شنا زبان کے حروف تہجی

28

لکھاری بڑا بڑبولا ہوتا ہے ۔خیال اور جذبے کے اظہار کا ڈھنگ آئے تو بے تکان کہے جاتا ہے ۔اس کی سوچ ،اس کا احساس ،جب تک دماغ کی قید میں ہوں ،ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔جب لفظ کے کومل پروں پہ سوار ،کاغذ پہ اتر آتے ہیں تو قیامت ڈھاتے ہیں ۔لفظ بہت اہم ہیں ۔یہ اظہار کا بنیادی ذریعہ ہیں ۔لفظ ہی کسی خیال کو ، کسی جذبے کو زندگی کی تڑپ سے آشنا کراتے ہیں ۔ویسے تو لفظ ایک مجرّد شے ہےمگر زندگی کے رویے اور دل کے جذبے اس میں روح پھونک دیتے ہیں۔پھر یہی لفظ صفحہ قرطاس پہ دل بن کر دھڑکنے لگتے ہیں۔یہ جو لفظ ہیں ، کسی زبان سے وجود میں آتے ہیں اور زبان ہی اصل میں خیال اور جذبے کی ترجمان ہوتی ہے۔زبان ہی ذرائع ابلاغ کا بنیادی عنصر ہوتی ہے۔
کچھ عرصہ قبل جدید”شنا” شاعری پہ لکھتے ہوئے ایک جگہ ذکر کیا تھا ۔”ادب میرا رومانس ہے اردو زبان میری محبوب۔ان دونوں نے میری سوچ کو ،میرے جذبے کو اظہار کا حسن دیا ہے۔میرے قلم کو توانائی دی ہے۔”

"شنا” میرا عشق ہے ۔ماں کی آغوش کی نرم گرم کروٹوں میں اس نے مجھے بولنا اور محسوس کرنا سکھا یا ہے۔بچپن کے میرے خوابوں کے شبستاں میں” شنا” سے ہی عکس ٹوٹتے اور بنتے رہے ہیں ۔گھر کے آنگن کی محدود فضا میں بھائی بہنوں کے ساتھ کھیلتے اور لڑتے "شنا”نے ہی مجھے غصے اور مسرت کے اظہار سے آشنا کرایا ہے۔یہ میرے ساتھ گُھٹنے گھٹنے چلتی گھر کے آنگن سے باہر نکلی۔امپھری کے کھیتوں میں ہم عمر دوستوں کے ساتھ کھیلتے کودتے، مضبوط قدموں سے میرے ساتھ بڑی ہوتی رہی۔مگر جوں جوں عمر کی مسافتیں اور تعلیم کے مدارج طے کرتا رہا ۔میں اس کی مٹھاس،اپنا پن اور روانی سے محروم ہوتا گیا ۔اس کی جگہ اردو اور انگلش کاجادو سر چڑھ کر بولنے لگااور ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ نوبت یہاں تک پہنچی ہے ،اس وقت کالج میں اردو ادب کا استاد ہونے کے باوجود میں لفظی اور معنوی صحت کے ساتھ "شنا” لکھنے اور پڑھنے سے قاصر ہوں ۔ایک میں ہی کیا ،اچھے اچھوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ کیوں کہ” شنا” لکھنے کا چلن عام نہیں ،جس کی وجہ سے "شنائی تحریر”  غیرمانوس لگتی ہے۔مگر اب تبدیلی کا موسم در آیا ہے ۔اب "شنا” زبان زیادہ دیر غیر مانوس نہیں رہے گی۔اب یہاں کے شاعر اور ادیب، "شنا "میں بھی ادب تخلیق کریں گے ۔پڑھنے والے بھی شنا کی حلاوت میں گُندھی تحریر سے آشنا ہو ں گے۔اس خوش کُن بات کی تفصیل آگے آئے گی۔پہلے "شنا شَناسی” اور حروف سازی کے اس سارے مرحلے کی ،یعنی قطرے سے گُہر بننے تک کی کہانی سن لیں ۔

شنا اس خطے کی سب سے بڑی  زبان ہے۔صدیوں سے ان علاقوں میں بولی جاتی رہی ہے۔اس کا دامن ان صدیوں کے تہذیبی ،ثقافتی اور لسانی جمال و کمال سے مالامال ہے۔مگر المیہ ہے کہ اس کی ٖحیثیت بولی سے آگے نہیں رہی ہے ۔بولنے ،سننے اور گانے سے ہٹ کے اس کی فعالیت نہایت مایوس کُن رہی ہے۔ادبی شکل میں زیادہ تر موسیقی والی شاعری کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔چند ایک کتب، نثر اور نظم میں منظرِ عام پر آئیں بھی تو ایسے ،جیسے کسی وِشال جھیل میں کوئی کنکر پھینک دیں تو اک ذرا جھیل کی سطح پہ ارتعاش ہوتا ہے پھر وہی سکوت۔”شنا” کے فروغ میں سب سے پہلی رکاوٹ اس کے حروفِ تہجّی تھے ۔ گلگت کے امین ضیا ،عبدالخالق تاج  اور شکیل احمد  نے اگرچہ اپنی بساط کے مطابق "شنا "حروف تہجی سے متعلق ابتدائی کا م کیا تھا۔مگر ان کا دائرہ محدود تھا۔صوتی لسانیات کے کئی پہلؤوں پر ان کا آپس میں اختلاف تھا۔”شنا” کے صوتی اظہار کے لیے مخصوص حروف تو انہوں نے تشکیل دیے تھے لیکن ایک دوسرے سے جدا جدا ۔اس کی وجہ سے متفقہ اور معقول حروف تہجی کا موجود نہ ہونا تھا ۔

