے ہر حال میں انہیں راہ سے ہٹانے کی  ٹھان رکھی ہے۔حتیٰ کہ بعض اوقات اس نیک مقصد کے حصول کی خاطر حکومتی اور اپوزیشن بنچوں  نے  مشترکہ حکمت عمل اختیار کرنے میں بھی حجاب محسوس نہیں کیا۔چند ماہ قبل صوبائی اسمبلی میں حکومتی بنچوں نے اپوزیشن والوں کے تعاون سے سروسیز فراہم کرنے والے پانچ محکموں کو ڈسٹرک گورنمنٹ سے واپس لیکر صوبائی حکومت کے ماتحت کر  کے الٹی گنگا چلا دی۔ایک منتخب ضلعی ناظم نے بتایا کہ پہلے تو صوبائی حکومت نے لمبے عرصہ تک بلدیاتی اداروں کیلئے مختص فنڈ روک کر سسٹم سے وابستہ عوامی توقعات کو مضمحل کیا جس سے شہریوں کے علاوہ خود نومنتخب بلدیاتی نمائندوں کے اعصاب ٹوٹ گئے۔بے یقینی کی اسی صورت حال سے گھبراکر صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں  پی ٹی آئی کے ممبران ڈسٹرک کونسل نے اپنی ہی پارٹی کے ناظمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں برپا کر کے نو منتخب اداروں کو میدان کارزار بنا ڈالا۔بعض زیادہ عقل مند ممبران  نے بلدیاتی اداروں کے اجتماعی فیصلوں کو عدالتی فعالیت کے ذریعے پا باجولاں بنانے کی خاطر ترقیاتی بجٹ کے خلاف سول عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر کے سسٹم کو مفلوج  اور ترقیاتی عمل کا پہیہ   روک دیا۔چنانچہ پچھلے ڈھائی سالوں سے بلدیاتی ادارے سماجی فلاح و بہبود کا فریضہ سرانجام دینے کی بجائے اپنی بقاء کی جنگ میں سرگرداں ہو کے رسوائیاں سمٹتے رہے ۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں جے یو آئی(ف) نے تحریک انصاف کے ڈسٹرک ممبران کے تعاون سے تحریک عدم اعتماد پیش کر کے ضلعی ناظم کے ناک  میں دم کر رکھاہے۔ضلع ٹانک میں پی ٹی آئی کے ضلع ناظم مصطفیٰ کنڈی کے خلاف وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے ایماء پہ  انکی اپنی ہی پارٹی کے باغی ممبران نے عدم اعتماد کی تحریک لانے کی کوشش میں کبھی نہ ختم ہونی والی مقدمہ بازی کے ذریعے ڈسٹرک گورنمنٹ کے نظام کو غیر موثر اور ضلع ناظم کو عضو معطل بنا ڈالا۔اسی مصنوعی کشمکش سے فائدہ اٹھا کر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز  نے مالیاتی امور کو منجمد رکھ کے منتخب نمائندوں کو بیکار بنا دیا۔چنانچہ خیبر پختون خواہ کا وہ بلدیاتی سسٹم جس کے ذریعے عوام کو بااختیار بنا کر خوشگوار تبدیلی کا مژدہ جاں فزا سنایا گیا تھا۔پی ٹی آئی کی  اپنی ہی صوبائی حکومت کے ہاتھوں نامرادیوں سے ہمکنار ہو گیا۔پچھلے دو سالوں میں پی ٹی آئی کی صوبائی گورنمنٹ نے اپوزیش کو ساتھ ملا کے پہلے بلدیاتی ادروں کیلئے مختص  ترقیاتی فنڈ کم کر کے ممبران صوبائی اسمبلی کی منہ بھرائی کی ،پھر ایک ایک کر کے ضلعی حکومتوں کے تحت آنے والے پانچ سرکاری محکموں کو دوبارہ صوبائی حکومت کے ماتحت کر کے بلدیاتی نظام کو ناکارہ بنا دیا۔ضلعی ناظمین اب فارغ ہیں اور یہی فرصت انہیں مایوسی سے ممّلو کر کے ہمہ وقت باہمی رسہ کشی پہ اکساتی ہے۔خیبر پختونخواہ گورنمنٹ نے جب اسمبلی میں  ریجنل سڑکوں  کی تعمیر و مرمت کے ذمہ دارادارے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کو دوبارہ صوبائی حکومت کے ماتحت لانے کی ترمیم  پیش کی تو اس موقعہ پر صوبائی اسمبلی نے اتفاق رائے سے اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمٰن کی ہمدردانہ تجویز پر پبلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ کے معاملات بھی صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی۔وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے لوکل گورنمنت ترمیمی بل کی منظوری کے لئے جواز پیش کرتے ہوئے کہاکہ اگرچہ 2002  سے ضلعی سڑکوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کا کام  سی این ڈبلیو کے سپرد چلا آ رہا ہے اور پچھلے پندرہ سالوں میں اسی محکمہ نے 25  ہزار کلو میٹرز سڑکوں کی مرمت و بحالی کا فرض نبھایا لیکن محکمہ خزانہ نے سی اینڈ ڈبلیو کی طرف سے براہ راست ادائیگیوں پر اعتراض اٹھا کر سڑکوں کی مرمت و بحالی کے تمام فنڈ زپہلے ضلعی حکومتوں کے اکاؤنٹ فور میں بھجوانے کا کہا ہے،جہاں سے ٹھکیداروں کی تمام ادائیگیاں ضلع ناظم کے دستخطوں سے کرانا پڑیں گی۔اس موقع پر بعض اراکین نے اعتراض اٹھایا کہ سی اینڈ ڈبلیو کو واپس صوبائی حکومت کے ماتحت لینے سے وسائل و اختیارات پھر ان کرپٹ صوبائی افسران کے پاس چلے جائیں گے جو عملاً کسی کو جوابدہ نہیں۔اختیارات نچلی سطح کے منتخب ناظمین کے پاس رہنے چاہیں جو قانون اور عوام کو جوابدہ ہیں لیکن حکومت نے اس منطق کو مسترد کرتے ہوئے مالیاتی امور کے تمام اختیارت صوبائی انتظامیہ کے حوالے کر کے اختیارت کی نچلی سطح تک منتقلی کے تصور کی نفی کر دی۔بلدیاتی اداروں کی تدفین کے اس فیصلہ کی اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمن نے حمایت کرتے ہوئے محکمہ سی این ڈبلیو کے ساتھ پبلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ کو  بھی ڈسٹرک گورنمنٹ سے واپس لیکر صوبائی اتھارٹی کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی، جسے ضابطہ کی کاروائی اور لازمی قانونی تقاضے پورے کئے بغیر بخوشی منظور کر لیا گیا۔حالانکہ قاعدہ کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی اس تجویز کی اسمبلی سیکریٹریٹ کی طرف سے مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا کہ بل کی منظوری کے اس مرحلے میں نئی ترمیم شامل نہیں ہو سکتی لیکن فرینڈلی اپوزیشن کے اصرار  پر محبوب جمعیت کی ترمیم کو بل  کا حصہ بنانے کی منظوری دیکر تحریک انصاف اور جے یو آئی نے دوستی اور دشمنی کو ہم آغوش بنا دیا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...