"شنا” صوتیات میں بہت سی آوازیں ایسی ہیں جن کا اظہار اردو ،عربی اور فارسی حروف سے ممکن نہیں ۔لفظ” شنا "پر ہی غور کرلیں ۔ پہلے حرف ش  سے جو آواز نکلتی ہے ،اصل تلفظ سے مختلف ہے۔اسی طرح ترازو ،بارش ،آبشار ،سر ،انڈا اور گدھا جیسے الفاظ کے لیے "شنا” میں جو لفظ استعمال ہوتے ہیں ۔انہیں بول تو سکتے تھے مگر لکھتے ہوئے اردو سے حروف مستعار لیتے تھے۔مذکورہ بالا تینوں اہلِ قلم اور ان کے علاوہ بھی "شنا "لسانیات کے ماہرین نے ان مخصوص اصوات کے لیے حروف وضع تو کیے تھے مگر ایک دوسرے سے مختلف ہونے کی وجہ سے "شنا” لکھنے پڑھنے کا چلن عام نہیں ہوسکا تھا۔مگر2017کا سال "شنا” کے لیے خوش بختی کا پیغام لے کر آیا ہے۔پہلے قانون ساز اسمبلی میں مادری زبانوں کے تحفظ کے لیے اسے تدریس میں شامل کرنے کی قرارداد منظور کی گئی ۔ پھر حکومت اور انتظامیہ کی سر پرستی میں دو روزہ قومی ادبی میلہ بھی منعقد ہوا ۔زبان و ثقافت اور فنونِ لطیفہ کے فروغ کے لیے گلگت، بلتستان لینگویج ،کلچر اینڈ آرٹ اکیڈ می کے قیام کا اصولی فیصلہ بھی ہوا ۔تازہ ترین اطلاع کے مطابق اس کا پی سی ون بھی منظور ہوا ہے۔
ان کے علاوہ مادری زبانوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک ریجنل لینگویجز کمیٹی بھی قائم کی گئی ۔جس نے نہایت اہم اور موثر کا م بھی کیا ہے۔ جی بی کی پانچ بڑی زبانوں کے اہلِ قلم اور ماہرینِ لسانیات اس میں شامل ہیں ۔ابتدا ئی چندنشستوں کی بحث و تمحیص کے بعد تمام زبانو ں کے لیے ایک قابل قبول ،مانوس اور بہت حد تک مشترک حروفِ تہجی کی تشکیل پر اتفاقِ رائے ہوا ۔

"شنا” اس خطے کی سب سے بڑی اور مرکزی زبان ہے ۔اس لیے پہلے مرحلے میں "شنا” حروف تہجی کو عملی شکل دینے کا بیڑا اٹھایا گیا۔امین ضیا ،عبدالخالق تاج ،جمشید دکھی ،عبدالحفیظ شاکر ،نظیم دیا ،اشتیاق یاد اور عبدالصبور اس کمیٹی کے ممبر منتخب ہوئے ۔ ان کے علاوہ "شنا "زبان کے تدریسی عمل کو ایک موثر اور کارگر شکل میں سکولوں میں رائج کرنے کے لیے محکمہ تعلیم کے سیکریٹری ثنا ء اللہ اور ڈائریکٹر فیض اللہ لون کی مشاورت او ر معاونت بھی رہی ہے ۔یہ تمام شخصیات "شنا "زبان و ادب کی تدریسی ،تخلیقی ،تحقیقی اور جمالیاتی باریکیوں سے خوب واقف ہیں ۔ داد کے مستحق ہیں جناب ظفر تاج کہ ان مختلف الخیال اہلِ قلم کی لسانی کوششوں کو اپنی سرپرستی میں ایک مربوط اور موثر شکل میں بروئے کار لائے۔طویل طویل نشستوں اور بحثوں کے بعد ان بزرگ اہل قلم کو ایک معقول اور متفقہ صوتی اظہار کی حرفی تشکیل پہ قائل کرنا بذاتِ خود ایک مشکل عمل تھا۔ مگر ان کی دا نش مندی،حوصلہ مندی اور بے لچک سرپرستی نے اسے ممکن بنا دیا۔ اس کمیٹی کے باقی ارکان بھی تعریف کے مستحق ہیں۔خاص کر عبدالصبور نے سائنسی اور فنی بنیادوں پر شنا صوتیات (آوازیں )،اس کی ساختیات اور لسانی تشکیلات (حروف تہجی اور مرکبات ) کے لیے بنیادی فنی کا م کیا۔انہیں جدید میڈیا (کمپیوٹر ،انٹرنیٹ او ر موبائل) کے لیے قابل استعمال شکل دے دی ۔
کمیٹی کے پیش نظر محض حروف تہجی کی تشکیل ہی نہیں ،آئندہ تعلیمی سال سے ابتدائی جماعتوں کے لیے "شنا” کی تدریسی فعالیت کو رائج کرنے کانہایت قابل قدر کام بھی ہے۔ ابتدائی” شنا” قاعدہ مرتب ہوگیا ہے جو کہ  اگلے سال سے سرکاری سکولوں میں  باقاعدہ رائج کیا جارہا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی پالیسی کے مطابق اسے پہلی کلاس سے رائج کیا جارہا ہے کیونکہ تعلیمی نظام کی روایت رہی ہے کہ ابتدائی کلاس سے ہی زبانیں پڑھائی جاتی ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...